ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک
اردو شاعری ۔ باردگر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اردو شاعری ۔ باردگر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 1 اگست، 2026

گل کی امید میں ملا ہے رنج۔ اردو شاعری ۔ باردگر

دل کہ ٹہنی پہ جو کھلا ہے رنج
گل کی امید میں ملا ہے رنج

وہ ہے کیوں کامیاب یہ دکھ ہے
رب سے ناراضگی صلہ ہے رنج

اس کی بہتات پائی جاتی ہے
ساری دنیا میں سلسلہ ہے رنج

بزم ساری نقار خانہ ہے
اور طوطی کرے گلہ ہے رنج

اسکا الزام نہ کسی کو دے
اپنی مرضی سے مبتلاء ہے رنج 

جتنی چاہت لٹائی تھی ناحق
کوئی جاء سے نہیں ہلا ہے رنج

تو نے ممتاز ہو کے دیکھا ہے
ہر قدم ایک ابتلا ہے رنج

پیر، 13 جولائی، 2026

شعلوں سے عشق نہ کر جھلیا۔ اردو شاعری ۔ باردگر



شعلوں سے عشق نہ کر جھلیا
جل کر جائے گا مر جھلیا

طوفان بپا ہے سینے میں
اور درد تیرے اندر جھلیا 

وہ غم سے سدا آزدا رہا
دی جسکو دعا بھر بھر جھلیا

ایک اسکا در ہی کافی یے
کیوں جاتا ہے در در جھلیا

کیوں قلب و جاں پر حاوی ہے
اک  نورانی  پیکر جھلیا

ممتاز ہو جائے گا اس دن
دنیا کا جو نکلا ڈر جھلیا 

                ......

sholon se ishq na kr jhalya
JL kr jaye ga mr jhalya 

toofan bapa hai seene mein
aur drd tere andar jhalya 

wo gham se sada azad Raha
di jis ko dua bhr bhr jhalya 

aik oska dr hi kafi hai
kiun jata hai dr dr jhalya

kiun qalbo jaan pr havi hai
ik noorani peker jhalya

Mumtaz ho jaye ga os din
dunya ka jo nikla der jhalya 

بدھ، 1 جولائی، 2026

پتھر جو ہٹا دے کوئی۔ اردو شاعری ۔ باردگر


کس طرح یار  کی چاہت کا صلہ دے کوئی
جان لیکر ہی مجھے اس سے ملا دے کوئی

جس کو چھو کر مجھے جینے کی تمنا ہوتی 
زندگی تو ہی اگر پھول کھلا دے کوئی 

کوئی خوشبو ہو مجسم جو تیرے پیکر میں 
لا کے پہلو میں میرے اسکو بٹھا دے کوئی

بن تیرے دیکھ ذرا  وہ بھی ہوا سودائی
یہ خبر آ کے کسی روز سنا دے کوئی

یہ بھی کچھ دیر مزا اپنے دھڑکنے کا لے
دل پہ رکھا ہوا پتھر جو ہٹا دے کوئی

مجھکو امید ہو ملنے کی جہاں بالآخر 
ایسی منزل کا مجھے بھی تو پتہ دے کوئی

راستہ بھولنے والے کو نہ ممتاز کہو
جو اسے ڈھونڈ کے لائے تو بتا دے کوئی
              ۔۔۔۔۔۔۔



          ۔۔۔۔۔۔۔

بحر استعمال ہوئی۔۔۔
یوم نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے 
ساتھ چل جیسے صبا ہو جیسے
احسان دانش 

اتوار، 17 مئی، 2026

مجمعے سے ہم نے جس کو اٹھایا تھا آج وہ۔ اردو شاعری۔ باردگر



مجمعے سے ہم نے تجھ کو اٹھایا تھا یاد کر
ممبر پہ بیٹھ ہم پہ برسنے لگا ہے اب

کتنے نقاب تو نے لگائے تھے پھر بھی ہم
ٹھوکر لگا چکے تو ترسنے لگا ہے اب

ہمنے ہجوم تجھکو دیا بات کیجیئے
تنہائیوں میں بھی تو گرجنے لگا ہے اب
 
وہ جو چلا تھا دوسروں کے ساتھ کھیلنے
پاگل ہوا تو خود پہ ہی ہنسنے لگا ہے اب

بیساکھیاں سنبھالیں تجھے تو نہیں انہیں 
جب ہٹ گئیں تو ریت میں دھنسنے لگا ہے اب

نکلا ہے اب دعاؤں کے دامن سے اس طرح
نام اس کا جیسے کانوں کو ڈسنے لگا ہے اب

ممتاز ہاتھ جس سے ملاؤ تو سوچ لو 
کسطرح سے شکنجہ وہ کسنے لگا ہے اب 
                   ۔۔۔۔۔۔


جمعرات، 30 اپریل، 2026

آتش جواں تھا کبھی تو۔ اردو شاعری ۔ باردگر

ہر اک لب پہ جو داستاں تھا کبھی تو
سنا ہے یہ آتش جواں تھا کبھی تو

اچانک زمانے پہ ظاہر ہوا ہے 
جو اک شخص مجھ میں نہاں تھا کبھی تو


نہیں آج تم کو رہا یاد لیکن  
تمہارا ہی یہ بھی بیاں تھا کبھی تو

نہیں آج پہچان میں آ رہا پر
رہا محفلوں کی یہ جاں تھا کبھی تو 

جسے آج خود ہے طلب سائباں کی
جہاں بھر کی جائےاماں تھا کبھی تو

جو ممتاز بند آنکھ سے بھی دکھے نہ
کھلی آنکھ میں  آسماں تھا کبھی تو 
                 ۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 4 اپریل، 2026

یہ خوشی سے پیا نہیں جاتا۔ اردو شاعری۔ باردگر



زہر جبرا پلایا جاتا ہے
یہ خوشی سے پیا نہیں جاتا

ساتھ تیرے نہ رہ سکے لیکن
بن تیرے بھی جیا نہیں جاتا

ہو ہی جاتا ہے پیار کیا کیجیئے 
یہ سمجھ کر کیا نہیں جاتا

قہر ڈھایا ہے ایسے رشتے نے 
نام بھی تو لیا نہیں جاتا

ان کہی داستاں سنا تو سنوں
 جو سنا تھا سنا نہیں جاتا

مسکراہٹ پہ حق ہے میرا بھی 
 بن کے انسو بہا نہیں جاتا

تم ہو ممتاز تو کوئی الزام
دوسرے سر دیا نہیں جاتا
۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 26 مارچ، 2026

درد یہ اب سہا نہیں جاتا۔ اردو شاعری۔ باردیگر




زخم کیوں کر سیا نہیں جاتا 
درد یہ اب سہا نہیں جاتا

ساتھ رہنا بھی تیرے مشکل ہے
 بن تیرے بھی رہا نہیں جاتا 

خود سمجھ لے تیری عنایت ہے
ہے جو کہنا کہا نہیں جاتا

ہر طرف سے ہوں میں خسارے میں
تو کہے،  کچھ میرا نہیں جاتا 

اب تو لازم طلب ہے سائے کی
دھوپ میں اور جلا نہیں جاتا

تو ہے اس سے بھی باخبر مولا 
جو دعا میں کہا نہیں جاتا

کتنی ممتاز ہے مسیحائی 
ورنہ ہم سے چلا نہیں جاتا
  ۔۔۔۔۔۔

پیر، 23 مارچ، 2026

اس شہر میں واقف ۔۔ اردو شاعری ۔ باردگر

اس شہر میں واقف تو بیشمار ملیں گے
کہتے ہیں جنہیں دوست نہ سرکار ملیں گے

چھوڑ آؤ زبان اپنی ذہن اپنا دو گروی
تب جا کے یہاں نام کے یہ یار ملیں گے 

تحفے میں انہیں جان تو نذرانہ میں کر دوں 
پر سوچ میری اور نہ اظہار ملیں گے 

بے غرضی و ہمدری و چاہت کا خزانہ
اخلاص اگر چاہیئے سو  بار ملیں گے

قصہ ہے میری زیست کا عنوان سے عاری
ہر طرز کے زخمی یہاں کردار ملیں گے

کہنے کو نہیں کچھ تو نہ سننے کو بچا کچھ 
ایسے جو ملے تم سے تو بیکار ملیں گے

من چاہے سوالات نہ ہونے کے نتائج 
ٹوٹے ہوئے وہ دل یہاں مسمار ملیں گے

امید یہ ممتاز سے پستی میں اتر جا 
اللہ نہ کرے ایسے نہ لاچار ملیں گے

بدھ، 10 دسمبر، 2025

بتلائیے گا ۔ اردو شاعری ۔ باردگر



ہمیں جو ہمیشہ سے بتلائیے گا
 کبھی اپنے دل کو بھی سمجھائیے گا

جو کہنے کو آئے ہیں کہہ نہ سکیں  گر 
سمجھ جائیے گا سمجھ جائیے گا 

اداسی اگر حد سے بڑھنے تو
بس اک فون مجھ بھی کھڑکائیے گا

غریبوں کی مہمان نوازی جو چاہیں 
چلے آئیے گا چلے آئیے گا 

جو اپنے تصور کی دنیا میں خوش ہے
خدارا انہیں جا نہ بہکائیے گا

کبھی اپنے غم سے ملے گی جو فرصت
تو اوروں کے دکھ درد اپنائیے گا

جو اک بار چپکے اترتی نہیں ہے
فقیری نہ چہرے پہ چپکائیئے گا 

نہ لینا نہ دینا کسی سے اگر ہو
گلی چھوڑ دیجئے نہ ٹکرائیے گا 

مکیں گھر کے بیچین ہوں جسکے دم سے 
کبھی ایسا مہماں نہ ٹہرائیے گا 

اگر سوچ ممتاز بننے کی ہو تو 
بلا کر  ہمیں حکم فرمائیے گا 
             ۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 29 نومبر، 2025

نام لیا ہے میں نے ۔ اردو شاعری ۔ باردگر


 

زندگی جب بھی تیرا نام لیا ہے میں نے 
 کتنی خاموشی سے دل تھام  لیا ہے میں نے

حد سے زیادہ تجھے کرتے جو تواضع دیکھا
اپنی اشکوں سے بھرا جام لیا ہے میں نے

جس بلندی میں گراوٹ ہو نہیں ہے منظور
فیصلہ آج  سر بام لیا ہے میں نے 

اس کا چرچا یہاں محفل میں ہوا ہے کیونکر
وہ جو تنہائی میں پیغام لیا ہے میں نے

تجھکو احساس گناہ ہو گا کسی دن اسکا
بیوفائی کا جو الزام لیا ہے میں نے 

تم تو الفاظ سے ممتاز ہوئے ہو لیکن
اپنی آنکھوں سے یہی کام لیا ہے میں نے 
         ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منگل، 19 اگست، 2025

وارے۔ اردو شاعری ۔ باردگر




ہر اک رنجش سبھی شکوے تیری مسکان پہ وارے
مجھے تو دوست کہتا ہے اسی پہچان پہ وارے 

تو کیا سمجھا تمہاری بے اعتنائی مار ڈالے گی
تو جس پر دھیان دیتا ہے تمہارے دھیان پہ وارے

محبت سب کو اپنی جان سے ہونا تو فطری ہے
سلام اس پر جو اپنی جاں  کسی کی جان پہ وارے 

وہ تھا  کردار میں بےمثل اور گفتار میں اعلی 
سبھی مہمان جاتے تھے میرے مہمان پہ وارے 

سدھر جائیگا اکدن لوٹ آئے گا میری جانب
سبھی پل زندگی کے تھے اسی امکان پہ وارے 

اگر گننے کی نوبت آ گئی تو ہار جاؤ گے
کہ سارے فائدے ہم نے تیرے نقصان پہ وارے 

نہیں تھا جوش کافی زیست کے ممتاز ہونے کو 
زمانہ ہو گیا خود کو اسی  ہیجان پہ وارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/