ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک
مصرعہ طرح ۔ اردو شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مصرعہ طرح ۔ اردو شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 14 جنوری، 2026

سائے کی جستجو میں دیوار چل رہی تھی۔ مصرعہ طرح


"سائے کی جستجو میں دیوار چل رہی تھی "
                (مصرعہ طرح)

                 ۔۔۔۔۔

میں اسکے پیچھے ایسے دلدار چل رہی تھی
"سائے کی جستجو میں دیوار چل رہی تھی "

پختہ یقیں نے بخشا کیا حوصلہ بلا کا 
طوفان آئے کشتی ہموار چل رہی تھی

آنکھیں بھی خشک ہیں اور دل بھی لہو نہیں ہے
غم کی ہوا تو یونہی بےکار چل رہی تھی

ساحل تھا ایک دھوکا سچ اسکا منفرد تھا 
ڈوبی ہوئی تھی نیا پتوار چل رہی تھی

دنیا الٹ رہی تھی کایا پلٹ رہی تھی
غم اسکو کیا ہو جسکی سرکار چل رہی تھی

اب روز روز تم کو احوال کیا سناتے 
یہ زندگی تو کب  سے بیمار چل رہی تھی

سوچا گلاب کر دوں ان راستوں کو لیکن 
ہر شاخ چھو کے دیکھی پرخار چل رہی تھی

ممتاز کیسے ہوتے باقی بچا ہی کیا تھا
خواہش کے گردنوں پر تلوار چل رہی تھی 
                ۔۔۔۔۔۔۔۔

بدھ، 8 اکتوبر، 2025

مصرعہ طرح ۔ عکس کاغذ پر ہیں ۔۔۔ اردو شاعری


مصرعہ طرح 
"عکس کاغذ پر ہیں کچھ بےنام سے "

دیکھتے ہیں ہم کو اکثر بام سے
جو نظر آتے ہیں بیحد عام سے

 بے سبب یہ خامشی اچھی نہیں 
گنگ کاہے  ہو گئے کل شام سے

عشق کی رسوائیاں ہیں انگنت
خوف ہے عاشق تیرے انجام سے

بھوک مٹتی ہے  محبت سے کہاں 
باز آئے ہم تو اب اس کام سے

قید میں ہیں زندگی آزاد کر
موت ہی شاید چھڑائے دام سے

تکتے تکتے انسیت ہونے لگی
"عکس کاغذ پر ہیں کچھ بےنام سے"

درد کی چوکھٹ مہرباں و گئی
آ رہے ہیں کچھ حسیں پیغام سے

سچ کا پرچم ہر جگہ اونچا ہوا 
سچ نوازہ ہے بھلے دشنام سے 

چل کہیں ممتاز چھٹیوں پر چلیں 
تھک گیا دل شہر کے ہنگام سے
                 ۔۔۔۔۔۔

منگل، 9 مئی، 2023

مصرع طرح ۔ پروردگار تیرا ساتھ ہے۔۔

مصرع طرح:
پروردگار تیرا سہارا ہے  اور میں 
کلام: 
(ممتازملک۔پیرس، فرانس)

پھر ظلمتوں نے مجھ کو پکارا ہے اور میں
"پروردگار تیرا سہارا ہے اور میں"

کیسے یہ وقت پر تھا سدا مشکلات سے 
کیسے یہ اس نے ساتھ گزارا ہے اور میں 

دل کا دبا کے درد کٹا دن کراہ کر
راتوں کو آنسوؤں سے نتھارا ہے اور میں

ریشم الجھ چکا تھا میری کائنات کا
پھر چاہتوں سے کیسے سنوارا ہے اور میں 

قدموں کی خاک بن کے اڑوں اس زمین پر 
عالم میں تجھکو جان سے پیارا ہے اور میں

صدقے میں اسکے مجھ کو عطا کر دے رحمتیں
چاہت سے جسکو تو نے اتارا ہے اور میں 

ہم نے تو اعتبار پہ سب کچھ لٹا دیا 
اب میرے پاس دل یہ بیچارہ ہے اور میں 

منزل کی رہبری کو بہت ہے میرے لیئے
میرے نصیب کا جو ستارہ ہے اور میں 

ممتاز روشنی کی کرن جھانکتی دکھی
تیرے کرم کا پھر سے اشارہ ہے اور میں

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/