"سائے کی جستجو میں دیوار چل رہی تھی "
(مصرعہ طرح)
۔۔۔۔۔
میں اسکے پیچھے ایسے دلدار چل رہی تھی
"سائے کی جستجو میں دیوار چل رہی تھی "
پختہ یقیں نے بخشا کیا حوصلہ بلا کا
طوفان آئے کشتی ہموار چل رہی تھی
آنکھیں بھی خشک ہیں اور دل بھی لہو نہیں ہے
غم کی ہوا تو یونہی بےکار چل رہی تھی
ساحل تھا ایک دھوکا سچ اسکا منفرد تھا
ڈوبی ہوئی تھی نیا پتوار چل رہی تھی
دنیا الٹ رہی تھی کایا پلٹ رہی تھی
غم اسکو کیا ہو جسکی سرکار چل رہی تھی
اب روز روز تم کو احوال کیا سناتے
یہ زندگی تو کب سے بیمار چل رہی تھی
سوچا گلاب کر دوں ان راستوں کو لیکن
ہر شاخ چھو کے دیکھی پرخار چل رہی تھی
ممتاز کیسے ہوتے باقی بچا ہی کیا تھا
خواہش کے گردنوں پر تلوار چل رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔