ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک
اردو شاعری۔اور وہ چلا گیا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اردو شاعری۔اور وہ چلا گیا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 28 مئی، 2024

* معافی نہیں ہوتی۔ اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا۔ اشاعت 2024ء


معافی نہیں ہوتی


اک جیسی دوا زخم کو کافی نہیں ہوتی
کہہ دو اسے ہر بات کی معافی
 نہیں ہوتی

 کفارہ ادا کرنا گناہوں کا ہے لازم
 بن اسکے کبھی کوئی تلافی نہیں ہوتی

اپنی بھی ہو تعظیم تو یہ بات کہیں پر
آداب محبت کے منافی نہیں ہوتی

چلتے ہیں اکیلے ہی عقیدت کے سفر پر
تنہائی عقیدت میں کیا شافی نہیں ہوتی

جینے کے لیئے چاہیئیں اسباب ضروری
سوچو تو کوئی چیز اضافی نہیں ہوتی

چھوڑے ہوئے گھر کو ہے پلٹنے کا ارادہ 
ممتاز پوچھو وعدہ خلافی نہیں ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 1 فروری، 2024

* وفادار نہیں ہے ۔اردو شاعری۔ اور وہ چلا گیا۔ اشاعت 2024ء

مصرعہ طرح:
 الیاس عاجز صاحب کا
" اس ملک سے کوئی بھی وفادار نہیں ہے"


ہر گز یہ سمجھنا یہاں دشوار نہیں ہے
اس ملک سے کوئی بھی وفادار نہیں ہے

 دعوی تو سبھی کرتے ہیں آگے نہیں بڑھتے
 سچ پوچھو تو اس کا کوئی غم خوار نہیں ہے 

حق چاہیئے سچ چاہیئے بس اپنے لیئے ہی
 اوروں کے لیے کوئی بھی دلدار نہیں ہے

جھوٹوں کی قدم بوسی کو حاضر ہے زمانہ
سچے کے لیئے راستہ ہموار نہیں ہے

شرفاء کے لیئے ملک ہوا جیل سے بدتر
بدمعاش میری قوم کا  لاچار نہیں ہے

حالات بدل جائیں گے ہر فرد جو بدلے
لیکن یہ بدلنے کو ہی تیار نہیں ہے

 ہر چور محلات میں رہتا ہے جہاں پر
 مزدور کے حالات کا پرچار نہیں ہے

کچھ فرق نہیں پڑتا کہ دنیا کیا کہے گی
غیرت کی دہائی یہاں بیکار نہیں ہے؟

ہم خود ہی تو امراض ہیں اس ملک کے ورنہ
یہ ملک کسی طور سے  بیمار نہیں ہے

انصاف عدالت میں نہیں ملتا یہاں پر
حق کے لیئے کوئی کھڑی سرکار نہیں ہے

مزدور ہو چاہے ہو حکمران یہاں کا
 ممتاز  کیئے اپنے  شرمسار نہیں ہے
      
      ------

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/