کس طرح یار کی چاہت کا صلہ دے کوئی
جان لیکر ہی مجھے اس سے ملا دے کوئی
جس کو چھو کر مجھے جینے کی تمنا ہوتی
زندگی تو ہی اگر پھول کھلا دے کوئی
کوئی خوشبو ہو مجسم جو تیرے پیکر میں
لا کے پہلو میں میرے اسکو بٹھا دے کوئی
بن تیرے دیکھ ذرا وہ بھی ہوا سودائی
یہ خبر آ کے کسی روز سنا دے کوئی
یہ بھی کچھ دیر مزا اپنے دھڑکنے کا لے
دل پہ رکھا ہوا پتھر جو ہٹا دے کوئیمجھکو امید ہو ملنے کی جہاں بالآخر
ایسی منزل کا مجھے بھی تو پتہ دے کوئی
راستہ بھولنے والے کو نہ ممتاز کہو
جو اسے ڈھونڈ کے لائے تو بتا دے کوئی
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
بحر استعمال ہوئی۔۔۔
یوم نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
ساتھ چل جیسے صبا ہو جیسے
احسان دانش