سہرا
(کلام/ممتازملک ۔ہیرس)
(کلام/ممتازملک ۔ہیرس)
آرزوؤں کا جہاں آج بسانے نکلے
میرے بچے نئے پیمان نبھانے نکلے
مشکلیں ساری ہی آسان کریں گے مل کر
ٹوٹنے سے وہ میرے خواب بچانے نکلے
بیٹیاں ماں کی ہی تصویر ہوا کرتی ہیں
کتنے سچے یہ سبهی رنگ پرانے نکلے
منفرد ہوتے ہیں دامادسبهی کے یہ بهی
منفرد اپنے سب انداز دکهانے نکلے
اپنی بیٹی سے بهی پیارے ہیں مجهے یہ بچے
منفرد اپنے سب انداز دکهانے نکلے
اپنی بیٹی سے بهی پیارے ہیں مجهے یہ بچے
سر پہ سہرا جو محبت سے سجانے نکلے
ہاتھ تھامے جو تجھے آج یہاں سے لیکر
سیر دنیا کی میری جان کرانےنکلے
زندگی میں کوئی دکھ پاس نہ آئے ممتاز
مسکراتے ہوئے دنیا کو بتانے آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔