ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک

منگل، 28 مئی، 2024

* معافی نہیں ہوتی۔ اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا۔ اشاعت 2024ء


معافی نہیں ہوتی


اک جیسی دوا زخم کو کافی نہیں ہوتی
کہہ دو اسے ہر بات کی معافی
 نہیں ہوتی

 کفارہ ادا کرنا گناہوں کا ہے لازم
 بن اسکے کبھی کوئی تلافی نہیں ہوتی

اپنی بھی ہو تعظیم تو یہ بات کہیں پر
آداب محبت کے منافی نہیں ہوتی

چلتے ہیں اکیلے ہی عقیدت کے سفر پر
تنہائی عقیدت میں کیا شافی نہیں ہوتی

جینے کے لیئے چاہیئیں اسباب ضروری
سوچو تو کوئی چیز اضافی نہیں ہوتی

چھوڑے ہوئے گھر کو ہے پلٹنے کا ارادہ 
ممتاز پوچھو وعدہ خلافی نہیں ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔

ڈر ۔ کوٹیشنز۔ چھوٹی چھوٹی باتیں

           ڈر

کبھی کسی کے لیے خود کو اتنا مت گرائیں،
 کہ وہ یہ سوچ ہی نہ پائے کہ آپ بھی اسے چھوڑ کر جا سکتے ہیں،
 کیونکہ 
چھوڑ کر جانے کا یہ ڈر ہی ہمیشہ اسے آپ کی قدر کرنا سکھاتا ہے۔
     (چھوٹی چھوٹی باتیں)
          (ممتازملک۔ پیرس)

اتوار، 26 مئی، 2024

* پھر سے ہو۔ اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا۔ اشاعت 2024ء


پھر سے ہو 

جو کچھ گزر چکا ہے وہ اک بار پھر سے ہو 
گزرا جو اچھا وقت وہ ہر بار پھر سے ہو

شکوے بھلا کے پھر نیا آغاز کر سکیں 
گر اک اشارہ آپ کا سرکار پھر سے ہو

لگتا ہے ڈر یہ موقع اسے دیتے ہوئے بھی
ایسا نہ ہو سفر کہیں  بیکار پھر سے ہو

کہتے ہیں کہ امید پہ قائم ہے زندگی
لیکن جو زندگی کی کہیں ہار پھر سے ہو

یوں بے بسی سے جینا کوئی زندگی ہے کیا
ہر فیصلے میں مجھکو ہی انکار پھر سے ہو

رستہ ہمارے پیار کا ہموار پھر سے ہو
ایسا نہ ہو کہ پیار کا پیوپار پھر سے ہو

ممتاز خود کو کس طرح پھر سے خفا کروں 
جھوٹی خوشی کے ہاتھ میں تلوار پھر سے ہو 
۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 25 مئی، 2024

ذرا جھانکیئے۔ کوٹیشنز۔ چھوٹی چھوٹی باتیں


ان اولڈ ہاوسز میں جھانکیئے "یہ وہ ہیں جنہوں نے اپنی جوانیاں تن من دھن آپکو جوان کرنے کے لیئے وار دیا۔ "
   (چھوٹی چھوٹی باتیں) 
          (ممتازملک۔پیرس)

جنتیں گھر سے نکال دو ۔کالم

جنتیں گھر سے نکال دو
تحریر:
     ممتازملک۔پیرس 

مدر ڈے کے حوالے سے آج جب آپ اپنا میڈیا کھولتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اپنے والدین کو، اپنی ماؤں کو باپوں کو کیسے کیسے در بدر کرنے میں ایکدوسرے سے نمبر لے جانے کی ایک ریس میں مبتلا ہیں۔ یہ وہ مائیں ہیں جو کل بچوں کی لائنیں لگانے پر اپنے 9 مہینے کا امتحان اور جسم کی ہر ہڈی کے ایکساتھ چور چور ہونے جیسے درد زہ کا غم بھول کر خوشی سے جھوما کرتی تھیں۔ یہ وہ باپ ہیں جو اپنے بازو بننے کے غرور میں مبتلا ہو جایا کرتے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حلال اور حرام دیکھے بنا اپنے بچے پالے۔ منہ سے نکلنے سے پہلے ان کی خواہشیں پوری کیں۔ ان کے لیئے اپنی دنیا اور آخرت بیچ دی۔ انہوں نے اپنے نام پر کوئی جائیداد نہیں رکھی۔ اپنی اولادوں کے لیئے خود کو ٹکے کوڑی کر لیا ۔ اپنے کاروبار ان کے نام کر دیئے ۔ جیتے جی اپنی جائیدادیں ان کے حوالے کر دیں۔ ان کے نام کر دیں۔ بٹوارے کر دیئے اور پھر وہ اولادیں جو اپنی منزلیں پا چکی ہوتی ہیں۔ کوئی تعلیم پوری کر چکا ہے۔ کسی کو دکانیں مل گئی ہیں۔ کسی کو مال مل گیا ہے۔ بیویاں مل گئی ہیں اور  اب انہوں نے اس بوڑھے بوڑھی کو کیا کرنا ہے؟ یہ کمزور  ، انکی چاکری اور نوکری نہیں کر سکتے، بینک بیلنس بھی تمہارا وہ چاٹ چکے ہیں، تو بابا جی اور بابی جی کو چاہیئے کہ اب آپ ہماری جان چھوڑیں۔ جنت؟
 وہ کیا ہوتی ہے ؟کس نے دیکھی ہے؟ ارے بھائی جاؤ رستہ لو اپنا، ہماری جان سے اترو۔ کہیں ہماری پرائیویسی متاثر ہوتی ہے، اور کہیں تمہیں کھانے کو بھی دیں۔ اب ہم تمہیں پہننے کو بھی دیں۔ نہیں بھئی ہم نہیں پورا کر سکتے۔۔۔
 یہ سچ ہے 10 بچے ایک والدین پال لیں گے لیکن ایک ماں یا ایک باپ کو پالنا 10 بچوں کے لیے بھاری ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ ایک ماں  یا ایک باپ گنے کی طرح مشین سے کئی بار گزار کر، اس کا جوس نکال کر آپ غٹک چکے ہیں۔ اب آپ کے لیئے یہ پھوک ہے۔ لیکن آپ کو یہ یاد نہیں رہا کہ یہ اب بھی آپ کے گھر کی برکت ہے۔ دعا ہے اور جنت بھی ہیں۔ جو لوگ اپنی جنتیں اپنے گھروں سے اپنے ہاتھوں سے نکال دیتے ہیں تو یقینا وہ جہنم اپنے اوپر واجب کر ہی لیتے ہیں۔ یہ وہ بدبخت اولادیں ہیں۔ جو دنیا داری کی ساری عیاشیاں اور مواقع رکھتے ہوئے بھی، اپنے والدین کے نوالے گننے لگتے ہیں ۔ ان کے کپڑوں کی قیمتیں کرنے لگتے ہیں اور پھر ایک دن ان کے کفن پر چندہ کرنے لگتے ہیں۔ اب تو اولڈ ہاؤسز کو دعا دیں کہ وہاں آپ کو ان کی کھانے پینے سے بھی آزادی مل گئی۔ انکے کپڑے لتے کی فکر سے بھی آزادی مل گئی اور ہاں اب آپ کو ان کے کفن پر بھی چندہ نہیں کرنا پڑے گا۔ بہت ہیں لوگ چندہ دینے والے۔ جب چندہ ہی لینا ہے تو اپنے کسی خبیث سے کیوں لیا جائے۔ کسی غیر سے کیوں نہ لے لیا جائے۔ کچھ پردہ تو رہے گا۔ کچھ تو بھرم رہ جائے گا۔ لیکن وہ بیٹیاں، وہ بہوئیں، وہ بیٹے، وہ جوان زندہ لاشیں، جنہیں ابھی ان بوڑھے باپ یا ماں کی ضرورت نہیں، انہیں ابھی سے چاہیئے کہ اپنے نزدیک ترین  لاوارث سینٹروں میں اپنا نام کا اندراج کروا لیں۔ اپنے حصے کی جگہ بک کروا لیں۔ کیونکہ آپ کو بھی زیادہ دیر نہیں لگے گی یہاں پہنچنے میں۔ یقین کیجیئے۔ آپ کے بچے آپ کی کہی ہوئی باتوں سے نہیں سیکھتے بلکہ جو کچھ آپ کر رہے ہیں۔ وہ اسے دیکھ کر سیکھتے ہیں اور یہ سب آپ ہی نے سکھایا۔ اس میں کم از کم آپ کی اولاد گنہگار نہیں ہوگی۔
                   ۔۔۔۔۔۔۔

اتوار، 19 مئی، 2024

& اتنی سی تو بات تھی۔ افسانہ۔ قطرہ قطرہ زندگی




       اتنی سی تو بات تھی
 افسانہ۔
          ممتاز ملک
         پیرس فرانس

دو سال ہو چکے تھے اس کی شادی کو ۔ سسرال والوں نے دبا کر اسے اپنی ملازمہ بنا رکھا تھا۔ لیکن انہیں یہ یاد نہیں رہا کہ ان دو سالوں میں کوئی عید بھی آئی۔ کوئی شب برات بھی آئی۔ کوئی تہوار بھی آیا۔ لیکن اسے ایک جوڑا تو کیا ایک دوپٹہ تک لے کر دینے کی توفیق نہیں ہوئی۔ جبکہ یہ گھر اس کے شوہر کے باہر سے بھیجے ہوئے ہزاروں روپوں ہر ماہانہ چل رہا تھا۔ باقی سارے ہڈ حرام اپنی کمائیاں اپنے اپنے کھاتے خفیہ خانوں میں جوڑ جوڑ کر مالدار ہو رہے تھے اور باہر بیٹھا ہوا احمق خود تو اپنا خون انہیں سالہا سال سے چھوٹی رہا تھا الٹا اپنے نام کے پٹھے میں باندھ کر ایک معصوم لڑکی کی زندگی کو۔بھی گھن کی طرح چھوا رہا تھا۔ 
  اس لڑکی کی آنکھوں سے اس کی باتوں کا درد صاف جھلک رہا تھا۔
 میں نے اپنی زندگی کے قیمتی ترین اور اپنی شادی کے بعد اپنے حسین ترین دن  ان کی چاکری میں گزار دیئے ۔ان لوگوں کے جوتے کھاتے ہوئے مجھے عرصہ گزرا۔ لیکن مجھے کیا ملا ۔
میں لعنت بھیجتی ہوں جوائنٹ فیملی میں رہنے پر اور سسرالیوں کی خدمتیں کرنے پر۔ اور اس کے لیئے دوسروں کو لیکچرز جھاڑنے والوں پر اور اسکے فائدے گنوانے والوں پر۔
 اس کے لہجے کی سختی اس کی اذیتوں کو بیان کر رہی تھی۔ زبیدہ بیگم یہ سب کچھ سن کر ایک عجیب سے کرب میں مبتلا ہو چکی تھیں۔انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ بھی  اس پر اس کے سسرال والوں کی سائیڈ لے کر اس کا کوئی ترانہ سنائیں۔ اسے جوائن فیملی سسٹم اور ساس سسر کی خدمت کے کوئی لیکچرز دیں یا پھر اس کی ذات کے درد کے ساتھ کھڑا ہو کر اسے حوصلہ دیں۔ اسے شاباش دیں کہ اس نے ایسے لوگوں کے ساتھ گزارا کیا۔ آج رات نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
 وہ سوچ رہی تھیں کہ ایک ادمی کا کیا کیسے بہت سارے لوگوں کے آگے آتا ہے ؟
کیوں لوگ بھول جاتے ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو ویلوٹ کی نائٹیاں بہنانے والے جس بھائی کی کمائی پر یہ عیش انہیں کروا رہے ہیں، اس بھائی کی اپنی بیوی ان کے گھر میں 24 گھنٹے کی چاکری کر رہی ہے اور ایک دھیلے کی چیز بھی اس کے نصیب میں نہیں ۔
یہ کیسے بددعائے ہوئے لوگ ہوتے ہیں؟
 بے شرمی کی کیسی کیسی مثالیں ہمارے ارد گرد بکھری ہوئی ہیں ۔ 
ہم جتنے مرضی سجدے کر لیں۔ جتنی مرضی لوگوں کے سامنے نیکیاں بگھار لیں۔ لیکن اصل نیکی وہ ہوتی ہے جو ہم اپنے رشتوں میں ایمانداری کے ساتھ اپنے حقوق اور فرائض کو متوازن کر کے ادا  کرتے ہیں۔ وہ چاہے کسی کو دکھائی اور سنائی دیں یا نہ دیں لیکن حقیقت میں اس کے اثرات ہر طرف بکھرتے ہیں۔
 لہجوں میں بھی، رویوں میں بھی، رشتوں میں بھی،۔۔۔۔
 یہ سب سوچتے سوچتے فجر کی اذان ہونے لگی انہوں نے اٹھ کر وضو کیا، نماز ادا کی اور کچن میں جا کر اپنے لیئے چائے بنانے لگیں آج انہوں نے گھر میں رکھی سبزی اور گوشت نکال کر ٹرے میں رکھا ،کہ آج کے کھانے کی طرف سے یہ سوچنے کا وقت ضائع نہ ہو کہ کیا بنانا ہے؟ جتنی دیر تک انہوں نے چائے بنائی اور سلائس پر مکھن لگایا چولہے پر ہنڈیا چڑھا چکی تھیں۔بیٹا تو ان کا بھی ملک سے باہر تھا۔  ابھی ان کی بہو سوئی ہوئی تھی۔ 
 انہیں کچھ تو کرنا تھا سوچا کیوں نہ لگے ہاتھوں ایک کام کر دیا جائے 
کل کی پڑوس  کی بہو کی باتیں ان کے ذہن میں، ان کی سوچوں میں بہت سا طوفان برپا کر کے، بہت کچھ تہس نہس تو کر چکی تھیں۔
لیکن بہت کچھ سنوار بھی چکی تھیں۔
انہوں نے آج خوشی خوشی سالن چڑھا کر اپنی ناشتے کے برتن دھو کر سنک میں لگائے اور اپنے کمرے میں جا کر تسبیح کرنے کے بعد خاموشی سے بازار کا رخ کیا۔
علی صبح  تھی۔ بازار کھلنے جا رہے تھے اپنی پرانی دکان پر گئیں اور ان سے کہا 
 ایک اچھا سا سوٹ دکھاؤ جو آج کل چل رہے ہیں۔
بہت سارے جوڑوں میں سے انہوں نے بہت ہی خوبصورت سے پلچھی کے ایک جوڑے کا انتخاب کیا۔ اچھی سی پیکنگ کروائی ۔
کچھ سوچا مسکرائیں۔
ساتھ میں میچنگ جوڑیاں لیں ۔راستے میں ایک خاص دکان سے ٹھہر کر رسگلے پیک کروائے۔ 
 رکشے کو ہاتھ دیا۔ راستے میں ایک۔بچہ گجرے بیچتا دکھا تو اس سے ایک جوڑی گجروں کی خریدی۔
گھر پہنچیں۔
گھر پہنچتے پہنچتے تقریبا ایک بج چکا تھا۔
 بہو اپنے کمرے میں تھی گھر بالکل الٹ پلٹ پڑا تھا بالکل ایسے جیسے کسی کی اداسی کسی کی ناراضگی کا بگل بجا رہا ہو۔
انہوں نے دیکھا کچھ سوچا مسکرائیں۔
 انہوں نے بہو کے کمرے میں جا کر اس کی خیریت معلوم کی ۔
وہ بہت حیران ہوئی جی امی آپ یہاں۔۔۔
 ہاں بیٹا میں نے سوچا تم تھکی ہوئی ہو گی۔
 میں دیکھ لوں ۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری ۔
ناشتہ کیا کہ نہیں ۔
جی جی میں ٹھیک ہوں ۔
بس ذرا سر میں درد تھا۔
 او ہو کوئی دوا لی؟
 خیر میں تمہارے لیے چائے بنا دیتی ہوں۔
 وہ حیران تھی پیچھے لپکی نہیں نہیں امی اپ رہنے دیں اپ کیوں بنائیں گی۔  میں خود بنا لوں گی۔
 نہیں بیٹا میرے سر میں درد ہوتا ہے تو تم مجھے چائے بنا دیتی ہو نا ۔۔
وہ اپنی ساس کے رویے پر حیران تھی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ اس کی ساس کا  طنز ہے مذاق ہے یا کوئی انقلاب ...
وہ کچن میں گئیں۔
 انہوں نے چائے چڑھائی۔
 زویا انہیں روکتی رہ گئی۔
 نہیں نہیں امی آپ نہ کریں پلیز میں کر لوں گی۔
 نہیں بیٹا کیا میری بیٹی عمیرہ یہاں ہوتی تو میں اس کے لئے چائے نہیں بنا سکتی تھی۔
ہاں نہیں ۔۔ وہ گڑبڑا سی گئی۔۔
 انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا۔ اسے شفقت سے دیکھا۔
  اسے کرسی پر بٹھا دیا ۔
زویا ہکی بکی تھی، کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔
 آج میں نے تمہیں ایک سرپرائز دینا تھا۔
یہ سنتے ہی اسکا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔
کہ لو جی اب ان مہربانیوں کا اصل مطلب سامنے آنے والا ہے۔
 جانتی ہو ابھی میں کہاں گئی تھی؟
 جی کہاں گئی تھیں؟
زویا نے حیران ہو کر پوچھا۔
 انہوں نے کہا پہلے اپنی آنکھیں بند کرو ۔ جب میں کہوں گی تب کھولنا۔
 وہ حیران ہو گئی۔
 اپنی ساس کے رویے پر کہ کیا ہو رہا ہے۔
 پھر بھی ان کے کہنے پر اس نے انکھیں بند کیں۔
 یہیں بیٹھی رہنا۔ وہ یہ کہہ کر اپنے کمرے میں گئیں۔
انہوں نے اس کے سوٹ کا گفٹ رسگلے کا ڈبہ چوڑیوں کا ڈبہ ساتھ رکھا ایک ٹرے میں سجا کر اور ٹیبل پر لا کر رکھ دیا اس کے سامنے پھولوں کی گجروں کے ساتھ۔
 انکھیں کھولو
 اس نے آنکھیں کھولیں
 ارے واہ یہ سب کیا ہے امی؟ 
کیا میرا کی جانب جانے کا ارادہ ہے؟
 میرا کی جانب کیوں؟
 انہوں نے حیران ہو کے پوچھا شاید وہاں کوئی فنکشن ہے 
اس کے لیئے آپ نے تیاری کی ہے۔
 ارے نہیں بیٹا میرا میری بیٹی ہے۔ میرے گھر میں آتی ہے۔مہمان ہے۔ ہم جو کچھ مہمان کے لئے کر سکتے ہیں۔
 ہمیں کرنا چاہئیے، لیکن میرے گھر کی میزبان میری یہ بہو رانی ہے۔
 یہ تمہارے لئے۔
میرے لیئے۔۔۔
 لیکن کیوں؟ تمہارے لیئے انہوں نے ایک کارڈ اسکی جانب بڑھایا۔
اس نے جھجھکتے ہوئے وہ خوبصورت سا کارڈ کھولا ۔
جس پر لکھا تھا 
شکریہ ہماری زندگی میں انے کے لیئے ۔ 
تمہاری دوست 
یہ پڑھ کر اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
 امی یہ کس کے لیئے لکھا آپ نے۔
وہ اب بھی نہ سمجھتے ہوئے پوچھ بیٹھی۔
 تمہارے لیئے لکھا ہے میرا بچہ تمہارے لیئے۔ تمہارے آئے سے زندگی میں بہت ساری آسانیاں ہوئیں جسکا کا مجھے پہلے پہل  احساس تک نہیں ہوا۔
 میں اپنی بیٹی کی محبت میں تو گرفتار رہی ، لیکن جس نے 24 گھنٹے میرے ساتھ میرا دکھ سکھ، میری خوشی، میرا غم دیکھا وہ مجھے دکھائی ہی نہیں دی۔ سچ پوچھو بیٹا مجھے معاف کر دینا۔ ہمارے قریب کی نظر ہمیشہ کمزور رہی ہے۔ چراغ تلے ہی ہمیشہ اندھیرا کیوں رہتا ہے۔ میری اصل بیٹی تو تم ہو بیٹا۔ یہ تمہارے لیئے شکریہ ادا کیا ۔
تحفے تمہاری پسند اور محبت کے لیئے۔ اپنا خیال رکھا کرو۔ خوش رہا کرو ۔ یہ گھر تمہارا ہے۔ میری بیٹیاں اگر یہاں آئیں تو یہ ان کے لیئے مہمان خانہ ہے۔ لیکن تمہارا تو یہ گھر ہے بیٹا ۔ تو تم اپنے مہمانوں کو جتنی خوشی اور عزت سے ویلکم کرو گی اس سے تمہاری عزت اور مرتبے میں اضافہ ہوگا اور تمہارے لیے دعاؤں کے راستے کھلے رہیں گے اور نہیں کرو گی تو کوئی تم سے زبردستی نہیں کروا سکتا۔ یہ دعاؤں کے دروازے ہم اپنے ہاتھوں سے یا کھولتے ہیں یا بند کر دیتے ہیں۔
تم تو بہت سمجھدار ہو میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہوں گی، لیکن میرا وعدہ ہے میں اپنی بیٹی کے لیے یہ عید کا جوڑا ، چوڑیاں ، تمہیں بہت پسند ہیں نا رسگلے۔ یہ صرف تمہارے لیئے 
 اب یہ گجرے تمہارے ہاتھوں میں مہکیں تاکہ میرے بچے کا گھر مہکتا رہے ۔ وہ شام کو آئے تو اس کے چہرے پر سکون کی مسکراہٹ ہو۔ مجبوری کی نہیں،  اور وہ تب ہوگی جب تم اسے سکون دوگی۔ تم خود خوش ہوگی اور تم اسے یہ تب دو گی جب میں تمہیں خوشی دوں گی ،سکون دو گی، اپنا خیال رکھا کرو بیٹا۔ زویا کی انکھیں چھلکتی جا رہی تھیں 
وہ اس کایا پلٹ پر حیران تھی اس کے دل سے دعا نکل  رہی تھی ۔ 
خدایا جس نے میری ساس کے دل میں جنت کا یہ گوشہ پیدا کیا ۔ انسانیت جگائی۔  خدا اسے کوئی دکھ نہ دے ۔
انہوں نے اپنی اپنی بہو کا سر اپنے سینے سے لگایا۔ اس کے آنسو پونچھے۔ ماتھا چوما اور چائے کا کپ اس کے سامنے کر دیا۔۔۔۔۔
                ۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/