اتنی سی تو بات تھی
افسانہ۔
ممتاز ملک
پیرس فرانس
دو سال ہو چکے تھے اس کی شادی کو ۔ سسرال والوں نے دبا کر اسے اپنی ملازمہ بنا رکھا تھا۔ لیکن انہیں یہ یاد نہیں رہا کہ ان دو سالوں میں کوئی عید بھی آئی۔ کوئی شب برات بھی آئی۔ کوئی تہوار بھی آیا۔ لیکن اسے ایک جوڑا تو کیا ایک دوپٹہ تک لے کر دینے کی توفیق نہیں ہوئی۔ جبکہ یہ گھر اس کے شوہر کے باہر سے بھیجے ہوئے ہزاروں روپوں ہر ماہانہ چل رہا تھا۔ باقی سارے ہڈ حرام اپنی کمائیاں اپنے اپنے کھاتے خفیہ خانوں میں جوڑ جوڑ کر مالدار ہو رہے تھے اور باہر بیٹھا ہوا احمق خود تو اپنا خون انہیں سالہا سال سے چھوٹی رہا تھا الٹا اپنے نام کے پٹھے میں باندھ کر ایک معصوم لڑکی کی زندگی کو۔بھی گھن کی طرح چھوا رہا تھا۔
اس لڑکی کی آنکھوں سے اس کی باتوں کا درد صاف جھلک رہا تھا۔
میں نے اپنی زندگی کے قیمتی ترین اور اپنی شادی کے بعد اپنے حسین ترین دن ان کی چاکری میں گزار دیئے ۔ان لوگوں کے جوتے کھاتے ہوئے مجھے عرصہ گزرا۔ لیکن مجھے کیا ملا ۔
میں لعنت بھیجتی ہوں جوائنٹ فیملی میں رہنے پر اور سسرالیوں کی خدمتیں کرنے پر۔ اور اس کے لیئے دوسروں کو لیکچرز جھاڑنے والوں پر اور اسکے فائدے گنوانے والوں پر۔
اس کے لہجے کی سختی اس کی اذیتوں کو بیان کر رہی تھی۔ زبیدہ بیگم یہ سب کچھ سن کر ایک عجیب سے کرب میں مبتلا ہو چکی تھیں۔انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ بھی اس پر اس کے سسرال والوں کی سائیڈ لے کر اس کا کوئی ترانہ سنائیں۔ اسے جوائن فیملی سسٹم اور ساس سسر کی خدمت کے کوئی لیکچرز دیں یا پھر اس کی ذات کے درد کے ساتھ کھڑا ہو کر اسے حوصلہ دیں۔ اسے شاباش دیں کہ اس نے ایسے لوگوں کے ساتھ گزارا کیا۔ آج رات نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
وہ سوچ رہی تھیں کہ ایک ادمی کا کیا کیسے بہت سارے لوگوں کے آگے آتا ہے ؟
کیوں لوگ بھول جاتے ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو ویلوٹ کی نائٹیاں بہنانے والے جس بھائی کی کمائی پر یہ عیش انہیں کروا رہے ہیں، اس بھائی کی اپنی بیوی ان کے گھر میں 24 گھنٹے کی چاکری کر رہی ہے اور ایک دھیلے کی چیز بھی اس کے نصیب میں نہیں ۔
یہ کیسے بددعائے ہوئے لوگ ہوتے ہیں؟
بے شرمی کی کیسی کیسی مثالیں ہمارے ارد گرد بکھری ہوئی ہیں ۔
ہم جتنے مرضی سجدے کر لیں۔ جتنی مرضی لوگوں کے سامنے نیکیاں بگھار لیں۔ لیکن اصل نیکی وہ ہوتی ہے جو ہم اپنے رشتوں میں ایمانداری کے ساتھ اپنے حقوق اور فرائض کو متوازن کر کے ادا کرتے ہیں۔ وہ چاہے کسی کو دکھائی اور سنائی دیں یا نہ دیں لیکن حقیقت میں اس کے اثرات ہر طرف بکھرتے ہیں۔
لہجوں میں بھی، رویوں میں بھی، رشتوں میں بھی،۔۔۔۔
یہ سب سوچتے سوچتے فجر کی اذان ہونے لگی انہوں نے اٹھ کر وضو کیا، نماز ادا کی اور کچن میں جا کر اپنے لیئے چائے بنانے لگیں آج انہوں نے گھر میں رکھی سبزی اور گوشت نکال کر ٹرے میں رکھا ،کہ آج کے کھانے کی طرف سے یہ سوچنے کا وقت ضائع نہ ہو کہ کیا بنانا ہے؟ جتنی دیر تک انہوں نے چائے بنائی اور سلائس پر مکھن لگایا چولہے پر ہنڈیا چڑھا چکی تھیں۔بیٹا تو ان کا بھی ملک سے باہر تھا۔ ابھی ان کی بہو سوئی ہوئی تھی۔
انہیں کچھ تو کرنا تھا سوچا کیوں نہ لگے ہاتھوں ایک کام کر دیا جائے
کل کی پڑوس کی بہو کی باتیں ان کے ذہن میں، ان کی سوچوں میں بہت سا طوفان برپا کر کے، بہت کچھ تہس نہس تو کر چکی تھیں۔
لیکن بہت کچھ سنوار بھی چکی تھیں۔
انہوں نے آج خوشی خوشی سالن چڑھا کر اپنی ناشتے کے برتن دھو کر سنک میں لگائے اور اپنے کمرے میں جا کر تسبیح کرنے کے بعد خاموشی سے بازار کا رخ کیا۔
علی صبح تھی۔ بازار کھلنے جا رہے تھے اپنی پرانی دکان پر گئیں اور ان سے کہا
ایک اچھا سا سوٹ دکھاؤ جو آج کل چل رہے ہیں۔
بہت سارے جوڑوں میں سے انہوں نے بہت ہی خوبصورت سے پلچھی کے ایک جوڑے کا انتخاب کیا۔ اچھی سی پیکنگ کروائی ۔
کچھ سوچا مسکرائیں۔
ساتھ میں میچنگ جوڑیاں لیں ۔راستے میں ایک خاص دکان سے ٹھہر کر رسگلے پیک کروائے۔
رکشے کو ہاتھ دیا۔ راستے میں ایک۔بچہ گجرے بیچتا دکھا تو اس سے ایک جوڑی گجروں کی خریدی۔
گھر پہنچیں۔
گھر پہنچتے پہنچتے تقریبا ایک بج چکا تھا۔
بہو اپنے کمرے میں تھی گھر بالکل الٹ پلٹ پڑا تھا بالکل ایسے جیسے کسی کی اداسی کسی کی ناراضگی کا بگل بجا رہا ہو۔
انہوں نے دیکھا کچھ سوچا مسکرائیں۔
انہوں نے بہو کے کمرے میں جا کر اس کی خیریت معلوم کی ۔
وہ بہت حیران ہوئی جی امی آپ یہاں۔۔۔
ہاں بیٹا میں نے سوچا تم تھکی ہوئی ہو گی۔
میں دیکھ لوں ۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری ۔
ناشتہ کیا کہ نہیں ۔
جی جی میں ٹھیک ہوں ۔
بس ذرا سر میں درد تھا۔
او ہو کوئی دوا لی؟
خیر میں تمہارے لیے چائے بنا دیتی ہوں۔
وہ حیران تھی پیچھے لپکی نہیں نہیں امی اپ رہنے دیں اپ کیوں بنائیں گی۔ میں خود بنا لوں گی۔
نہیں بیٹا میرے سر میں درد ہوتا ہے تو تم مجھے چائے بنا دیتی ہو نا ۔۔
وہ اپنی ساس کے رویے پر حیران تھی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ اس کی ساس کا طنز ہے مذاق ہے یا کوئی انقلاب ...
وہ کچن میں گئیں۔
انہوں نے چائے چڑھائی۔
زویا انہیں روکتی رہ گئی۔
نہیں نہیں امی آپ نہ کریں پلیز میں کر لوں گی۔
نہیں بیٹا کیا میری بیٹی عمیرہ یہاں ہوتی تو میں اس کے لئے چائے نہیں بنا سکتی تھی۔
ہاں نہیں ۔۔ وہ گڑبڑا سی گئی۔۔
انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا۔ اسے شفقت سے دیکھا۔
اسے کرسی پر بٹھا دیا ۔
زویا ہکی بکی تھی، کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔
آج میں نے تمہیں ایک سرپرائز دینا تھا۔
یہ سنتے ہی اسکا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔
کہ لو جی اب ان مہربانیوں کا اصل مطلب سامنے آنے والا ہے۔
جانتی ہو ابھی میں کہاں گئی تھی؟
جی کہاں گئی تھیں؟
زویا نے حیران ہو کر پوچھا۔
انہوں نے کہا پہلے اپنی آنکھیں بند کرو ۔ جب میں کہوں گی تب کھولنا۔
وہ حیران ہو گئی۔
اپنی ساس کے رویے پر کہ کیا ہو رہا ہے۔
پھر بھی ان کے کہنے پر اس نے انکھیں بند کیں۔
یہیں بیٹھی رہنا۔ وہ یہ کہہ کر اپنے کمرے میں گئیں۔
انہوں نے اس کے سوٹ کا گفٹ رسگلے کا ڈبہ چوڑیوں کا ڈبہ ساتھ رکھا ایک ٹرے میں سجا کر اور ٹیبل پر لا کر رکھ دیا اس کے سامنے پھولوں کی گجروں کے ساتھ۔
انکھیں کھولو
اس نے آنکھیں کھولیں
ارے واہ یہ سب کیا ہے امی؟
کیا میرا کی جانب جانے کا ارادہ ہے؟
میرا کی جانب کیوں؟
انہوں نے حیران ہو کے پوچھا شاید وہاں کوئی فنکشن ہے
اس کے لیئے آپ نے تیاری کی ہے۔
ارے نہیں بیٹا میرا میری بیٹی ہے۔ میرے گھر میں آتی ہے۔مہمان ہے۔ ہم جو کچھ مہمان کے لئے کر سکتے ہیں۔
ہمیں کرنا چاہئیے، لیکن میرے گھر کی میزبان میری یہ بہو رانی ہے۔
یہ تمہارے لئے۔
میرے لیئے۔۔۔
لیکن کیوں؟ تمہارے لیئے انہوں نے ایک کارڈ اسکی جانب بڑھایا۔
اس نے جھجھکتے ہوئے وہ خوبصورت سا کارڈ کھولا ۔
جس پر لکھا تھا
شکریہ ہماری زندگی میں انے کے لیئے ۔
تمہاری دوست
یہ پڑھ کر اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
امی یہ کس کے لیئے لکھا آپ نے۔
وہ اب بھی نہ سمجھتے ہوئے پوچھ بیٹھی۔
تمہارے لیئے لکھا ہے میرا بچہ تمہارے لیئے۔ تمہارے آئے سے زندگی میں بہت ساری آسانیاں ہوئیں جسکا کا مجھے پہلے پہل احساس تک نہیں ہوا۔
میں اپنی بیٹی کی محبت میں تو گرفتار رہی ، لیکن جس نے 24 گھنٹے میرے ساتھ میرا دکھ سکھ، میری خوشی، میرا غم دیکھا وہ مجھے دکھائی ہی نہیں دی۔ سچ پوچھو بیٹا مجھے معاف کر دینا۔ ہمارے قریب کی نظر ہمیشہ کمزور رہی ہے۔ چراغ تلے ہی ہمیشہ اندھیرا کیوں رہتا ہے۔ میری اصل بیٹی تو تم ہو بیٹا۔ یہ تمہارے لیئے شکریہ ادا کیا ۔
تحفے تمہاری پسند اور محبت کے لیئے۔ اپنا خیال رکھا کرو۔ خوش رہا کرو ۔ یہ گھر تمہارا ہے۔ میری بیٹیاں اگر یہاں آئیں تو یہ ان کے لیئے مہمان خانہ ہے۔ لیکن تمہارا تو یہ گھر ہے بیٹا ۔ تو تم اپنے مہمانوں کو جتنی خوشی اور عزت سے ویلکم کرو گی اس سے تمہاری عزت اور مرتبے میں اضافہ ہوگا اور تمہارے لیے دعاؤں کے راستے کھلے رہیں گے اور نہیں کرو گی تو کوئی تم سے زبردستی نہیں کروا سکتا۔ یہ دعاؤں کے دروازے ہم اپنے ہاتھوں سے یا کھولتے ہیں یا بند کر دیتے ہیں۔
تم تو بہت سمجھدار ہو میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہوں گی، لیکن میرا وعدہ ہے میں اپنی بیٹی کے لیے یہ عید کا جوڑا ، چوڑیاں ، تمہیں بہت پسند ہیں نا رسگلے۔ یہ صرف تمہارے لیئے
اب یہ گجرے تمہارے ہاتھوں میں مہکیں تاکہ میرے بچے کا گھر مہکتا رہے ۔ وہ شام کو آئے تو اس کے چہرے پر سکون کی مسکراہٹ ہو۔ مجبوری کی نہیں، اور وہ تب ہوگی جب تم اسے سکون دوگی۔ تم خود خوش ہوگی اور تم اسے یہ تب دو گی جب میں تمہیں خوشی دوں گی ،سکون دو گی، اپنا خیال رکھا کرو بیٹا۔ زویا کی انکھیں چھلکتی جا رہی تھیں
وہ اس کایا پلٹ پر حیران تھی اس کے دل سے دعا نکل رہی تھی ۔
خدایا جس نے میری ساس کے دل میں جنت کا یہ گوشہ پیدا کیا ۔ انسانیت جگائی۔ خدا اسے کوئی دکھ نہ دے ۔
انہوں نے اپنی اپنی بہو کا سر اپنے سینے سے لگایا۔ اس کے آنسو پونچھے۔ ماتھا چوما اور چائے کا کپ اس کے سامنے کر دیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔