ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک
اردو شاعری ۔ اشاعت 2020ء لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اردو شاعری ۔ اشاعت 2020ء لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 20 مارچ، 2019

● (81) یہ دنیا کی نشانی ہے / اردو شاعری ۔ سراب دنیا ۔ اشاعت 2020ء


       

      (81)  دنیا کی نشانی ہے
          

جہاں امید ہوتی ہے وہیں پر ٹوٹتا ہے دل 
اسی کا نام دنیا ہے یہ دنیا کی نشانی ہے

ہماری ماں کہا کرتی تھی اکدن جان جاو گے
اسی سچ کو جسے سمجھا کہاوت اک پرانی ہے

نہیں تھے ہم تو وہ سب تھے نہیں ہونگے تو بھی ہونگے  
یہ سورج چاند اور تارے  مگر جاں آنی جانی ہے

تمناؤں کے شیشے پر جمی ہے دھول  برسوں کی 
جوانی میں سمجھتے ہو کہ جیون جاودانی  ہے

نئی صبحییں طلوع ہونگی نئے اب رت جگے ہونگے
پرانی یاد کاہے کو تمہیں دل سے لگانی ہے

ہر اک یہ ہی سمجھتا ہے وہی تو بس انوکھا ہے 
انوکھا ہے سفر اسکا ، انوکھی زندگانی ہے 

یہ عزت تھال میں رکھ کر کسی کو بھی نہیں ملتی 
 تمہیں گر چاہیئے تو پھر تمہیں یہ خود کمانی ہے 

وہ جس کے بل پہ جیتی تھی کبھی ہاری لڑائی تب
 تمہیں اک بار پھر سے اب  وہی  ہمت  دکھانی ہے

نہیں تھا وقت جس کے پاس ہم سے بات کرنے کا 
 ہمارا سوچنا اسکو  کہانی اک سنانی ہے 

اگر ہم سے صلاح کرتے کبھی وہ مشورہ کرتے 
بتاتے بات الجھی ہو تو بھر کیسے بنانی ہے 

اسی دھرتی پہ رہتے ہو، مسائل پیش آئینگے
نہ تم راجہ ریاست کے نہ ہی وہ ماہ رانی ہے 

یہ ہی تو سوچ کر ممتاز آتی ہے ہنسی ہمکو 
ہمیں  احمق سدا ٹھہرے یہ دنیا تو سیانی  ہے
                   ●●●

کلام: ممتازملک 
مجموعہ کلام:
سراب دنیا 
اشاعت:2020ء
●●●

پیر، 7 جنوری، 2019

شہر دغا ۔ سراب دنیا ۔اشاعت 2020ء

















شہر
 دغا
کلام / ممتاز ملک


وہ تجھے پیار کے بولوں سے دیوانہ کر کے
چھوڑ جائے گا کسی روز بہانہ کر کے

زہر بنیاد میں تھا شہد چٹایا برسوں
پھر اسے منہ میں رکھا اس نے زُبانہ کر کے

جانے کتنے تهے مسافر جنہیں منزل نہ ملی
میں بھی آیا یہ کہا جن کو روانہ کر کے

سادگی دیکھ تیری مجھکو بھی رونا آیا
فطرتیں کون بدل پایا زمانہ کر کے

بھول جا اسکو تیری یاد کے قابل وہ نہیں
کیا ملے گا یوں اسے یاد روزانہ کر کے


ہم فسانے کو بھی سچائ سمجھ کر روئے
بات سچی بھی وہ کرتا ہے فسانہ کر کے

 قہقہے پهیل  گئےاسکے ہوا میں اکثر   
سسکیاں جس نے دبائ ہیں خزانہ کر کے    
                                                ان میں جرات نہ تھی کہ  ہم سے مخاطب ہوتے   
   بات اوروں سے کہی ہم کو نشانہ کرکے 

دوستی نام ہے ٹھوکر پہ نئی ٹھوکر کا 
جو بھی آیا وہ گیا مجھ کو سیانا کر کے

تو منافق نہیں ممتاز یہ ہے شہر دغا
ہو جا بےفکر تو اس دل کو توانا کرکے
۔۔۔۔۔

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/