ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک
قطرہ قطرہ زندگی۔ رپورٹس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
قطرہ قطرہ زندگی۔ رپورٹس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 23 نومبر، 2025

ری لاونچنگ ۔ قطرہ قطرہ زندگی ۔ سچی کہانیاں۔ رپورٹ

ری لاونچنگ 
قطرہ قطرہ زندگی 
پیرس فرانس میں

23نومبر 2025ء بروز اتوار 
فرانس میں مقیم پاکستانی نژاد معروف شاعرہ لکھاری کالم نگار اور عالمی نظامت کار محترمہ ممتازملک کی سچی کہانیوں کی  کتاب "قطرہ قطرہ زندگی" کی ری لاونچنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں یورپ کی پہلی پاکستانی لکھاری جس نے اردو زبان میں پہلی بار سچی کہانیوں پر مشتمل خوبصورت کتاب کی تخلیق سے ایک نئی روش کا آغازکیا ہے ۔ 
محترمہ ممتازملک کی مجموعی طور پر یہ نویں کتاب ہے ۔ اس سے پہلے انکے 4اردو ، 1 پنجابی شعری مجموعہ کلام ،1  نعتیبہ مجموعہ کلام جبکہ 2 کالمز کے مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ 
پروگرام کی نظامت کے فرائض راہ ادب فرانس کی آرگنائزر  محترمہ روحی بانو صاحبہ نے بہت خوبصورتی کیساتھ ادا کیئے ۔ جبکہ پروگرام کا سٹیج بھی محترمہ روحی بانو صاحبہ کی خوبصورت منتظمہ ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔ 
پروگرام کی صدارت معروف انٹرنیشنل ناول نگار جناب سرفراز بیگ صاحب نے کی۔  جبکہ مہمان خاص معروف اردو اور پنجابی زبان کے شاعر راز گوندل صاحب اور  معروف سماجی و سیاسی شخصیت شیخ نعمت اللہ خان تھے ۔ 
پروگرام کا آغاز جناب راز گوندل صاحب کی خوبصورت تلاوت کلام پاک سے ہوا۔  اس کے بعد حمدیہ اور نعتیہ اشعار کے ساتھ معروف شاعر اور کالم نگار جناب عاکف غنی صاحب نے محفل میں ایک خوبصورت روحانی ماحول پیدا کیا۔  شرکائے محفل میں سے محترمہ نبیلہ آرزو صاحبہ نے سچی کہانیوں کی کتاب قطرہ قطرہ زندگی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اپنی خوبصورت غزل سے نوازا اور بہت داد سمیٹی۔  معروف فیشن ڈیزائنر محترمہ نینا خان صاحبہ نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے سچائی سے قریب تر اور چونکا دینے والا قرار دیا۔ انہوں نے پروگرام کی آرگنائزر اور نظامت کار محترمہ روحی بانو صاحبہ کی صلاحیتوں کا بھی اعتراف کیا اور انہیں خوب داد دی۔
 ڈیلی پکار کی نمائندہ خاص معروف جرنلسٹ محترمہ ناصرہ خان صاحبہ نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ممتاز ملک صاحبہ کو اس خوبصورت اور یادگار لمحے پر مبارکباد پیش کی اور انہیں اپنے قلم کے سفر کو اسی تندہی کے ساتھ جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے محترمہ روحی بانو صاحبہ کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
محترمہ آسیہ ایوب خان صاحبہ نے بہت خوبصورت الفاظ میں قطرہ قطرہ زندگی کتاب پر اپنے خوبصورت خیالات کا اظہار کیا ۔ محترم عاکف غنی صاحب نے صاحب کتاب کو اس خوبصورت سفر پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں آگے کی جانب اسی طرح گامزن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے اپنے خوبصورت کلام سے نوازا اور خوب داد سمیٹی۔  مہمان خاص جناب راز گوندل صاحب نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں اپنے خیالات کا اظہار کیا 
 ممتاز ملک صاحبہ کی کاوشوں کو خراج تحسین منظوم انداز میں پیش کیا اور بہت داد سمیٹی۔  جبکہ ان کے اردو کلام نے بھی محفل میں خوب رنگ جمایا۔ جناب نعمت اللہ شیخ صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں ہمیشہ کی طرح صاحبہ کتاب محترمہ ممتاز ملک کی نہ صرف حوصلہ افزائی فرمائی بلکہ انہیں دبنگ اور بہادر خاتون قرار دیتے ہوئے مختلف سوشل میڈیا سائٹس کے اوپر ان کے کاموں کا ذکر کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ اتنی بہادری کے ساتھ ایسے خاص اور نازک نکات پر بات کرنا جس پر اکثر مرد بھی گھبرا جاتے ہیں،  لیکن ممتاز ملک نے ہمیشہ ایسے نکات کو نہ صرف اٹھایا بلکہ ان کے اوپر بھرپور انداز میں مدلل گفتگو بھی کی اور ہمیشہ سننے اور دیکھنے والوں کی تربیت کا اہتمام کیا۔  ان کی تحریریں نہ صرف دبنگ ہوتی ہیں بلکہ ہمیشہ کوئی مقصد لیئے ہوئے ہوتی ہیں۔  اس لیئے ہمارے معاشرے ہماری کمیونٹی کو جتنی آج اس کی ضرورت ہے۔  شاید اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔  انہوں نے اس کتاب کو ایک خوبصورت اضافہ قرار دیتے ہوئے اس بات کی امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اسی طرح سچی کہانیاں منظر عام پر آتی رہیں گی۔  اور ہمیں ان سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا رہے گا۔  محترمہ ممتاز ملک نے اپنی کتاب کے سفر کو بیان کرتے ہوئے ادبی حلقوں کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حسد اور کینہ پروری کی روش کو پروان چڑھانے والوں کو اس بات سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہوئے احساس دلایا،  کہ نہ کسی کے آنے سے یہ دنیا رکی تھی نہ کسی کے جانے سے رکے گی۔ آج جتنا بھی کوئی اچھا لکھ رہا ہو کل اور اچھے لکھنے والے بھی آئیں گے اور اچھے سننے والے بھی۔  اس لیئے جن لوگوں کو یہ گمان ہے کہ وہ لوگوں کو اپنے اشاروں پر چلاتے ہیں اور بہت بڑے کامیاب اور طرم باز ہیں انہیں خدا کی اس لاٹھی سے ضرور سبق حاصل کرنا چاہئے جہاں روزانہ ایسے کئی بت منہ کے بل گرتے ہیں اور بے شک ہر بت کے لیے ایک دن مقرر ہے جب وہ اپنے منہ کے بل گرتا ہے۔  اور اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔  انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نہ تو میں نے کل کسی کو اپنا گارڈ فادر بنایا ۔ نہ میں کسی سے کسی بھی قسم کی مراعات حاصل کرتی ہوں۔  نہ میں کسی سے کوئی مفادات وابستہ کرتی ہوں۔  اس لیے میں کل جس طرح اپنے اکیلے سفر پر روانہ تھی آج بھی اپنے اسی سفر پر ہمیشہ کی طرح بہت مطمئن ہو کر روانہ ہوں۔  اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کہاں دو لوگ ہیں اور کہاں دو سو لوگ ہیں۔  فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ کہاں کون سی بات کتنی سچی ہے اور کتنی مضبوط ہے اور کتنی حقیقت کے قریب ہے۔  اور ہم یقینا ہر حال میں اپنے خدا کو جواب دہ ہیں اگر ہمیں یہ قلم سونپا گیا ہے اس کے الفاظ سونپے گئے ہیں اور ہم حقیقت میں سچے لکھنے والے ہیں تو پھر ہمیں اللہ تعالی کو جواب دینے کے لیے اتنے ہی زیادہ متفکر بھی ہونا چاہیئے۔ انہوں نے ریشمین شیخ صاحبہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کتاب کو سپانسر کیا ۔ جبکہ اپنے شوہر اختر شیخ صاحب کا تہہ دل سے انکے تعاون اور محبتوں کے لیئے شکریہ ادا کیا ۔ 
پروگرام کی آرگنائزر اور نظامت کار محترمہ روحی بانو صاحبہ نے آخر میں سب ہی مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ وہ اج " راہ ادب فرانس " کے ساتھ اس خوبصورت موقع پر ایک یادگار تقریب کا حصہ بنے ۔ جبکہ ہماری نائب صدر محترمہ شمیم خان صاحب نے پاکستان سے خاص طور پر خوبصورت پیغام سے نوازا اور بہت ساری دعاؤں سے اس تقریب میں اپنی شمولیت کو یقین بنایا۔ 
پروگرام کے آغاز میں ہی تمام مہمانوں کو خوبصورت بوفے ظہرانا دیا گیا ۔۔اس کے بعد پروگرام کا آغاز ہوا۔  جبکہ پروگرام کی اختتام پر جناب راز گوندل صاحب کی جانب سے لایا ہوا بے حد خوبصورت اور تازہ کیک کاٹا گیا اور بہت ہی دعاؤں سے نوازا گیا۔  ممتاز ملک صاحبہ کو آج کی شام کی تہہ دل سے مبارکباد پیش کی اور قطرہ قطرہ زندگی جیسی  سچی کہانیوں کی کتاب کے لئے انہیں ایک بار پھر سے پرخلوص مبارک باد دی۔  یوں یہ شام ہنستے مسکراتے دعاؤں کے ساتھ رخصت ہوئی۔
                ۔۔۔۔۔۔۔۔ 

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/