ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک
‏۔ اردو شاعری۔ مدت ہوئی عورت ہوئے ۔ اضافی کلام۔ اشاعت 2025ء لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏۔ اردو شاعری۔ مدت ہوئی عورت ہوئے ۔ اضافی کلام۔ اشاعت 2025ء لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 27 ستمبر، 2026

لب سلے ہیں/ اردو شاعری ۔ مدت ہوئی عورت ہوئے ۔ اضافی کلام ۔ اشاعت 2025ء




جہاں پر آگیا قسمت کا لکھا 
وہیں آ کر ہمیشہ لب سلے ہیں 

کسی کو ہار بھی دلدار ٹہری
کسی کی جیت بھی آزار ٹہری
یہ ہی تو پردہ غیبی ہے لوگو
مقدر کے یہ سارے سلسلے ہیں


مجھے جینے کا حق دینے کو آئے
میری توقیر بڑھانے کو آئے
ہمارے بیچ میں صدیاں ہیں حائل
مگر پھر بھی ہمارے دل ملے ہیں


 یہ اتنا رو چکی ہیں اب نہ پوچھو 
کہ بنجر ہو چکی ہیں اب نہ پوچھو
تمناوں کا کیا ممتاز کہنا
تمناؤں کے تو دفتر کھلے ہیں 
●●●

ہفتہ، 29 نومبر، 2025

نام لیا ہے میں نے ۔ اردو شاعری ۔ مدت ہوئی عورت ہوئے ۔ اضافی کلام ۔ اشاعت 2025ء


 

زندگی جب بھی تیرا نام لیا ہے میں نے 
 کتنی خاموشی سے دل تھام  لیا ہے میں نے

حد سے زیادہ تجھے کرتے جو تواضع دیکھا
اپنی اشکوں سے بھرا جام لیا ہے میں نے

جس بلندی میں گراوٹ ہو نہیں ہے منظور
فیصلہ آج  سر بام لیا ہے میں نے 

اس کا چرچا یہاں محفل میں ہوا ہے کیونکر
وہ جو تنہائی میں پیغام لیا ہے میں نے

تجھکو احساس گناہ ہو گا کسی دن اسکا
بیوفائی کا جو الزام لیا ہے میں نے 

تم تو الفاظ سے ممتاز ہوئے ہو لیکن
اپنی آنکھوں سے یہی کام لیا ہے میں نے 
         ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 25 ستمبر، 2025

نہ مار مجھے ۔ اردو شاعری ۔ مدت ہوئی عورت ہوئے ۔ اضافی کلام ۔ اشاعت 2025ء




(بیٹی کا باپ سے سوال)
کلام (ممتازملک)
پیرس، فرانس 

ملے گی نقد تو پھر بات مجھ سے تم کرنا
حیات اب کے نہیں چاہیئے ادھار مجھے

لہو کی کوئی کشش ہے نہ سوچ کی قربت
ہر ایک رشتہ ملا جیسے مستعار مجھے

بہت ہوا ہے یہ قربانیوں کا دھندا بس 
کرو نہ بیٹوں کی کرتوتوں پر نثار مجھے

انہیں بھی وقت کی دلدل میں ڈوبتے دیکھا 
جنہوں نے چاہا کیا خوب دل فگار مجھے 

میں بھی ہوں نسل سے تیری لہو بھی تیرا ہوں
جنم دیا ہے تو پھر ایڑیاں نہ مار مجھے 

تو میری یاد میں زندہ رہے کسی پل تو
کبھی تو پیار سے لے نام اور پکار مجھے

انوکھا سا یہ تعصب رہا میرے گھر میں
گلوں کو بانٹ کے حصے میں آئے خار مجھے

تیرا جنازہ سجانے کو اشک دے ممتاز
تو کیوں سمجھتا رہا وجہء انتشار مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیر، 4 اگست، 2025

بدگمانی میں ۔ اردو شاعری ۔ مدت ہوئی عورت ہوئے۔ اضافی کلام۔ اشاعت 2025ء




بات کیسے ہو بدگمانی میں 
جھوٹ پلتا ہے لن ترانی میں

آج تنہا اداس بیٹھے ہو
کتنے کردار تھے کہانی میں 

تم جسے سوچ بھی نہیں سکتے
ہم نے بھگتا ہے زندگانی میں 

بات اندر  کہیں  چھپی تو تھی
منہ سے نکلی ہے جو روانی میں 

پوچھتے کیا ہو ہم پہ کیا گزری
ہائے کیا کیا ہوا جوانی میں 

اسکو ہمدرد جان کر ہم نے
چوٹ کھائی ہے خوش بیانی میں 

صرف ہمکو دکھائی دیتی ہے
اک غرض اسکی مہربانی میں

دل کی تاریکیاں تو چھٹ جائیں 
راہ دیکھیں گے ضوفشانی میں 

جتنی ممتاز ہو نہیں چلتی
عقل انساں کی  ناگہانی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔
 


جمعہ، 1 اگست، 2025

بیوفا آدمی۔ اردو شاعری۔ مدت ہوئی عورت ہوئے۔ اضافی کلام۔ اشاعت 2025ء



بے وفا آدمی بے وفا ادمی 
تو کیا کرتا  کسی سے وفا آدمی 

جان رشتوں سے اپنی چھڑانی اسے
اپنے قد  سے بڑا ہو گیا آدمی
  
چار پیسے اور دو اختیار آ گئے
باہر اوقات سے یہ گیا آدمی

سارے تختے پلٹ دیتا سوہنا میرا
خود کو جب وہ سمجھ لے خدا آدمی

عاجزی گر تجھے مل گئی جان لے
خاص رب کی ہے تجھ پر عطا آدمی

تیرے دھوکے بہانے نہیں کام کے
رب کا محبوب ہے بس کھرا آدمی 

تجربے زندگی میں بتاتے ہیں روز
ہوتا ہے آدمی سے جدا آدمی

اس نے ممتاز ہونا بھلا کس طرح اپنی چادر میں جو نہ رہا آدمی 
۔۔۔۔۔۔۔


پنجابی ترجمہ 

بیوفا آدمی بیوفا آدمی 
تو کی کرنی کسے نل وفا آدمی 

رشتیاں توں خلاصی اینوں چاہیدی
اپنے قد توں وڈا ہو گیا آدمی
جدا آدمی 

چار پیسے تے دو اختیار آ گئے
اپڑیں اوقاتوں باہر گیا آدمی

سارے تختے پلٹ دیندا سوہنا میرا
خود نوں سمجھن لگے جد خدا آدمی

عاجزی جے تینوں مل گئی جان لے
خاص رب دی تیرے تے عطا آدمی

تیرے ولّ تے ولیٹے کسے کم دے نہیں
رب دا محبوب ہے بس کھرا آدمی

تجربے روز دسدے حیاتی دے وچ
ہوندا اے آدمی توں جدا آدمی

اونے ممتاز ہونا بھلا کس طرح
اپنی چادر دے وچ نہ ریا آدمی 
۔۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 26 جولائی، 2025

اضطراب نہ ہو۔ اردو شاعری۔ مدت ہوئی عورت ہوئے ۔ اضافی کلام ۔ اشاعت 2025ء





زندگی میں جو اضطراب نہ ہو 
کون جیتا ہے گر جو خواب نہ ہو

میں بھٹک جاؤں یہ ہے ناممکن
 ذہن میرا اگر خراب نہ ہو 


نفس پر کچھ تو اختیار ملا
ورنہ کچھ حاصل ثواب نہ ہو 

دل گناہوں سے باز آئے اگر
ایک مدت سے یہ عذاب نہ ہو

بیچ مجبوریاں نہ گر ہوتیں
تو میرا حسن  انتخاب نہ ہو

ہم کو گھیرا ہے ان سوالوں نے
جن سوالوں کا کچھ جواب نہ ہو

کچھ کتابیں ہوں اس قدر ممتاز 
جس میں گستاخیوں کا باب نہ ہو
                 ۔۔۔۔۔۔ 



بدھ، 23 اپریل، 2025

انتساب / مدت ہوئی عورت ہوئے۔ اشاعت 2025ء

منگل، 7 مئی، 2019

ماہ رمضان رب ۔ اردو شاعری ۔ مدت ہوئی عورت ہوئے ۔ اضافی کلام ۔ اشاعت 2025ء


            ماہ رمضان رب 
                 (کلام:ممتازملک.پیرس)





سال بھر کی کثافت کو دھو لوں زرا 
ماہ رمضان رب نے مجھے دیدیا 

صبر کا شکر کا کیا ہے یہ سلسلہ 
دوسروں کے مسائل سمجھ لے ذرا
 کیسے ٹوٹے ہوئے دل سے تو دل ملا 
یہ سبھی جان کر جی ملے گا مزا
ماہ رمضان رب نے مجھے دیدیا 

اشک شوئی تیرا منصب عین ہے
دردمندی میں ہی تو چھپا چین ہے
دور تک کی خبر تو  بہت ہے مجھے
اپنے نزدیک کی لوں خبر سر جھکا 
ماہ رمضان رب نے مجھے دیدیا 

میرا ہر سال حج تو ضروری نہیں 
میرا ہر سال عمرہ شعوری نہیں 
بھوک سے درد سے جو کوئی مر گیا 
رب کے بندوں کو تیری طلب ہے سوا
ماہ رمضان رب نے مجھے دیدیا 

 اس برس مجھ سے اللہ  لے کام وہ
فرش پر ہی نہیں عرش پر  نام ہو
اپنے آقا کے چہرے پہ دیکھوں خوشی
 اور حاصل ہو ممتاز رب کی رضا
     ماہ رمضان رب نے مجھے دیدیا

      ۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/