زہر جبرا پلایا جاتا ہے
یہ خوشی سے پیا نہیں جاتا
ساتھ تیرے نہ رہ سکے لیکن
بن تیرے بھی جیا نہیں جاتا
ہو ہی جاتا ہے پیار کیا کیجیئے
یہ سمجھ کر کیا نہیں جاتا
قہر ڈھایا ہے ایسے رشتے نے
نام بھی تو لیا نہیں جاتا
ان کہی داستاں سنا تو سنوں
جو سنا تھا سنا نہیں جاتا
مسکراہٹ پہ حق ہے میرا بھی
بن کے انسو بہا نہیں جاتا
تم ہو ممتاز تو کوئی الزام
دوسرے سر دیا نہیں جاتا
۔۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں