ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک
‏۔کالمز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏۔کالمز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 4 نومبر، 2024

معصوم بے گھر جانور ۔ کالم



      معصوم بےگھر جانور
      تحریر: (ممتازملک۔پیرس)

ویسے ہی تو دنیا کے بہت سارے کاموں میں پاکستان کو بدنامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ اس کا سبب اس ملک کے لوگوں کی اپنی بےحسی، نالائقی اور غیر ذمہ داری ہوتی ہے ۔ خدا کا خوف منہ زبانی تو ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے جب یہاں انسانوں کے ساتھ ساتھ انہی انسانوں کے ہاتھوں (جو اپنی مظلومیت کا رونا روتے نہیں تھکتے) معصوم جانور گلیوں  محلوں، میں بے انتہا ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ جانور جو بات نہیں کر سکتے، اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتے، وہ آپ کی ہمدردی کے کتنے مستحق ہوتے ہیں۔  ہماری گلی کے کتے کو ایک ماہ سے زیادہ ہو چکا ہے ، شرارت اور مذاق کے طور پر اس کی ٹانگ توڑی جا چکی ہے۔ میں ایک مہینے سے، پہلے ہاسپٹل کے پتے ڈھونڈتی رہی، پھر گوگل سے سرچ کیا،  پہلے تو معلوم ہوا کہ یہاں پر اکا دکا ہاسپٹلز بھی ہیں تو بہت مہنگے مہنگے لینڈ لارڈز کے لیئے ہاسپٹلز ہیں کہ وہ اپنے جانوروں کے علاج کروا سکیں وہ 24 گھنٹے کھلے رہیں گے۔ لیکن یہاں پر جیسے عام انسان جانوروں سی زندگی گزار رہا ہے۔ ویسے ایک جانور جانے وہ کس طرح اس ملک میں زندہ ہے۔ جس کا جی چاہتا ہے اس کے گلے میں رسی ڈال لے۔ اس کی ٹانگ توڑ دے۔ اسے گولی مار دے ۔ اس کے علاج کا یہاں کوئی بندوبست نہ ہونا  ایک بڑا سوال ہے کہ ہم کیسے مسلمان لوگ ہیں؟ جنہیں جانوروں سے ہمدردی کرنا نہیں آتا ۔ ان پر رحم کرنا نہیں آتا۔ لیکن اپنے لیئے وہ سب سے بڑے رحم کے طلبگار ہوتے ہیں ۔ خدا ان پر کیسے رحم کرے گا ، جو دوسروں پہ رحم نہیں کرتا۔ ہمارا میڈیا ہمیں کبھی کسی ڈرامے میں یہ نہیں سکھائے گا، کسی پروگرام میں ، کسی ٹاک شو میں یہ نہیں سنیں گے کہ صرف پالتو جانور ہی نہیں باہر گھومتا پھرتا جانور بھی ہمدردی اور توجہ کا مستحق ہے، اسے کھلایا ہوا رزق بھی آپ کے لیے ثواپ کا باعث بنتا ہے، اگر وہ بیمار ہے تو اس کا علاج کرنا بھی آپ کے لیئے باعث ثواب ہے۔ لیکن یہاں اس کتے کی ٹانگ کے علاج کے لیے معلومات کیں  تو پتہ چلا جی کوئی 50 ہزار اور کوئی 60 ہزار روپے کا طلبگار ہے۔ میں یہ سن کر حیران رہ گئی کہ آپ نے معصوم جانوروں کے علاج کو بھی کتنا بڑا کاروبار بنا لیا ہے۔  کاروبار کرنے میں ہماری قوم کا کوئی جواب نہیں۔ سچ پوچھیں تو اگر چھ کروڑ لوگ جس ملک میں بیٹھ کر صرف ہاتھ آگے کرنے کی اور منہ بسورنے کی ایکٹنگ کر کے شام کو دودھ ملائیاں کھا کر عیش کر سکتے ہیں،  وہاں پر یہ معصوم بلی کتے گلیوں میں گھومنے والے اگر زخمی ہو جائیں تو انہیں اٹھانے ریسکیو کرنے کے لیئے کہیں گاڑی نہیں،  کہیں ڈاکٹر نہیں اور کہیں آپ سے اتنے پیسے طلب کیئے جائیں گے کہ آپ خاموشی سے ایک طرف ہو جاؤ گے۔
پھر بھی ہم مسلمان ہیں ؟
کیا ہمارا میڈیا واہیاتی،  عاشقی معشوقی ، ٹھرکیات سکھانے کے سوا بھی کوئی اخلاقی تربیت کا کردار ادا کر سکتا ہے؟ 
کیا ہمارے ملا اور علماء  کو یہ بات یاد ہے کہ چار شادیوں ، داڑھی اور ٹخنے سے اوپر شلوار ،سیاسی دھڑے بندیوں اور کرسی کی بلیک میلنگز  کے علاوہ بھی لیکچرز دینے کے لیئے بہت سے اخلاقی تربیتی موضوعات انکی توجہ کے طالب ہیں ۔ اور اسلام پندرھویں صدی میں بھی انکے پاس جانوروں کے اوپر رحم کرنے، انہیں کھانا کھانے، انکا علاج کروانے کا ذمہ دارںمبناتا ہے۔  گھر میں طوطا، مینا، چڑیا پالنے کے سوا بھی جانور ہوتے ہیں ان کو پالنا یا خیال رکھنا بھی اللہ کو محبوب ہے کیونکہ یہ بھی اللہ کی مخلوق ہے اور انکی دعائیں اور بدعائیں بھی ہماری زندگی پر اثرات مرتب کرتی ہیں ۔ یہ سب انہیں اور کون سکھائے گا؟
اور اگر ہم ایسی انسانیت اور ہمدردی دکھانے کے قابل نہیں ہیں تو بہتر ہے اس کے لیئے بھی ہم بین الاقوامی این جی اوز یا مشنریز کا سہارا لیں جو بہت بہترین انداز میں بلا معاوضہ ان جانوروں کی دیکھ بھال اور شیلٹر کا کام سر انجام دے سکتے ہیں۔ اور کئی ممالک میں کر بھی رہے ہیں ۔ 
                     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


جمعہ، 28 مئی، 2021

● مسلم ‏اقلیت ‏نظر نہیں ‏آتی؟/ ‏کالم

      
          مسلم اقلیت نظر نہیں آتی؟
         (تحریر:ممتازملک۔پیرس)
             

دنیا بھر میں انسانی حقوق کی ٹھیکیدار تنظیمات کو ہر اقلیت کا اس ملک میں دکھ اور اس پر خوردبینی  زیادتی نظر آ جاتی ہے جہاں  مسلم اکثریت آباد ہے ۔ لیکن دنیا بھر میں مسلمانوں پر بطور اقلیت جو جو خوفناک مظالم ڈھائے جاتے ہیں یا ڈھائے گئے ہیں اس سے یہ تنظیمات خود کو اندھا گونگا اور بہرا کیسے کر لیتی ہیں ؟
کیا پسند کی شادی کر کے مسلم ہونے والی لڑکی کا غم اس سے زیادہ ہے جہاں مسلم عورتوں اور بچیوں کیساتھ اجتماعی زیادتی کے جرائم اعلانیہ کیئے گئے۔ 
کیا کسی غیر مسلم کا کہیں کسی جھگڑے میں مارا جانا اس سے زیادہ بڑی خبر ہے جہاں بیگناہ معصوم لوگوں کو محض مسلم ہونے کی پاداش میں گاجر مولی کی طرح کاٹ کر عالمی میڈیا نے خوب خوب داد سمیٹی؟  
کیا یورپ اور امریکہ جو کسی جھوٹے انسان کو محض غیر مسلم اقلیت کا لیبل دیکر کیش کرانے اور اس مسلم ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے کشمیر ، فلسطین اور روہنگیا کے ہاں خوفناک جنگی جرائم  کا شکار ہونے والے یتیم بچے عورتیں مرد  نظر نہیں آتے ؟ 
کیا ببوسنیا اور شام میں قتل ہونے والے مسلمان انسان نہیں تھے؟
کیا یورپ بھر میں امریکہ میں تعصب کے ہاتھوں قتل ہونے والے اور  بے عزت ہونے والے اقلیتوں کا شمار انسانوں میں نہیں ہوتا کیونکہ وہ مسلمان تھے۔ 
کاش کہ عالمی انسانیت کے ٹھیکیدار انسانیت کے عظیم فلسفے میں جانبداری کا زہر نہ گھولتے تو شاید دنیا امن کا گیوارہ ہوتی ۔ 
غیر مسلم قوتوں نے ہمیشہ اقلیتیوں کے لیئے آواز سیاسی شعبدہ بازی کے طور پر اٹھائی ۔ حکومتوں کو بلیک میل کرنے کے لیئے اور اپنے وقتی مفادات کے حصول کے لیئے۔ ورنہ ابو الغریب کی جیل میں صرف مسلمان ہونےکی پاداش میں انسانوں کو غیر انسانی سلوک کا شکار نہ بنایا جاتا ۔ ورنہ افغانستان میں چالیس سال سے انکے قتل عام اور تباہی کو بھی عالمی جرائم میں شمار کیا جاتا اور عالمی طاقتوں کو اس کا جواب اور حساب  دینا پڑتا ۔ 
لیکن مسلمانوں کے لیئے ایک دوسری عدالت کا فیصلہ اور اس کی حقانیت پر انکا یقین ہی انکی اصل طاقت ہے ۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمات اپنی جعلسازی جاری رکھیں ۔ 
دنیا بھرمیں یہ ڈرامہ انسانی حقوق تنظیمات مسلم اقلیتوں کے اوپر ہونے والے  مظالم پر منہ میں گھ گھنیا ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں اور جہاں ان کے کانوں پر  ڈالرز اور یوروز کی چوٹ پڑتی ہے تو غیر مسلموں  ہی کیا ان کے کسی کتے کی موت پر آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے ۔ پھر چاہے وہ غیر مسلم خود ہی چیخ چیخ کر کہتا رہے کہ میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا لیکن یہ بینڈ خاموش ہونے کا نام نہیں لیتا ۔ جب تک کہ کسی مسلم ملک کو باقاعدہ نشانہ بناا کر اس جرم میں نشان عبرت نہ بنا دیا جائے ۔ اور اس کی عوام کو دنیا بھر میں زرخرید میڈیا کے ذریعے خوب بدنام نہ کر لیا جائے ۔ سچ کہیں تو آج کے دجالی فتنہ پرور میڈیا کا کام ہی مسلمانوں کی نسل کشی اور انہیں ہر لحاظ سے نقصان پہنچانا ہی ہے ۔ کیونکہ اسے چلانے والے غیر مسلم  عالمی اجارہ دار اسے اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر ہی انجام دیتے ہیں ۔ جب مسلمان ایسا کوئی مذہبی فریضہ ادا کرنا چاہے تو اسے دہشت گرد قرار دیکر  دیوار سے لگا دیا جاتا ہے ۔ انسانی حقوق کا نام لیکر ایسا تماشا دنیا کے لیئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔
                    ●●●

منگل، 17 مارچ، 2020

ایسی پردہ پوشی بھی جرم ہے جناب / کالم


ایسی پردہ پوشی بھی 
جرم ہے جناب 
(تحریر:ممتاز ملک. پیرس)


زینب کا قاتل پکڑا گیا...
اتنے دن سے جو  ہم تڑپ تڑپ کر صاحب اختیار کو متوجہ کر رہے تھے کہ یہ گندا آدمی  زینب کے اس کے خاندان کے ہی ارد گرد موجود ہے . یہ زانی یہ قاتل  جو مذہبی ادارے کا فعال رکن ہونے کا ڈرامہ سالہا سال سے بخوبی نبھا رہا ہے . آپ کے ساتھ نماز ادا کر رہا ہے 
آپ کے ساتھ محافل درود و  نعت  سجا رہا ہے،
ادارے کے کھڑپینچوں میں شامل ہے ،
طاہر القادری صاحب کی عقیدت میں تیسری صف میں گوڈے گوڈے ان کے  عشق میں غرق خود کو ظاہر کر رہا ہے .  وہی اپنے ساتھ بیٹھنے والوں کی عزتوں کو بڑے وحشی پنے  کیساتھ نہ صرف پامال کر رہا تھا بلکہ  ٹشو پیپر کی طرح  انہیں توڑ مروڑ کر کچرے کے ڈھیر پر  پہنچا رہا تھا ...
ادارہ منہاج القرآن کے لئے وقت آ چکا ہے کہ جناب علامہ طاہرالقادری صاحب اب اس بات  کو سمجھ جائیں کہ یورپ میں اسلام پھیلانے سے پہلے آپ کو پاکستان میں اسلام پھیلانے کی اشد ضرورت ہے .
آپ ایک بہترین عالم دین ہیں اور اس حیثیت  میں آپ اللہ کو زیادہ جوابدہ ہیں کہ آپ نے اپنے دور میں ایسے جرائم کی روک تھام اور ایسے بدکار پیدا نہ ہونے کے لئے کیا اقدامات کئے . کیا وہاں آپ خدا کو یہ جواز دیکر بخش دیئے جائیں گے کہ پردوردگار میں تو فل پروٹوکول لئے یورپ کے ٹھنڈے موسم میں لمبی لمبی گاڑیوں کے قافلے میں اسلام پھیلانے میں مصروف تھا . مجھے تو میرے گرد ہالہ کئے ہوئے ٹولے نے کبھی اپنے حصار سے نکلنے ہی نہیں دیا .....
علامہ صاحب  وقت آ گیا ہے کہ مجھ جیسے ادارہ منہاج القرآن میں سولہ سال کام کرنے والے جب بھی آپ کی انتظامیہ کی کسی کرتوت پر سوال اٹھاتے تھے تو راندہ درگاہ کر دئیے جاتے ہیں .
آپ سے زیادہ آپ کے کھڑپینچوں  اور اس ادارے سے وابستہ راتوں رات امیر ہونے والوں ،
اس ادارے میں کام کرنے والوں کے تباہ اور بے راہ روی  کا  شکار ہونے والی اولادوں...
مغرور اور بدتمیز  مردوزن کی خبر لیجئے  جو سچ بولنے اور سوال اٹھانے والوں کے خلاف باقاعدہ گروپ بنا کر اس کی کردار کشی کی مہم کا آغاز کر دیتے ہیں . جو جھوٹ منافقت میں سب سے اعلی  درجات پر فائز ہیں . سو سے زیادہ ممالک میں یہ تنظیم اگر ایسے ہی کارکنان پیدا کر رہی ہے . جو آپ کے نام کے ترانے گائے ،
آپ کے نام کی قوالیاں گا گا کر ، آپ کے پیروں  میں لیٹ لیٹ کر آپ کو سجدے کریں .. آپ کی فوٹو گھر گھر لگا کر  آپ سے وفاداری کا ثبوت پیش کریں ...
آپ کے اور آپ کے اہل خانہ کے پروٹوکول کے لئے ہر وقت لائن حاضر رہیں 
تو معذرت کیساتھ. ..آپ کو خود ابھی اپنی تربیت کی شدید ضرورت ہے .
میں بھی کبھی آپ کو اپنا روحانی باپ سمجھتی تھی لیکن آج اپنی اس سوچ پر خود ہی افسوس کرتی ہوں۔
برائے مہربانی اپنی منجھی کے نیچے بھی ڈانگ پھیرئیے ۔ ِ جو طرز زندگی آپ کا ہے وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا کبھی نہیں تھا .  ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم  تک ہر ایک کی رسائی تھی جبکہ آپ تک کسی کا ملاقات کرنا تو چھوڑئیے اپنا پیغام پہنچانا بھی خواب و خیال ہے . 
کبھی پبلک سے ملاقات کی آپ نے ?
کبھی عام لوگوں میں کسی عام سی ریڑھی پر یا دکان پر کھانا کھایا آپ نے ؟
جو آپ کے گروپ کا حصہ بنا کیا صرف وہی مسلمان ہے ، جس نے اعتراض کیا اس کی عزت اچھالنے کا سرٹیفیکیٹ بھی آپ نے ہی جاری کیا ہے کیا ؟
میں جانتی ہوں میری اس تحریر پر ادارہ  منہاج القرآن کے سارے کھڑپینچوں نے  اپنے بدزبان لوگوں کو مجھ پر کیچڑ اچھالنے کے محاز پر لگا دینا  ہے ..
لیکن میں انہیں پھر بھی ان کے گریبانوں میں جھانکنے کا مشورہ دونگی ۔ حالانکہ میں جانتی ہوں کہ اس ادارے کے  مغرور اور بدتمیز اراکین کو کسی کے بھی مشورہ  سے شدید پرہیز ہے . اگر ایسا نہ ہوتا تو ان بیس سالوں میں مخلص ، سچے،  ایماندار اور باصلاحیت اراکین کو گھر نہ بھیج دیا جاتا ...ان کی اس طرح سے تذلیل کی مہم چلائی جاتی ہے کہ وہ ادارہ منہاج القرآن کا نام سنتے ہی کانوں کو  ہاتھ نہ لگاتے .. ..
لیکن  جا کر اپنے گھروں میں جھانکئیے  کہ آپ کے گھروں میں کتنا سکون ہے ؟ آپ کی اولادوں نے یہاں سے کتنی اخلاقی تربیت حاصل کی ہے ؟
انہیں بڑوں چھوٹوں سے بات کرنے کی کتنی تمیز آ چکی ہے ؟
کتنا دین سیکھا  ؟
یہاں پر نعت خوانوں کا کردار کتنا نیک ہے ؟
عہدیداران کی اپنی  شہرت کیسی ہے ؟
معلوم کیجئے : کتنے عمران  یہاں کتنے زینبوں پر بھیڑئیے جیسی  غلیظ نظریں  گاڑے بیٹھے ہیں . اور خود کو پکڑے  جانے پر ذہنی مریض  ثابت کرنے  کی کوشش  نہ تو اس کے جرم کو کم کر سکتی ہے نہ  ہی اسے  معصوم ثابت کر سکتی ہیں۔
خدا کے لئیے پردہ پوشی کے کھیل  اب ختم کیجئے ...
یا اس کی لئیے آپ کے کارکنان کو اپنے اپنے گھر میں کسی نہ کسی  زینب کے لٹنے کا  اور اس کے قتل ہونے کا انتظار کرنا پڑیگا؟؟؟؟؟
                     ۔۔۔۔۔۔

پیر، 11 مارچ، 2019

کیچڑ خور بطخیں پکڑیں ۔ کالم

کیچڑ خور بطخیں پکڑیں
(تحریر/ممتازملک۔پیرس)


 حکومت وقت متوجہ ہو، اس بار کا یوم خواتین پر ہونے والا آذادی تماشا کس کے اشارے اور کس  کی پشت پناہی پر کیا گیا ؟ 
یہ ہے آج کی ہر غیرتمند باحیا پاکستانی عورت اور مرد کا سوال۔۔۔
 ان مظاہروں میں اٹھائے گئے  بے حیا پلے کارڈذ اور حرکات نے مردوں ہی کے کیا ، عزت دار خواتین کے سر بھی شرم سے جھکا دیئے ہیں ۔۔۔
معلوم کیجیئے وہ کون سی بدقماش خواتین ہیں جنہیں کپڑوں سے آذادی چاہیئے ،ننگے ہونے کے لیئے ، شوہر سے آذادی چاہیئے کھل کر زنا کرنے کے لیئے ، رشتوں سے آذادی چاہیئے ،اپنی قیمت ہر راہ چلتے سے لگوانے کے لیئے، نکاح سے آذادی چاہیئے  طوائف بننے کے لیئے ۔۔۔ 
ان این جی اوز کی آڑ میں مکروہ دھندے کرنے والی تمام خواتین کا مالی اور کیریکٹر ریکارڈ منگوا کر اس پر بھرپور تحقیقات اور تفتیش کی جائے ۔  غریب بھوکی مزدور عورتوں  کا مجمع ایک وقت کے کھانے کا لالچ دیکر اکٹھا کرنے والیوں کو فورا گرفتار کیا جانا چاہیئے ۔ جو ان کے ہاتھوں میں من چاہے پلے کارڈز پکڑا کر انہیں اپنے گناہوں میں شامل کرنے پر تلی ہیں ۔یہ دو نمبر مادر پدر آذاد عورتیں کس کی شہہ پر یوں کھلم کھلا پاکستانی ہی نہیں ایک اسلامی ملک کے عقائد اور معاشرت کا مذاق اڑانے کے لیئے میدانوں میں امڈ آئی ہیں ۔ یہی عورتیں  وہ ٹڈی دل ہیں جو رحمتوں اور حیا کی فصلوں کو لمحوں میں اجاڑ کر اس قوم کو قحط آبرو میں مبتلا کر دیتی ہیں ۔ 
اور سونے پر سہاگہ قومی اسمبلی میں انہیں عورتوں کے گماشتوں نے وہ واہیات بل عورتوں کے حقوق کے نام پر اسمبلی میں پیش کیا ہے کہ اس ملک میں اس پر عملدرامد کے بعد نہ تو کوئی لڑکی اور عورت شریف اور باکرہ بچے گی اور نہ ہی اس ملک میں دین اور مذہب کے نام پر کوئی زندگی گزارنے کا اصول باقی بچے گا  ۔۔۔
اگر حکومت نے فی الفور ان بازاری عورتوں کے خلاف عملی کاروائی نہ کی تو مجبورا ہمیں سوشل میڈیا پر اور ضرورت پڑی تو میدان میں آکر مہم چلانی پڑے گی ۔۔ 
عورت کے حقوق کے نام پر اسے طوائف بنانا نامنظور نامنظور 
عورت کو تعلیم کا حق دیجیئے،
اپنا جیون ساتھی چننے کا حق دیجیئے ۔  مرضی کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے اور اپنی مرضی سے کسی بھی شعبے میں ملازمت کا حق دیجیئے ۔
اپنا خاندان اپنی خوشی سے بنانے کا حق دیجیئے ۔
باپ اور شوہر کی جائیداد میں حق دیجیئے۔
 طلاق کی صورت میں اس کی زندگی کی حفاظت اور دوسری شادی کا حق دیجیئے۔ 
اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا حق دیجیئے۔ 
یہ وہ تمام حقوق ہیں جو ہمارا دین اسلام ہمیں چودہ سو سال پہلے ہی دے چکا ہے ۔ لیکن ہماری ہندونواز ذہنیت نے ان حقوق کو عورت تک پہنچانے میں اتنی دیر کر دی کہ آج سارا یہود و ہنود مل کر ہماری عورتوں کو گمراہ کرنے کے لیئے ہمارے ہی معاشرے سے نام نہاد مسلمان اور مادر پدر آذاد عورتوں کو ان کا لیڈر بنانے چل پڑا ہے ۔ ہماری یہ ڈسکو نسل عورت و مرد  اگر آج  انگریزی سکول کا دو نمبر نصاب پڑھ کر بے دین اور گمراہ نہ ہو چکی ہوتی تو وہ دین اور حیا کے دائرے کو کبھی پار نہ کرتی ۔ تالا لگائیں بلکہ آگ لگائیں ایسے انگریزی سکولوں کو جن سے نکلنے والی ایک بھی لڑکی یا لڑکا نہ باکردار نکلا  ، نہ مسلمان نکلا ، نہ خوش گفتار نکلا ، نہ حیادار نکلا ۔
سرکاری سکولوں کو آباد کیجیئے تاکہ کل کو آپ کے جنازوں پر فیشن پریڈ نہ لگی ہو  بلکہ چار ہاتھ اور خاص طور پر  آپ کی اولاد کے ہاتھ آپ کی مغفرت کی دعا کو اٹھ سکیں۔ چند آیات کی تلاوت سے آپ کو ایصال ثواب کر سکیں ۔آج اونچے پاجامے پہن کر بڑے بڑے گلے پہنے، باریک لبادوں میں ادھ ننگی عورتیں ، جو قیامت کی کھلی نشانی بنے قوم کی آدھی آبادی کو گمراہ کر رہی ہیں حکومت سے درخواست ہے کہ فورا ان کے اثاثے اور بینک اکاونٹ کی چھان بین کا حکم دیں اور ان کو جیلوں میں ڈالیں ۔ غیر ملکی آقاوں سے حرام کے فنڈز کھانے والی یہ کیچڑ خور بطخیں کسی طور شکنجے نے نہیں بچنی چاہیئے ۔ 
                    ۔۔۔۔۔۔۔۔


جمعرات، 23 جولائی، 2015

ہم کیسے لوگ ہیں ؟۔ کالم




ہم کیسے لوگ ہیں ؟
ممتاز ملک ، پیرس


ہم کیسے لوگ ہیں ؟ شاید ہم ویسے ہی لوگ ہیں جن کے بارے میں کہتے ہیں " کہ 
بھوکے کو دے نہیں سکتے اور کھاتے کو دیکھ نہیں سکتے" .
یا شاید ہم ویسے بھی تو لوگ ہیں جن کے لیئے بلے شاہ نے فرمایا کہ
وے بلیا اساں مرنا ناہی  
  گور پیا کوئی ہور 
دنیا کے قانون پر جائیں تو ہر اچھے ملک کا قانون انسانوں میں سب سے پہلے عورتوں اور بچوں کے تحفظ کی بات کرتا ہے .دین پر جائیں تو ایسا بے مثال منشور رکھتا ہے کہ دشمن بھی عش عش کر اٹھے . یعنی امن تو کیا جنگ میں بھی کسے بوڑھے پر .عورت پر بچے پر یا جو نا لڑنا چاہے اس پر ہاتھ نہیں اٹھا یا جا سکتا . ان کے حفاظت کی ذمہ داری ہر فرد پر عائد کر دی گئی.  یہ ذمہ داری خالی خولی زبانی نہیں ہوتی بلکہ اس میں عورت کی یا بچے کی مالی .ذہنی اخلاقی ہر طرح کے تحفظ کی ذمہ داری ہوتی ہے .
لیکن ہم دیکھتے کیا ہیں کہ  ہمارا معاشرہ خصوصا بچوں اور خواتین کے لیئے مجرمانہ خاموشی اور منافقت کا رویہ اپنائے رہتا ہے. 
کوئی کسی کے لیئے کیا خود خواتین بھی کسی خاتون کے لیئے  یہ سوچ کر آواز نہیں اٹھاتی ہیں کہ مبادا انہیں اپنے گھر سے دیس نکالا نہ مل جائے .ان کا میاں انہیں نہ چھوڑ دے .کتنی عجیب بات ہے جو رشتے اللہ نے مقدر کر رکھے ہیں انہیں یہ سوچ کر ہم چلاتے ہیں کہ میں نے ایسا کیا تو یہ چلے گا اور ویسا کیا تو نہیں چلے گا .اگر ایسا ہوتا تو ہم نے بے شمار ایسی خواتین دیکھیں جو حسین بھی تھیں سگھڑ بھی تھیں با ہنر بھی تھیں اور باوصف و باکمال بھی تھیں لیکن پھر بھی ان کے گھر ٹوٹ گئے ان کا ساتھ کسی وجہ سے نہ نبھ سکا . اور ہم نے ایسی بھی خواتین دیکھی ہیں جو بدشکل بھی تھیں ،بدتمیز بھی تھیں ،بدزبان بھی تھیں  ،بے انتہا پھوہڑ کہ انہیں گھر میں جھاڑو دینے کو بھی نہ رکھے لیکن وہ میاں کے ساتھ ساری عمر عیش کرتے گزار دیتی ہیں . اس سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ رشتوں کو  ان کی مقررہ مدت سے زیادہ کون چلا پایا ہے اور اگر  لکھے ہیں  تو انہیں کون توڑ پایا ہے .لیکن یہ تو ہم تب مانیں جب ہمارا ایمان سلامت ہو 
.تو ایسے ماحول  میں جب کوئی ایسی خواتین  سامنے آتی ہیں چاہے گھر کے معاملات ہوں یآ گھر سے باہر ملازمتوں عہدوں یا خاص طور پر جب وہ لکھنے لکھانے جیسے شعبے سے وابستہ ہو اورجو اپنا ایمان اتنا مضبوط رکھتی ہیں کہ اس کے لیئے ہاں ہی نہیں نا بولنے کی بھی جرات رکھتی ہیں .تو انہیں جھٹ سے دو نمبر مرد ایک پلاننگ کے تحت بددماغ .بدزبان اور بدکردار  جیسے نام دینے لگتے ہیں .وجہ اس عورت کی خداداد صلاحیتوں سے خوفزدگی.  نام نہاد پڑھے لکھے سو کالڈ ادیب اور لکھاری سبھی اسے بہتی گنگا نہ بننے کے جرم کی سزا دینے کے لیئے میدان میں کود پڑتے ہیں . پھر وہ مرد یورپ  کے متمدن معاشرے میں رہنے والا پی ایچ ڈی پروفیسر ہو یا بظاہر معروف لکھاری اور براڈکاسٹر یا پھر شاعر عرف انٹیلیکچوئیل .یہ سارے بہت سارے دوسرے ادبی دنیا کے بے ادب رخ کے وہ بابے ہیں جن کی ٹانگیں تو قبر میں ہیں مگر یہ سوچ کی غلاظت پھیلانے سے باز نہیں آتے کہ
منہ تے ہالی بار اے
میری اس تحریر کا قطعی یہ مطلب اخذ نہ کیا جائے کہ سارے مردوں کو ہم ایک جیسے لپیٹے میں لے رہے ہیں .بلکہ ہمیں تو ان  حقیقی مردوں کی مدد کی اشد ضرورت ہے جو اس ماحول میں اپنے گھر کی خواتین کو باہر لاتے ہوئے گھبراتے ہیں .  قابلیت ہوتے ہوئے بھی کئی در نایاب  اسی طرح دنیا سے چلے جاتے ہیں .
اور جو خواتین اس میدان میں قدم رکھتی بھی ہیں ان کے لیئے ہر قدم پر ایک نیا امتحان کھڑا کرنا اپنا فرض سمجھا جاتا ہے . یہ خاتون شادی شدہ ہے تو اسے طلاق دلوانے کا پورا انتظام کیا جائیگا اور اگر وہ پہلے ہی اس رشتے سے آذاد ہے تو پھر تو جس سے اس نے بات کی وہ اس کا ...... بنا دیا جائے گا .اور اس خاتون کا ٹھیکیدار بننے کی پوری کوشش کریگا اور اگر خاتون نے ایک دو بار زیادہ عزت سے مسکرا کر کسی بات کا جواب دیدیا توسمجھ لیں بس خاتون تو ان کے خیال میں ان پر مر ہی مٹی ہیں . خاتون مسکرا کر بات کرے تو بدکردار کا سرٹیفیکیٹ اور اگر سنجیدگی سے صرف نپا تلا جواب دے تو بددماغی کا لائیسنس. آخر کوئی بتائے کہ عورت کرے تو کیا کرے .بات کرتی ہے یا جرات مند ہے تو کوئی جینے نہیں دیتا، بات نہیں کرتی  یا کچھ نہیں جانتی تو بھی اجڈ جاہل کے خطابات سے نوازی جاتی ہے.
وہ تمام مرد حضرات جو ان مگر مچھروں سے واقف ہیں ان کی گندی زبانوں سے واقف ہیں ان کی بدکرداری اور خواتین کو کی گئی  بلیک میلنگ سے واقف ہیں تو خدارا  ان پر اپنی یاری دوستی کا پردہ مت ڈالئے. بلکہ انہیں یہ سوچ کر بے نقاب کیجیئے کہ کل کو ان کے نشانے پر آپ کے گھر کی کوئی خاتون بھی ہو سکتی ہے ..صرف کوئی مخصوص خاتون  ہی آخری نشانہ نہیں ہو گی . جس نے ان ٹھرکی بابوں کا سالوں لحاظ بھی کیا اور یہ سوچ کر خاموشی اختیار کی کہ کتے  کتنی دیر  بھونکیں گے . 
لیکن اب جب یہ کاٹنے کے لیئے تیار ہیں تو ان کے دانت توڑنے کا وقت بھی ہو گیا ہے .پبلک میں کام کرنے والی کوئی خاتون کسی کے بھی باپ کا مال نہیں ہے کہ  اسے راہ چلتا کوئی بھی بکواس کرتا اور کمنٹ پاس کرتا گزر جائے . بدکاری خواہ کوئی بھی ہو ،زبان کی ہو یا آنکھوں کی ہو ، سوچ کی ہو یا عمل کی، اسے کرتے ہوئے یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ بدکاری بدکاری ہی ہوتی ہے . اور یہ قانون قدرت ہے کہ مرد کی بدکاری ہمیشہ پلٹ کر اسی کے گھر کی عورت کو شکار کر جاتی ہے . پیشاب کی ایک چھینٹ ہی دودہ کی بھری بالٹی  کو ناپاک کرنے کے لیئے کافی ہوتی ہے. اور ہاں یاد رکھیں دنیا بدمعاشوں کی بدمعاشی کی وجہ سے خراب نہیں ہوتی بلکہ شریفوں کی خاموشی کی وجہ سے تباہ ہو جاتی ہے .ہر دور میں انسانوں کی غیرت کا امتحان ہمیشہ ہی ہوتا رہا ہے .
جیسا کہ پڑھ رکھا ہے کہ انسان کی جوانی کے کام بڑھاپے میں ان کی صورت پر آجاتے ہیں کبھی اچھے کام  نور بنکر تو کبھی برے کرتوت پھٹکار بنکر .  اب خاموشی کا وقت گزر گیا ہے تمام ماں بہنوں.اور بیٹیوں والوں کی ہمت و جرات کا امتحان ہے کہ میدان میں آئیں اور ادب کے نام پر تھرک بازوں اور بدکردار بلیک میلروں کے اس ٹولے کو سبق سکھائیں جو ہر جگہ پاکستان کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں . ہم اپنے اچھے کاموں سے ایک قدم آگے بڑھتے ہیں تو یہںدںخت اپنی کر توتوں سے ہمیں کھینچ کر ایک میل پیچھے دھکیل دیتے ہیں . ہمیں آپ سب کے ساتھ کی جتنی ضرورت  آج ہے اتنی پہلے کبھی نہیں تھی. جب علم حاصل کرنا ہر عورت اور مرد پر برابر فرض ہے تو اس کے عملی میدان پر بھی محض مردوں کی اجارہ داری کا کہیں کوئی حکم نہیں ہے .اس لیئے آگے آیئے. اپنے ضمیر کی آواز کو سنیئے .....
                    ۔۔۔۔۔۔۔۔




جمعرات، 11 جون، 2015

پاکستان میانمار نہیں ۔۔کالم





 خبردار!
پاکستان میانمار نہیں
ممتازملک ۔ پیرس



 ہندوستان کے ساتھ چینی ،آلو ،پیاز اور ٹماٹر کی تجارت کرنے والے سائیں وزیر اعظم پاکستان جاگیئے اور ہندو ٹیریرسٹ کو جواب دیجیئے کہ پاکستان میں ستر سال کے دوران ہونے والے جرائم کو دھڑلے سے قبول کرنے پر اب اسے قرار واقعی سزا کے لیئے بھی تیار ہو نا چاہیئے ۔ کل تک جب یہ ہی باتیں کوئی بھی پاکستانی کرتا تھا تو اسے محض الزام تراشی قرار دیا جاتا تھا۔ لیکن اب اس بات  کو وقت نے روز روشن کی طرح ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی اپنے موقف میں کس قدر سچے تھے ۔ لیکن ہندو دہشتگردی کو ہوا دینے والے امریکی اور یورپی کٹھ پتلیاں ہلانے والے اسے خطے کا مزید بڑا بدمعاش بنانے کے لیئے اس کی پیٹھ تھپکتے رہے ۔ افغانستان میں افغانیوں کو اپنے پراکسی وار کے ذریعے ٹٹّو بنانے کا خواب بلی کے خواب میں چھیچھڑے ہی نہیں ثابت ہوا بلکہ پاک چائینہ راہداری کے منصوبے کے آغاز کی خبر بھی ہندو دہشتگروں پر بجلی بن کر گری ہے ۔ اس لیئے زخم چاٹتا ہوا  کل تک کے صرف ہندوستانی مسلمانون کے قاتل جانے جانے جانے والے ٹُن مردودی صاحب اب پاکستان میں بدترین قتل عام کا اعتراف ہی نہیں کر رہے بلکہ غصّے سے  منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے بنگلہ دیش کے پاکستان سے توڑے جانے کی بھی کرتوت مان ہی نہیں رہے بلکہ سینہ پھلائے اس پر کسی تمغے کے بھی منتظر ہیں ۔ اور پاکستانی سیاستدان منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے رہنے کے موڈ میں ہیں تو اب عوام کو انہیں غیرت کی سوئیاں چُبھو چُبھو کر بیدار کرنے کی ضرورت پڑ گئی ہے ۔ انیس سو اڑتالیس میں برما کے مسلمانوں نے پاکستان سے محبت کا جو قصور کیا تھا ۔ کیا ہم ستّر سال بعد بھی بے غیرتی سے اس کا تماشہ ہی دیکھتے رہیں گے تو پھر ان لیڈروں کو بھی اعلانیہ سر منڈا کر ہندو چوٹی رکھ کے دھوتی باندھ کر تلک لگا ہی لینا چاہیئے ۔ کیوں کہ مسلمان ہونے کا فرض وہ ادا نہیں کر پا رہے اور مسلمان ہونا اتنا بھی آسان نہیں ہے ۔امتحان دین میں پورا اترنے کا وقت ہے تو آگے بڑھ کر ہندو ٹیریرسٹ کو منہ توڑ جواب دیجیئے اور  اسے بتا دیجیئے کہ ہماری قوم نہ تو معمولی قوم ہے نہ ہماری افواج معمولی افواج ہیں اور نہ ہی ہمارا دین کسی بذدل کو مسلمان کہلانے کی اجازت دیتا ہے ۔ لوہے کا کلیجہ چاہیئے دین الہی کو اختیار کرنے کے لیئے ۔ تب کوئی مسلمان ہوا کرتا ہے ۔  آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اور وقتی مفادات کو ایک طرف پھینکتے ہوئے جواب دیجیئے میاں صاحبانِ ، کہ پاکستان کو میانمار سمجھنے کی بڑھک مارنے والو ایسا سمجھنے کی غلطی کبھی مت کرنا ، ورنہہ تمہیں تمہاری ہی زمین پر چُن چُن کر بھی ماریں  گے اور گنتی کرنا بھی خوشی سے بھول جائیں گے ۔ آج جو کچھ کرنا ہے اس کے لیئے ہم صرف حکومت پاکستان کو ہی نہیں دیکھیں گے بلکہ غیرت مند پاکستانی دنیا میں جہاں کہیں ہے اس کے  پاس پرنٹ میڈیا ایک طاقتور ہتھیار کی طرح موجود ہے اور ہمیں ہندو اور بدھ ٹیرررسٹ کو بتانا ہے کہ ہم ہر ہتھیار چلانا جانتے ہیں چاہے وہ تلوار کا ہو یا پیار کا ۔ اور انشاءاللہ  بہت جلد ہندوستان کو اپنے ہی کہے ہوئے الفاظ  کی قیمت بھی ُچکانی پڑے گی اور اس پر پر شدید ترین افسوس بھی کرنا ہی پڑے گا ۔  جاگ پاکستانی جاگ اور بتا دے کہ پاکستان میانمار نہیں ہے ۔ توڑ دینگے ہم ہر وہ ہاتھ جو پاکستان کی سلامتی کی جانب اٹھے گا ۔  چاہے اس کے لیئے ہمیں خود ہی کیوں نہ فنا ہو جانا پڑے ۔ 
                                                          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیر، 31 مارچ، 2014

● (3) جبری اسلام/ کالم۔ سچ تو یہ ہے۔ اشاعت 2024ء



          (3)جبری اسلام
ممتازملک ۔ پیرس

اسلام کے معنی ہیں سلامتی ۔ تو جس دین کی ملاقات کا آغاز ہی السلام علیکم  کہہ کر کرنے کا حکم ہے وہ د ین جو حالت جنگ میں بھی بچے ،بوڑھے ، عورت اور ہر اس شخص پر بھی کہ جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے،  وار کرنے کی اجازت نہیں د یتا جو ہرے پیڑ پودوں تک کو جنگ کے دنوں میں بھی کاٹنے کی اجازت نہیں دیتا؟ جو نہتے آدمی پر حملے کی اجازت نہیں دیتا، وہ یوں بے گناہوں کی گردنیں کاٹنے کو تصور ہی نہیں رکھتا ۔اسی اسلام کے نام پر بنے ملک میں اسی اسلامی نظریئے کو بد نام کرنے کے لیئے دنیا بھر کے نفسیاتی مریضوں اور پیشہ ور قاتلوں یا دوسرے لفظوں میں  ایک جنگلی بھیڑیوں کے ریوڑ کو پاکستان کا رخ کروایا گیا ہے  ۔ ہم خود بھی جس اسلام کی پیروی کر رہے ہیں اس کے کتنے احکامات کو بجا لا رہے ہیں ؟ یہ جاننا سب سے ذیادہ ضروری ہے ۔ کیوں کہ میری نظر میں ہم خود اپنے دین سے ، قرآن سے ناواقفیت کی بنا پر جس طرح قران کی تشریح کرتے ہیں وہی سب سے زیادہ فتنوں کا باعث بن رہی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج 23مارچ 2014ء کو ہم اس بات کی ابتداء کا سال بنا دیں کہ ہم خود کو غیر مسلم سمجھتے ہوئے دین اسلام کا مکمل مطالعہ کریں اور اس کے بعد پھر سے اسے سمجھ کر دوبارہ کلمہ پڑھ کے  ، سمجھ کر اس دین کو اختیار کریں ۔ جس طرح آج کا یورب میں رہنے والا ہر طبقہ مسلمان ہو رہا ہے ۔ کبھی زندگی میں ایسے مسلمان سے ملنے کا اتفاق ہو تب آپ کو معلوم ہو گا کہ مسلمان ہوتا کیاہے؟  اور آج کہ نام نہاد مسلمان بغلیں جھانکنے لگتے ہیں  اور  مجھے بہت پہلے کیسنی ہوئی یہ بات  یاد آجاتی ہے کہ انگریزوں اور یورپیئنز پر ہنسنے سے پہلے ڈرو اس دن سے کہ جب یہ لوگ عورت اور شراب کی دو برائیوں سے نکل کر اسلام قبول کر لیں تو شاید آج کے مسلمانوں کو جنت کے آخری حصے میں بھی جگہ نہ ملے گی ۔ یہ لوگ ہماری طرح کسی عبداللہ یا محمد علی کے گھر میں پیدا ہو کر مسلمان نہیں کہلاتے بلکہ یہ ایک عرصہ بھٹکنے کے بعد جب سکون ڈھونڈے کے لیئے دنیا کا ہر حربہ استعمال کر چکے ہوتے ہیں تو تب یہ اسلام کو پڑھتے ہیں، سمجھتے ہیں ، جانتے ہیں اور اس کے بعد بخوشی و برضا و رغبت اپنا سر پروردگار عالم کے بارگاہ میں ایسا جھکاتے ہیں کہ ایک موروثی مسلمان ،جوپتہ نہیں کہاں سے ، کس زاویئے سے مسلمان ہے حیرت کے سمندر میں غوطے کھانے لگتا ہے ۔  اور باتیں تو ایک طرف اب تو شریعت کے نفاذ کا نام لیکر دین اسلام کا ایک اور مذاق بنانے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے ۔ آج دنیا کے ترقی یافتہ ترین مملک میں جو اصلاحی اور فلاحی لائحہ عمل (پروگرام) رائج ہے ، کون نہیں جانتا کہ یہ سب اسلامی سسٹم ہی ہے جو خلفائے راشدین کے عہد بے مثالی کو سامنے رکھتے ہوئے اور قرآن کی روشنی میں یہاں لاگو کیئے گئے ہیں اور اسی کی روشنی میں ان اقوام نے چاند اور ستاروں پر کمندیں ڈالی ہیں ، جب کہ ہم ابھی تک اس سوچ میں اپنے 67 سال گنوا چکے ہیں کہ کون سا نظام ہو گا اور کون سا نہیں ۔ یہ ہی ہیں کوئی کام نہ کرنے کے حکومتی کام چور ہتھکنڈے ۔ کسی نظام کو لاگو کرنے کے لیئے اسے حکومتی مذہب کہلانا کوئی بڑی بات نہیں ہےبلکہ بات ہے اسکے نفاذ کی ۔ کہ ہم کس طریقہ کار سے اپنا ملک چلانا چاہتے ہیں جہاں پر کسی مجرم کو کوئی سزا دینے کا رواج ہی نہ ہو وہاں پر صرف اور صرف جرائم کی فصلیں ہی کاشت ہوتی ہیں جو کہ ہمارے ہاں ہو رہی ہیں ۔ اس کے لیئے شرعی نظام کے نفاذ پر لڑنے کی بجائے اسے یورپی ممالک کی مثال لیتے ہوئے اسے عملی طور پر نافذ کیا جائے ۔ مجرموں کو اس کے محلے ہی میں پھانسیاں دی جائیں ، مجرم کے گھر کے سامنے ہی اس کو کوڑے لگائے جائیں ، مظلوم کےگھر کے سامنے ہی بدکار کو سنگسار کیا جائے ۔ چور کے ہاتھ اس کے گھر کے سامنے ہی کاٹے جائیں ۔ لیکن اس سے پہلے ہر آدمی اور عورت پر کام کرنا لازم کیا جائے ۔ کام چوری کی سزا بھی دیجائے ۔ کام کے مواقع پیدا کرنا حکومت پر لازم ہونا چاہیئے۔  بھوک کی وجہ سے کوئی شخص نہ مرنے دینا بھی حکومتی ذمہ داری ہے ۔ بوڑھوں  کے لیئے55 سال کی حد کے بعد گزارہ الاؤنس کا اجراء بھی حکومتی ذمہ داری ہے  ، یہ تمام فرائض آپ سے عملی اسلام کا مطالبہ کرتے ہیں نا کہ کاغذی اسلام کا ۔ یہ سب تو آپ نے کرنا نہیں ہے الٹا اب اسلامی نظام کے نام پر کیا لوگوں کو زبردستی مسجدوں میں گھسایا جائے گا یا لوگوں کو زبردستی کلمہ پڑھوایا جائے گا ۔ کیا مذاق ہے یہ ؟  یہ کام تو یہ دین لانے والے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی نہیں کیا ، تو ہم کیا چیز ہیں ۔ نیت عمل کرنے کی ہو تو یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ کوئی بھی دین اس کے ماننے والوں کے حالت ایمانی کو دیکھتے ہوئے لوگوں میں مقبول ہوتا ہے ، نہ کہ زور زبردستی سے ۔اپنے ملک میں اصل اسلام کو قرآن اور سنت کے مطابق تعلیمی نصاب میں شامل کر کے لوگوں کی سوچ کو ایک حقیقی اسلامی رنگ دیجیئے اور قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ۔ باقی دین کو انسان کا ذاتی معاملہ رہنے دیں جو اس کے اور خدا کے بیچ ہے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے نہ کہ ساتھ والے کا ۔                                             
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتےجومسلمان بھی ایک

●●●
تحریر: ممتازملک ۔پیرس
مجموعہ مضامین:
سچ تو یہ ہے
اشاعت:2016ء
●●●

جمعرات، 27 مارچ، 2014

یوم پاکستان 23 مارچ 2014 / کالم



  
* یوم پاکستان23مارچ 2014*
ممتازملک ۔پیرس

* یوم پاکستان23مارچ 2014* *انصاف وویمن ایسوسی ایشن کا یومِ پاکستان* *کااعلامیہ تھا کہ ٌٌ انصاف آج سے اپنے گھر سے شروع کیا جائے ـ احتساب اپنی ذات سے شروع کیا جائے جب ہی نیا کامیاب پاکستان ممکن ہے*
اتوار کی ایک سرد دوپہر2 بجے سے دن 6 بجے تک یہ خوبصورت محفل منعقد کی گئی جسکا مقصد خواتین کو پاکستان کے نظریئے ، تاریخ ، اسکے وجود کی
اہمیت اور آذادی کی ضرورت کو اجاگر کرنا تھا ۔ اور پاکستان کے آج کے حالات کی آگاہی دینا تھا ۔ پروگرام کی نظامت پیرس کی معروف شاعرہ ، کالمسٹ ، سوشل ورکر ،اور میزبان محترمہ ممتاز ملک صاحبہ نے کی ۔ جبکہ مہمانان گرامی میں معروف عالمہ محترمہ ریحانہ صاحبہ ،عالمہ محترمہ نوشین اسجد صاحبہ ، حق باہو ٹرسٹ خواتین ونگ کی صدر ،معروف شاعرہ ، شریف اکیڈمی کی فرانس میں سیکٹری و نمائندہ خاص محترمہ روحی بانو صاحبہ ، میگزین در مکنون کی ایڈیٹر اور افسانہ نگار محترمہ وقار النساء صاحبہ ، اور شاہ بانو میر اکیڈمی اورانصاف وویمن ایسوسی ایشن کی بانی و صدر ، چیف اڈیٹر در مکنون ، معروف تجزیہ نگار ، سات کتابوں کی لکھاری ، ناولسٹ ،کالمسٹ محترمہ شاہ بانو میر صاحبہ تھیں ۔ پروگرام کی خاص بات اس میں شامل تمام کی تمام خواتین نہایت پڑھی لکھی اور اچھے ماحول سے تعلق رکھنے والی تھیں جنہوں نے پروگرام کا ایک ایک لمحہ ماحول سے کشید کیا اور اپنے اہل علم اور محب وطن ہو نے کا بھر پور ثبوت کبھی آنسوؤں کے نذرانے سے اور کبھی امید بھری مسکراہٹ کیساتھ دیا ۔ جس نے اس پروگرام کو بلاشبہ ہر ایک کے دل اور روح میں اتار دیا ۔ اور پروگرام کی میزبان ممتاز ملک صاحبہ کو اس بات کا بھرپور احساس دلایا کہ یہاں دھڑکتے اور محسوس کرتے ہوئے زندہ لوگ موجود ہیں نہ کہ کوئی دیواروں سے باتیں کرنے اور لنگر انجوائے کرنے والا ہجوم ۔
پروگرام کا آغاز محترمہ نوشین اسجد کی خوبصورت انداز میں کی گئ سورہ الحجرات کی آیات نمبر 11 اور 12کی تلاوت کلام پاک اور ترجمہ سے ہوا ۔ اور اس کی تفسیر بیان کی ۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ اللہ پاک نے کس قدر سختی سے غیبت ، حسد اور بہتان سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے ۔ اور اس بات سے سخت نارضگی کا اظہار فرمایا کہ کہ کوئی مسلمان کسے دوسرے کا نام برے انداز میں لے یا اس کی تضحیک کرنے کی کوشش کرے ۔ کیوں کہ یہ ہی چیز جب انسان کی عادت بن جاتی ہے تو اسے سب سے بدترین مرض یعنی حسد میں مبتلا کر دیتی ہے جو اس کی نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے ۔ لہذا ہمیں ہر ہر لمحہ اس بات کی فکر ہونی چاہیئے کہ ہم اللہ کے عطا کردہ قلب سلیم کو کہیں قلب اثیم یعنی ناپاک دل نہ بنا لیں ۔ اور ہمیں اپنا محاسبہ خود سے کرنا ہے کہ کہیں ہم نہ جانتے ہوئے دل کی اس روحانی بیماری حسد کا شکار تو نہیں ہو رہے ۔ کیوں کہ آج پاکستان جس طرح تباہی کی دلدل مین دھنس رہا ہے وہاں یہ حسد ہی ہے جو ہمیں ایکدوسرے کی ٹانگ کھینچنے پر اور میرٹ کی دھجیاں بکھیرنے پر مجبور کر رہا ہے۔
عالمہ محترمہ ریحانہ صاحبہ نے بھی ہمیں اپنی اصلاح کرنے پر زور دیااور پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ اپنی غلطیوں کو غلطیاں نہ سمجھنے کو ہی قرار دیا جس نے ہماری پوری ملکی سوچ کو مفلوج کر دیا ہے ۔ قرآن کی روشنی میں ہمیں اپنے راستوں کی تاریکی مٹانی ہو گی جبھی ہم منزل کا نشاں پا سکتے ہیں۔ ورنہ تباہی ہمارا مقدر نہ بن جائے ۔ ہمیں پاکستان کے لیئے دی گئی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دینا چاہیئے ورنہ اس کے لیئے جانوں اور عزتوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی روحیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
محترمہ وقار النساء صاحبہ نےاپنے خطاب میں پاکستان کی قرار داد کو مسلمانوں کے لیئے ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنے ذاتی اختلافات کو کسی بھی صورت اپنے ملکی مفاد سے ٹکرانےنہیں دینا چاہیئے بلکہ جہاں ملکی مفاد کی بات ہو وہاں ہمیں ایک جا ہو کر سوچنا چاہیئے ۔ انہوں نے 1857 سے 1940 اور 1947 تک کے تحریک پاکستان کا سفر مختصراََ بیان کیا ۔
محترمہ روحی بانو صاحبہ نے اپنے خظاب میں پاکستان کی تاریخ کو آج کے حالات سے موازنہ کرتے ہوئے فرمایا کہ قائداعظم نے کروڑوں قربانیوں کے بعد یہ پاکستان اس لیئے نہیں حاصل کیا تھا کہ کہ یہاں پر لوگوں کی عزتیں پاؤں میں روندی جائیں ، حقداروں کے حقوق سلب کیئے جائیں ۔ انصاف سرمایہ داروں کے گھر کی لونڈی بن جائے ۔ ہمیں اپنے گھروں سے نکلتے ہوئے اس بات کا ہی یقین نہ ہو کہ ہم سلامتی سے اپنے گھروں کو واپس آئیں گے بھی کہ نہیں ۔ یہ ملک ہماری عزتوں کی حفاظت کے لیئے حاصل کیا گیا تھا ۔ تاکہ ہماری نسلیں اس میں اپنی مذہبی آذادی کیساتھ اپنی زندگی گزار سکیں ۔ یہ ملک اس لیئے حاصل کیا گیا تھا کہ ہمیں انصاف کے لیئے سالوں دربدر نہ ہونا پڑے ۔ جہاں نہ صرف اظہار رائے کی آزادی ہو بلکہ ہمیں ہر ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کے استعمال کے بھرپور مواقع بھی میسر ہوں لیکن آج ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جن لوگوں کو پاکستان کا محافظ ہونا چاہیئے تھا وہی لوگ اس ملک کے مستقبل سے کھیلتے رہے ۔ اور اس ملک کو انہوں نے دنیا بھر میں ایک تماشا بنا دیا ۔ اور جو باقی رہی سہی کسر تھی اسکی تباہی میں وہ ہم عوام نے ہی پوری کر دی ۔ ہمیں اللہ پاک کی بنائی ہوئی حدود کا خیال رکھ کے ہی فلاح مل سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں شاہ بانو میر صاحبہ اور ممتاز ملک صاحبہ کا بطور خاص شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے ہمیشہ ہی مجھے بہت پیار اور عزت سے نوازہ ہے ۔ میں ان کی کامیابیوں کے لیئے ہمیشہ ہی دعا گو رہوں گی ۔
محترمہ شاہ بانو میر صاحبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ روحی بانو صاحبہ کی یہ بات کہ مجھے وہ مقام جو ملنا چاہیئے تھا وہ نہیں ملا تو میں یہ ہی کہوں گی کہ میں نے اکیلے جس سفر کا آغاز کیا تھا الحمد اللہ آج میں اس میں ایک پورے گلدستے کے ساتھ موجود ہوں ، بہت طوفان آئے آندھیاں چلیں کچھ دیر کے لیئے ہم لڑکھڑائے بھی لیکن کیوں کہ ہماری جڑیں غرض کی ریت میں نہیں بلکہ محبت اور اخلاص کی مٹی میں پیوست تھیں اسی لیئے اپنی جگہ سے نہیں ہلیں ۔ پاکستان بنانے والے یہ ادراک کر لیتے کہ یہاں یوں پاکستان کے نام پے دھبے لگائے جائیں گے تو شاید وہ اس تحریک کو ہی منسوخ کر دیتے ۔ آج یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنی اپنی فیلڈ میں ایمانداری سے کام کریں اور اس ملک کو اسکا کھویا ہوا وقار واپس دلائیں ۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ نورالقران سے جڑنے کے بعد ہر روز خود اپنا احتساب کرنے کی قوت بھی اللہ نے عطا کر دی ہے جس سے رو زاپنے آپ کو گزرے کل سے بہتر بنانے کی کوشش شروع ہو چکی ہے ۔ اور انشا اللہ مرتے دم تک جاری رہے گی ۔
ممتاز ملک نے اپنے پروگرام کو مکمل طور پر پاکستان کے ماضی حال اور مستقبل کا امتزاج بنا دیا جس میں کئی جذباتی لمحے آئے کئی بار سب کی آنکھیں نم ہوئیں اور کئی بار سب کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی ۔ یہ ہی ایک پیغام رساں کی کامیابی ہوتی ہے اور الحمد اللہ یہ کامیابی یہاں پوری طرح نظر آئی ۔ ممتاز ملک نے اس بات پر ذور دیا کہ عورت کا کردار کسیی بھی ملک کی تحریک کا بنیادی جزو ہوتا ہے یہ عورت ہی تھی جس نے اپنےدوپٹے کو لاہور جیل کی عمارت پر لہرا کر اپنے بھائیوں اور جوانوں کو اس بات کو چیلنج پیش کیا کہ آگے بڑھو تمہاری مائیں بہنیں اپنے آنچل کا کفن بنانے کو تیار ہیں ۔ یہ عورت ہی تھی جس نے قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح بن کر اپنی ذاتی ذندگی اپنی ہر خوشی اپنے بھائی پر قربان کرتے ہوئے ڈینٹسٹ کی پریکٹس کو خیر باد کہتے ہوئے پاکستان کی تحریک میں اپنا تن من دھن تک پیش کر دیا ۔ لیکن اس قوم نے کیا کِِیا اسی عورت کو مادر ملت کا خطاب تو دیا لیکن زہر میں بجھا کر ان کی جان بھی لے لی اور اس پرخاموشی کی سیاہ چادر ڈال دی ۔ جس پر وقت نے لکھا کہ کیا یہ ایک احسان فراموش قوم ہے؟ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں اس ملک کے بنیادی مقصد یعنی انصاف کے حصول کو اپنی ذندگی کا مقصد بنانا ہو گا ، اوریہ ہی پاکستان کی بنیاد ہے ۔ ہمیں انصاف چاہیئے تو ہمیں سب سے پہلے خود منصف بننا ہو گا؛ ہمیں ماں باپ کے طور سے اپنے بچوں کے بیچ انصاف کرنا ہو گا ؛بھائی بہنوں کے بیچ انصاف کرنا ہو گا؛ اپنے گھر کے ملازموں سے انصاف کرنا ہو گا ؛پھر دیکھیئے گا کہ ہمیں انصاف کی تلاش میں کہیں بھٹکنا نہیں پڑیگا ۔ کیوں کہ فرائض کی ادائیگی ہی حقوق کے حصول کا سبب ہوتی ہے ۔ ہم سوچتے ہیں جس ملک کے لوگ اس طرح برائیوں میں گھرے ہوں تو یہ قائم کیسے ہے ؟تو مجھے تو ایک ہی بات سمجھ آتی ہے کہ اس ملک کی سرحدوں پر کروڑوں شہیدوں کی روحیں گھیرا ڈالے بیٹھی ہیں جب
بھی کوئی عذاب ادھر کا رخ کرتا ہے تو یہ شہیداللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور فریاد کرنے لگتے ہیں اللہ تو عذاب دیتے ہوئے دیکھنا کہ یہاں یہاں تو میرے بابا کا لاشہ گرا تھا ، یہا ں بھی نہیں؛ نہیں مولا یہاں تو میری بہن نے اپنی عزت اپنے ملک کی بھینٹ چڑھا دی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ یہان بھی نہیں یہاں تو میری بیوی نے اپنے پیدا ہونے سے پہلے کی اولاد بھی نیزوں پر چڑھا دی تھی ۔ خود کو ٹکڑے کروا ڈالا تھا ۔ ۔ ۔ ۔اتنا آہ و فغاں ہوتا ہو گا کہ اللہ پاک بھی اپنے فرشتے کو واپسی کا حکم دے دیتا ہو گا کہ شہید خدا کے پیارے ہوتے ہیں ۔اسی لیئے تو وہ فرماتا ہے کہ شہیدکو مردہ مت کہو یہ زندہ ہیں انہیں ہم رزق دیتے ہیں لیکن تم اس کا شعور نہیں رکھتے ۔ انہیں کی محبت کے صدقے ہم بار بار معاف کر دیئے جاتے ہیں ، لیکن کب تک ؟ ایسا نہ ہو تو جس ملک کے لوگ اپنے قائد اپنےبابا کی قبر کو بدکاری کا اڈا بنا دیں ۔ جہاں 6،6 سال کی بچیاں ریپ ہو رہی ہوں جہاں قران کا درس دینے والے بچوں سے برے افعال کرتے ہوں ، جہاں عورتیں بے پردہ رہنے کو فیشن کہتی ہوں ، جہاں مخلص لوگوں کی ہنسی اڑائی جاتی ہو ۔ جہاں یارانوں دوستانوں میں سرکاری اداروں کے عہدے پیش کیئے جاتے ہوں جہاں قاتل چھوکرے وکٹری کا نشان بناتے ہوئے گردن اکڑا کر مقتول کے سر پر پاؤں رکھ کر بھنگڑے ڈالتے ہوں اسے تو کب کا ختم ہو جانا چاہیئے تھا ۔ اگر یہ قائم ہے تو اسی لیئے کہ یہ شہیدوں کی تڑپ خدا سے ہماری بار بار معافی کرواتی ہے ۔
لیکن کب تک یونہی چلے گا ۔خود کو بدلنے کا وقت آن پہنچا ۔ ہم اب بھی یہ ہی دعا کریں گے کہ
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اُُُترے
وہ فصل گل جسے اندیشئہ زوال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہموطن کیلیئے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
اس تمام، پروگرام کا ٹریبیوٹ شہید اعتزاز احسن کو پیش کیا گیا اور ان کے والدین کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ جس نے اپنے لہوسے اپنی زمین پر لکھا کہ ابھی امید زندہ ہے ۔
یوں یہ پروگراوم سوچوں کے دروازے پر بھرپور دستک دیتا ہوا اختتام پذیر ہوا ۔اپنے انمٹ نقوش زہنوں پر چھوڑتے ہوۓ ۔شکریہ شاہ بانو میر صاحبہ اتنے خوبصورت لوگوں کیساتھ اتنے بھرپور انداز میں بات کرنے کا موقع دینے کے لیۓ۔
                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/