ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک
۔نظمیں۔ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
۔نظمیں۔ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 16 اگست، 2013

● (18) زرا ٹہرو مجھے ۔۔/نظم۔ میرے دل کا قلندر بولے



(18) زرا ٹہرو مجھے تم سے۔۔۔۔



زرا ٹہرو مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے
بہت ممکن ہے کل پھر اسطرح لمحے نہ مل پائیں 
کہ ہم تم اسطرح اک میز پر بھی بیٹھ نہ پائیں
بہت سی ان کہی باتوں کے افسانے بھی بنتے ہیں
جو ہوتے ہیں کبھی اپنے وہ بیگانے بھی بنتے ہیں 

ہمیشہ اپنے لفطوں کو معانی دیکے جانا تم
ادھورے لفظ تو اک کند سا ہتھیار ہوتے ہیں 

کہ اسکے وار سے اک بار میں میں مر بھی نہ پاؤں
تیرے ہاتھوں یہ استعمال کتنی بار ہوتے ہیں 

ملو جب تم تو لفظوں  کے اسی خنجر میں تیزی ہو
کہ جس کو دیکھ کے معلوم تیری عرق ریزی ہو
خیالوں کے کسی جنگل میں گم ہونے سے پہلے کیا
حقیقت میں جو تھا اس باغ میں کچھ دیر ٹہلے کیا

ہمیشہ ہی مہکتی ہیں  اگر اچھی ہوں یادیں تو 
سدا ہی لطف دیتی ہیں  اگر دلکش ہوں باتیں تو 

                ●●●                         
کلام:مُمتاز ملک
مجموعہ کلام:
 میرے دل کا قلندر بولے
اشاعت:2014ء
●●●

پیر، 24 دسمبر، 2012

● [51] مسافت/ نظم ۔ اردو شاعری ۔مدت ہوئی عورت ہوئے ۔ اشاعت 2011ء



[51] مسافت
mosafat



مسافتوں کی طوالتوں کا
mosafaton ki tawalton ka
نہ راستوں کا حساب مانگو
na raston ka hisab mango
جو تھک گئے ہو تو اپنی ہمت کا
jo thak gey ho to apni himmat ka
خود سے کوئی نصاب مانگو
khudi se koi nisab mango
جو سوچنے بیٹھو سارے پہلو
jo sochne baitho sare pehlo
تو زندگی مختصر لگے گی
to zindagi mukhtaser lge gi
نہ عقل دے جب دلیل کوئی
na aql de jab dalil koi
تو دل کی کوئی کتاب مانگو
to dl ki koi kitab mango
سوال مشکل لگیں جہاں کے
sawal mushkil lagein jahan k
تو ساتھ ایسا بھی ڈھونڈ رکھنا
to sath aisa bhi dhond rakhna
کہ کہہ سکو تم جواب میں میرے
k keh sako tum jawab mein mere
ممّتاز حاضر جواب مانگو
Mumtaz hazir jawab mango 
●●●
کلام:ممتازملک.پیرس 
مجموعہ کلام:
مدت ہوئی عورت ہوئے 
اشاعت:2011ء
●●●



[51] مسافت

جو سوچنے بیٹھو سارے پہلو
تو زندگی مختصر لگے گی

مسافتوں کی طوالتوں کا
نہ راستوں کا حساب مانگو

جو تھک گئے ہو تو اپنی ہمت کا
خود سے کوئی نصاب مانگو

نہ عقل دے جب دلیل کوئی
تو دل کی کوئی کتاب مانگو

سوال مشکل لگیں جہاں کے
تو ساتھ ایسا بھی ڈھونڈ رکھنا

کہ کہہ سکو تم جواب میں میرے
ممّتاز حاضر جواب مانگو
●●●
کلام:ممتازملک.پیرس 
مجموعہ کلام:
مدت ہوئی عورت ہوئے 
اشاعت:2011ء
●●●


 

منگل، 16 اکتوبر، 2012

● 12 ) مہلت/ نظم ۔ مدت ہوئی عورت ہوئے ۔ اردو شاعری ۔ اشاعت 2011ء




(12)مہلت
MOHLAT 

کتنی عجیب بات ہے
Kitni ajib baat hai 

کل رات خواب میں
kal raat khwab mein

بجلی کڑک رہی تھی
bijli krrak rahi thi 
میری آنکھ کھل گئی
meri aankh khul gai

مجھ کو لگا طوفان میرے ہمرکاب ہے
mujh ko laga toufan mere humrqab hai 

طوفان میری آ نکھ کا سیلاب ہو گیا
toufan meri aankh ka sailab ho gya 

پتوار میرے ہاتھ سے پانی میں بہہ گیا
patwar mere hath se pani mein beh gya 

میں ڈھونڈنے لگا میرے بچّے کہاں
گئے
main dhondne laga mere bachche kahan gaye

کیا ہمسفر بھی میرا کہیں آج کھو گیا
kia humsafer bhi mera kahin aaj kho gia

وہ دوست میرے کیا ہوۓ جو غمگسار تھے
wo dost mere kia hoe jo  ghamgusar the 

رشتہ ہر ایک کچّے گھڑے پر سوار تھا
rishta hr aik kachche ghare pr swar tha 

بیوقعتی پہ میری مجھے ترس آگیا
biwoqati pe meri mujhe tars aa gia 

آنکھوں کو بند کر کے قبر میں اُتر گیا
aankhoon ko band kr k qaber mein utr gya

جھٹکے سے آنکھ کھل گئی  محسوس یہ ہوا
jhatke se aankh khul gai mehsoos ye hoa 

سرتاپا پسینے میں شرابور پڑا تھا
sertapa paseene mein sharaboor para tha

دل سینے کے پنجرے کو میرے توڑ رہا تھا
dl sine k pinjre ko mere torrh raha tha

اور زہن میں چلتا ہوا سوچوں کا ہتھوڑا
aur zehn mein chalta hoa sochoon ka hathorra 

سنگلا خ چٹانوں کو کہیں توڑ رہا تھا
sanglakh chatanoon ko kahin torrh raha tha 

اندر میرے بیٹھا ہوامسکین مسافر
ander mere betha hoa miskeen mosafer

آج ہو کےتوانا مجھے جھنجھوڑ رہا تھا
aaj ho k tawana mujhe jhanjhorrh raha tha

آنے لگی اندر سے کہیں مجھکو منادی
ane lagi ander se kahin mujh ko manadi

جاااااااااااااااااااااا
jaaaaaaaaaa 


عمر کی اِک اور گھڑی ہم نے بڑھا دی
umr ki ik aur gharri hum ne barrha di
●●●
کلام: ممّتاز ملک
مجموعہ کلام:
مدت ہوئی عورت ہوئے 
اشاعت: 2011ء
●●●

[12]مہلت



کتنی عجیب بات ہے 
کل رات خواب میں
بجلی کڑک رہی تھی 
میری آنکھ کھل گئی
مجھ کو لگا طوفان میرے ہمرکاب ہے 
طوفان میری آنکھ کا سیلاب ہو گیا
پتوار میرے ہاتھ سے پانی میں بہہ گیا
میں ڈھونڈنے لگا میرے بچّے کہاں گئے
کیا ہمسفر بھی میرا کہیں آج کھو گیا
وہ دوست میرے کیا ہوۓ جو غمگسار تھے 
رشتہ ہر ایک کچّے گھڑے پر سوار تھا
بیوقعتی پہ میری مجھے ترس آگیا 
آنکھوں کو بند کر کے قبر میں اُتر گیا
جھٹکے سے آنکھ کھل گئی  محسوس یہ ہوا 
سرتاپا پسینے میں شرابور پڑا تھا
دل سینے کے پنجرے کو میرے توڑ رہا تھا
اور ذہن میں چلتا ہوا سوچوں کا ہتھوڑا 
سنگلاخ چٹانوں کو کہیں توڑ رہا تھا 
اندر میرے بیٹھا ہوامسکین مسافر
آج ہو کےتوانا مجھے جھنجھوڑ رہا تھا
آنے لگی اندر سے کہیں مجھکو منادی
جاااااااااااااااااااااا
عمر کی اِک اور گھڑی ہم نے بڑھا دی
●●● 

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/