شعلوں سے عشق نہ کر جھلیا
جل کر جائے گا مر جھلیا
طوفان بپا ہے سینے میں
اور درد تیرے اندر جھلیا
وہ غم سے سدا آزدا رہا
دی جسکو دعا بھر بھر جھلیا
ایک اسکا در ہی کافی یے
کیوں جاتا ہے در در جھلیا
کیوں قلب و جاں پر حاوی ہے
اک نورانی پیکر جھلیا
ممتاز ہو جائے گا اس دن
دنیا کا جو نکلا ڈر جھلیا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں