فرمانبردار
ارے کیا ہو گیا، کیوں بات کا پتنگڑ بنا رہی ہے ۔ اتنے اچھے ساس سسر ہیں تمہارے ۔ اتنا فرمانبردار بیٹا ہے انکا، اورکیا چاہیئے تمہیں؟
زرینہ نے میکے آئی ہوئی ناراض بیٹی کو سمجھانا چاہا۔
امی یہی تو مسئلہ ہے۔
صومانہ تڑپ کر بولی ۔
ایسے والدین پکے دوزخی ہوتے ہیں جو گھر کی ایک اولاد کو اسکی فرمانبرداری کے سبب نوکر بنا کر اپنے ہڈ حرام لاڈلوں کا بوجھ ساری عمر کے لیئے انکے گلے ڈال دیتے ہیں ۔
ایسے بیٹوں کی بیویاں بھی گھروں میں نوکرانیاں بنا لی جاتی ہیں اور ساری عمر ذلیل کی جاتی ہیں۔
ایسے فرمانبردار لڑکوں کے ساتھ کبھی شادی نہیں کرنی چاہیئے ۔ وہ کبھی اپنی بیوی کے اچھے شوہر نہیں بن سکتے۔ آپکو میری بات میری تکلیف کیوں سمجھ نہیں آتی؟
صومانہ تڑپ رہی تھی
صبح کے پانچ بجے اٹھتی ہوں نماز بمشکل پڑھتی ہوں اس کے بعد سب کی جو خدمتیں شروع ہوتی ہیں۔ صبح کے ناشتے سے لے کر دوپہر کے کھانے اور دوپہر کے کھانے سے سہہ پہر کی چائے اور رات کے کھانے کے بعد تک جب تک یہ لوگ سونے نہ چلے جائیں۔ 12 بجے مشکل سے مر مٹ کے مجھے بستر پہ لیٹنا نصیب ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد فرمانبردار بیٹا تو پوچھتا بھی نہیں ہے کہ میری ہڈیوں میں کتنا دم باقی ہے یا نہیں ہے اسے اپنی خدمت کروانی ہوتی ہے۔ ماں کے سامنے گھنگنیاں منہ میں ڈالے بیٹھا ہوتا ہے۔
لیکن میرے سامنے وہ گھر کا سب سے بڑا بدمعاش ہوتا ہے۔ اسے رپورٹ دینی ہوتی ہے مجھے کہ آج میں نے کس کس کی خدمت میں کوئی کمی بیشی کی کہ نہیں کی۔
کسی کی چوں ہو یا کسی کا چنگ ، مجھے نیند نصیب نہیں ہو سکتی، جب تک میں اس کی صفائی پیش نہ کر دوں۔ ہاتھ باندھ کر لوگوں سے معافیاں نہ مانگوں۔ ہر دوسرے دن ڈھیروں ڈھیر کپڑوں کے لیئے دھوبن بنی ہوتی ہوں ۔ میری ساس سسر نے تو کبھی مجھے یہ تک نہیں پوچھا کہ بیٹی تمہاری طبیعت ٹھیک ہے کہ نہیں ہے۔ بخار ہو مر رہی ہوں ، چاہے مر جاؤں تب تک مجھے اس گھر کی چاکری کرنی ہے۔
لعنت ہے ایسی شادی پر۔ اگر شادی اس کا نام ہے تو میں اس پر ایک ہزار بار لعنت بھیجتی ہوں ۔ اگر اپنے ہاتھوں سے دو وقت کی روٹی کما کر میں کھا سکتی تو مجھے ان لوگوں کی بدمعاشیاں نہ جھیلنا پڑتیں۔ اسی لیئے شاید آپ لوگ بیٹیوں کو پڑھاتے نہیں ہیں کہ ہم لوگ اپنی روٹی خود کمانے لگے تو ایسے ایسے خبیثوں کی غلامی میں نہیں پڑیں گے ہم لوگ۔
آپ لوگوں کو مفت میں بیگار کی نوکرانیاں کہاں سے ملیں گی؟
بیٹیوں کے دشمن ہیں آپ سب والدین ۔ رحمت رحمت کہہ کر انہیں جوتا بنا دیا۔ ڈور میٹ بنا دیا ہمیں آپ نے لوگوں کے آگے۔ اگر ہم اتنی ہی رحمتیں ہوتی نا تو ہمیں رحمتوں کی طرح سنبھالتے۔ کسی قابل کرتے۔ عزت سے اپنی زندگی گزارنے کے طریقے سکھاتے۔ ہنر سکھاتے۔ تعلیم تربیت کرتے ہماری۔
یوں لوگوں کے گھروں میں دو روٹی اور ایک عارضی ٹھکانہ، پرائی چھت ، دلوانے کے لیے ہمیں کسی بھی فرمانبردار کے گلے نہ باندھ دیتے۔
ہماری خیر خبر لیتے ۔ ہم زندہ ہیں یا مر گئے۔ اچھے ہیں یا برے ہیں۔ گھر کے 15، 15 لوگوں کے ، آئے گئے کے آگے، ہم باورچی ہیں لیکن ہم نے کھانا کھایا یا نہیں یہ ہم سے کوئی نہیں پوچھتا ۔
ہماری عزتیں محفوظ ہیں یا نہیں۔ رات کو نیند ملتی ہے سونے کے لیئے کہ نہیں ، کھانا کھا سکتے ہیں یا نہیں۔ کھانا کھانے کی چھٹی ملتی ہے ہمیں کہ نہیں۔ پوچھا کبھی آپ لوگوں نے؟
صومانہ نے آج اپنا ہر زخم اپنی ماں کے سامنے عریاں کرنے کی شاید قسم کھا لی تھی۔
بھاڑ میں جائے ان کا وہ بڑا گھر ,خوبصورت گھر, نوکر صرف نوکر ہوتا ہے اور میں اس گھر میں خود کو کبھی بہو محسوس نہیں کرتی۔ مجھے یہی محسوس ہوا کہ میں اس گھر کی ایک نوکرانی ہوں اور وہ نوکرانی جو خرید کے لائی گئی ہے۔
کیونکہ نوکرانیاں بھی مجھ سے اچھی ہوتی ہیں۔ اپنے جوٹھے ہی صحیح کبھی ان کو کپڑے تو دلوا دیئے جاتے ہیں۔ کبھی ان کو عید شب برات کی چھٹی مل جاتی ہے۔ انہیں تنخواہ تو مہینے کے بعد ملتی ہے نا۔ 10 ہزار فرمائشیں وہ نوکرانیاں اپنی پوری کرواتی ہیں۔ تنخواہ کے باوجود۔
میں تو ایک نوکرانی سے بھی بدتر زندگی گزار رہی ہوں۔ پھر بھی آپ کہتی ہیں کہ میں اس پر صبر کروں، اس پہ شکر کروں۔
انکے لاڈلے بیٹے مفت کا کھاتے ہیں،عیش کرتے ہیں اور سارے گھر پر دھونس بھی جماتے ہیں۔
اپنی بیویوں کو انہوں نے میری دیورانیوں کو میرے سر پر میری مالکنیں بنا رکھا ہے ۔ گھر میں جو پکے گا ان کی مرضی سے۔ جو کھایا جائے گا ان کی مرضی سے۔ ہر نئی چیز آئے گی تو ان کے لیئے آئے گی۔ لاڈلے بیٹے دیوار بن کے آگے کھڑے ہوتے ہیں اپنی بیویوں کے لیئے ۔
مجال ہے کہ ساس کی کوئی گرم ہوا گرم پھنک تک بھی ان کی بیویوں تک پہنچ سکے۔
ایسا سناتے ہیں کہ اماں جی کا دماغ ٹھیک ہو جاتا ہے اور ایک میں۔۔
میں لہولہان مردہ بھی پڑی ہوں نا تو میرا شوہر میرا جنازہ بھی کبھی نہیں پڑھنے آئے گا ، جب تک اپنی اماں کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر اجازت نامے پر دستخط نہ کروا لے کہ میں چلا جاؤں، کہیں میری جنت تو نہیں چھن جائے گی ۔۔۔
لعنت بھیجتی ہوں میں ایسے شوہر کے اوپر۔ نہیں چاہیئے مجھے ایسا شوہر۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
بیٹا ساری دنیا میں میاں بیوی کے بیچ جھگڑے ہوتے ہی ہیں۔ لڑکیاں صبر شکر کے ساتھ گزارا کر لیتی ہیں تم کیوں باتوں کو بڑھا رہی ہو۔۔۔
وہ سٹپٹا کر رہ گی اپنی ماں کے اس سبق کے اوپر۔ اماں آپ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کہہ رہی ہوں؟ میں کتنی تکلیف میں ہوں؟
میری زندگی کا چین سکون میری شکل صورت میری ہڈیوں کا زور تباہ ہو چکا ہے۔
میں ان سات سال کے اندر گھس چکی ہوں. آپ کو میری بات سمجھ نہیں آ رہی۔
ان سب نے مل کر میری ذات کا بھرتا بنا دیا ہے۔ آپ کو محسوس نہیں ہو رہا۔۔۔۔
میں بڑے سے بنگلے میں رہتی ہوں۔ مگر اس بنگلے میں میرے ساتھ میری کیا اوقات ہے اور کیا ہوتا ہے یہ آپ کو سنائی اور سجھائی نہیں دے رہا۔
میں بڑی سی گاڑی میں بیٹھ کے آ جاتی ہوں مگر اس گاڑی میں بیٹھنے کے بعد اور اٹھنے سے لے کر بیٹھنے تک مجھے کتنی باتیں سنائی جاتی ہیں ۔ کتنے طعنوں تشنوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ کتنی احسان مندیاں کرنی پڑتی ہیں۔ کتنے شکر گزاریاں کرنی پڑتی ہیں۔ آپ کو پتہ ہے وہ ٹیکسی اور وہ رکشہ بہت اچھا ہے۔ جس میں میں کسی کی احسان مند تو نہیں ہوں۔
میں تو ہوں ہاں کے سوا اپنی مرضی سے کوئی سوال تک نہیں کر سکتی ۔
میں اپنی مرضی سے کچھ پہن نہیں سکتی ۔
نہ جاگ سکتی ہوں نہ سو سکتی ہوں
نہ کھا سکتی ہوں نہ پی سکتی ہوں۔
نہ اپنی مرضی سے کسی کو ملنے جا سکتی ہوں ۔ نہ کسی کو ملنے کے لیئے بلا سکتی ہوں ۔
اور آپ مجھے سبق سکھا رہی ہیں۔
بھاڑ میں جائے ایسا صبر جو انسان کی ذات کو زیرو پہ لا کے کھڑا کر دے۔
جذبات میں جانے وہ کیا کچھ بولتی چلی گئی۔
اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا۔ یہ سیلاب جیسے آج سب کچھ بہا لے جائیگا۔
اس نے نہایت مایوسی کے ساتھ اپنے آنسو پونچھے ۔ کچھ سوچا لمبی سانسیں لیں ۔ اپنا بیگ اٹھایا اور دروازے کی جانب چل دی
جاتے ہوئے اس نے آنسو بھری نگاہوں سے اپنی ماں کی جانب دیکھا اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ، ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولی امی ایک بات کہوں
امی نے اسے دکھ اور حیرت سے دیکھا۔۔۔
بول بیٹا
اس نے آنسو پونچھتے ہوئے گلوگیر لہجے میں کہا
اگر آپ کو اپنی بیٹیوں کا سکھ چاہیئے تو انکا رشتہ گھر کے لاڈلے بیٹے کو دیجیئے گا کیونکہ وہ اپنی بیوی کے بھی لاڈ اٹھوا سکتا ہے ۔ جبکہ فرمانبردار تو اپنی بیوی کو اپنے گھر والوں کے ظلم سے بچانے کے لیئے پھس بھی نہیں کر سکتا۔
امی اگلی بیٹی کا رشتہ سوچ سمجھ کر دینا۔
وہ لڑکھڑاتے قدموں سے گھر سے باہر نکل گئی اور
کمرہ دیر تک اس کی آواز سے گونجتا رہا۔۔
(ممتازملک ۔پیرس)
۔۔۔۔۔۔





