ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک
۔ اردو شاعری ۔ بار دگر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
۔ اردو شاعری ۔ بار دگر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 9 مئی، 2026

سمندر کے پیالے / اردو شاعری۔ باردگر


سمندر کے پیالے
کلام/ممتازملک ۔پیرس  




آنکھ تھی گویا سمندر کے پیالے رکھے
جسمیں طوفان کئی اسنےسنبھالے رکھے
  
 بولنا ہم کو بھی آتا تھا بلا کا لیکن 
ایک خاموشی نے ہنگام تھے ٹالے رکھے

عشق تھا یا کوئی خودساختہ معیار ستم 
قفل ہونٹوں پہ بہرطور تھے ڈالے رکھے


زخم تو دل پہ لگےحاصل احوال تھا یہ
  کب تیرے در پہ میرے درد نے نالے رکھے

ہم نے صندوق میں رکھی ہیں پرانی یادیں
جانے کیا سوچ کے اس پر نہیں تالے رکھے

 توڑنے والے نے ٹکڑے میرے جوڑے رکھے
 ظلمتوں کے بڑے انداز نرالے رکھے

راز کی طرح چھپایا ہے اسے دامن میں 
جیسے مکڑی نے کسی ثور پہ جالے رکھے

اب بری  کوئی نظر پہنچے نہ تجھ تک کیونکہ
 چاند چہرے پہ دعاؤں کے وہ ہالے رکھے

وہ نظر باز ہے پر حلیہ  مومن میں ملا 
تن کے اجلوں نے مگر دل بڑے کالے رکھے

خود اندھیروں میں جئے اور تمہاری خاطر 
 سن لو ممتاز دروبام اجالے رکھے
    ۔۔۔۔۔

▶️Watch the full video now! https://vm.tiktok.com/ZNRGA4JG8/

پیر، 9 فروری، 2026

آنکھوں میں در ائے۔ اردو شاعری ۔ باردگر


( 30 سال شادی پر اختر شیخ صاحب کے نام)

سنا ہے جب کسی کی ذات سے کوئی بھی ڈر آئے
ہماری یاد کے جگنو تیری آنکھوں میں در آئے 

 ہماری زندگی تھی اس پہ اپنا حق تھا لیکن کیوں
کہاں پر  تم ہماری زندگی کر کے بسر آئے 

ابھی پھر سے نئی منزل نہیں ہے جستجو اپنی
نہ جانے کتنی دنیاؤں کا ہم کر کے سفر آئے 

تمناؤں سے رخصت ہو تو کچھ اقدام ہوں عملی
سمجھ جائیں گے دنیا کو سمجھ میں یہ اگر آئے

نہ گھر اتنے بڑے کرنا کہ کھو جائیں نگاہوں سے
بس اتنا ہو کہ ہر اک  ایک دوجے کو نظر آئے 

نہ تھی کچھ جان نہ پہچان جو تھی وہ محض قسمت
جہاں اک چھوڑ کے اپنا جو ہم تیرے نگر آئے 

بہت ممتاز گزری ہے ہمارے ساتھ ہیں اختر 
سبھی کو رد کیا جتنے جہاں بھی بدنظر آئے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 23 اکتوبر، 2025

کیسی لاچاری۔ اردو شاعری ۔ باردگر


لاچاری

کیسی دنیا ہے کیسی لاچاری
سن لے تیری یہ آہ  اور زاری

کام اس کا برا نہیں لیکن
یونہی بدنام ہے یہ بیچاری

تیرا ان لوگوں میں شمار رہا
جنکی خودسےبھی نہ ہوئی یاری

جس نے مقتل سجے نہیں دیکھے
وہ کیا جانے ہے کیا عزاداری

کون ہنسنے کی جستجو کرتا
رقص ہے موت کا جہاں جاری

ہونے ممتاز آج چل تو دیئے
کون جائے گا اب کہاں واری
               ۔۔۔۔۔۔۔

بدھ، 22 جون، 2016

سلام امجد صابری ۔ اردو شاعری ۔ باردگر


سلام امجد صابری 

ہاتھوں پہ جس کے سارے زمانے نے بیعت  کی
اپنے ہی اس کے ہاتھوں مسلماں نہ.ہو سکے

کیسا ہے گل فروش کہ گل تو بہت سے ہیں 

ان کے سنبھالنے کو جو گلداں نہ ہو سکے

رحمت کا صبح و شام جو بیغام لا رہا
اس کے لیئے ہی رحم کا ساماں نہ ہو سکے


اس شہر کی فضاؤں میں رقصاں رہے گی موت 
جو اپنے رہنماوں پہ  حیراں نہ ہو سکے

ہر روز سانحات  مقدر ہیں ان کے جو
اپنے کیئے پہ سالوں  پشیماں نہ ہو سکے

قاتل کھڑے ہیں ایسے جنازے میں صف بصف 

ممتاز  ان سے بڑھ کے نگہباں نہ ہو سکے

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/