ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک
تبصرے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تبصرے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 26 اگست، 2025

تبصرہ ۔ ناصر علی سید ۔ ممتازملک کے کام پر۔ تبصرے


   ادب سرائے کا تازہ شمارہ
ناصر علی سید کی تحریر:


 دوستوں کے لئے۔۔۔۔میرے کالم میں احباب کی رسمی اور غیر رسمی نشستوں کا، مہمان شاعرہ ممتاز ملک کا اور پشاور کے قلم قبیلہ کے لئے ایک پیغام اختر شیرانی کی غزل کی وساطت سے۔۔گر قبول افتد۔۔۔۔۔۔۔ناصر علی سیّد
                          ایک ہی بستی میں ہیں، آساں ہے ملنا، آ ملو 
                                   سنا تو یہی تھا کہ جلد ایک کتاب کی رونمائی کا ڈول ڈالا جا رہا ہے، لیکن بہت دنوں تک پھر کوئی سن گن نہ تھی،میں بھی بھول گیالیکن تین چار دن ادھر ایک میسج سے عقدہ کھلا کہ پیرس میں مقیم ایک پاکستانی شاعرہ ممتاز ملک پشاور میں ہے اور ان کے اعزاز میں ایک شعری نشست کا اہتمام حیات آباد کے فیز فائیو میں کیا جا رہا ہے،مجھے یاد آیا کہ ممتاز ملک چند برس پہلے بھی جب پاکستان آئی تھیں تو پشاور یاترا کے دوران حلقہئ ارباب ذوق پشاور کی ہفتروزہ نشست میں بھی شریک ہوئی تھیں اور مجھے یہ بھی یاد ہے کہ اس دن حلقہ کی نشست ”غالب فہمی“ کے لئے مخصوص تھی،غالب کی غزل میں احباب نے عمدہ گفتگو کی تھی جس میں ممتاز ملک نے بھی حصہ لیا تھا اور جو یہ جو تنقیدی نشستیں ہوتی ہیں اس میں تخلیقات پر گفتگو سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہو تا کہ بات کرنے والے کو ادب سے کتنی دلچسپی اور کتنی دسترس ہے، پشاور میں تنقیدی نشستوں کا یہ سلسلہ قیام پاکستان سے بھی پہلے شروع ہو چکا تھا۔ اور اردو کی حد تک حلقہئ ارباب ذوق،ینگ تھنکرز فورم،حلقہئ فکر و نظر،ادارہ علم و فن،سنڈیکیٹ آف رائٹرز،ملاقات، مکالمہ، وجدان،انجمن ترقی پسند مصنفین اور کئی دیگر تنظیمیں اپنی سی کوششیں کرتی رہی ہیں، اور ہر تنظیم کے اجلاس میں شہر کے کم و بیش سارے تخلیق کار شریک ہوتے رہے ہیں،اور اب تو فقط ایک حلقہئ ارباب ذوق ہے جس میں سینئر احباب تکلف سے شریک ہو تے ہیں غنیمت ہے کہ سیکریٹری سید شکیل نایاب اور جوائنٹ سیکریٹری راشد حسین کی کوششوں سے اب نو واردان ِ ادب نے حلقہ کی تنقیدی نشستوں کو آباد کر رکھا ہے، شنید تھا کہ ممتاز ملک کے اعزاز میں شعری نشست شاید شہر میں ہو گی شاید اباسین آرٹس کونسل میں ہو نا تھی مگر پھر قرعہئ فال فیز فائیو کے نام نکل آیا، جگہ دور تھی،پہنچنے میں بھی دیر لگی، لیکن ٹھنڈے کمرے نے شعرا کی بہت کم تعداد کے باوجود ایک عمدہ نشست کے لئے اچھا ماحول بنا دیا تھا، شعری نشست سے پہلے مہمان شاعرہ کی پوری گفتگو تو نہ سن سکا، لیکن جتنی بھی سنی اس سے ان کی اپنی مٹی،اپنی صنف اور اپنی اقدار سے محبت اور کمٹمنٹ مترشح تھی، ڈاکٹر صغیراسلم میزبانی کے فرائض انجام دے رہے تھے، وہ بھی گرمیوں کی طویل چھٹیاں کینڈا میں گزار کر اسی ہفتے پشاور آئے تھے، تقریب میں شاعرات کی تعداد اگر شاعروں سے بہت زیادہ نہ بھی تھی تو کم بھی نہ تھی، ممتاز ملک کی تازہ کتاب دراصل ان کا نعتیہ مجموعہ ”اے شہہ محترم“ ہے جس میں حمد و نعت کے ساتھ ساتھ منقبت و سلام و مناجات بھی شامل ہے۔ اس تقریب کا اہتمام عزیز اعجاز نے کیا تھا، ممتاز ملک اچھے شعر اور اپنے صلح کل رویہ کے ساتھ چونکہ سوشل میڈیا پر بھی خاصی متحرک ہے اس لئے ایک بڑا حلقہ ان کا گرویدہ ہے، عزیز اعجاز نے ایک پر تکلف عصرانے کا اہتمام بھی کر رکھا تھا،تقریب کے بعد دیر تک فوٹو سیشن ہوتا رہا اور سلفیاں بنتی رہیں، اب یہ بھی پس تقریب کی ایک لازمی سرگرمی بن گئی ہے، ہم دیر سے آئے تھے اور د یرسے واپس گھر آئے، کچھ عرصہ پہلے جب امریکہ سے شاعرہ و براڈکاسٹر الماس شبی آئی تھی تو تقریب کے بعد پار کنگ میں بھی کوئی گھنٹہ بھر تصویریں بناتے رہے کہ وہ شب مہتاب تھی، مگراب کے اماوس تھی یعنی یہ رات قمری مہینے کی آخری راتیں میں سے تھی پھر بھی ایک دوسرے کو خدا حافظ کہنے میں بہت وقت لگا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اب پشاور میں اس طرح کی ملاقاتوں اور مل بیٹھنے کے مواقع بہت کم ہو گئے ہیں، اس سے کچھ دن پہلے جب میں اور مشتاق شباب نذیر تبسم کے پاس چند لمحوں اور ایک مختصر سی میٹنگ کے لئے گئے تھے تو وہ ملاقات بھی گھنٹوں تک پھیل گئی تھی،وجاہت نذیر نے ایک تصویر بنائی جسے فیس بک پر دیکھنے والوں نے وائرل کر دیا اور تینوں دوستوں کے ا َحبّا نے مزے مزے کے کمنٹس کئے اور کچھ دوستوں نے استفسار کیا کہ کیا گفتگو ہوئی؟گویا تصویر کے لئے شکریہ مگر کیا ہی اچھا ہو کہ آپ وہ باتیں بھی شئیر کریں جو آپ تینوں دوستوں کے مابین ہوئیں، میں نے وعدہ بھی کر لیا کہ جلد بات کریں گے اصل میں ہم جلد ہونے والی ایک تقریب کے خد و خال ترتیب دینے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے، اور ظاہر ہے کہ پھر شہر اور پاکستان کے حوالے سے رفتار ادب پر بھی بات ہوئی، کچھ دوستوں کی کتابوں پر اور ان کے کام پر بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا گیا، کہ کچھ دوست سر جھکا کے کار ادب کو آگے بڑھانے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں، اس سے خیبر پختونخوا کا ادب دوسروں منطقوں تک پہنچ رہا ہے، خصوصا جو دوست یہاں سے جا کرباہر کے ممالک شفٹ ہو گئے ہیں،وہاں بھی وہ اپنے علاقے کے سفیر بن کر کام کر رہے ہیں ابھی انگریزی زبان میں ایک چھوٹی سے کتاب پشاور کے حوالے سے ڈاکٹر سید امجد حسین کی آئی ہے، اور ان کی محبت کہ اس کی کچھ نسخے مجھے بھیجے ہیں، پشاور کا یہ ایک عمدہ تاریخی،ادبی ثقافتی اور سماجی تعارف ہے، ڈاکٹر سید زبیر شاہ اور ڈاکٹر اویس قرنی کے افسانوں پر بھی بات ہوئی، کوہاٹ کے طرحدار شاعر و ادیب کے شعری مجموعہ سرمئی پر بھی میں نے بات کی اور دوستوں کو بتایا کہ ان کے انگریزی ادب کے سلسلے میں اچھے مضامین اور تراجم نیٹ کی باوقار ویب سائٹس پر مو جود ہیں، باین ہمہ یہ ایک مختصر سی ملاقات تھی اور ضرورت ہے کہ شہر میں اس طرح مل بیٹھنے کا اہتمام اگر تواتر سے ہو تو شاید باقی شہروں کی طرح یہاں کی ادبی فضا بھی متحرک اور فعال ہو جائے، اختر شیرانی نے جو کل کہا تھا۔۔ شہر گل کے نئے پرانے سارے تخلیق کاروں کے لئے۔۔ آج اِن اشعار میں پیغام بھی ہے اور دعوت ِفکر بھی۔۔۔۔۔
                         دو گھڑی مل بیٹھنے کو بھی غنیمت جانئے
                           عمر فانی ہی سہی یہ عمر فانی پھر کہاں 
                          آ کہ ہم بھی اک ترانہ جھوم کر گاتے چلیں 
                           اس چمن کے طائروں کی ہم زبانی پھر کہاں 
                           ایک ہی بستی میں ہیں آساں ہے ملنا آ ملو
                            کیا خبر لے جائے دَور آسمانی پھر کہاں 
                              فصل گل جانے کو ہے دور خزاں آنے کو ہے
                                 یہ چمن، یہ بلبلیں یہ نغمہ خوانی پھر کہاں 
                              آج آئے ہو تو سنتے جاؤ یہ تازہ غزل
                                                                                             ورنہ اختر پھر کہاں یہ شعر خوانی پھر کہاں

بدھ، 18 جون، 2025

فوزیہ اختر ردا کی کتاب روپک پر۔ تبصرہ ممتازملک

فوزیہ اختر ردا کی کتاب "روپک" پر تبصرہ

فوزیہ اختر ردا کی نئی کتاب "روپک" کا پی ڈی ایف مجھ تک پہنچا۔ اسے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ویسے تو آن لائن مشاعروں میں فوزیہ اختر ردا کی شاعری سننے کا موقع ملتا رہا اور بہت خوشی ہوتی ہے کہ اس عمر کے شعرائے کرام کو جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بڑی دلجمی کے ساتھ اردو ادب کے لیے اپنی محبت نچھاور کرتے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں۔  یقینا نوجوان نسل میں فوزیہ اختر ردا کا نام ایک بڑا خوبصورت آگے بڑھتا ہوا نام ہے۔  ان کی شاعری بلا شبہ مختلف جذبات کی ترجمان ہے۔  جس میں ان کی عمر کے حساب سے ان کے تجربات اور جذبات ہر جا بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔  شاعری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب تک دل پر چوٹ نہ لگے۔  یہ اندر سے کوئی بات باہر نہیں آنے دیتی۔  واقعی شاعری ایسی ہی بلا ہے۔  کوئی کتنا بھی ماہر ہو، کوئی کتنا بھی بڑا لفاظ ہو، کوئی کتنی بھی بڑی ڈگری رکھتا ہو، لیکن اگر اس کے دل سے کوئی چوٹ گزری نہیں، جسے اکثر لوگ کہا کرتے ہیں عشق کی چوٹ،
 لیکن صرف عشق زندگی کا ایک حصہ ہوتا ہے، عشق زندگی نہیں ہوتی، کوئی ایک انسان آپ کی زندگی پر حاوی نہیں ہو سکتا، اس کے مختلف مدارج ہوتے ہیں۔ یہ رشتے بھی ہو سکتے ہیں ۔ یہ دوستیاں بھی ہو سکتی ہیں ۔ یہ تعلق بھی ہو سکتا ہے۔  یہ امیدیں بھی ہو سکتی ہیں۔  جو جب ٹوٹتی ہیں، دل پر چوٹ پڑتی ہے اور ان کی کرچیاں جب آپ کے کومل سے دل کو زخمی کرتی ہیں تو اس سے رسنے والے لہو سے جو شاعری مرتب ہوتی ہے یقینا وہ دوسرے دل تک جا کر اپنی جگہ بنا ہی لیتی ہے۔  عمر کے ساتھ ، تجربات کے ساتھ،  مشاہدات کے ساتھ ، وقت گزرتا ہے تو آپ کی شاعری میں مزید پختگی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔  ہم بہت سے شعراء کو پڑھتے ہیں، جو کم عمری میں بہت بڑے بڑے کلام کہہ گئے لیکن پھر وقت نے دیکھا کہ انکی عمریں اتنی ہی کم نکلیں اور وہ دنیا سے بہت جلد رخصت ہو گئے۔  کیونکہ ان کے اندر جو کچھ تھا اس کم عمری کے اندر ہی ان کے تجربات کی شدت کے ساتھ وہ نکل چکا تھا۔  وہ اتنا درد اٹھا چکے تھے۔  وہ اتنی تکلیفیں اٹھا چکے تھے۔  کہ اب ان کے اندر ایسا کچھ نہیں رہا تھا ۔ جو مزید دنیا کو دیا جاتا۔  سو وہ اس دنیا میں نہ رہے۔  لیکن بہت سی ایسے شعراء ہیں ، جو وقت کے ساتھ ایک ایک سیڑھی چڑھتے ہوئے اپنی جگہ بناتے ہیں۔  اپنا مقام بناتے ہیں اور دنیا ان کے کام کو سراہتی ہے۔  فوزیہ اختر ردا اور ان جیسے شعراء کرام یقینا ایک ایسی نسل سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔  جو ایک ایک قدم اٹھاتے ہوئے اپنا سفر طے کر رہے ہیں۔  اور ان سے بہت ساری اچھی  امیدیں ہیں کہ یہ بہت آگے تک جائیں،  بہت ترقی کریں۔  اپنا بلند نام اور مقام بنائیں۔  اردو ادب کی دنیا میں اپنے آپ کو منوا سکیں ان کی شاعری کے مختلف لہجے ہیں ۔  کہیں وہ نسائی لہجے میں بات کرتی ہیں۔  کہیں وہ درد دل رکھنے والے ایک ایسی انسان کے طور پر دکھائی دیتی ہیں۔  جو دوسروں کی تکلیفوں پر تڑپتا ہے اور بہت کچھ کرنا چاہتا ہے،  اور جب کچھ نہیں کر پاتا تو بے بسی سے ہاتھ ملتا ہے۔  فوزیہ اختر ردا کے اس مجموعہ کلام "روپک" کے لیے تہہ دل سے میں اپنی جانب سے اپنی تنظیم "راہ ادب فرانس" کی جانب سے مبارکباد پیش کرتی ہوں.  بہت ساری دعائیں ان کے لیئے، بہت ساری نیک خواہشات بھی ہیں، اور امیدیں بھی ہیں کہ یہ بہت آگے تک جانے والی شاعرہ ہیں۔  فوزیہ اختر ردا بہت با ادب ہیں اور بہت ہی باوقار انداز میں اپنے کام کو آگے لے کر بڑھ رہی ہیں۔ انکے کام میں اوچھا پن نہیں ہے۔  دوسروں کے کندھوں پر سوار ہو کر اگے بڑھنے کی جلدی دکھائی نہیں دیتی ۔ اس لیے ان کی کام میں نفاست ہے۔  سکون دکھائی دیتا ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ فوزیہ ردا صاحبہ کا
یہ مجموعہ کلام بھی قارئین سے پسندیدگی کی سند حاصل  کر پائے گا۔ 
خود کو نہ روک پائے تیری بندگی سے ہم 
کیسے بھلا یوں دور رہیں رو شنی سے ہم
 کب تک نبھائیں ایسے غلط ادمی سے ہم
 قسمت کو کوستے ہیں بڑی بے بسی  سے ہم
۔۔۔۔۔۔۔
جس سے شعور ذات کی ہم کو ملی نوید 
ڈرتے رہے سدا ہی اسی اگہی سے ہم 
 اس کو تو ایک خوبرو چہرے کی آس تھی
 بس مات کھا گئے ہیں اسی اک کمی سے ہم
 زخموں کا میرے کوئی نہیں رہ گیا علاج
 دل کو لہو جو کر رہے ہیں شاعری سے ہم
۔۔۔۔۔۔۔
مل گیا مجھ کو اک سرا میرا 
 شخص کوئی ہے ہم نوا میرا 
 ٹوٹ بیٹھا جو سلسلہ میرا 
اس نے توڑا ہے ضابطہ میرا
 اس سے ملنے کی دل میں چاہت تھی
 دیکھتا تھا جو راستہ میرا
۔۔۔۔۔۔۔
کیسے دریا کو پار کرنا ہے 
مجھ سے پوچھے ہے حوصلہ میرا
۔۔۔۔۔
روز انے کا عہد کرتا ہے 
 اور بہانے سے ٹالتا ہے کوئی
۔۔۔۔۔۔
اے بحر جفا دیکھی ہے طغیانی بھی تیری 
طوفان سے ہوتا نہیں نقصان ہمارا
۔۔۔۔۔
 جو کچھ دل میں چھپایا جا رہا ہے
 اشاروں سے بتایا جا رہا ہے
یہ کس سے دل لگایا جا رہا ہے 
 کسے اپنا بنایا جا رہا ہے
نہیں ہے اصل میں منظر وہ ایسا 
ہمیں جیسا دکھایا جا رہا ہے 
۔۔۔۔۔۔۔۔
جس طرف دیکھیے ہے اہ و بکا 
 میں جہاں ہوں وہ کربلا تو نہیں 
۔۔۔۔۔۔
تیری بے رخی بھی ہے بے مثل ٹھہری 
 تیری کج ادائی کے چرچے بہت ہیں
۔۔۔۔۔۔
ہاتھ میں ٹھہرا ہوا لمحہ بکھر جائے گا 
 وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا 
پھر تسلسل میری سوچوں کا بکھر جائے گا 
وہ تصور میں میرے ساتھ ہی مر جائے گا 
جس کی خاطر ہے کیا میں نے سفر صدیوں کا 
کیا میرے واسطے کچھ پل وہ ٹھہر جائے گا 
پھر جدائی کے اسی خوف نے آ گھیرا ہے
 اب کسی طور بھی اس دل سے نہ ڈر جائے گا 
ما سوا میرے کوئی اور کہاں ہے اس کا 
مجھ سے روٹھا بھی کسی دن تو کدھر جائے گا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھول پر پہرا لگا ہے خار کا 
حال مت پوچھو دل بیزار کا 
مجھ کو میرے دل نے بتلایا کہ می تشنہ لب ہوں شربت دیدار کا
۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔
جی
                  ۔۔۔۔۔۔۔
دعاگو
ممتازملک
پیرس فرانس 
اردو پنجابی زبانوں کی شاعرہ ، کالمنگار، ادیبہ، نعت خواں، نعت گو، کوٹیشنز رائٹر، کہانی کار،  افسانہ نگار، ٹک ٹاکر۔ بلاگر

بدھ، 9 اکتوبر، 2024

اشتیاق عالم کی کتاب قندیل پر تبصرہ

 اشتیاق عالم کا اردو مجموعہ کلام 
قندیل

اشتیاق عالم صاحب ہندوستان کے  ایک ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر ہیں جنکا پہلا مجموعہ کلام قندیل آج ہمارے ہاتھ میں ہے۔
 ان کا کلام پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کو اپنی چھوٹی سی عمر میں بھی کتنی گہرائی میں دیکھتے ہیں۔ اس زندگی کو دیکھنے کے لیئے ان کا اپنا ایک نظریہ ہے ، اپنی ایک سوچ ہے، انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ اسے اپنے پیمانے پر کس طرح سے جانچیں گے۔ وہ بہت صاف گوئی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور اس پر دسترس بھی رکھتے ہیں ۔
جیسے ایک جگہ وہ فرماتے ہیں
 بے حیائی کے قصیدے پڑھ رہی ہیں تتلیاں
 برسر گلشن ہے آنکھوں سے حیا روٹھی ہوئی
 بد سلوکی کر رہے ہیں بچے اب ماں باپ سے
 ہے دعا سے یوں بھی تاثیر دعا روٹھی ہوئی
اسی کلام میں وہ ایک اور جگہ فرماتے ہیں 
کہہ دیا تھا حال غم میں نے امیر شہر سے
 اس خطا پر مجھ سے ہے میری انا روٹھی ہوئی
 راستوں کی بھیڑ میں کھویا ہوا ہوں آج بھی 
منزل مقصد ہے مجھ سے رہنما روٹھی ہوئی
 ان کی کلام کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف جسمانی طور پر جس دکھ اور تکلیف کو یا خوشی کو سہتے ہیں، روحانی طور پر ان جذبات کے بارے میں اسی گہرائی سے سوچتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ جیسا کہ
 خون بہتا ہے دیدہ تر سے
 زخم جب لب کشائی کرتے ہیں
 جب زباں کھولتا ہوں میں اپنی
 سب کے سب لب کشائی کرتے ہیں 
چپ ہیں اہل ادب تو محفل میں
 بے ادب لب کشائی کرتے ہیں
 ان کا انداز گفتگو ہے غضب
 وہ غضب لب کشائی کرتے ہیں
 کیئے بیٹھے تھے جو زبانیں بند
 وہ بھی اب لب کشائی کرتے ہیں
 اسی طرح سے ان کے ایک اور کلام پر نگاہ ڈالیئے تو آپ کو چھوٹی بحر کے علاوہ بڑی بحر میں بھی بہت ہی خوبصورت اشعار پڑھنے کو ملتے ہیں۔ جیسے کہ
 حقیقتوں کو جو کر رہے تھے رقم لہو سے رنگے ہوئے ہیں
 لہو سے تحریر تربتر ہے قلم لہو سے رنگے ہوئے ہیں
 اسی طرح آگے فرماتے ہیں کہ
 محافظوں کے حوالے کر کے مکان اپنا جو سو رہے تھے
 وہ لٹ چکے ہیں وہ رو رہے ہیں حرم لہو سے رنگے ہوئے ہیں
 قبیلے والوں کو کیا ہوا ہے سمجھ رہے ہیں اسی قائد
 قیادتوں کے جنوں میں جس کے قدم لہو سے رنگے ہوئے ہیں
 ان کے بہت سے اشعار آپ کو بہت خوبصورت شعراء کرام کے کلام کی یاد دلائیں گے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں
 ہو تناور لاکھ لیکن سر بسر خطرے میں ہے
 چل رہی ہے تیز آندھی ہر شجر خطرے میں ہے
 اب ہوائیں موت کا فرمان لے کر آگئیں 
 ہر نگر کو اب ہے خطرہ ہر نگر خطرے میں ہے 
آسماں پر اڑنے والے اب زمیں پر لوٹ آ 
  تو ہے خطرے میں تیرا ذوق سفر خطرے میں ہے
 ہر طرف چھائی ہوئی ہے تیرگی اس وقت تو
 کچھ نظر آتا نہیں شاید نظر خطرے میں ہے
 اسی طرح سے ان کے اگے کے چند اشعار  آپ حوالے کے لیئے ملاحظہ فرمائیں اور ان کو ان کی اس کتاب "قندیل" میں ڈھونڈ کر پڑھیئے۔ آپ بہت لطف لیں گے ۔
سو بار ستم توڑے گئے ہیں میرے دل
 پر سو بار میرے دل پہ ستم ٹوٹ چکے ہیں
 پینے کا پلانے کا زمانہ وہ نہیں اب 
پینے کے پلانے کے بھرم ٹوٹ چکے ہیں
 ایک اور کلام ملاحظہ فرمائیے
 مشکل نکلنا جس سے ہے ایسا ہے جال موت 
جس میں کسی شکار کی مرضی نہیں چلی 
سیلاب چشم تر سے یہ روکا نہ جا سکا 
اشکوں پہ آپشار کی مرضی نہیں چلی
گویا کہ ان کا کلام اپ کو اردو ادب کی دنیا میں ایک خوبصورت اضافہ دکھائی دیتا ہے میری بہت سی دعائیں اور نیک خواہشات اشتیاق عالم کے لیئے۔
دعاگو:
 ممتازملک
 پیرس فرانس
  شاعرہ ،کالم نگار، نعت خواں، نعت گو، افسانہ نگار ، کہانی کار، عالمی نظامت کار۔
بانی و صدر ادبی تنظیم
" راہ ادب فرانس" 
ڈائیریکٹر فرانس،
 گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی
Mumtazmalik222@gmail.com

پیر، 2 ستمبر، 2024

تبصرہ ۔ بشری فرخ ۔ اور وہ چلا گیا ۔ اشاعت 2024ء



کتاب۔ اور وہ چلا گیا 
شاعرہ۔ ممتازملک
تبصرہ۔ بشری فرخ صاحبہ




اس نیلے اسمان کی چھتری کے نیچے ایک وسیع و عریض کائنات اپنی لامحدود روشنیوں اور تاریکیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے اور اس کائنات آب و گل کا انمول ترین نگینہ بشر ہے ۔ جو اپنے اندر عجائبات کی ایک دنیا سموئے ہوئے ہے۔ یہ بشر جب اس آخرت کی کھیتی پر قدم رکھتا ہے تو اس جہان رنگ و بو کی کسی نہ کسی شے کی جستجو میں ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس بشر کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بدرجہ اتم ودیعت کی گئی ہے اور اسی بنا پر اللہ جل شانہ نے اسے اشرف المخلوقات کے خطاب سے نوازا اور زمین پر اپنا خلیفہ مقرر فرمایا۔
 یہی تلاش و جستجو جب اظہار کی متقاضی ہوئی تو انسان نے اپنے لیئے نت نئی راہیں استوار کیں کہ جن کے ذریعے باقی دنیا تک اپنا پیغام پہنچا سکے۔ کبھی ایجادات، کبھی دریافت، کبھی مصوری، کبھی موسیقی کی صورت اور جب جذبات و احساسات کی بات ہوئی تو قلم کا سہارا لے کر نثر اور شاعری کی بنیاد رکھ ڈالی۔ وطن عزیز میں اگر شاعری کی بات کی جائے تو ان 75 سالوں میں بہت بڑے بڑے نام ابھر کر سامنے ائے ہیں۔
 لیکن زیادہ تر حضرات کے۔ خواتین کا حصہ اس لیے کم کم رہا۔ کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کا شاعری کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس لیئے شروع شروع میں خواتین مردانہ ناموں سے لکھتی تھیں۔  آہستہ آہستہ  معاشرے میں شعور بیدار ہونا شروع ہوا تو بہت ساری اہل قلم خواتین سامنے آتی چلی گئیں اور اج ادا جعفری سے لے کر کشور ناہید تک اور پروین شاکر سے لے کر شبنم شکیل تک آسمان ادب پر ستارے بن کر جگمگا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی اپنی منفرد شاعری سے اپنا مقام بنا رہی ہیں۔
 ممتاز ملک کا شمار بھی ایسی ہی شاعرات میں ہوتا ہے جو علم و ادب سے والہانہ لگاؤ کے سبب شعر و سخن سے وابستہ ہیں اور اپنی منفرد پہچان بنا رہے ہیں ۔ 
سامعین کرام شاعری کی کوئی صنف بھی ہو اس میں اگر شاعر کے گہرے اور سچے جذبات کار فرما نہ ہوں تو شعر دل کی گہرائیوں میں نہیں اتر سکتا ۔
ممتاز کا اپنا اسلوب اور اظہار خیال اپنا پیرایہ ہے۔ ان کا مطالعہ اور مشاہدہ گہرائی اور گہرائی لیے ہوئے ہے۔ انہوں نے اپنے نہاں خانہ احساس سے ابھرنے والے دلکش اور عمیق خیالات کو سلیقے اور کرینے سے نفاست کے ساتھ قلم بند کیا۔ ان کی شاعری ان کے وسیع تجربے اور تیز مشاہدے کا نچوڑ ہے۔ جس میں سلیس زبان اور سادہ الفاظ کی انتخاب میں ایک خاص روانی پیدا کر دی ہے۔ زندگی کی تمام تر تلخیوں حقیقت زمانے کی بے مروتی عداوت نفرت اخلاقی اقدار کی پامالی غرض کہ زمانے کے تمام منفی رویوں نے ان کے قلم کو روانی عطا کی ہے۔ انہوں نے اپنے ارد گرد جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا اسے اس کے اصل روپ میں اپنے قاری کے سامنے رکھ دیا  کیونکہ ممتاز اپنی عملی زندگی میں بھی ایک بے باک،  صاف کو اور کھری انسان ہیں۔ اس لیئے ان کی شاعری بھی رنگ آمیزی کا عمل دخل نہیں ہے۔
 اپنے وطن سے دور پیرس میں بسنے والی اس شاعرہ کی شاعری میں اپنی دھرتی ماں سے محبت کی مہک، انسانیت کے دکھ ، معاشرتی مسائل اور وطن سے محبت کے ساتھ ساتھ ایک سچا مسلمان ہونے کے ناطے اپنے رب اور محبوب رب کی محبت میں غرق ممتاز ملک کا کلام
" اور وہ چلا گیا" یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان کا آخری پڑاؤ نہیں ہے۔ 
ان کے چند منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں
 ساری دنیا کو لے کے کیا کرنا
 صرف میرا میرے خدا ہو جا

 جب بھی سجدے میں سر جھکے تو لگے
 جنتوں کی کسی قطار میں ہوں

 یہ بگولوں نے دی خبر ہم کو
 دل کے صحرا میں رقص جاری ہے
 کھردری کھردری اداسی ہے 
مخملی مخملی خماری ہے

 اس نے لفظوں کا صور پھونکا ہے
 اب سنبھلنا تو اضطراری ہے

 بخت والوں کو ملا کرتا ہے آب شیریں
 میٹھے چشموں کا بھی پانی ہوا کھاری ہم پہ

 ممتاز مجھ پہ جانے پتھر کہاں سے برسے 
احساس کے شہر کا لہجہ تو ریشمی ہے 

خود کو دھوکے میں نہ رکھنا ہی سمجھداری ہے
 ساتھ کیا دیں گے نظر مجھ سے چرانے والے

یہی نہیں بلکہ انہیں اس سے بہت آگے جانا ہے۔
ممتاز ملک کو مبارکباد اور بہت ساری دعاؤں کے ساتھ
 بشری فرخ
(پرائیڈ اف پرفارمنس)
 چیئر پرسن 
کاروان حوا لٹریری فورم 
پشاور پاکستان



پیر، 26 اگست، 2024

تبصرہ ۔ زرقا نسیم کی شاعری پر



زرقا نسیم لاہور میں رہتی ہیں۔ ایک ایسی شاعرہ جس کے کلام میں اسکے مشاہدات، اس کے تجربات اور اس کی دوسروں سے متعلق نیک خواہشات بولتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
 کہیں وہ کہتی ہیں
 وہ بھی جو میرا ذہن  تصور نہ کر سکا آنکھوں سے اپنی ہوتا ہوا میں نے دیکھا ہے

 وہ اپنی زندگی کے بہت سے صدمات کو لفظوں میں سمیٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ جس کا اظہار کچھ یوں کرتی ہیں۔

 مت پوچھیے گزرتی ہے کیا دل پہ ہم نشیں
 ہوتے ہوئے کسی کو جدا میں نے دیکھا ہے

 زرقا نسیم کی شاعری ان کے دل سے نکلی ہوئی  ایسی آواز سنائی دیتی ہے جو سننے والے کو خود پہ گزرے ہوئے حالات پر ادراک دیتی ہے۔
 زندگی میں اپنے جیون ساتھی کے بہت جلد بچھڑ جانے کے دکھ کو وہ چاہیں بھی تو اکثر چھپا نہیں پاتیں۔
 دنیا کی بے ثباتی، حالات کی شتم ظریفی اور پھر اپنے ایک مخلص پیار کرنے والے جیون ساتھی سے جدائی ان کی تحریروں میں جا بجا سنائی دیتی ہے۔ جیسے کہ
 میری حرمت کا امانت دار ہوتا تھا کوئی
 میرے گھر کی چھت میری دیوار ہوتا تھا کوئی
یا پھر یہاں دیکھیئے

 وہ ہنس کے سارے رنج و غم اٹھاتا تھا
 میری خود داری کا اہل کار ہوتا تھا کوئی

  ایسے ہی اور بہت سے اشعار جو ان کے درد دل کو بیان کرتے ہیں۔
 ان کی روح میں سمائے ہوئے اس کرب کو بیان کرتے ہیں جو انہیں جا بجا زندگی میں کہیں اپنوں سے ملے اور کہیں اپنے جیسوں سے۔ اگر میں یہ کہوں کہ ان کا وہ کلام جو میری نظر سے گزرا اس میں زیادہ تر حصہ اس کلام کا تھا جو انہوں نے اپنے جیون ساتھی کے نام کیا۔
 اس کے ساتھ بیتے ہوئے اچھے لمحات کو بار بار یاد کیا اور اس کے بعد گزری ہوئی تنہائی اور درد کو بیان کرتے ہوئے شاید اس درد کو اپنے اوپر بار بار گزرتے ہوئے محسوس کیا تو حلط نہ ہو گا۔
 جیسے کہ تم جو ملتے تھے مہک اٹھتی تھی میں
 رات کی رانی بھی رانی تم سے تھی
یا پھر اس میں ملاحظہ فرمائیں 

 میری سوچوں کا فقط مرکز سے تم
 میرے اس دل کی کہانی تم سے تھی

 زرقا نسیم نہ صرف ایک بہت اچھی شاعرہ ہیں بلکہ بہت اچھی دوست ہیں ۔ مہمان نواز ہیں۔ اپنے بچوں کی ایک اچھی ماں ہیں۔ جنہوں نے انہیں بہترین تربیت کرنے کی ہر ممکن سعی کی اور اپنے بچوں کی کامیابی کی صورت اس کا پھل آج ان کے سامنے   ہے ۔
میری بہت سی دعائیں زرقا نسیم کے لیئے۔ اللہ تعالی ان کی اس کتاب کو بہت پذیرائی عطا فرمائے اور انہیں دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین 

ممتازملک۔پیرس فرانس 
 ( شاعرہ۔ کالمنگار نعت خواں۔ نعت گو۔افسانہ نگار۔ کہانی کار۔ عالمی نظامت کار)

اتوار، 28 جولائی، 2024

* تبصرہ ۔ رشید شیخ ۔ اور وہ چلا گیا




کیا شاعرہ، کیا ناظمہ!

محترمہ ممتاز ملک اردو ادب کے افق پر وہ درخشندہ ستارہ ہیں جس نے عالمی آن لائن مشاعروں میں نظامت کے جوہر دکھا کر عالمی شہرت کی بلندیوں کو  چھو لیا ہے۔
عالمی آن لائن مشاعروں کا سلسلہ COVID-19 کے زمانہ میں شروع ہوا ۔ کیونکہ اس زمانے میں ہر ملک میں اجتماعات منعقد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ظاہر ہے زمینی مشاعروں کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیا ۔البتہ اسکا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اردو کے متوالوں نے آن لائن مشاعروں کی سبیل ڈھونڈ نکالی جس کے ذریعہ
نہ صرف عالمی سطح پر ایک دوسرے سے تعارف ہونا شروع ہوا بلکہ اردو شاعری کو بھی ترسیل و ترویج اور مقبولیت حاصل ہوئی ۔
اسی زمانے سے گلوبل رائیٹر ایسوسی ایشن، اٹلی، بزم سخن شکاگو، اور دائرہ ادب نیویارک وغیرہ شعر و سخن کے اس میدان میں بہت سر گرم عمل ہیں۔
گلوبل رائیٹر ایسوسی ایشن اٹلی کے ایک عالمی آن لائن مشاعرہ میں نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے محترمہ ممتاز ملک سے تعارف حاصل ہوا اور بہت محظوظ و متاثر ہوا۔  آپ غضب کی نظامت فرما تی  ہیں ۔ اللہ کرے زور نظامت اور زیادہ!
یہی نہیں بلکہ یہ بھی پتہ چلا کہ آپ شاعری بھی فرماتی ہیں اور بہت عمدہ  شاعرہ ہیں جب انہوں نے مشاعرہ کے دوران اپنے کلام سے محظوظ کیا۔یہ خوبصورت لہن میں سلاست و روانی کے ساتھ دل موہ لینے والی شاعری ہے۔واہ! واہ! واہ! انکا نظامت کے دوران چٹکلے اور خوش گپیاں کرنا مشاعرہ میں جو شگفتگی پیدا کرتا ہے اس سے کوئی بھی محظوظ ہونے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہرشاعروشاعرہ کو پر وقار طریقہ سے مختصر تعارف کے ساتھ دعوت کلام دینا انکی نظامت کی فنی صلاحیت کا آئینہ دار ہے۔ اسی طرح وہ مشاعرہ کو اختتام تک چا بکدستی سے دلچسپ اورپرامن رکھتی ہیں۔
حال ہی میں انکا ایک مجموعہ کلام بعنوان" اور وہ چلا گیا" اشاعت کے لئے پرتول رہا ہے۔ جس کے لئے محترمہ نے مجھے بھی اظہار  خیال کا موقع مرحمت فرمایا ہے۔ من آنم کہ چہ دانم! تاہم مجموعہ کلام کا بنظر غائر مطالعہ کرنے سے لگا کہ واقعی ایں گل گلاب است!
اپنی نوعیت کا منفرد کلام ہےجو سماج کے ہر طبقہ فکر کی عکاسی کرتا ہے ۔
 یہ مجموعہ کلام نوے منظومات پر مشتمل ہے۔ ہر نظم باقاعدہ ایک عنوان کے تحت لکھی گئی ہے۔ جو تفصیلا اس عنوان کی پیروی کرتا نظر آتا ہے۔ ذیل میں چند  نظمیں بمعہ عنوان اور منتخبہ اشعار کے ملاحظہ فرمائیں:-
پتھر کا شہر: 
اب کوئی دھوپ نہ پگھلائے گی پندار میرا
میں نے اک چاند کو جو اپنے سر پر تان لیا

اس نے سونے کو بھی صحرائوں میں رولا جاکر
ہم نے بھی ریت سے سونے کو مگر  چھان لیا

ایک اور نظم عنوان" جاری ہم پہ"
ہے فسوں اس کا بڑی دیر سے طاری ہم پہ 
حکم الطاف ہوا کرتا ہے جاری ہم پہ 
 بخت والوں کو ملا کرتا ہے آب شیریں
میٹھے چشموں کا بھی پانی ہوا کھارا ہم پہ

نظم " ساتھ نبھانے والے"
اب کہاں ملتے ہیں وہ ساتھ  نبھانے والے 
میرے ہاتھوں میں چھپے راز بتانے والے
ہم تو ممتاز سمجھتے ہیں اسی کو ہیرو
ڈوبنے والے کو ہر طور بچانے والے

اسی طرح اور بہت سی نظمیں ہیں جو دلچسپی سے خالی نہیں ۔ مثلاً دیئے بجھنے لگے، میرے بغیر، غضب داستان، جاں بلب، جلتےہیں، سرکار وطن میں ،
ڈھم ڈھما ڈھم، وغیرہ وغیرہ 
جہاں تک فنی تقاضوں کامعاملہ ہے۔ آپکا کلام علم عروض سے آراستہ ہے۔ اور تمام منظومات غزل کے پیرائے میں لکھی گئی ہیں۔ یعنی ہر شعر ہم قافیہ اور ہم ردیف ہے۔ اس طرح غزل گوئی کے فن کو نظم کے رنگ میں سمویا گیا ہے۔جو ایک دلچسپ انداز لگتا ہے۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ۔ توقع کرتا ہوں کہ محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کے مجموعہ کلام " اور وہ  چلا گیا" کو ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل ہوگی۔
رشید شیخ شکاگو ، 
صدر بزم سخن شکاگو

بدھ، 24 جولائی، 2024

تبصرہ ۔ رحمان امجد مراد ۔ اور وہ چلا گیا ۔ اشاعت 2024ء



تبصرہ: رحمان امجد مراد سیالکوٹ 
لکھاری۔  40 کتب

شعر اور فرد کے مابین استوار ہونے والے رشتوں میں سب سے واضح اور معتبر رشتہ "لاشعور" کی سطح پر قائم ہوا کرتا ہے۔ شعری زبان اور ہیئت (form) کی تفہیم فوری طور پر "شعور" کی مرہون منت ہی سہی لیکن متن( text) کی(application) ہمیشہ "لاشعور" بلکہ اگر صحیح اصطلاح اپنائی جائے تو "اجتماعی لاشعور " کے وسیع و عریض علاقے پر ہوتی ہے ۔ یوں بھی جدید نفسیات کے مطابق افہام کی اصل سطح "اجتماعی لاشعور" کی انہی یادداشتوں سے عبارت ہے۔  تخلیق سے اظہار تک کے تمام مراحل سہل نہیں ۔ نہ جانے کتنے ہی ہفت خواں سر کرنے کے بعد شاعر اس اقلیم سخن تک رسا ہوتا ہے
 جہاں اسے لفظ کا اصل فطری لحن نصیب ہوتا ہے اور بقول غالب~
 بے نشہ کس کو طاقت آشوب آگہی
 بہرحال سخن کے حوالے سے کام پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ (اگرچہ نہ ہونے کے برابر صحیح ) اور آج بھی اس سلسلے میں انفرادی سطح پر بہت سے لوگ مصروف کار ہیں۔ آج اس قبیلے کی ایک فرد سے آپکو ملوانا چاہتا ہوں۔ اس کے کہے ہوئے شعروں میں، اس کے برتے ہوئے لفظوں میں، دھیما سا سہی لیکن ایک نیا ذائقہ آپ کو ضرور ملے گا۔
 >ساری دنیا کو لے کے کیا کرنا
 صرف میرا، میرے خدا ہو جا

>جب سے چوما ہے میں نے صحن حرم
 بے قراری سے میں قرار میں ہوں
 محترمہ ممتاز ملک کی ذات اور شاعری میں جو باتیں مشترک ہیں اور ان میں سب سے اہم بات کسی اور کو اپنا گرویدہ بنانے کی خصوصیت ہے۔ جس طرح محترمہ ممتاز ملک سے ملنے والا شخص ان سے متاثر ہوتا ہے بلکہ دوسری تیسری ملاقات میں ان کے گنوں کو پوری طرح جان جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح ان کی شاعری فوری طور پر ذہنوں پر حاوی ہو کر اپنی موجودگی کا اظہار کرتی ہے۔ ( یہ میرا خیال ہے) آئیے محترمہ ممتاز ملک کے آئینے کے سامنے کچھ وقت گزارتے ہیں۔۔۔
* ہم نہ آتے جو یہاں کون بتاتا ہم کو
 کس کی اوقات ہے کیا آ کے یہاں جان لیا 

*کھردری کھردری اداسی ہے
 مخملی مخملی خماری ہے 

*ساری دنیا کی اذیت سے تقابل کرتے
 اس کا ہر لفظ جہاں بھر سے تھا بھاری ہم

* محرومیوں کا درد یا احساس کی کمی ہے
 سوچوں کے آئینوں پر اک گرد سی جمی ہے 

*دھڑکنیں ہو گئیں ساقط تیرے جاتے جاتے
 کس طرح تجھ کو میری جان بھلائیں گے ہم

* اگر ہر شعر کو اکائی سمجھا جائے تو اس کتاب میں شامل اکثر غزلیں ایک بالغ نظر حساس شخصیت کی زندگی میں لمحہ لمحہ رنگ بدلتی رتوں اور تیور بدلتے رشتوں کی رپوتاژ بھی کہلا سکتی ہیں دراصل ۔۔۔۔۔ 
سچا تخلیق کار وہی ہوتا ہے جو اپنی داخلی واردات کے ساتھ ساتھ خارجی معاملات و مشاہدات کو بھی پیرایئہ اظہار دینے کا ہنر رکھتا ہو۔
محترمہ ممتاز ملک پر یہ نقطہ یقینا منکشف ہو چکا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں مذکورہ بالا دونوں جہتیں موجود ہیں اور لطف یہ کہ تمام تر فنی باریکیوں کے ساتھ ۔۔
چند مثالیں ملاحظہ ہوں ۔۔۔
*میرے ہاتھوں میں چھپے راز بتانے والے
 اب کہاں ملتے ہیں وہ ساتھ نبھانے والے

 *ہرگز یہ سمجھنا یہاں دشوار نہیں ہے
 اس ملک سے کوئی بھی وفادار نہیں ہے

* گھلی ہیں سسکیاں ہر ایک لے میں 
 یہی اس گیت کا رنگ طرب ہے

* کیا خوشی کبھی تذکرہ کرتا
 یہ تو پہلو میں غم کی سوتی ہے 

* لب پہ نغمے وصال کے لیکن
 آنکھ میں ہے جدائی کا موسم

 اس کتاب کی بیشتر غزلوں میں شاعرہ کی ٹریٹمنٹ میں نہایت سادگی نظر آئے گی۔ اس کی زبان میں محاورے سے زیادہ روزمرہ کا لہجہ استعمال ہوتا ہے۔  محترمہ ممتاز ملک اور لفظوں کے درمیان بڑی بے تکلفی ہے اور یہ بڑی اہم چیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ہاں جیتی جاگتی اور سانس لیتی زندگی دکھائی دیتی ہے۔
* وہ بھی تجھ کو بچا نہیں سکتے 
جی اٹھے ہیں جو تیرے آنے پر

* گر بجھا سکتے نہیں، اچھا ہے تم دور رہو 
مت بھڑکتے ہوئے، شعلوں کو ہوا دو جا کر

* بہت قابل جسے مانا جہاں نے
 ناکارہ کر کے چھوڑا ہے کسی نے

* دبا کے درد کو مسکان کوئی کم تو نہیں 
اسے اسی میں تو بے حد کمال گزرا ہے 

*نظروں سے لوگ پوچھتے ہیں سجتا دیکھ کر 
کس کو سنگھار اپنا دکھائیں تیرے بغیر

* لب نہ کہہ پائیں وہ آنکھوں سے عیاں ہوتی ہے
 ہر محبت میں عقیدت یہ کہاں ہوتی ہے
 ہم نے محسوس کیا خود کو بھی بے بس اس جاء
 والہانہ سی یہ زنجیر جہاں ہوتی ہے

* جب ضرورت ہو مجھے یاد بھی کر لیتا ہے
 بن ضرورت کے نہیں وقت گنوانے والا 

* معاملہ اتنا بھی آسان نہیں ہے صاحب
 جتنے انسان نے آسان سمجھ رکھا ہے

* ہم زندگی کی بھیڑ میں گم کس قدر ہوئے 
کھینچا ہے واپسی نے بھی فرمان کی طرح

* جو کچھ گزر رہی ہے اس سے نظر چرا کر
 کچھ اور ہی دکھانا , آسان نہیں ہوتا 

*زندگی میں سکون رہنے دو
 تھوڑا تھوڑا جنون رہنے دو 
ہو چکا ہے جو رب کی رحمت سے 
تم بھی اس کو ملعون رہنے دو

 زندگی کی کڑوی اور سنگین حقیقتوں کی نقاب کشائی محترمہ ممتاز ملک کے مزاج کا حصہ ہے۔ وہ تخیل پرست نہیں بلکہ جو کچھ اپنے سامنے دیکھتی ہے اس کو اپنے شعر کا موضوع بناتی ہے۔  خارجی حالات کو دیکھ کر جو باتیں اس کے ذہن میں آتی ہیں۔ انہی کی تفصیل اور جزئیات کو پیش کرتی ہیں۔ اس کی شاعری میں عذاب زیست کے سارے باب کھلے نظر آتے ہیں۔  محترمہ ممتاز ملک جذبوں کا جوڈو کھیلنا جانتی ہیں ۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں زندگی کی بڑی بڑی حقیقتوں کو بیان کر جاتی ہیں۔ دراصل اس نے چھوٹی باتوں میں ہی زندگی کی حقیقتوں کو دیکھا ہے ۔ اس لیے وہ ہر اس چیز کو ٹٹولتی ہے جس پر ہاتھ ڈالنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ فنی اعتبار سے وہ اپنا جواب آپ ہے۔۔۔ وہ حساس اور بے باک ہونے کے ساتھ ساتھ غیور بھی ہے۔ اس کے شعری سٹائل میں سادگی اور پرکاری کے ساتھ تیکھا پن اور نوک پلک کی درستی بڑی مٹھاس کے ساتھ بھری ہوئی ہے۔ وہ دو مصروں میں بے تکلفی کے ساتھ سارے گن ظاہر کر دیتی ہے۔ وہ شعر بازوں اور شعر گروں سے الگ تھلگ رہ کر اپنے فیصلے صادر کرنے کی عادی ہے۔ اس لیے وہ اکثر فیصلے درست کرتی ہے۔ وہ بڑی سے بڑی ٹریجڈی کو سہولت کے ساتھ ایک شعر میں بیان کر سکتی ہے۔ اس کی شاعری مخملی ملائم کے ساتھ کلف کیئے ہوئے کاٹن کی طرح کھنک اور اینٹھتی ہوئی اکڑ بھی موجود ہے۔
" اور وہ چلا گیا"  کا عنوان ہی اپنے اندر بے پناہ درد اور معنویت رکھتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر یہ مصرع جس شعر یا غزل سے لیا گیا ہے۔ اس کا موڈ کیا ہے ۔ ہمارے نزدیک ہر مصر ایک الگ اور آزاد بلاز کی حیثیت رکھتا ہے، اور ایک اکائی کی حیثیت سے ہر مصرع شاعرہ کی مکمل تحلیل نفسی کا تقاضا کرتا نظر آتا ہے۔ کم از کم میرا تو یہی خیال ہے۔ آپ بھی اس کتاب کے ٹائٹل کو کچھ وقت الگ سے ضرور دیں۔
 محترمہ ممتاز ملک کے بقول~

ہم کو بھی سانس لینے کو، تازہ ہوا ملے 
گل سے گلوں سے، ہم کو لگاوٹ نصیب ہو
 میں محترمہ ممتاز ملک کو ان کے پابچویں  اردو شعری مجموعہ کلام " اور وہ چلا گیا "
کی تخلیق پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں 
" اللہ کرے زور قلم اور زیادہ"
 دعاگو 
رحمان امجد مراد
 بانی اور چیئرمین کرائیڈن اکیڈمی سیالکوٹ 
0321.6151642

منگل، 16 جولائی، 2024

تبصرہ ۔ فیاض وردگ ۔ کویت


ممتازملک کے کلام 
نینوں کے در وا جو کر دے
پر کویت سے معروف شاعر فیاض وردگ صاحب کا خوبصورت تبصرہ
                      ۔۔۔۔۔۔

واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ بہت خوب زبردست یہی دل کی گہرائیوں سے دل کی دھڑکنوں کی صدا ھے اسی شاعری کا دیوانہ ھوں یہی شاعری نزول کی شاعری ھے یہی شاعری داخلی کشمکش کی آواز ھے جو نینوں کو گویائی دیتی ھے آبرو کو رومز عشق کا درس دیتی ھے جس کے دھڑکنے سے موسیقی کی لہریں ابھرتی ہیں آبشار نغموں کی وادیوں میں لے جا کر سحرانگیزی  کردیتی ھے ساز اور آواز کی سنگت سے دلوں کو فتح کرتی ھے سماعتوں میں شہد گھولتی ھے نینوں کو مخمور کر دیتی ھے تن بدن میں سلگتی ھوئی آگ کو 
 🔥 شعلوں میں بدل دیتی ھے اور انگڑائیوں کو رقص کا ہنر سکھاتی ھے ۔۔اسی طرز کوجاری رکھیئے ۔
میری شام کو سحر انگیز کرنے کے لئے شکریہ حضور سلامتی
                       ۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 15 جون، 2024

حکیم محمد ناز جلالوی کی کتاب رنگ دے سائیاں پڑھ تبصرہ۔ تبصرہ

پنجابی شاعری دے وچ ویسے تے کم ہو ہی رہا اے ، پر حکیم ناز جلالی دے مجموعے رنگ دے سائیاں پڑھ کے خوشی ہوئی کہ شاعری دی صنف صوفیانہ کلام تے کافیاں لکھن دے لئی اک ہور ناں پکے پیراں دے نال سامنے آ ریا اے۔  ایس کتاب وچ انہاں نے اپنے کلام نوں ہر مضمون نوں بہت اچھے طریقے نال بیان کیتا اے۔  کلام پڑھن تو بعد تہانوں اندازہ ہوندا اے کہ ایہہ صنف بے شک گھٹ شاعرہ دے حصے وچ آئی اے  لیکن ہن وی ایس صنف دی محبت حکیم محمد ناز جلالوی جیسے شاعراں دی شاعری دی صورت اللہ دی عطا بن کے اتر رئی اے۔ 
میریاں بہت ساریاں دعاواں ایس کافیاں تے صوفیانہ کلام دے شاعر دے لئی۔
ممتازملک۔ پیرس فرانس
(شاعرہ ۔ کالمنگار۔ لکھاری۔ نعت گو، نعت خواں ۔ نظامت کار)

ہفتہ، 30 مارچ، 2024

تبصرہ برائے بیباک ڈیروی ۔ تبصرہ

تبصرہ برائے
بیباک ڈیروی
ڈی جی خان

ملک محمد ظریف تخلص بے باک ڈیروی اس شاعر کا نام ہے، جنہوں نے پنجاب کے علاقے ڈیرہ غازی خان کا نام اردو اور سرائیکی شاعری میں بلند کرنے کی ٹھانی ۔   مزاحیہ شاعری اور نثر کے ذریعے اپنے لکھنے کے شوق کو نکھارا ۔
 ان کی دو کتابیں اب تک منظر عام پر آ چکی ہیں اور پذیرائی پا چکی ہیں۔ ان دونوں کتابوں کا زیادہ تر مواد مزاحیہ شاعری پر مشتمل ہے۔ وہ مسائل کو ہلکے پھلکے انداز میں لے کر آگے چلتے ہیں اور گھریلو معاملات اور پریشانیوں کو ہلکے پھلکے پیرائے میں بیان کرنا خوب جانتے ہیں۔ ان کی کامیابی کے لیے میری بہت سی دعائیں 
ممتاز ملک
 پیرس فرانس
( شاعرہ  کالمنگار نعت خواں۔ نعت گو۔ نظامت کار)

جمعرات، 16 نومبر، 2023

جشن ممتازملک ۔ رپورٹ ۔حصہ اول

15 اکتوبر 2023ء

آج میری زندگی میں میرے نام کا پہلا جشن منعقد کیا گیا ۔ جس کا سہرا گلوبل رائیٹرز ایسوسی ایشن اٹلی اور بزم اصحاب قلم بدایوں بھارت کے سر رہا ۔ جس کی سرپرست اعلی محترمہ زیب النساء زیبی صاحبہ ، منتظم اعلی جناب چوہدری محمد نواز گلیانہ صاحب اور ڈاکٹر کمال اختر صاحب ،جناب ہدایت بدایونی 
آج محفل سجی ممتاز کی
آؤ باتیں کریں ان کے اعزاز کی
اپنے فن میں یہ ممتاز ہیں، کیا کہیں
ان کے اعلی نظامت کے انداز کی
دے رہے ہیں ہدایت انہں یہ دعا
دنیا چرچہ کرے ان کے پرواز کی
ہدایت بدایونی
               -------

[15/11, 20:15] +92 301 8202113: جشنِ ممتاز ملک۔۔۔  15/11/2023
‌خواتین و حضرات گلوبل ولیج کے تیزی سے بدلتے اختراعی منظر نامے میں اختصار  ہی اظہار کی کنجی ہے۔
ممتاز ملک کیلئے ایک سطر لکھنی ہو تو یہ لکھا جا سکتا ہے۔۔۔۔
" ممتاز ملک ایک ہمہ جہتی شخصیت کی حامل انتہائی متحرک با اعتماد محبّ وطن قلم کار اور شاعرہ ہیں۔"
ممتاز کے منتخہ کلام سے۔۔۔
ہم تو ہیں خلوص کے شیدائی
یہ جذبوں کا بیوپار نہ کر
صدیوں میں بنائی ہے عزّت
لمحوں میں اسے بیکار نہ کر۔۔۔۔۔۔۔

اپنےپروں پہ کرکے بھروسہ تو دیکھیے
اونچی اڑان کے لیے محنت شدید کر
دنیا بدل رہی ہے میرے اے دروغ گو
جدٌت پسند بن تو بہانے جدید کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلم کی حرمت پر کہا!
فروزاں علم و عمل کے جہاں چراغ رہے
زمانے میں انھیں قوموں کا احترام رہا۔۔۔

مندرجہ بالا اشعار شاعرہ کے فکری آہنگ اور ادراک کی علامت ہیں۔
دریا کو کوزے میں بند کرنے کی حکمتِ عملی کے تناظر میں ممتاز کی شاعری پر غیر روایتی تبصرہ درجِ ذیل ہے۔

ممتاز کا اسلوب سادہ کاری پر محیط ہے۔ مضامین کو سہل اور اثر انگیز  انداز میں باندھنے کی کاوش گزار ہیں۔۔۔۔ اور کسی حد تک قاری تک ان کی کہی بات کا ابلاغ موثر طریقے پر ہوتا نظر آتا ہے۔ 
شعری نزاکتوں اور منجملہ محاسن کی بات کی جائے۔۔۔تو بات دور تلک جاتی نظر آتی ہے۔ عروض کے معاملات ماہر عروض جانیں۔ اگر شاعر مضامینِ نو کا ابلاغ موثر طریقے سے کرنے میں کامیاب ہو جاۓ تو قاری کی توجہ حاصل کر لیتا ہے ۔۔۔۔۔اور عمر چاہیے ریاضت کو زیست کم ہے۔۔۔۔۔سخن کی شہسواری کے لیئے۔
ممتاز کے ہاں برجستگی اس اداۓ وقار کے ساتھ ہے کہ وہ قاری کو اپنی سحر میں لینے کا ہنر جانتیں ہیں۔ اس جانکاری میں ان کے ذاتی زندگی کے واقعات، مشاہدات اور سماجی تجربات نے عمل انگیز  کا کام کیا ہے۔ کہ دانہ خاک میں مل کر گلِ گلزار ہوتا ہے۔ ان کا اسلوب اور شعری سفر ارتقائی منازل میں ہے ۔۔۔ تاہم یہ اپنے اندازِ بیان اور فطری تکلم سے شعری لطافتوں کو اس طرح رقم کرتی دکھائی دیتیں ہیں کہ شعریت میں ارتقائی نوید  ناقد بھی محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
میں اس موقعے پر انھیں مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اپنے دعائیہ اشعار اس جشن کی مناسبت سے ان کے لیئے  موزوں کرتا ہوں۔

کبھی کرن کبھی تم آفتاب بن جانا
شبابِ گُل کبھی دلکش رباب بن جانا
سجانا گلشنِ ہستی کو غنچہ و گل سے
مہکنا ایسے کہ تازہ گلاب بن جانا
صمیمِ قلب سے الفت پیام لکھ لکھ کر
جہانِ تازہ میں تم ماہتاب بن جانا
ورق ورق جہان اخلاص ہو محبت ہو
تپاکِ جاں سے تم ایسی کتاب بن جانا
کبھی کسی کا دُکھانا نہ دل خیال رہے
خلوص و پیار میں تم بے حساب بن جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
شجاع الزّ ماں خان شآد
سعودی عرب ۔۔۔۔ ریاض
[15/11, 22:58] +1 (773) 505-4900: قطعہ تہنیئت
ناظمہ بے حد ہیں اچھی باخدا
شاعری میں انکا ہے اونچا مقام
ہے درخشاں انکے دم سے انجمن 
رکھئے ممتاز ادب ہی انکا نام
رشید شیخ شکاگو
               
                -------
میں اس مشاعرے میں شرکت نہیں کر سکی کہیں مصروف تھی لیکن یہ قطعہ آپ کے لئے ہے
مشہور ہیں مقبول ہیں ممتاز آپ ہیں
الفاظ ہیں شاعر کے تو آواز آپ ہیں 
چہرے پہ تبسّم ہے نگاہوں میں تکلم
لہجے میں کھنکتا ہوا اک ساز آپ ہیں
ر(خسانہ راحت) کراچی۔
 نعت گو نعت خواں ۔ شاعرہ
                -------
بزم اصحاب قلم بدایوں۔انڈیا
گلوبل رایڑز ایسوسی ایشن ۔اٹلی
کے زیر اہتمام ۔
بتاریخ 14 نومبر 2023

. . . . . . . .جشن۔ممتاز ملک ۔۔۔۔۔ 

فکرو فن کا گلستاں ممتاز ہے
شاعری کی روح و جاں ممتاز ہے۔

جس نے بخشسی ہے غزل کو زندگی
اب ادب میں نغمہ خواں ممتاز ہے 

شہپر  پرواز شل ہو جائے گا 
کوئی کیا پہنچے جہاں ممتاز ہے 

ہر ورق پر تیری فنکاری کے پھول 
داستاں در داستاں ممتاز ہے 

تو ہے تہذیب و ادب کی زندگی 
تو ہی میر کارواں ممتاز ہے 

کاش اس کی خیریت بہتر رہے 
شاعروں کے درمیاں ممتاز ہے 

وہ فن پاروں کا سرمایہ عظیم 
تجھ میں جو زور بیاں ممتاز ہے

ریختہ اردو پواینٹ میں رضی 
دیکھتے ہیں ضوفشاں ممتاز ہے

ڈاکٹر رضی امروہوی ۔انڈیا
              ۔۔۔۔۔۔
شعر کے کہنے میں ممتاز ہیں ممتاز ملک
آج کی صاحب اعزاز ہیں ممتاز ملک
شکر کرتی رہیں رب کا کہ ہے رحمت اسکی
رب کی بخشی ہوئی آواز ہیں ممتاز ملک
جشن ان کا جو مناتے ہیں حقیقت ہے یہی
سخن قلب کی پرواز ہیں ممتاز ملک
(محسن علوی ۔امریکہ)
              -------

اتوار، 24 ستمبر، 2023

ڈاکٹرمحمد اسلم ‏پرویز کی ‏کتاب ‏رباعیات ‏پر ‏تبصرہ ‏/ ‏تبصرے


رباعی شاعری کی وہ صنف ہے جس میں چار مصروں میں کسی بھی بات کا نچوڑ پیش کیا جاتا یے ۔  بلاشبہ یہ ایک مشکل صنف یے اور اس میں ماضی ہو یا حال، چیدہ چیدہ شعراء کرام کا کام ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ایسے میں ڈاکٹر محمد اسلم پرویز جیسے شاعر کا کام دیکھنے کو ملا جو کہ اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور بے حد حساس طبیعت کے مالک ہیں ۔ ان کی رباعی سے دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ ان کی پی ایچ ڈی کا موضوع بھی رباعیات ہی رہا ۔ اور بہت کم ایسے شعراء کرام گزرے ہیں جنہوں نے رباعیات کے مجموعہ کلام پیش کیئے  ہوں۔  
      
ڈاکٹر محمد اسلم پرویز  کی کتاب "شخصیات" (جو کہ رباعیات کامجموعہ کلام ہے) پڑھنے کا موقع ملا ، جس میں معروف شخصیات پر،  ان کے کام پر اظہار خیال کو  رباعیات کے جامے میں ڈھال کر پیش کیا گیا ہے ۔۔ جس میں ان شخصیات کے فن کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے ، تو کہیں ان کی خوبیوں کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ کہیں ان سے اپنی محبت کا اظہار کیا گیا ہے، تو کہیں ان کی بے تحاشا عقیدت جھلکتی دکھائی دیتی ہے ۔ ۔ 
یوں تو اردو زبان میں غالب سے لیکر اقبال تک سبھی بڑے بڑے شعراء کرام نے رباعی کی صنف سخن پر طبع آزمائی کی ہے اور اسے عروج تک پہنچایا ہے ۔  لیکن اقبال کے بعد  اس صنف سخن پر شعراء کی زیادہ توجہ نہیں رہی۔ اس کی وجہ یقینا اس صنف سخن کے مشکل اوزان و بیانیہ ہے ۔ جو زیادہ وقت طلب ہے اور زیادہ توجہ چاہتا ہے ۔ 
ڈاکٹر اسلم کی اس کوشش کو میں دل سےسراہتی ہوں ۔اور امید کرتی ہوں کہ وہ اس صنف میں اپنا ایک منفرد مقام حاصل کر پائیں ۔
میری جانب سےانہیں اس خوبصورت تخلیق پر بہت سی مبارکباد اور نیک خواہشات ۔

(شاعرہ ۔کالمنگار۔ لکھاری )
ممتازملک 
پیرس۔فرانس

پیر، 3 اپریل، 2023

پروین شغف کی شاعری پر تبصرہ

پروین شغف سے میرا تعارف آن لائن مشاعروں کے توسط سے ہوا ۔ وہ بھارت کی نئی تازہ دم ابھرتی ہوئی شاعرہ ہیں ۔ ان کا کلام پڑھتے ہوئے اندازہ ہوا کہ غزل کا آہنگ نئی کروٹیں بدلنے کو بے چین ہے ۔ ان کی شاعری میں سادگی ہے ۔ کبھی کبھی اداسی عود کر آتی ہے تو اسے نئی امید کیساتھ وہ پھر سے زندہ کرنے کو کمر کس لیتی ہیں ۔  پروین شغف کی شاعری میں آپکو کہیں بھی مایوسی دکھائی نہیں دیتی اور یہی انکی شاعری کا انوکھا پن ہے ۔ میری دعا ہے کہ پروین شغف کے کلام کو قارئین کا بھرپور پیار ملے ۔ اور یہ نوجوان شاعرہ کبھی کسی مایوسی اور دکھ کا شکار نہ ہو۔ ہم انہیں ہنستا مہکتا اور آگے بڑھتا ہوا دیکھتے رہیں ۔ میری بہت سے دعائیں اور نیک تمنائیں پروین شغف کے نام 
والسلام 
شاعرہ ،کالمنگار، لکھاری 
ممتازملک
پیرس ۔فرانس
3.04.2023

منگل، 2 فروری، 2021

● افضل ‏ساحر ‏کی ‏کتاب ‏نال سجن ‏دے ‏رہیئے/ ‏تبصرہ


افضل ساحر دی پنجابی شعری کتاب
نال سجن دے رہیئے 
تے تبصرہ  ممتاز ملک.پیرس 




افضل ساحر دی شاعری پڑھن تے اودے گیت سنن دا موقع تے کئی وار ملیا تے دل بیساختہ داد دین تے وی مجبور ہویا پر اس ویلے ہور خوشگوار جئی حیرت ہوئی جد اوہدا تعارف پڑھن دا موقع ملیا ۔ 
افضل ساحر اک پڑھیا لکھیا تے بڑا ہی فنکار مزاج بندہ لگا ۔ او نہ صرف ریڈیو دی دنیا وچ اپنے کم تے اپنی آواز دے نال اک  نویکلی پہچھان رکھدا اے تے دوجے پاسے او ڈرامہ لکھن دے میدان وچ وی اپنی پوری صلاحیت دے نال وکھائی دیندا اے ۔  اودے گیت سنیئے تے لگدا اے دل اودے نال نال اسے کیفیت دا شکار ہوندا جاندا اے جیڑی شاید لکھن ویلے ہر شاعر دی طرح اوس تے وی طاری ہوئے گی ۔ 
افضل ساحر نے پنجابی شاعری دی ہر  صنف وچ طبع آزمائی کیتی اے تے خوب کیتی اے۔  
دوہے، غزل ، کافی،  گیت جیڑی  وی شے پڑھو گے افضل ساحر دی ٹھیٹھ  پنجابی زبان دے وچ دسترس دے قائل ہوندے جاو گے ۔ 
انہاں دے کلام دے وچ پجھارتاں دی صورت،  تے کدی بولیاں دی صورت سچ دا شیشہ ویکھن دا خوب موقع ملدا اے۔ 
جیویں کہ ملاحظہ کرو۔۔۔
ہر دو لعن سیاستاں ، میں ای میں پردھان
آپو وچ لڑائیکے ، کوڑ پنچیتاں لاڑں
                       ۔۔۔۔

جگ کوڑھ پسارا زہر دا
سانوں چسکا لگا زہر دا
دل پارا کتے نہ ٹہردا
سانوں دھڑکو اٹھے پہر دا
اک پاسا مریا شہر دا 
وچ پکھا پھینئر لہردا
                       ۔۔۔۔
اینہاں کلاماں اندر افضل ساحر دی اندر تے باہر دی دنیا تے رکھی ہوئی نظر تے سمجھن دی صلاحیت تے قدرت صاف دسدی اے۔ 
میری نظر وچ افضل ساحر دی کتاب  "نال سجن دے رہیئے"
اج دے زمانے وچ (جد پنجابی اپنے اصل رنگ توں کافی دور ہو چکی اے) ٹھیٹھ پنجابی دی ایک بہترین مثال اے ۔ 
میں دلوں دعا گو آں کہ افضل ساحر کامبیابیاں دیاں  پوڑیاں چڑھدا جائے تے دوناں جہاناں وچ عزت تے نام کمائے۔ آمین
ممتازملک۔پیرس
2 فروری 2021ء
                          ●●●

بدھ، 13 جنوری، 2021

● شازملک کی کتاب روح عشق۔ آن لائن پذیرائی


     شازملک کے شعری مجموعہ کلام
 روح عشق کی آن لائن  تقریب پذیرائی اور مشاعرہ
ممتازملک کا تبصرہ اور کلام

1h17mn to 1h25mn 
ممتازملک کا تبصرہ شاز ملک کی شخصیت پر سنیئے۔
2h35mn to 2h43mn
ممتازملک کا کلام سنیئے ۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=4985783554797571&id=100000979260120

پیر، 6 جنوری، 2020

سعید الرحمن ۔ منشاء قاضی ۔ شمیم۔خان ۔ ادریس تونسوی / رائے


آراء 

صوابی یونیورسٹی  کے پی کے،  کے ہونہار طالبعلم ، شعبہ اردو سے سعید الرحمن کی رائے  12 دسمبر 2020ء کے پروگرام کے بعد 


سینئیر صحافی اورمعروف تجزیہ کار جناب منشاء قاضی لاہور سے فرماتے ہیں ۔۔



پیرس سے معروف شاعرہ شمیم خان صاحبہ اور
لاہور سے ایڈیٹر ادریس تونسوی کی رائے ۔۔۔








ناصرنظیر/ رائے



سوشل ایکٹیوسٹ ناصر نظیر کی رائے 
2 جنوری 2020ء



واہ باکمال شخصیت کیلئے کمال کی تحریر 
ممتاز ملک صاحبہ اتنی پیاری شخصیت ھےجوایک باراسےسنےجس کسی کوانکی ملاقات کاشرف حاصل ھوجائے یقین مانواسی کےدل میں محل بناتی ھے پچھلے کئی سالوں سےمیڈم کوسوشل میڈیا پرفالوکررہاتھا پشاور میں سٹوڈنٹس کیلئے منعقدہ تقریب میں بذریعہ مسینجر دعوت نامہ بیجھا رات کوپنڈی سےپشاورآئی دورانِ تقریر سماعت سےمحروم صوبائی سکواش چمپئن قومی بیٹی جو کہ سامنے بیٹھی تھی کاذکرکرتےھوئے ہال میں موجود شرکاء کوابدیدہ کیا اس دن سےلیکرآج تک تمام دوست جب بھی ملتے ہیں یاکسی سےفون پربات ھوتی ھےتوسب سےپہلےمیڈم کاپوچھتےہیں اورساتھ میں یہ وعدہ بھی لینےکی کوشش کرتےہیں کہ اس نفیس ملنسار اوررہبرمیڈم کواگلے سال ھونیوالےتقریب میں ضرور بلانا
                   ......




جمعہ، 3 جنوری، 2020

● شاز ملک کا تبصرہ ۔ سراب دنیا

تبصرہ
شاز ملک
پیرس ۔فرانس

کسی بھی شاعر اور ادیب کی تخلیق کا دارومدار اسکے تخیل کی اُڑان 
پر ہوتا ہے ۔ وہ اپنی سوچ کو پر لگا کر تخیل کی اُڑان کو ہموار بناتا ہے 
اسکا قلم اسکی اعلی پرواز کا گواہ ہوتا ہے ۔۔  
محترمہ ممتاز ملک  صاحبہ کا قلم بھی انکی اعلی ذہنی سطح کا گواہ ہے
بحیثیت شاعرہ میں نے انکے احساسات و جذبات میں شدت کو محسوس کیا ہے 
اور وہ اشعار میں اپنا مدعا کہیں سادگی سے بیان کرتی نظر آتی ہیں اور کہیں 
تشبہات و استعارات سے مدد لیتے ہوۓ نہایت خوش اسلوبی سے اشعار میں اپنی جزباتی کیفیات کو بیان کرتی ہیں 
میں نے انکے قلم کو حساسیت کے دائرے میں رہتے ہوئے صنف نازک کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوۓ پایا ہے وہ اپنے گمان میں ماضی سے حال تک کا سفر  کرتے ہوۓ مستقبل کی  خوش گمانیوں پر بھرپور نکاہ رکھتی ہیں۔
ممتاز ملک  سچائی کے علم کو تھامے ہوۓ اپنا ادبی سفر طے کر رہی ہیں 
انکی سوچ کی اُڑان تخیلاتی نہیں بلکہ زمانے کے حقائق اور تلخی کو اجاگر کرتی ہے ۔۔ وہ سچائی کو بلا تامل لکھتی ہیں اور اس سوچ کو عوامی راۓ کے ساتھ منسلک کرنے میں زرہ برابر بھی تامل نہیں کرتیں اور یہی انکی کامیابی کا راز ھے 
دل سے دُعا ہے کہ اللہ پاک انکے قلم کو سچائی کی روشنی سے منور رکھے 
اور وہ ادب کے آسمان پر روشن ستارے کی مانند اپپنے قلم کی روشنی سے چمکتی دمکتی رہیں ۔۔آمین
شاز ملک فرانس

● ایاز محمود ایاز 7واں مجموعہ کلام ۔ مضمون

 

 

             ایاز محمود ایاز

 کے 7ویں مجموعہ کلام

 "مجھے تم ہار بیٹھو گے" 

 کی رونمائ پر مقالہ برائے 

(ممتازملک.پیرس) 

 

ایاز محمود ایاز محبتیں بانٹنے والا شاعر ہے ۔ اس کے کلام میں جگہ جگہ اس کے واردات قلبی کا اظہار ملتا ہے ۔

وہ محبتوں کا شاعر ہے ۔  محبتوں سے وابستہ اس کے صدمات، اس کی توقعات، اس کی تمنائیں سب آپ کو اس کے اشعار  میں بہت واضح دکھائی دیتی ہیں ۔ ۔ ایاز محمود ایاز نے کم عمری ہی میں اپنے شعری سفر کو بڑی تیزی سے آگے بڑھایا ہے ۔ اتنی تیزی سے کہ ایک بار میں نے ہی اسے مذاقا  کہا کہ بیٹا جی سپیڈ ذرا کم کیجیئے ۔ نظر بھی لگ جایا کرتی ہے ۔ ماشاءاللہ آج ان کا یہ ساتواں مجموعہ کلام ہمیں دعوت سخن دے رہا ہے ۔ ایاز کے کلام میں سچائی بھی ہے اور پختگی بھی ۔

پیرس ہی کیا پورے فرانس میں پاکستانیوں کی ایک لاکھ دس ہزار کی آبادی میں ہم پندرہ سے بیس لکھاری اور شاعر ہیں ۔ جنہیں ایک پلیٹ فارم پر مل جل کر پروگرامز کرنے کا بہانہ فراہم کرنے کی جستجو کرنے والوں میں ایاز کا نام سرفہرست رہا ہے ۔

میں فرانس میں خواتین کی پہلی ادبی تنظیم راہ ادب کی صدر کے طور پر ایاز محمود ایاز کو دل کی گہرائیوں سے اس کے نئے مجموعہ کلام "مجھے تم ہار بیٹھو گے "پر مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔ جیسا کہ سبھی جانتے ہونگے کہ ہماری تنظیم 12 اپریل 2018 ء کو وجود میں آئی ۔ اور ہمیں بزم سخن کے پروگراموم میں ایاز کی دعوت پر شرکر کرنے کا موقع بھی ملتا رہا ہے  ۔۔اور امید ہے کہ پیرس میں موجود تمام تنظیمات عملی طور پر ایک دوسرے کے پروگرامز میں نہ صرف شرکت کرتی رہینگی ۔ بلکہ ایکدوسرے کی تصنیفات اور کاوشوں کو بھی اپنی محبتوں سے نوازتے رہینگے ۔ اور اردو کی ترویج میں ہم سب کا یہ حصہ جو ہم شاعر اور لکھاری کتابیں لکھ کر چھپوا کر ڈالتے ہیں ۔ اس میں  ہمارے پاکستانی خواتین و حضرات کتاب خرید کر اپنا حصہ بھی ضرور ڈالیں گے ۔ یہ اس لیئے ضروری ہے ہماری اگلی نسل تک ہم اپنے زبان کے ورثے کو بحفاظت منتقل کر سکیں ۔ کیونکہ کتاب خریدی جائے گی تو ہی اگلی کتاب باآسانی چھپنے کے لیئے بھیجی جا سکتی ہے ۔

 

ایاز مجھے بالکل چھوٹے بھائیوں جیسا عزیز ہے ۔ ہم سب کی بہت عزت کرتا ہے ۔ ہمیں بھی اس پر مان ہے ۔ میں ہر قدم پر اس کی کامیابی کے لیئے دعا گو ہوں ۔ کہ اللہ پاک اسے آسمان ادب کی بھرپور بلندیاں چھونا نصیب فرمائے۔ آمین 

جمعہ، 11 جنوری، 2019

شمیم خان صاحبہ





محترمہ شمیم خان صاحبہ
 ایک بردبار متحمل اور معاملہ فہم شخصیت ایک پیاری اور مخلص انسان  . جو ہر ایک پر پیار اور محبت نچھاور کرنا جانتی ہیں . میں جب بھی ان سے بات کرتی  ہوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں اپنے کسی بڑے پیارے دوست سے بات کر رہی ہوں. جس پر اعتبار کیا جا سکتا ہے . اپنوں بیگانوں سب کے لیئے چھاوں جیسی، ماوں جیسی شمیم خان جنہوں نے اپنے شریک حیات کی جدائی کو بھی اتنی شدت سے محسوس کیا کہ ان کی شاعری میں ان کا درد بخوبی جھلکتا ہے . ان کے کلام میں لوگوں کے رویوں ،دنیا کی بے ثباتی اور معاشرتی  بے انصافی پر تڑپ واضح دیکھی جا سکتی ہے .
اللہ تعالی انہیں لمبی عمر ایمان عزت اور صحت کیساتھ عطا فرمائے.  آمین
ممتازملک. پیرس

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/