ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک
ٹک ٹاک کالم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ٹک ٹاک کالم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 20 دسمبر، 2025

دیور کا رشتہ بھابھی سر ۔ ٹک ٹاک کالم

السلام وعلیکم 
بہت دنوں کے بعد ، مجھے بہت اصرار کیا جا رہا تھا اس ٹاپک پہ بات کریں، تو چلیں آج اس ٹاپک کی باری آ ہی گئی۔ 
 جہاں اور بہت سارے  رشتوں پہ ہم بات کرتے ہیں اور رشتوں پہ ہی ہم بات کریں گے۔  کیونکہ رشتے ہی بنیاد ہوتے ہیں کسی بھی معاشرے کی،  اور وہی پھر کلچر بناتے ہیں اور وہی پھر رسم و رواج بناتے ہیں۔  تو اس لیئے آج ہم بات کریں گے وہ لڑکے جن کی مائیں بیمار ہوتی ہیں یا پھر انتقال کر چکی ہوتی ہیں وہ بیچارے جب اکیلے رہ جاتے ہیں  تو یہ یقین کریں ان کی بھابیوں کو ان کی ایک دو روٹی پکانا بھی ایک عذاب لگتا ہے۔  تمہاری ماں مر گئی میرے لیئے چھوڑ کر چلی گئی مصیبت۔  میں کیا ان کی نوکرانی ہوں ان کی روٹیاں پکاؤں۔  وہ ٹین ایجر ہوتے ہیں ، یا ابھی پڑھ رہے ہوتے ہیں،  یا ابھی سیٹلڈ نہیں ہوتے،  تو یقین کیجیے بڑا کچھ گزرتا ہے ان بچوں کے اوپر۔  جن کی مائیں چلی جاتی ہیں اور وہ بھابیوں کے ہاتھوں پہ آ جاتے ہیں۔  اچھی بھی ہوں گی کچھ بھابیاں، یقینا اچھے بھی ہوتے ہیں۔ 100 فیصد کسی پہ میری کوئی بات لاگو نہیں ہوتی ۔ پرسنٹیج ہوتی ہے۔  اکثریت ۔۔۔ میں جو بات کرتی ہوں وہ اکثریت پہ لاگو ہوتی ہے۔  کیونکہ ہم لوگ اسی دنیا میں رہتے ہیں ، صبح شام ہم لوگوں کا ان سے واسطہ پڑتا ہے، رشتوں سے واسطہ پڑتا ہے، سنتے ہیں، دیکھتے ہیں، اور خود اپنے ساتھ بھی آزمائش میں  آ رہے ہوتے ہیں کئی رشتے، تو وہ اکیلا، نند نوکرانی بن جاتی ہے اگر وہ بیچاری معصوم ہے، زبان دراز نہیں ہے ، طرار نہیں ہے، سمجھدار نہیں ہے، اور اگر وہ لڑکا ہے تو یقین کریں وہ بڑا رل رل کے بیچارہ اپنی جگہ بناتا ہے۔  کہیں پڑھائی مکمل ہوتی ہے یا کسی دکان پہ لگ جاتا ہے۔  کسی کام پہ لگ جاتا ہے۔  پھر ایک ٹائم آتا ہے جب اللہ اسے کامیاب کر دیتا ہے۔  کل کو وہ ایک اچھی پوسٹ پہ چلا جاتا ہے۔  وہ اچھی پڑھائی کر لیتا ہے۔  پاس ہو جاتا ہے۔  ایک اچھی جاب مل جاتی ہے۔  جیسے ہی بھابھی دیکھتی ہے کہ یہ لڑکا تو کامیاب ہو گیا۔ اچھی پوسٹ پہ چلا گیا، پھر کیا تھا جناب ۔۔۔ پھر کتنے رستے نکلتے ہیں اسی گھر کے اندر۔۔۔ حالانکہ وہ گھر اس لڑکے  کا بھی اتنا ہی ہے جتنا اس بھاوج کے شوہر کا ہے۔  لیکن احسان اس دو روٹی کا اتنا بھاری ہوتا ہے کہ وہ اس لڑکے کو پھر ڈالتی ہے اپنے ہاتھوں پہ،  اور سب سے پہلے تو پیشکش ہوتی ہے کہ میری کوئی بہن آ جائے تاکہ یہ جو سب کچھ ہے۔  یہاں کوئی اور لڑکی اس چیز کو آ کر جو اس لڑکے کی ترقی ہے یا زندگی ہے اسے یا کامیابی کو انجوائے نہ کرے اور اگر وہ اس کی بہن کے لیئے وہ لڑکا تیار نہیں ہے تو وہ اسی ایسے ہاتھوں پہ ڈالتی ہے کہ وہ اس کا رشتہ لیجا لیجا کے، اس سے کھا رہے ہیں اس کا مال، وہ ہر چیز انجوائے کر رہے ہیں۔ لیکن  اس طرح سے لے کر جاتی ہے اور ایسی پریزنٹیشن دیتی ہے کہ بس آپ کو  وہ شعلے فلم کا جو دوست رشتہ لے کر جاتا ہے۔ تو جو حال کرتا ہے سیم بھابیاں وہی کرتی ہیں۔  اس لڑکے کا رشتہ ہونا نہیں چاہیئے ۔ آخر کو تنگ آ کے گھوم پھر کے یہ لڑکا میری بہن تک ہی پہنچے گا۔  بھاوج اب کہیں سے بھی کروا دے بس کروا دے ۔ یہ کیس نمبر ایک ہے ۔ جہاں پے بھاوجیں اپنے دیوروں کے ساتھ یہ گیم کھلتی ہیں۔ تقریبا ہر دوسرے گھر میں آپ دیکھیں گے یہ گیم کھیلتی ہیں ۔ جہاں دیور اکیلا رہ گیا ہے۔  اور کامیاب ہو گیا ہے۔  اگر وہ ناکام میں پھر وہ اسے ٹھنڈے مار کے نکال دیں گی۔  پھر تو اس کی جائیداد بھی اور مال بھی ضبط کروائیں گی اپنے شوہر کے ذریعے ۔ اور  مجھے یہ کوئی نہ کہے کہ جائیداد تو بیٹے کو ملتی ہے۔  کیونکہ ڈنڈا تو بھاوج ہی دیتی ہے اور مزے اور عیش سارے بہو ہی کر رہی ہوتی ہے۔ اور چلانے والا کام بہو ہی کر رہی ہوتی ہے۔  بھابھی ہی کر رہی ہوتی ہے ۔ اچھا جی اب وہ چلا گیا ۔ لڑکا اگر اب اس کا رشتہ نہ کر ، نہ کر،  نہ کر،  کرتے کرتے بھی ، یہاں نہیں، اس لڑکی میں یہ عیب ہے، اس لڑکی میں یہ عیب ہے،  لیکن اپنی زمانے بھر کی چلتر باز آوارہ لوفر بہن بھی وہ 10 خوبیاں گنوا کے اپنے ساتھ لانے کی کوشش کرے گی۔  ایک یہ ۔۔۔
دوسری بات، دوسرے کیس میں آپ دیکھئے وہ اس سے بھی زیادہ گندا کیس ہے ۔ جس میں بھابھی اس دیور کے ساتھ یا اس جیٹھ کے ساتھ انوالو ہوتی ہے،  اور پھر وہ اس کی آسائشوں کو اپنے نام کرنے کے لیئے خود اس کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کرتی ہے،  اور اس کو اپنی طرف اس طرح سے راغب کر لیتی ہے کہ وہ لڑکے کو، اگر وہ گدھی ہے،  بد شکل ہے،  کسی کام کی نہیں ہے،  تو بھی اسے اس عورت کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے گا ۔ اس میں وہ جادو ٹونے تک بھی جائے گی۔  اس میں وہ  لچھے دار باتوں میں گھمانے کا بھی کام کرے گی۔  یعنی وہ کوئی بھی طریقہ استعمال کرے گی۔   اس لڑکے کو اپنے ہاتھ پہ رکھے گی۔  کہیں غلطی سے اس کی شادی ہو گئی تو اس لڑکے کا گھر آباد نہیں ہونے دے گی۔  اگر وہ لڑکا اس گھر میں اسی بھاوج کی چھتر چھاؤں میں رہ رہا ہے۔  یہاں پہ ایک اور نقصان آپ کو کس بات کا سمجھ آئے گا ؟ وہی محرم اور نامحرم کا۔ جب جوان بھائی گھر میں ہیں تو بڑا بھائی سمجھدار ہے۔  اسے کہے بیٹا سب سے پہلے اپنی رہائش کا بندوبست کر یا اوپر پورشن بنا کیونکہ اسے اپنی بیوی کا نہیں پتہ چل رہا۔  آنکھیں بند ہوتی ہیں۔  دن میں وہ کہتے ہیں جی امی، ، امی جی ماں کی جگہ ہے میری بھابھی، اور شام کو وہ آپ کی محبوبہ اور معشوقہ بن جاتی ہے۔  یہ زہر جتنا پھیلا ہوا ہے اسے لوگ بدکاری نہیں سمجھ رہے ہیں۔  یہ بہت بڑا  زنا ہے، بدکاری ہے۔   جس کی طرف آپ جا رہے ہیں۔  صرف پیسوں کی خاطر، مفاد کے لیئے ۔ صرف اس گھر کی چھت پر قبضہ کرنے کے لیئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ اس قسم کی گندگیوں سے انکار کرنے سے، اگر مجھے بخار ہے، تو مجھے پہلے قبول کرنا پڑے گا ، ہاں میں تکلیف میں ہوں، مجھے بخار ہے، تب میں اس کی دوائی کھاؤں گی ۔ لیکن جب آپ اس گناہ کو، اس تکلیف کو، اس مرض کو قبول ہی نہیں کر رہے، تو پھر آپ مزید صرف گٹر میں گریں گے۔  وہ بھائی جو مکانوں کی لالچ میں ایک دوسرے کے ساتھ چپکے ہوتے ہیں ۔
 اپنا بہت خیال رکھیئے اور ان ساری باتوں پہ غور کیجیئے ۔
اللہ تعالی آپ سب کو ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین ۔
میں ہوں۔۔۔
 ممتاز ملک
 پیرس فرانس
            ۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹک ٹاک کا لنک حاضر ہے👇
https://vm.tiktok.com/ZNR227dWK/
                 ۔۔۔۔۔۔

پیر، 15 دسمبر، 2025

بہن بھائی کا گناہگار ۔ ٹک ٹاک کالم

بہن بھائی کا گناہگار 


السلام علیکم کیوں کریں آخر بہن بھائیوں کی شادیاں صرف ایک بندہ ۔۔۔۔۔

جی السلام علیکم
 آج جو موضوع لے کر میں آپ کے سامنے موجود ہوں۔۔۔
 ہمارے معاشرے کے اندر گھر گھر کے اندر ایک مثال موجود ہوتی ہے کہ کوئی ایک بہن یا بھائی جو بڑا ہوتا ہے عموما،  یا پھر جو بہت ساری بہنوں کا ایک بھائی ہوتا ہے۔  وہ قربانی کا بکرا بنتے ہیں۔  اور پھر ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔  اس نے سب کو پڑھانا ہے ۔ اس نے سب کو شادیاں کر کے دینی ہیں۔ اور اکثر گھروں میں تو ان کے پھر بچے بھی پالنے ہیں۔ ان کے بچوں کی بھی شادیاں کرنی ہیں ۔یعنی اس آدمی کا بیڑا غرق پکا ہے۔  اسے تباہ و برباد ہو جانا چاہیئے کیونکہ وہ اچھا بچہ ہے یا اچھی بچی ہے۔  ایسی بڑی بہن  یا بھائی قربانی کا بکرا بننے کے بعد اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ اسکی بھی کوئی زندگی ہے ۔ اور جب اس کی عمر ڈھل جاتی ہے تو وہ اکیلی لاوارثوں والی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہے/ یا ہو جاتا ہے ۔ آپ اس وقت تک اپنے بچوں کو معذور بنا کر ایک دوسرے کے سر پر سوار کیوں کر دیتے ہیں اور اس میں گنہگار والدین ہیں۔  جو اپنے گھروں میں ایسے رواج ڈالتے ہیں اگر ہم ذرا سا بھی دھیان دیں۔  ذرا سی بھی ہمدردی کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ وہ ایک لڑکا یا لڑکی جو آپ نے پیدا کر دی ہے ، بہت سارے آٹھ دس بچے پیدا کر کے اور اس میں آپ نے بیٹے کے انتظار میں پیدا کیا ہے تو اس لڑکے کی غلطی یہ ہوگی کہ جب ساری بہنوں کی شادیاں ہوں گی ان کو پڑھا کے ان کے رشتے آئیں نہ آئیں . تم ذمہ دار ہو ان کی شادیاں ہوں گی,  تو تمہارا نمبر آئے گا ۔ پھر اگر اس کی اس نے زبردستی کہیں پسند کر کے کچھ کر کے پہلے شادی کر لی ہے تو اس کے گھر کو بسنے نہیں دیں گے۔  کیونکہ اتنی ساری بہنیں جب اپنی سروائیول کی لڑائی لڑ رہی ہوں گی۔  اس گھر کے اندر تو وہ تو اس وقت بلاؤں کا کردار ادا کریں گی ۔ اس آنے والی لڑکی کے لیئے ۔ وہ اسے کیسے جینے دیں گی؟  بھئی اگر یہ ٹک گئی تو پھر ہماری جو زندگی ہے وہ ختم ہو جائے گی۔  اس ساری بات کی جو وجہ اور بنیاد سمجھ میں آتی ہے۔  وہ صرف یہ کہ یہ فائنینشل لڑائی ہوتی ہے۔  یہاں کسی بہن , کسی بھائی کو ایک دوسرے سے کوئی ایسا عشق نہیں کہ اس کے بغیر رہ نہیں سکے گا۔  بات ہے سروائیول کی۔ بار بار کہا جاتا ہے اپنی بیٹیوں کو بیٹوں کو چھوٹی عمر سے ہی پڑھنے کے ساتھ کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ چاہے گھر میں لا کر لفافے  بنانے کا کام ہو ، چاہے پیکنگ کا کام ہو، دو گھنٹے کا کام ہے، چار گھنٹے کا کام ہے۔ انہیں ہنر سیکھنے کی طرف بھی لگائیں۔ ڈگری کتنی بھی بڑی لے لے ۔ آپ کے ہاتھ میں ہنر ضرور ہونا چاہیئے ۔ اپنے بیٹے بیٹیوں کو ایک دوسرے کے اوپر مختاج مت کیجئے۔  ڈیپینڈ مت کیجئے۔  انہیں اپنے پیروں پہ جلد سے جلد کھڑا ہونے کی عادت ڈالیئے۔  15، 16 سال کی عمر تک دنیا بھر میں بچے اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ کم از کم اپنی روٹی پیدا کر سکیں۔  اپنے لیئے اپنا پاکٹ منی نکال سکیں۔  اور ہمارے ہاں  لڑکی اور لڑکا یونیورسٹی کے نام پر اور پتہ نہیں پڑھائیوں کے نام پر اپنے باپ اور بھائیوں کے سر پر بوجھ بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ لدے ہوئے ہوتے ہیں ان کے سر پر۔ ان کے اندر کیا احساس ذمہ داری ہوگا۔ کس بات کا احساس ذمہ داری ہوگا۔  انہیں پیسوں کی کیا ویلیو ہوگی؟ انہیں رشتوں کی بھی ویلیو نہیں ہو سکتی . جو بندہ خود اپنے لیئے روٹی پیدا نہیں کر سکتا۔  ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی ضرور کیجئے۔ مدد کیجئے۔  ایک دوسرے کے اچھے برے موقعوں کے اوپر جتنا آپ کر سکتے ہیں ، اسانی کے ساتھ۔ لیکن یہ کہنا کہ وہی ایک کرے گا۔  وہی سب کو پا لے گا ۔ وہی سب کے خرچے کرے گا ۔ وہی سب کی شادیاں کرے گا ۔ کیوں بھئی ؟ کیا اللہ نے حکم دیا ہے؟ کیا قانون نے حکم دیا ہے؟  کس نے دیا ہے؟  یہ غلامانہ ذہنیت جو آپ نے لاد دی ہے۔  آپ کے گھر میں پیدا ہونے والا گنہگار ہو گیا ہے اور آپ اس سے تاوان بھر رہے ہیں۔  ساری عمر مرتے دم تک اس کی جان آزاد نہیں ہوتی۔  وہ ایک ایسا غلام بن جاتا ہے۔۔ کہتے ہیں نا کہ کتے کے گلے میں اگر پٹہ ڈال دیا جائے اور وہ روزانہ آپ گھما رہے ہیں اپنے ساتھ۔ اس کے بعد ایک دن ایسا آتا ہے، کہ آپ نے پٹہ نہیں بھی ڈالا ہوا تو ہاتھ کا اشارہ ہی آپ نے کیا ہے تو وہ  کتے کی طرح آپ کے ساتھ ساتھ چل رہا ہوتا ہے۔  اسے ازادی کا مطلب نہیں پتہ۔  اسے اپنی زندگی کا احساس نہیں ہے۔  وہ سوچ سے ، احساس سے ، غلام ہو چکا ہے۔  اپنے بچوں کو ایسا کتا مت بنائیں پلیز ۔ انہیں زندہ رہنے دیں۔  انہیں حق کے ساتھ ، عزت کے ساتھ ، سوچنے والا بنائیں۔  بہن بھائی ایک دوسرے کے لیئے جذباتی سہارا ضرور ہوتے ہیں۔  لیکن انہیں مالی طور پر ایک دوسرے کا محتاج مت کیجئیے ۔ اپنا بہت خیال رکھیئے۔
 میں ہوں ۔۔۔۔
ممتاز ملک 
پیرس فرانس 

اتوار، 14 دسمبر، 2025

بچوں کی توہین۔ ٹک ٹاک کالم

یہ جو اکثر شکایتیں آتی ہیں نا اوورسیز بچوں کے لیئے کہ جی ان کے بچے تو پچھلے رشتہ داروں کو پہچانتے نہیں ہیں۔  ہیلو فون آیا ہے کسی کا تو،  لو بیٹا جلدی سے یہ فلانے سے بات کرو، فلانے سے بات کرو۔  اپنے بچوں کو ہم مجبور کرتے ہیں فلانے سے، فلانے سے ،فلانے سے بات کرو ۔ حالانکہ ان بچوں نے ان کو دیکھا بھی نہیں ہوتا اور اگر کبھی گئے ہوتے ہیں تو ملاقات نہیں ہوئی ہوتی۔  کوئی رسپیکٹ ، کوئی محبت،  نہیں ملی ہوتی۔  اور دوسری بات یہ کہ آپ جن کو زبردستی فون پکڑا پکڑا کر اپنے بچوں کی آوازیں سنا رہے ہیں اور اپنے بچوں کو زبردستی فورس کر رہے ہیں... یہ ماما ہے،  یہ چاچا ہے،  یہ تایا ہے ، یہ فلانا ہے،  فلانا ہے، فلانا ہے،  تو آپ نے کبھی ان کے بچوں کو دیکھا ہے کہ انہوں نے فون کر کے آپ کے ساتھ کبھی بھی سلام دعا کی ہے۔ آپ کے ساتھ کبھی کوئی تعلق بنانے کی کوشش کی ہے۔  آپ کے بچوں کو چھوڑیں یا خود آپ ڈائریکٹ جس رشتے میں ہیں۔۔۔ آپ کو ان کے بچوں کے نام تک پتہ نہیں ہوتے۔  آپ کو ان کی پیدائشوں تک کا پتہ نہیں ہوتا۔  کون کیا کر رہا ہے؟ آپ کو نہیں پتہ ہوتا. پھر آپ ایسے لوگوں کے ساتھ اپنے بچے کیوں زبردستی انوالو کرتے ہیں . مت کیا کریں اپنے بچوں کی توہین ۔ مت کیا کریں ایسا جس سے آپ خود اپنے بچوں کے دل سے گر جاتے ہیں۔  جب اوورسیز پاکستانی باپ یا ماں زبردستی ان لوگوں کے ساتھ بچے کو بات کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔جس کو انہوں نے کبھی دیکھا نہیں۔  سنا نہیں۔  کبھی ان کے ساتھ کسی تعلق میں نہیں آئے ۔ کبھی مفت کی ایک کال نہیں کی ہوتی ۔ واٹس ایپ کال تک پہ وہ کبھی ایک دوسرے کو نہیں ملے۔  وہاں پہ آپ اپنے بچوں کو مجبور مت کیا کیجیئے پلیز۔  اور آپ کے وہ بچے جو ان کو نہیں جانتے ۔ لیکن ان کے بچے انہوں نے کبھی اپنے بچوں کو تو نہیں کہا کہ آؤ جی مامی سے بات کرو ۔ چاچی سے بات کرو۔ تائی سے بات کرو۔ خالہ سے بات کرو ۔ جب انہوں نے نہیں کہا نا تو اپنے بچوں کی عزت کروانا سیکھیں۔  ہمارے والدین سب سے بڑے مجرم اپنے بچوں کے ہوتے ہیں۔ بہت ساری باتوں میں اگر آپ کھولیں نا تو والدین فرشتے نہیں ہوتے  فرشتے کے بعد اگر کوئی گنہگار گنہگار ہونے سے بچا ہوا ہے نا وجود تو صرف پیغمبر کا ہوتا ہے ۔ پیغمبروں کی اولاد بھی گناہوں سے بچی ہوئی نہیں رہی ان سے بھی غلطیاں زندگی میں ہوتی ہیں ۔کیونکہ وہ عام انسان ہوتے ہیں وہ ہم سے زیادہ نیک تو ہو سکتے ہیں۔  لیکن ان سے زندگی میں غلطیاں ہوتی ہیں اور دنیا میں کوئی رشتہ ایسا نہیں ۔ والدین بھی ایسے نہیں اور والدین کی خاص طور پہ یہ دعا کہ یا اللہ میرے والدین کے ساتھ اس طرح سے کہا جس طرح سے انہوں نے میرے ساتھ بچپن میں کیا۔ تو یہ سوچیں یہ دعا بھی ہے اور یہ بددعا بھی ہے۔  آپ کو جو غلط طریقے سے دین پڑھایا جاتا ہے۔  اس میں آپ کو یہ دونوں پہلو نہیں دکھائے جاتے ۔والدین نے اگر اچھا کیا اپنے بچوں کے ساتھ۔  ان کے حقوق ادا کیے ہیں۔  ان کے سر پہ ہاتھ رکھا ہے ۔ انہیں محبت دی ہے۔ ان کی اچھی تربیت کی ہے۔  ان کے ساتھ شفقت کا سلوک کیا ہے۔  لیکن اگر آپ کے والدین نے ہی آپ کے ساتھ کتے جیسا سلوک کیا ہے۔  آپ کو روٹی کے لیے ترسایا ہے۔ آپ کو عزت کے لیئے ترسایا ہے۔  آئے گئے کے سامنے آپ کو ذلیل کیا گیا ہے ۔ آپ کو ڈومیسٹک وائلنس کا شکار کیا گیا ہے۔  آپ کی ہر ہر منٹ پر توہین اگر آپ کے والدین نے بچپن میں کی ہے۔ تو وہ بچپن کی کی ہوئی توہین کو یہ کہہ کے نہیں کہ ہم نے ایسا کیا تھا اس لیئے تم ایسے نکلے ہو۔  اب تم کتنے شاندار مقام پہ ہو۔  ہماری وجہ سے ۔ آپ نے اس بچے کا دل چھلنی چھلنی کر دیا۔  اس کے حقوق دوسروں کی گودیوں میں ڈالے۔  اور آپ اپنے بچوں کو مجبور کرتے ہیں کہ آؤ ہم تمہارے ساتھ زیادتیاں کرتے رہے اور تم ہمارے ساتھ دعا کرو گے ۔ اولاد کو یہ حق والدین کی طرف سے بھی اللہ تعالی نے دیا ہے ۔ اگر میں آپ کو معاف نہیں کرنا چاہتی۔  آپ کی غلطیوں پر تو پروردگار مجھے کہیں زبردستی مجبور نہیں کرے گا کہ میں اس شخص کو معاف کر دوں ۔ جس نے میرے بچپن میں میرے دل کو ، میرے دماغ کو درد دیا ہو،  تکلیف دی ہو ۔  دکھ دیا ہو۔  تو اس لیئے آپ اپنے بچوں کے مجرم نہ بنیں ۔ اگر آپ اپنا ان کے دل کے اندر وہ ایک پہلے خوف تھا۔  بچپن میں، لیکن اب وہی خوف نفرت بن چکا ہے، پال کے جا رہے ہیں نا ، تو آپ کامیاب نہیں ہیں۔  آپ دنیا اور آخرت دونوں جہان میں گنہگار بھی ہیں اور ناکام بھی ہیں۔  اللہ تعالی ہر رشتے کا آپ سے حساب لے گا ۔ تو اپنے بچوں کی عزت کو ڈاؤن مت کیا کیجیئے ۔ اپنے رشتہ داروں کے سامنے۔  ان کے بچے آپ کے بچوں کو نہیں جانتے۔  آپ کے ساتھ کبھی سلام دعا میں نہیں ہیں۔  تو آپ کے بچے راستے میں نہیں پڑے ہوئے کہ اٹھا اٹھا کر پلیٹ میں رکھ کر دوسروں کے سامنے پیش کر دیں ۔ ان کی عزت نفس کا خیال رکھیں ۔
بہت شکریہ آپ کی توجہ کے لیئے۔
 میں ہوں ممتاز ملک 
پیرس فرانس 

ہفتہ، 13 دسمبر، 2025

شتر مرغ والدین ۔ ٹک ٹاک کالم

اج ہم ذرا بات کرتے ہیں ان بے خبر ماؤں کی ،جن کو پتہ نہیں چلتا کہ ان کا بیٹا اور بیٹی کس صحبت میں بیٹھتے ہیں، کس کمپنی میں بیٹھتے ہیں، اور ان کے دوست ، ان کی سہیلیاں کون ہیں ۔
آپ نے اپنے بچوں کو 10 روپے کی چیز لے کر دی، لیکن ان کی جیب سے، ان کے بیگ سے نکلتی ہے 100 روپے کی چیز،
 مہنگے موبائل،  پیزے ، برگرز، آپ کے دروازے پر ڈلیوری ہو رہے ہیں ۔ کیک پیسٹریاں آ رہی ہیں، جناب رات کو بھی غائب ہیں، شام کو بھی غائب ہیں۔
 سہیلی کے گھر گئی ہے ،دوست کے گھر گیا ہے ۔ یہ جو بے غیرتی کو ایک نیا نام "رواج" کا دیا گیا ہے. اس میں آپ اپنی آنکھیں بند کر کے شتر مرغ بنے ہوئے ہیں. اور ریت میں منہ گاڑے بیٹھے ہیں . کہ ارد گرد کوئی خطرہ نہیں ، سب اچھا ہے ۔سب اچھا نہیں ہے ۔ اگر آپ اس وقت کے نوجوان کو گنہگار سمجھتے ہیں، تو ان کے ماں باپ کم گنہگار نہیں ہیں ۔ بطور والدین آپ نے اپنے اپ کو ذلیل کروانے کے سارے اسباب اپنی اولاد کو اپنے ہاتھ سے دیئے ہیں۔  مہنگے موبائل کہاں سے آ رہے ہیں۔  جوڑے کہاں سے آ رہے ہیں  ریڈی میڈ برانڈڈ سوٹ کہاں سے آ رہے ہیں، اور یہ جو سیروں کے لیئے آئے دن غائب ہوتی ہیں،  یہ کہاں سے آ رہی ہیں، کہاں جا رہی ہیں، آپ کو نہیں پتا؟  سب پتہ ہے۔۔۔ اصل میں جب ماں بے غیرت ہو جاتی ہے اور وہ سوچ لیتی ہے کہ جہاں سے آئے ، بس اچھا اچھا کھانے کو مل رہا ہے،  اچھا اچھا سب ہو رہا ہے ۔ لڑکے نے کوئی بڑی مرغی اور لڑکی نے کوئی بڑا مرغا پھانس لیا ہے اور اب سب اچھا ہو جائے گا ۔ یعنی آپ نے اپنی اولاد کو یہ تربیت نہیں دی کہ وہ اپنے آپ کو اپنے پیروں پہ کھڑا کرے۔  کسی لائق کرے اور زندگی غیرت اور شرم کے ساتھ گزارث تو پھر وہ جو بھی کر رہا ہے ۔ معصوم آپ نہیں ہیں۔ آپ کی معصومیت اگر یہ ہے تو پھر یہ سب سے بڑا گناہ ہے اولاد پیدا کرنے کے بعد اپ کو اتنا معصوم ہونے کا حق نہیں رہتا کہ آپ اپنی آنکھیں بند کر لیں اور آپ سوچیں کہ سب اچھا ہے۔  آپ انہیں خود یہ مزہ دے رہے ہیں۔  کہ بیٹا سہیلی کے نام پر دوست کے نام پر سب سات خون معاف ہیں تم لوگوں کو ۔ جاؤ جو تمہارا دل کرتا ہے ، کرتے جاؤ ۔ بس میری یہ عیش موج لگی رہنی چاہیئے ۔ تو کوئی ماں یہ دعوی نہیں کر سکتی کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا۔ میری بیٹی کہاں گئی ؟ کہاں سے آئی؟ کہاں بیٹھی؟ اور بیٹا کیا کرتا ہے؟  باپ نے پیسے نہیں دیئے ، میں نے نہیں دیئے ، اس نے موٹر سائیکل کہاں سے لے لیا ؟ گاڑی کہاں سے لے لی؟ اگر آپ کی اولادیں اس وقت بے قابو ہو چکی ہیں تو اس سے لاتعلقی اس وقت ضروری تھی جب یہ ابتدا ہو رہی تھی۔  بعد میں آپ کا یہ کہنا کہ مجھے تو پتہ نہیں چلا ۔۔۔صدقے آپ کی معصومیت پر۔
 یہ بات نہ آپ کو دنیا میں عزت دلوائے گی، نہ اللہ کے ہاں معاف کروائے گی۔ 
اپنا بہت خیال رکھیے۔
 میں ہوں ممتاز ملک۔
 پیرس فرانس

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/