کہتے ہیں جنہیں دوست نہ سرکار ملیں گے
چھوڑ آؤ زبان اپنی ذہن اپنا دو گروی
تب جا کے یہاں نام کے یہ یار ملیں گے
تحفے میں انہیں جان تو نذرانہ میں کر دوں
پر سوچ میری اور نہ اظہار ملیں گے
بے غرضی و ہمدری و چاہت کا خزانہ
اخلاص اگر چاہیئے سو بار ملیں گے
قصہ ہے میری زیست کا عنوان سے عاری
ہر طرز کے زخمی یہاں کردار ملیں گے
کہنے کو نہیں کچھ تو نہ سننے کو بچا کچھ
ایسے جو ملے تم سے تو بیکار ملیں گے
من چاہے سوالات نہ ہونے کے نتائج
ٹوٹے ہوئے وہ دل یہاں مسمار ملیں گے
امید یہ ممتاز سے پستی میں اتر جا
اللہ نہ کرے ایسے نہ لاچار ملیں گے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں