ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک
‏افسانے ۔ سچی کہانیاں۔ قطرہ قطرہ زندگی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏افسانے ۔ سچی کہانیاں۔ قطرہ قطرہ زندگی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 29 جنوری، 2024

& فرمانبردار۔ افسانہ ۔ سچی کہانیاں۔ قطرہ قطرہ زندگی ۔ اشاعت 2014ء


          فرمانبردار 


ارے کیا ہو گیا، کیوں بات کا پتنگڑ بنا رہی ہے ۔ اتنے اچھے ساس سسر ہیں تمہارے ۔ اتنا فرمانبردار بیٹا ہے انکا، اورکیا چاہیئے تمہیں؟ 

زرینہ نے میکے آئی ہوئی ناراض بیٹی کو سمجھانا چاہا۔

امی یہی تو مسئلہ ہے۔

 صومانہ تڑپ کر بولی ۔

ایسے والدین پکے دوزخی ہوتے ہیں جو گھر کی ایک اولاد کو اسکی فرمانبرداری کے سبب نوکر بنا کر اپنے ہڈ حرام لاڈلوں کا بوجھ ساری عمر کے لیئے انکے گلے ڈال دیتے ہیں ۔ 

ایسے بیٹوں کی بیویاں بھی گھروں میں نوکرانیاں بنا لی جاتی ہیں اور ساری عمر ذلیل کی جاتی ہیں۔

 ایسے فرمانبردار لڑکوں کے ساتھ کبھی شادی نہیں کرنی چاہیئے ۔ وہ کبھی اپنی بیوی کے اچھے شوہر نہیں بن سکتے۔ آپکو میری بات میری تکلیف کیوں سمجھ نہیں آتی؟

صومانہ تڑپ رہی تھی 

صبح کے پانچ بجے اٹھتی ہوں نماز بمشکل پڑھتی ہوں اس کے بعد سب کی جو خدمتیں شروع ہوتی ہیں۔ صبح کے ناشتے سے لے کر دوپہر کے کھانے اور دوپہر کے کھانے سے سہہ پہر کی چائے اور رات کے کھانے کے بعد تک جب تک یہ لوگ سونے نہ چلے جائیں۔ 12 بجے مشکل سے مر مٹ کے مجھے بستر پہ لیٹنا نصیب ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد فرمانبردار بیٹا تو پوچھتا بھی نہیں ہے کہ میری ہڈیوں میں کتنا دم باقی ہے یا نہیں ہے اسے اپنی خدمت کروانی ہوتی ہے۔ ماں کے سامنے گھنگنیاں منہ میں ڈالے بیٹھا ہوتا ہے۔

 لیکن میرے سامنے وہ گھر کا سب سے بڑا بدمعاش ہوتا ہے۔ اسے رپورٹ دینی ہوتی ہے مجھے کہ آج میں نے کس کس کی خدمت میں کوئی کمی بیشی کی کہ نہیں کی۔

 کسی کی چوں ہو یا کسی کا چنگ ، مجھے  نیند نصیب نہیں ہو سکتی، جب تک میں اس کی صفائی پیش نہ کر دوں۔ ہاتھ باندھ کر لوگوں سے معافیاں نہ مانگوں۔ ہر دوسرے دن ڈھیروں ڈھیر کپڑوں کے لیئے دھوبن بنی ہوتی ہوں ۔  میری ساس سسر نے تو کبھی مجھے یہ تک نہیں پوچھا کہ بیٹی تمہاری طبیعت ٹھیک ہے کہ نہیں ہے۔ بخار ہو مر رہی ہوں ، چاہے مر جاؤں تب تک مجھے اس گھر کی چاکری کرنی ہے۔

 لعنت ہے ایسی شادی پر۔ اگر شادی اس کا نام ہے تو میں اس پر ایک ہزار بار لعنت بھیجتی ہوں ۔ اگر  اپنے ہاتھوں سے دو وقت کی روٹی کما کر میں کھا سکتی  تو مجھے ان لوگوں کی بدمعاشیاں نہ جھیلنا پڑتیں۔ اسی لیئے شاید آپ لوگ بیٹیوں کو پڑھاتے نہیں ہیں کہ ہم لوگ اپنی روٹی خود کمانے لگے تو ایسے ایسے خبیثوں کی غلامی میں نہیں پڑیں گے ہم لوگ۔ 

آپ لوگوں کو مفت میں بیگار کی نوکرانیاں کہاں سے ملیں گی؟

بیٹیوں کے دشمن ہیں آپ سب والدین ۔ رحمت رحمت کہہ کر انہیں جوتا بنا دیا۔ ڈور میٹ بنا دیا ہمیں آپ نے لوگوں کے آگے۔ اگر ہم اتنی ہی رحمتیں ہوتی نا تو ہمیں رحمتوں کی طرح سنبھالتے۔ کسی قابل کرتے۔ عزت سے اپنی زندگی گزارنے کے طریقے سکھاتے۔ ہنر سکھاتے۔ تعلیم تربیت کرتے ہماری۔ 

یوں لوگوں کے گھروں میں دو روٹی اور ایک عارضی ٹھکانہ، پرائی چھت ، دلوانے کے لیے ہمیں کسی بھی فرمانبردار کے گلے نہ باندھ دیتے۔

ہماری خیر خبر لیتے ۔ ہم زندہ ہیں یا مر گئے۔  اچھے ہیں یا برے ہیں۔ گھر کے 15، 15 لوگوں کے ، آئے گئے کے آگے، ہم باورچی ہیں  لیکن ہم نے کھانا کھایا یا نہیں یہ ہم سے کوئی نہیں پوچھتا ۔

ہماری عزتیں محفوظ ہیں یا نہیں۔  رات کو نیند ملتی ہے سونے کے لیئے کہ نہیں ، کھانا کھا سکتے ہیں یا نہیں۔ کھانا کھانے کی چھٹی ملتی ہے ہمیں کہ نہیں۔ پوچھا کبھی آپ لوگوں نے؟ 

صومانہ نے آج اپنا ہر زخم اپنی ماں کے سامنے عریاں کرنے کی شاید قسم کھا لی تھی۔

بھاڑ میں جائے ان کا وہ بڑا گھر ,خوبصورت گھر,  نوکر صرف نوکر ہوتا ہے اور میں اس گھر میں خود کو کبھی بہو محسوس نہیں کرتی۔ مجھے یہی محسوس ہوا کہ میں اس گھر کی ایک نوکرانی ہوں اور وہ نوکرانی جو خرید کے لائی گئی ہے۔

 کیونکہ نوکرانیاں بھی مجھ سے اچھی ہوتی ہیں۔ اپنے جوٹھے ہی صحیح کبھی ان کو کپڑے تو دلوا دیئے جاتے ہیں۔ کبھی ان کو عید شب برات کی چھٹی مل جاتی ہے۔ انہیں تنخواہ تو مہینے کے بعد ملتی ہے نا۔ 10 ہزار فرمائشیں وہ نوکرانیاں اپنی پوری کرواتی ہیں۔ تنخواہ کے باوجود۔

میں تو ایک نوکرانی سے بھی بدتر زندگی گزار رہی ہوں۔ پھر بھی آپ کہتی ہیں کہ میں اس پر صبر کروں، اس پہ شکر کروں۔

انکے لاڈلے بیٹے مفت کا کھاتے ہیں،عیش کرتے ہیں اور سارے گھر پر دھونس بھی جماتے ہیں۔

اپنی بیویوں کو انہوں نے میری دیورانیوں کو میرے سر پر میری مالکنیں بنا رکھا ہے ۔ گھر میں جو پکے گا ان کی مرضی سے۔ جو کھایا جائے گا ان کی مرضی سے۔ ہر نئی چیز آئے گی تو ان کے لیئے آئے گی۔ لاڈلے بیٹے دیوار بن کے آگے کھڑے ہوتے ہیں اپنی بیویوں کے لیئے ۔

 مجال ہے کہ ساس کی کوئی گرم ہوا گرم پھنک تک بھی ان کی بیویوں تک پہنچ سکے۔

 ایسا سناتے ہیں کہ اماں جی کا دماغ ٹھیک ہو جاتا ہے اور ایک میں۔۔

 میں لہولہان مردہ بھی پڑی ہوں نا تو میرا شوہر میرا جنازہ بھی کبھی نہیں پڑھنے آئے گا ، جب تک  اپنی اماں کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر اجازت نامے پر دستخط نہ کروا لے کہ میں چلا جاؤں، کہیں میری جنت تو نہیں چھن جائے گی ۔۔۔

 لعنت بھیجتی ہوں میں ایسے شوہر کے اوپر۔ نہیں چاہیئے مجھے ایسا شوہر۔

وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ 

بیٹا ساری دنیا میں میاں بیوی کے بیچ جھگڑے ہوتے ہی ہیں۔ لڑکیاں صبر شکر کے ساتھ گزارا کر لیتی ہیں تم کیوں باتوں کو بڑھا رہی ہو۔۔۔

وہ سٹپٹا کر رہ گی اپنی ماں کے اس سبق کے اوپر۔ اماں آپ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کہہ رہی ہوں؟  میں کتنی تکلیف میں ہوں؟ 

میری زندگی کا چین سکون میری شکل صورت میری ہڈیوں کا زور تباہ ہو چکا ہے۔

 میں ان سات سال کے اندر گھس چکی ہوں. آپ کو میری بات سمجھ نہیں آ رہی۔

 ان سب نے مل کر میری ذات کا بھرتا بنا دیا ہے۔ آپ کو محسوس نہیں ہو رہا۔۔۔۔

میں بڑے سے بنگلے میں رہتی ہوں۔ مگر اس بنگلے میں میرے ساتھ میری کیا اوقات ہے اور کیا ہوتا ہے یہ آپ کو سنائی اور سجھائی نہیں دے رہا۔

 میں بڑی سی گاڑی میں بیٹھ کے آ جاتی ہوں مگر اس گاڑی میں بیٹھنے کے بعد اور اٹھنے سے لے کر بیٹھنے  تک مجھے کتنی باتیں سنائی جاتی ہیں ۔ کتنے طعنوں تشنوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ کتنی احسان مندیاں کرنی پڑتی ہیں۔ کتنے شکر گزاریاں کرنی پڑتی ہیں۔ آپ کو پتہ ہے وہ ٹیکسی اور وہ رکشہ بہت اچھا ہے۔ جس میں میں کسی کی احسان مند تو نہیں ہوں۔

میں تو ہوں ہاں کے سوا اپنی مرضی سے کوئی سوال تک نہیں کر سکتی ۔

 میں اپنی مرضی سے کچھ پہن نہیں سکتی ۔ 

نہ جاگ سکتی ہوں نہ سو سکتی ہوں

 نہ کھا سکتی ہوں نہ پی سکتی ہوں۔

نہ اپنی مرضی سے کسی کو ملنے جا سکتی ہوں ۔ نہ کسی کو ملنے کے لیئے بلا سکتی ہوں ۔ 

 اور آپ مجھے سبق سکھا رہی ہیں۔

 بھاڑ میں جائے ایسا صبر جو انسان کی ذات کو زیرو پہ لا کے کھڑا کر دے۔

جذبات میں جانے وہ کیا کچھ بولتی چلی گئی۔

 اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا۔  یہ سیلاب جیسے آج سب کچھ بہا لے جائیگا۔

 اس نے نہایت مایوسی کے ساتھ اپنے آنسو پونچھے ۔ کچھ سوچا لمبی سانسیں لیں ۔ اپنا بیگ اٹھایا اور دروازے کی جانب چل دی

جاتے ہوئے اس نے آنسو بھری نگاہوں سے اپنی ماں کی جانب دیکھا اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ، ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولی امی ایک بات کہوں

امی نے اسے دکھ اور حیرت سے دیکھا۔۔۔

 بول بیٹا

اس نے آنسو پونچھتے ہوئے گلوگیر لہجے میں کہا

 اگر آپ کو اپنی بیٹیوں کا سکھ چاہیئے تو انکا رشتہ گھر کے لاڈلے بیٹے کو دیجیئے گا کیونکہ وہ اپنی بیوی کے بھی لاڈ اٹھوا سکتا ہے ۔ جبکہ فرمانبردار تو اپنی بیوی کو اپنے گھر والوں کے ظلم سے بچانے کے لیئے پھس بھی نہیں کر سکتا۔

 امی اگلی بیٹی کا رشتہ سوچ سمجھ کر دینا۔

وہ لڑکھڑاتے قدموں سے گھر سے باہر نکل گئی اور

 کمرہ دیر تک اس کی آواز سے گونجتا رہا۔۔

       (ممتازملک ۔پیرس)

                ۔۔۔۔۔۔

بدھ، 22 نومبر، 2023

& سپرے۔ افسانہ ۔ قطرہ قطرہ زندگی۔ اشاعت 2024ء

      سپرے

توقیر اپنی ماں کیساتھ زندگی کے سفر میں خوشی خوشی رواں تھا ۔  وہ کئی روز سے اس پر زور دے رہی تھی کہ اب اسے اپنا گھر بسا لینا چاہیئے لیکن وہ سمجھتا تھا کہ اسے کسی ساتھی کی فی الحال کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔
بیٹا اب تو تم پینتیس سال کے ہو چکے ہو ، ملنے والوں کا بھی پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ
 اور بھئی کب کھلا رہی ہیں اپنے بیٹے کی شادی کی مٹھائی۔۔
 اس نے ایک ملنے والے انکل کی نقل اتار کر بتایا تو توقیر بھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا ۔
ماما جی آپکو تو نقال ہونے کا ایوارڈ ملنا چاہیے۔ آپ سے اچھے ملنے والوں کی نقل اور کوئی نہیں اتار سکتا ۔
بیٹا جی فی الحال تومیرا ایوارڈ ہے تمہارا بیاہ ۔ تاکہ ان سب کے منہ بند ہو سکیں ۔
ماما میں صبح کام پر جاتا ہوں۔ شام چھ سات بجے لوٹتا ہوں ۔اس کے بعد آپکے ساتھ دو تین گھنٹے گپ شپ کھانا اور شب بخیر ۔
اب اس روزمرہ کے معمول میں میں بہت خوش ہوں۔ باقی دونوں بھائی اور ایک بہن اپنے اپنے گھروں میں ہیں۔ مہمانوں کی طرح آتے ہیں اور چند گھنٹے گزارے ، کھایا پیا روانہ ہو گئے ۔ ایسے میں میں نے شادی کر لی تو اپنےساتھ یہ جو تین چار گھنٹے سکون کے گزارنے کو ملتے ہیں اس سے بھی جائینگی۔ 
زرینہ احمد نے کرسی پر بیٹھے  اپنے جوتوں کے تسمے باندھتے ہوئے بیٹے کو بڑے دلار سے دیکھا اور بولی۔ 
میں کونسا قیامت کا اعلان کرنے کو آئی ہوں اور کتنا جیوں گی میرے سامنے اپنے گھر کے ہو جاؤ گے تودل اطمینان سے دھڑکنا  بند کریگا ھھھ
مما پلیز ایسی باتیں نہ کیا کریں۔ آپ جیئں ہزاروں سال ۔ میں آپکے دل کو دھڑکنے پر مجبور رکھوں گا ان شاءاللہ
اوکے باہا 
اللہ حافظ 
وہ ہاتھ لہراتا ہوا ماں سے اپنے ماتھے پر بوسہ لیتے ہوئے اپنے کام پر روانہ ہو گیا ۔ 
زرینہ احمد اسے موٹر سائیکل سٹارٹ کرتے اور دور تک جاتے دیکھتی رہی ۔
گھر بھر کے کام سمیٹتے ہوئے دروازے کی گھنٹی بجی ۔
دروازے کے سوراخ  سے دیکھا تو انجم کھڑی تھی ۔ اس نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھولا ۔ 
السلام علیکم زرینہ کیسی ہو۔
میں تو ٹھیک ہوں  اللہ کا کرم ہے۔ تم سناو آج بڑے دنوں بعد چکر لگایا ۔
بس کیا کروں شادیوں کا سیزن ہے لوگوں کو رشتے دکھانے کی دوڑ دھوپ میں اکثر تو  خود اپنے گھر کا بھی راستہ بھول جاتی ہوں ۔ھھھھ
وہ ہنس پڑی ۔ 
زرینہ نے اسکے ساتھ بات کرتے کرتے دن کا کھانا بھی تیار کر لیا۔ چولہا بند کرتے ہوئے بولی
 آلو پالک بنایا ہے روٹیاں بھی ابھی اتاری ہیں توے سے ۔ کھانا کھاؤ گی ۔ ہاں ہاں کیوں نہیں نگوڑی پالک کا پوچھ لو پچھلے ہفتے دس روپے کی گٹھی مل رہی تھی جا بجا اور آج صبح سبزی والے سے بھاو پوچھا تو ایسا کرنٹ مارا کہ کہ توبہ ہے۔ ڈیڑھ سو روپے کی گٹھی ہو چکی ہے ۔۔
ہائیں کیا واقعی ۔۔زرینہ نے حیرت سے پوچھا 
تو اور کیا میں نے تو نہیں خریدیں بھائی ایک گٹھی سے تو ایک پلیٹ سالن بھی نہیں بنے گا۔  ہمارے گھر پر چار پانچ گٹھی پالک اور ایک کلو آلو ڈلیں گے تو ہی دو وقت کا مناسب سالن بنے گا ماشاءاللہ ہم  چھ لوگ ہیں کھانے والے ۔تم تو دو ماں بیٹا ہو ایک گٹھی بھی لو تو آرام سے گزارا ہو جائیگا ۔
ہاں یہ تو ہے ۔ ویسے میں نے یہ پچھلے ہفتے کی پالک پانی سکھا کر کوٹ کے فریزر میں پیکٹ بنا کر رکھ دی تھی آج توقیر کی فرمائش تھی، تم تو جانتی ہو نا صبح ناشتے کیساتھ ہی سالن بھی چڑھا دیتی ہوں ۔کام ختم کرتے کرتے آٹا گندھا ہو اور سالن بنا ہو تو انسان بے فکر ہو جاتا ہے کہ کوئی آیا گیا ہو تب بھی کھانا بنانے سے بے فکری رہتی ہے ۔ اب تم گیارہ بجے آئی ہو جب دوسرے گھروں میں ابھی کھانے کا سوچا جائیگا کہ آج کیا پکائیں اور ہم دونوں  بارہ بجے کھانا کھانے  کا کہہ رہے ہیں گھر کے کام سے فارغ ہوئی تھی کہ تم خود ہی آ گئی ۔ ورنہ تمہیں فون کرنے کا سوچ رہی تھی۔ 
بھائی کوئی اچھی سی لڑکی دکھاؤ اب میں چاہتی ہوں دو چار مہینے میں اس لڑکے کے فرض سے فارغ ہو ہی جاؤں۔
 اچھا تو کیا بیٹا راضی ہو گیا
 ارے وہ راضی ہو نہ ہو فرض تو ادا کرنا ہے نا
 یہ سن کر انجم نے اپنے بیگ سے بہت ساری تصویریں نکال کر ان کے سامنے پھیلا دیں اور لگی ایک ایک کی تفصیل بتانے۔
 زرینہ احمد  نے کچھ تصویریں ان میں سے منتخب کیں ۔
 شام کو بیٹے کو دکھا کر کسی ایک کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔
 بہت شور شرابے کے بعد بالاخر وہ روحانا کی تصویر دیکھ کر اس کی فیملی سے ملنے کے لیے تیار ہو گیا
خدا خدا کر کے شادی کے ہنگامے سے فرصت ہوئی اور زندگی ایک معمول پر آنے لگی
شادی کے ایک ہفتے تک تو دعوتیں چلتی رہیں
 پھر دولہا دلہن اپنے ہنی مون پر چلے گئے
 واپسی پر ہر چیز نئی نئی تھی
 وہ دفتر سے واپس آتا اور ماں کے ساتھ بیٹھنے لگتا تو کمرے میں دلہن شکوہ کرتی کہ مجھے وقت نہیں دیا۔
 نہ وہ کھانا بنانا چاہتی تھی نہ وہ گھر کے کاموں میں حصہ لینا چاہتی تھی۔
 اسے اس کے ساتھ بس ہر وقت کمرے میں بیٹھ کر رومانس کرنا تھا 
جب کہ ماں سمجھتی تھی اب اسے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لینی چاہیئیں
 لیکن ان کی یہ معمول کی بات بہو کو ہضم نہیں ہو رہی تھی اور ایشو لگنے لگی تھی
 زرینہ بیگم اب اپنی ذمہ داری ادا کر کے کچھ آرام کرنا چاہتی تھیں 
 ویسے بھی پچھلے کچھ دنوں سے اس کے گلے کی تکلیف کافی بڑھ گئی تھی جس سے اسے بخار رہنے لگا تھا ارام نہ ملنے کے سبب اور مہمان داری اور شادی کے کاموں کے دوران وہ بہت زیادہ تھک چکی تھی
 لیکن بہو کے لیے یہ سب ڈرامہ تھا 
زرینہ بیگم سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ اس سارے معاملے کو کس طرح سے ہینڈل کریں 
محبت سے بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کرتی کہ بیٹا اپنی بیوی کو بولو کہ اب وہ اپنے گھر کی ذمہ داریاں سنبھالے 
 یہ گھر اس کا ہے اور اسی کو سنبھالنا ہے
 میں اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہونا چاہتی ہوں۔
 جب کہ بہو کے ناز نخرے فیشن انداز ہی ختم نہیں ہو رہے تھے اس کی شکایتیں اب جھگڑوں میں بدلنے لگی تھی۔
بیٹے کی شادی سے پہلے کی ہوئی سب باتیں سچ ثابت ہونے لگی ماں کے ساتھ رہنے کی چاہ میں اب دونوں طرف سے شکایتوں میں گھرا ہوا تھا۔
 کبھی کبھی اسے لگتا ہے جیسے وہ ڈپریشن کا شکار ہونے جا رہا ہے 
اب تو وہ بھی ماں کے ساتھ تلخ ہونے لگا تھا
 زرینہ پریشان تھی  اس ساری صورتحال پر اب اسے کیا کرنا چاہیئے۔
 آج ماں کی حالت بگڑنے پر ایمرجنسی میں ڈاکٹر کو گھر بلانا پڑا ڈاکٹر نے بتایا کہ
اسکے گلے کی تکلیف اس کا سانس لینا بھی محال کر دیتی تھی وہ شدید تکلیف میں فوری دوا نہ ملے تو مر بھی سکتی تھی ۔ گلے کی رگیں پھول جانے سے اس کا تھوک نگنا اور سانس لینا ناممکن ہو جاتا تھا ۔ 
ڈاکٹر نے اسے سختی سے متنبہ کر رکھا تھا کہ اس کی تکلیف فوری دوا اور علاج کی متقاضی ہے۔ اس لیئے پہلے تو وہ گلے کی تکلیف کی وجہ بننے والی  چیزوں ٹھنڈا پانی الرجیز کا سبب بننے والی وجوہات سے دور رہیں ۔ اور انہیں فوری دوا میسر ہو ۔
بیگم کی بے جا فرمائشوں کی وجہ سے اب اسے مالی طور پر بھی تنگی کی شکایت رہنے لگی جبکہ شادی سے پہلے اسے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کی کمائی گھر کے خرچ کے لیئے کسی بھی لحاظ سے کم ہے۔
 کیونکہ زرینہ بیگم بہت اچھے طریقے سے اس کو سمجھداری کے ساتھ گھر کا حساب کتاب چلاتی تھی۔
  اب وہ اوور ٹائم کرنے کے بعد بھی شکایتوں میں گھرا رہتا۔
 دوسری طرف ماں کی دوا کا خرچ بھی ہے اب اسے بہت بھاری لگنے لگا۔
 جبکہ اسے دوا کے ساتھ  اچھی خوراک کی ضرورت بھی تھی۔ 
ماں کا سمجھانا اسے زچ کرنا لگتا اس کا مشورہ اسے ورغلانا لگتا اور سمجھتا اس کی ماں اسے اس کی بیوی سے متنفر کر رہی ہے
اسے اب اپنی ماں کی ہر بات جھگڑا لگتی اس کا سمجھانا سر کھانا لگتا ۔ 
آج رات ہی ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی
 واپسی پر اس نے ماں کی آواز سنی تو برا سا منہ بنا کر بیزاری سے کمرے میں پہنچا
 بیزاری سے سلام کیا اور بولا کہیئے کیا بات ہے
 ماں کی حالت اس کی سرخ آنکھیں بخار سے تپتا ہوا جسم نہ اسے کچھ دکھائی دے رہا تھا نہ سنائی۔۔۔
 وہ ٹھیک سے بات بھی نہیں کر پا رہی تھی اس کی سانس اکھڑ رہی تھیں
 اس نے اشارے سے اپنی سانس کی دوا اس سے مانگی دراز کی طرف اشارہ کیا
 اس نے  بے دلی سے دراز کھولا 
ماں کا پمپ ہاتھ میں اٹھایا لیکن کچھ سوچ کر وہیں رک گیا
 ماما پمپ تو نہیں ہے یہاں 
یہیں رکھا تھا یہی ہے
 وہ بڑی مشکل سے اتنا کہہ سکی۔
 جلدی کرو۔۔
 میری سانس اکھڑ رہی ہے۔
 لیکن اس میں نہیں ہے
 دس منٹ تک وہ بری طرح سے تڑپتی رہی اور یہ ڈھونڈنے کا ڈرامہ کرتا رہا 
بالاخر وہ بے حال ہو کر بستر پر بے سد ہو چکی تھی بری طرح تڑپنے کے بعد اس کا جسم ٹھنڈا ہو چکا تھا 
اس نے ماں کی نبض ٹٹولی
 دل کی دھڑکن دیکھی جو تقریبا ڈوب چکی تھی۔
 ایک اطمینان کی سانس لی اور بولا
سوری ماما یہ دوا آپکو دے دیتا تو آپ پھر سے ٹھیک ہو جاتیں
 اور پھر سے آپ کی چخ چخ شروع ہو جاتی ۔ 
جو مجھے میری بیوی کی شکایتوں کا موقع دیتی ۔
سوری ماما آپکو اب چلے جانا چاہیئے تھا۔ 
وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا اور اسکے بالوں میں۔ نادیدہ انگلیاں مساج کر رہی تھی بہت پیار کیساتھ ۔
ماں کا حلق کا سپرے جو اس نے جیب میں ڈال لیا تھا وہ  اس کی مٹھی میں تھا
زرینہ احمد کا سر ایک جھٹکے سے ایک جانب لڑھک گیا۔
توقیر اپنی ماں کا سر اپنی گود میں لیئے بیٹھا تھا
خالی آنکھیں اسے مر کر بھی محبت سے دیکھ رہی تھیں۔۔
              -------


منگل، 10 مئی، 2016

& ماں کی چھاؤں سلامت تھی / افسانہ۔ قطرہ قطرہ زندگی





 ماں کی چھاؤں سلامت تھی
ممتازملک ۔ پیرس


See original image

نثارصاحب کے چاروں بچے اب اپنے پاوں پر کھڑے ہو چکے تھے .
 دونوں بیٹیاں اچھی جاب بھی کر رہی تھیں اور اچھے گھروں میں بیاہی جا چکی  تھیں اور بہت خوشحال زندگی گزار رہی تھیں . بیٹے بھی اچھے عہدوں پر فائز اور شادی کے بعد اپنے اپنے گھروں میں آباد ہو چکے تھے . تین کمروں کا اپارٹمنٹ اب دونوں میاں بیوی کے لیئے کافی تھا. اچانک نثارصاحب کی وفات سے اب ان کی ماں اکیلی ہو گئی تھی ،بلکہ وہ آمدنی جو میاں کی دکان سے آتی تھی اب ختم ہو گئی تھی  . 
انکے بچوں کا خیال تھا کہ ابا کافی جمع پونجی چھوڑ گئے ہیں، اس لیئے ماں کو کوئی تنگی نہیں ہے لیکن گھر کا ٹیکس ،چارجز، یوٹیلٹی بلز یہ سب ادا کرنے کے لیئے اب ماں کے پاس کچھ نہیں تھا۔
 زیورات کے نام پر کوئی سونا چاندی بھی وہ سفید پوشی میں بچوں کی ضروریات پوری کرتے ہوئے  بنا نہ پائی تھیں کہ اسی کو بیچ کر کچھ عرصہ گزارہ کیا جا سکے . گھر کا کچن  جو ہر چیز سے بھرا رہتا تھا وہ نعمت خانہ اور سٹور روم بھی چارماہ دس دن کی عدت کے دوران ختم ہو چکا تھا .
 اپنی وضع داری کا بھرم رکھنے کو یہ ماں اپنی اولاد سے بھی یہ نہ کہہ سکی کہ مجھے ماہانہ کچھ رقم دے دیا کرو یا ان اخراجات کی ادائیگی کر دیا کرو .
 ایک روز چھوٹے بیٹے نے اس کی طرف چکر لگایا . ماں کو گلے لگایا . خیریت پوچھی اور یہ کہہ کر روانہ ہو گیا کہ "ماں اپنا خیال رکھنا "پھر آؤنگا۔۔۔۔۔۔
چار روز بعد بڑے بیٹے نے بھی ماں کے گھر آ کر خیریت پوچھی اور "پھر آؤنگا "کہہ کر روانہ ہو گیا . بڑی بیٹی نے فون پر ایک آدھ منٹ بات کر کے" ماں اچھی ہو " کہہ کر فون رکھ دیا.
چھوٹی بیٹی کا ماں کے گھر جانے کا آج ارادہ ہوا، سوچا آج ماں کو بٹھا کر خود اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر پلاؤں  گی .
ماں سے گلے مل کر خیریت معلوم کی اور اسے بٹھایا کہ میں آپ کے لیئے چائے بناتی ہوں .

ماں نے پوری کوشش کی کہ وہ اس کے باورچی خانے  میں نہ جائے لیکن وہ نہ مانی .
 اس نے کچن کیبنٹ کھولی تو ٹی بیگ ندارد . 
وہ سٹور روم میں چائے لینے گئی تو وہ سٹور روم جہاں ان کے باپ کے ہوتے اس قدر کھانے پینے کا سامان ہوتا کہ پاؤں رکھنے کو جگہ نہ ہوتی اب وہاں کھانے کو دانہ نہ تھا .
ماں کایہ سوچ کر حال خراب ہونے لگا کہ آج بھرم کی سنبھالی ہوئی چادر تار تار ہونے کو ہے .
 اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا .
ماں کیا کرتی ہیں آپ نے گروسری بھی نہیں خریدی ابھی تک. 

لیکن ماں تو صوفے پر اکھڑی ہوئی سانسیں لے رہی تھی ۔
اس کے تو ہاتھ پاوں پھول گئے . امّاں امّاں کیا ہوا.

بولیں نا...
اس نے ماں کو بمشکل پڑوسن کی مدد سے اپنی گاڑی میں ڈالا کہ وہ ایمبولینس کے انتظار میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی . 

فورََا قریبی ہسپتال میں ان کا چیک اپ  ہوا ، 
وہ بے چینی سے ہسپتال کے ایمرجنسی روم کے باہر ٹہل  رہی تھی . اور سوچ رہی تھی امّاں بابا کے جانے کے بعد ان کے غم میں بہت کمزور ہو گئی ہیں .
 اتنے میں ڈاکٹر نے باہر آ کر اس سے پوچھا 
آپ کی ماں اتنے روز سے بھوکی کیوں ہے ؟
  تین چار روز سے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہو گئی تھی اب انہیں کچھ کھلا دیں تاکہ دوا دی جا سکے .
وہ فورا اپنی ماں کے پاس پہنچی جو اب ڈرپ لگنے کے بعد قدرے ہوش میں تھی .

 آپ نے کھانا کب سے نہیں کھایا ؟اور کیوں نہیں کھایا ؟
وہ بس وقت نہیں ملا ۔۔۔
کس بات کا؟
کھانا کھانے کا امّاں ؟؟
نہیں وہ گروسری کرنے کا ؟ 

وہ منمنائی
امّاں آپ سارا دن گھر میں ہوتی ہیں کام بھی کوئی خاص نہیں ہے پھر یہ کیا وجہ ہوئی کہ گھر کے سامنے کے سٹور سے گروسری کا وقت نہیں ملا آپ کو؟
ماں نے آنکھیں موند  لیں. 
اماں مجھے پتہ ہے آپ جاگ رہی ہیں مجھے جواب دیں
جانے کہاں سے موٹے موٹے آنسو ماں کی بند آنکھوں کناروں سے باہر لڑھک گے
شاید سب کچھ کہہ گئے
بیٹی نے اپنے منہ پر شدت غم سے نکلتی چیخ کو روکنے کے لیئے ہاتھ رکھ کر پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا
اس کے ذہن میں پچھلے چار دن کی فلم چلنے لگی
آفس لنچ ، گھر  پر دو روز سے ہونے والی دعوتوں اور پھر بہت سا کھانے کا سامان مسجد میں بھی بھیج دیا تھا . 

اور یہاں اس کی ماں چار روز سے بھوکی تھی . 
ہمیں یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ ہم بہن بھائی ساتھ بیٹھ کر ماں سے پوچھتے کہ امّاں آپ کی مالی حالت کیسی ہے .؟
ہم آپ کو مالی طور پر کیسے تحفظ دے سکتے ہیں ؟
یا ہم سب آپ کا جیب خرچ طے کر دیں تاکہ آپ کو کوئی تکلیف نہ ہو.
یہ سب بہت آسان تھا ان کے لیئے ، لیکن ماں کی غیرت نے ان سے یہ سب کہنا سننا گوارہ نہ کیا .

ہمیں یہ خیال خود سے ہونا چاہیئے تھا کہ ہماری شہر بھر میں کی جانے والی نیکی میں سب سے بھاری نیکی کو ہم نے قابل اعتناء ہی نہ جانا اور محروم رہے ۔ 
اس نے  فون پر بہن بھائیوں کو فورََا اسپتال  پہنچنے کی تاکید کی اور بہن کو گھر سے کھانا لیکر آنے کی تاکید کی ۔ 
آج وہ ارادہ کر چکی تھی کہ اپنی بہن بھائیوں کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ کر  اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آئند ایسی صورتحال کبھی پیدا نہیں ہونی چاہئیے کہ ہماری ماں کو کسی بھی چیز کی کمی ہو۔ وہ مانگیں  یا نہ مانگیں, وہ استعمال کریں یا نہ کریں,  وہ لاکھ منع کرتی رہیں، لیکن ایک اچھی رقم  ان کے اکاؤنٹ میں ہر مہینے خود بخود بھیجی جانی چاہیئے۔ وہ بھائیوں کو بھی پابند کرنا چاہ رہی تھی اور آج اس نے اپنی بہن کے ساتھ بھی یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ بھی اور اس کی بہن بھی جنہیں  اللہ تعالی نے، بے حد نواز رکھا تھا،  اسی ماں کے پروان چڑھانے پر، ان کی تعلیم و تربیت پر آج وہ اس قابل تھے کہ اچھے گھروں میں رہتے تھے۔ اچھی جگہ ان کی شادیاں ہوئی تھیں۔ اور زندگی ان پر مہربان تھی، تو اس زندگی کو ان کی ماں پر بھی مہربان ہونا چاہیئے۔ یہ فیصلہ کرتے ہی جیسے اس کے دل میں سکون کی ایک لہر اتر گئی۔ اس نے یہاں تک سوچ لیا اگر باقی بہن بھائی نہ بھی مانیں ۔ بالفرض ان میں سے کسی نے اپنی آنکھیں ماتھے پر بھی رکھ لیں اور بھول گئے کہ یہ ان کی ماں ہے،  تب بھی وہ اپنی ماں کی ذمہ داری خود اٹھائے گی، اور بغیر کسی تردد کے، بغیر کوئی احسان جتائے خاموشی سے اپنی ماں کے اکاؤنٹ میں ہر مہینے اتنا ضرور بھیجے گی کہ اس کی ماں کو کبھی کسی سے، کسی چیز کی حاجت نہ رہے۔
ایمرجنسی وارڈ میں وہ اپنی ماں کے سرہانے کھڑی سوچنے لگی کہ
 ماں اپنے بچوں کی ہر ضرورت بنا کہے جان جاتی ہے اور اولاد اتنی بے خبر کیسے ہو سکتی ہے ۔ 
ایک عمر کے بعد ماں باپ اور اولاد کی جگہ بھی بدل جاتی ہے شاید ۔ پہلے ماں باپ ہمارا خیال رکھتے ہیں اور پھر بچوں کو اپنے ماں باپ کا خیال رکھنا ہوتا ہے ۔ 
یہ ہی اس رشتے کا حسن ہے ۔
اس نے بہن کے آنے سے پہلے کینٹین سے سینڈوچ منگوا کے ماں کو دھیرے سے پکارا 
امّاں ۔۔۔۔ آنکھیں کھولیں 
آپ کو میری قسم ۔۔۔۔۔
ماں نے ڈبڈباتی آنکھوں سے نقاہت سےاسے دیکھا  
منہ کھولیں جلدی سے 
اس نے ماں کے منہ میں پیار سے لقمہ رکھا 
اس ایک لقمے کے ماں کے منہ میں جاتے  ہی آج اسے شدت سے اس بات کا احساس ہوا کہ اپنے پیاروں سے بے خبری کیوں معاف نہیں ہوتی۔
 اس کی آنکھوں سے دو آنسو گرے اور ماں کے دوپٹے میں جذب ہو گئے ۔ اس نے اللہ کا  شکر ادا کیا کیا کہ بہت دیر نہیں ہوئی تھی اور اس کے سر پر اسکی ماں کی چھاؤں سلامت تھی ۔
                       ۔۔۔۔۔

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/