ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک

جمعہ، 27 مارچ، 2026

مارچ27/ 2026ء۔ سند مشاعرہ ۔ راہ ادب فرانس ۔ پنجابی مشاعرہ


    سند مشاعرہ💐
    عید ملن سپیشل 


راہ ادب فرانس دا 73واں آن لائن عالمی پنجابی مشاعرہ , گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی دی سانجھ نال پیش کیتا گیا۔ 
تاریخ:
27مارچ 2026ء
دن :جمعہ
 ویلہ :
 پاکستان: رات8 وجے
 انڈیا:رات 8.30 وجے
 یورپ: شام 4 وجے

انتظام کار :
۔ چوہدری محمد نواز گلیانہ اٹلی 
۔ کامران عثمان ۔ کراچی

منتظمہ تے نظامت:
۔ ممتازملک ۔ پیرس فرانس 

صدارت:
۔ ملک رفیق کاظم بھسین۔ لاہور

اچچے پروہنے :
۔ اندرجیت لوٹے۔ انڈیا
۔ ندیم افضل ندیم ۔ شیخوپورہ 

بیٹھک شاعراں :
۔ سرور صمدانی۔ ملتان
۔ لیاقت علی عہد ۔ یوکے
۔ قمر علی سیفی۔فیصل آباد 
۔ وقار علی ۔ بحرین
۔ اظہر سلیم ۔ لاہور 
۔ منظور شاہد ۔ قصور 
۔ الیاس آتش۔ مرید کے
۔ ریحانہ شبیر۔ لاہور
۔ اشفاق احمد ۔سپین
               ۔۔۔۔۔۔



اسی تہاڈی ایس خوبصورت شرکت لئی دل دیاں گہرائیاں نال تہاڈا شکریہ ادا کردے آں۔ 💐🙏
شکر گزار:
ٹیم: راہ ادب فرانس 
ٹیم: گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی 
                    ۔۔۔۔۔۔۔۔

پیش اے مشاعرے دا یوٹیوب لنک ۔ ایس نوں کاپی کر کے پیسٹ کر مشاعرہ انجوائے کرو👇
https://www.youtube.com/live/cLQSKaRyIhQ?is=L1VYN8J-qJlzL4q9

مارچ26/ 2026ء۔ ہم شاعر و ادیب ۔




     سند مشاعرہ 💐
   "اچانک" 😜
عید ملن مشاعرہ 🍨🌹

ادبی تنظیم "ہم شاعر و ادیب انٹرنیشنل" کا آن لائن عالمی اردو مشاعرہ پیش کیا گیا۔
منتظم:
۔ کامران عثمان ۔ کراچی

تاریخ : 26مارچ 2026ء
 دن: جمعرات 
 وقت:
 پاکستان رات 9بجے 
بھارت رات 9:30 بجے 
یورپ: سہہ پہر 5 بجے

نظامت کار :
 ممتازملک، پیرس، فرانس

 صدارت:
۔  ناصر علی سید ۔ کینیڈا
۔ اشرف یعقوبی ۔ انڈیا 
۔  خواجہ ثقلین سمیط۔ انڈیا

مہمان خصوصی:
شجاع الزماں خان شاد ۔ کراچی
۔ مظہر قریشی۔ انڈیا
۔ انیس احمد ۔ لاہور 

مجلس شعراء:
۔ ڈاکٹر ممتاز منور۔ انڈیا
۔ صائم کاشان ۔ راولپنڈی 
۔ وسیم کلیامی۔ راولپنڈی 
۔ رضوانہ رشاد۔ انڈیا

                ۔۔۔۔۔۔



آپ سب کی شرکت کے لیئے ہم تہہ دل سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ 
♥️💙💜🤎💖🩶🩷💚🤍💐💐💐💐💐💐💐💐💐
شکرگزار
ٹیم : راہ ادب فرانس 
ٹیم: ہم شاعر و ادیب انٹرنیشنل 
                 ۔۔۔۔۔۔

پیش ہے مشاعرے کا یوٹیوب لنک اسے کاپی پیسٹ کر کے مشاعرے کا لطف لیجیئے۔ 👇
               ۔۔۔۔۔۔۔
https://youtu.be/_qoJReMXA4Y?si=XsY8xs1eGfYD4ldy
               ........



https://www.youtube.com/live/lOa_tPKQvcg?is=Z0A69XUkce2B6CNZ

مارچ 2026/25ء ۔ سند مشاعرہ ۔ راہ ادب فرانس ۔ بزم ارباب سخن پاکستان ۔ اردو مشاعرہ


سند مشاعرہ 💐
عید ملن سپیشل

راہ ادب فرانس اور بزم ارباب سخن پاکستان کا 96واں آن لائن عالمی اردو مشاعرہ
گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی کے تعاون کیساتھ پیش کیا گیا۔
منتظمین:
۔ چوہدری محمد نواز گلیانہ، اٹلی 
۔ کامران عثمان ۔ کراچی
۔ ممتازملک ۔ فرانس

تاریخ : 25مارچ 2026ء
 دن: بدھ 
 وقت:
 پاکستان رات 8 بجے 
بھارت رات 8.30 بجے 
یورپ: شام 4 بجے

منتظم و نظامت کار :
 ملک رفیق کاظم بھسین ۔ لاہور 

 صدارت:
۔ خواجہ ثقلین سمیط۔ انڈیا 

مہمان خصوصی:
۔ اشرف یعقوبی ۔ انڈیا 
۔ شیریں گل۔ لاہور 
۔ مظہر قریشی ۔ انڈیا 

مجلس شعراء:
۔ فرخ ضیاء ۔ اسلام آباد  
۔ انیس احمد ۔ لاہور
۔ ڈاکٹر ممتاز منور۔ انڈیا
۔ سرور صمدانی۔ ملتان  
۔ لیاقت علی عہد ۔ یوکے
۔ شگفتہ شفیق۔ کراچی
۔ اختر امام انجم ۔ انڈیا 
۔ راحت رخسانہ ۔ کراچی
۔ ڈاکٹر سخی سرمست۔ انڈیا 
۔ منزہ جاوید۔ اسلام آباد 
۔ الیاس آتش۔ مریدکے
۔ صائم کاشان ۔ راولپنڈی 
۔ مرزا ارشد خان ۔ اٹک
۔ اظہر سلیم ۔ لاہور 
۔ رضوانہ رشاد۔ انڈیا 
۔ بیباک ڈیروی ۔ ڈی جی خان 
                ۔۔۔۔۔۔



  آپ سب کی شرکت کے لیئے ہم تہہ دل سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ 
♥️💙💜🤎💖🩶🩷💚🤍💐💐💐💐💐💐💐💐💐
شکرگزار
ٹیم : راہ ادب فرانس 
ٹیم: بزم ارباب سخن پاکستان 
ٹیم: گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی
                 ۔۔۔۔۔۔

پیش ہے مشاعرے کا یوٹیوب لنک اسے کاپی پیسٹ کر کے مشاعرے کا لطف لیجیئے۔ 👇

https://www.youtube.com/live/uiPpO2tgB10?is=q2njrhlAH4eLEfdG
                   ......


جمعرات، 26 مارچ، 2026

درد یہ اب سہا نہیں جاتا۔ اردو شاعری۔ باردیگر




زخم کیوں کر سیا نہیں جاتا 
درد یہ اب سہا نہیں جاتا

ساتھ رہنا بھی تیرے مشکل ہے
 بن تیرے بھی رہا نہیں جاتا 

خود سمجھ لے تیری عنایت ہے
ہے جو کہنا کہا نہیں جاتا

ہر طرف سے ہوں میں خسارے میں
تو کہے کچھ میرا نہیں جاتا 

اب تو لازم طلب ہے سائے کی
دھوپ میں اور جلا نہیں جاتا

تو ہے اس سے بھی باخبر مولا 
جو دعا میں کہا نہیں جاتا

کتنی ممتاز ہے مسیحائی 
ورنہ ہم سے چلا نہیں جاتا 
      ۔۔۔۔۔۔

پیر، 23 مارچ، 2026

اس شہر میں واقف ۔۔ اردو شاعری ۔ باردگر

اس شہر میں واقف تو بیشمار ملیں گے
کہتے ہیں جنہیں دوست نہ سرکار ملیں گے

چھوڑ آؤ زبان اپنی ذہن اپنا دو گروی
تب جا کے یہاں نام کے یہ یار ملیں گے 

تحفے میں انہیں جان تو نذرانہ میں کر دوں 
پر سوچ میری اور نہ اظہار ملیں گے 

بے غرضی و ہمدری و چاہت کا خزانہ
اخلاص اگر چاہیئے سو  بار ملیں گے

قصہ ہے میری زیست کا عنوان سے عاری
ہر طرز کے زخمی یہاں کردار ملیں گے

کہنے کو نہیں کچھ تو نہ سننے کو بچا کچھ 
ایسے جو ملے تم سے تو بیکار ملیں گے

من چاہے سوالات نہ ہونے کے نتائج 
ٹوٹے ہوئے وہ دل یہاں مسمار ملیں گے

امید یہ ممتاز سے پستی میں اتر جا 
اللہ نہ کرے ایسے نہ لاچار ملیں گے

ہفتہ، 21 مارچ، 2026

کوٹیشنز ۔ چھوٹی چھوٹی باتیں

 رشتہ کرتے وقت سوچ لیجیئے کیونکہ
کچھ رشتے ناجائز نہیں ہوتے 
لیکن غیر اخلاقی 
اور بد صورت ضرور ہوتے ہیں ۔۔
  (چھوٹی چھوٹی باتیں) 
(تحریر: ممتازملک پیرس) 

ایک باوقار انسان سلیم خان ۔ کالم


ایک باوقار انسان سلیم خان 
تحریر:ممتازملک 
 پیرس فرانس 

یہ 2016ء کی ایک شام تھی ۔
اس وقت میں فیس بک پر بہت سرگرم تھی اپنے آرٹیکلز شیئر کیا کرتی تھی۔  اپنی شاعری اپنے دوستوں کے ساتھ بانٹا کرتی تھی۔  ایسے میں ان باکس میں مجھے ان بکس فیس بک پر ایک پیغام موصول ہوا ۔
ممتاز جی آپ کہاں سے ہیں؟
 کب سے لکھتی ہیں؟ کیا کرتی ہیں ؟ میں نے مختصر جواب دیا کہ پیرس سے لکھتی ہوں اور آرٹیکلز اور یہ یہ مضامین میرے کام میں ہیں۔ شاعری کرتی ہوں وغیرہ وغیرہ ۔ 
انہوں نے مجھ سے میرا تعارف مانگا،  تو میں نے تھوڑا جھجک محسوس کی کہ سوری بھائی میں اتنی لمبی چیٹ پہ کسی سے گفتگو نہیں کرتی۔  لیکن انہوں نے پھر اپنا اپنی بیگم کا حوالہ دیا کہ ہم دونوں آپ کے بہت فین ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔  ہمیں بہت اچھا لگتا ہے کہ پیرس میں ہماری ایک پاکستانی بہن اتنی جرات مندی کے ساتھ لکھتی ہیں۔  ہر موضوع پہ آواز اٹھاتی ہیں۔  تو کیا ہم آپ سے ملاقات کر سکتے ہیں؟
  میں نے جھجکتے ہوئے سوچا اللہ جانے کیسے لوگ ہیں؟  ان سے ملنا چاہیئے کہ نہیں ملنا چاہیئے ۔ گھر بھی نہیں بلا سکتی۔  کیونکہ میں جانتی نہیں ہوں۔  اجنبی ہوں۔  بہرحال باتیں ہوئیں اور پھر میں نے اپنے شوہر سے کہا ۔۔۔
شیخ صاحب اس طرح سے سلیم خان  ایک صاحب ہیں اور ہم سے  ملنا چاہتے ہیں ۔  میری تحریریں پڑھتے ہیں بڑی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ 
انہوں نے کہا شریف انسان لگتے ہیں۔  دل مانتا ہے تو بلا لو۔  کہیں باہر مل لیتے ہیں ۔ 
 اس وقت ہماری بوتیک تھی اور میں  نے شیخ صاحب کی اجازت سے کہا کہ میں بوتیک کا پتہ دے رہی ہوں۔  وہ وہیں پہ آئیں گے ۔ اپ ان کو اچھے سے ہینڈل کیجئے گا ۔ میاں بیوی دونوں ہوں گے۔  تب تک میں بھی پہنچ جاؤں گی۔  یا آپ لوگ یہاں آ کے مجھے پک کر لیجئے گا۔  گاڑی میں۔  تو پھر ہم ان کے ساتھ جا کر  کسی ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر گپ شپ لگائیں گے اور کھانا کھائیں گے ۔ تو وہیں سے ان کو خدا حافظ کہہ دیں گے ۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔  یوں سلیم خان صاحب اور ان کی بیگم طاہرہ سلیم خان پہلی بار بوتیک پر پہنچے ۔ 
چھ فٹ سے اوپر قد، لمبے چوڑے خوبصورت شخصیت کے مالک ۔ سرائیکی لہجے میں بات کرنے والے ، "ایل ایل بی" کیا "ایس ایم لاء کالج" کراچی سے . اعلی تعلیم یافتہ ۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے سلیم خان بھائی ۔ بیحد مہذب اور منکسر مزاج لیکن رعب دار اور باوقار انسان پینٹ کوٹ سوٹ ان کا ہمیشہ سے پہناوا رہا۔  طاہرہ جی پانچ فٹ کی پیاری سی مسکراہٹ والی ہنستی مسکراتی ہر موضوع پر کھل کر اظہار خیال کرنے والی انکی بیگم انکے ساتھ تھیں۔ 
شیخ صاحب سے ملاقات ہوئی اور یوں ہم لوگوں نے "نوآزی لو سک"  کے  ایک ترک ریسٹورنٹ" حیال"  میں کھانا کھایا۔  بہت اچھا وقت گزرا ۔ بات سے بات نکلتی چلی گئی۔  ایک دوسرے سے تعارف حاصل کیا۔۔ بہت محبت بہت عزت دی انہوں نے اور ہم نے اس پہلی ملاقات کی ایک یادگار تصویر بنائی اکٹھے ۔ وہ یادگار تصویر  موجود ہے اور اس کے بعد انہوں نے کہا ممتاز جی آپ ہمارے گھر ضرور چکر لگائیے گا ۔ آپ یوں سمجھئے گا کہ وہ میرا گھر نہیں ہے وہ آپ کا میکہ ہے۔  آپ اپنا میکہ سمجھ کے وہاں آئیئے گا۔  ہم ہمیشہ دونوں میاں بیوی آپ کو ویلکم کریں گے اپنے گھر میں۔  اتنی پرخلوص دعوت تھی کہ ان کے بار بار اصرار پر پھر ہم نے ایک بار ان کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔  ہم وہاں گئے ۔ کیا محبت سے انہوں نے ہمارے لئے کھانا بنایا تھا ۔ ہم نے ایک میز پر بیٹھ کے کھانا کھایا ۔ خوبصورت چھوٹا سا پیارا سا انکا گھر ۔  بہت پرسکون سے علاقے میں۔  پھر وہ ہمارے ساتھ باہر نکلے۔  ہم لوگ اپنی اپنی گاڑی پر تھے۔  جب ہم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کئی جگہ پر گھومے پھرے۔  اور اس کے بعد تقریبا ہر سال ایک دو بار تو ضرور آنا جانا ہوتا تھا ۔ وہ بھی کبھی پیرس آئے ۔ ضرور ملاقات ہوئی۔  میری کتابوں کی رونمائی کے پروگرام میں دو گھنٹے کی ڈرائیو کر کے دونوں میاں بیوی پہنچتے رہے۔  یہ بہت کم ہوتا ہے کسی تعلق میں، محبت میں ،جہاں اپنے سگے رشتہ دار آپ سے سو بہانے کر کے آپ کی کسی خوشی میں شامل ہونے سے یا آپ کی کسی تکلیف میں شامل ہونے سے جان چھڑا لیتے ہیں۔  پلہ جھاڑ لیتے ہیں ۔ اور صرف  تھوڑا سا وقت بھی وہ آپ کو نہیں دے سکتے۔  باقی ساری چیزیں ایک طرف رکھیں۔  وہاں پر سلیم خان بھائی اور طاہرہ سلیم خان کا  اتنا لمبا سفر کرنا،  تشریف لانا اور ہمیں بھرپور وقت دینا یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔  سلیم خان صاحب ان لوگوں میں سے تھے جو میری سوچ اور میرے عملی کردار کے ساتھ ہمیشہ مطابقت رکھتے تھے۔  یا ہم ان بے وقوف لوگوں میں سے تھے جو ہر بات میں سچ بول کے،  سٹینڈ لے کر ، دشمن ہو یا دوست صحیح بات پر اس کی طرفداری کر کے بہت ساری  توپوں کا رخ اپنی جانب کر لیتے تھے۔  جو  ہر قدم پر اچھے کام اور اچھے ارادے کے بدلے میں ہمیشہ خود کو  خطرات کے حوالے کر دیتے تھے ۔ ہم لوگ ہمیشہ سچ بولنے کے لیے نقصان اٹھاتے تھے۔  کسی کو راستہ دینے کے لیئے خود ٹھوکر کھا لیتے تھے ۔ ہم چاہتے تو اس کے الٹ منافق فطرت بنا لیتے اور اپنی زبان کو اپنی اس پاور کو بہت ساری حویلیاں گھر بنانے پہ استعمال کرتے۔  مال بٹورنے پہ استعمال کرتے۔   لوگوں کو دھوکہ دینے میں استعمال کرتے ہیں۔  مگر سلیم خان بھائی بھی میرے ایسے بھائی تھے کہ شاید جب ہم دنیا میں لانے سے پہلے تخلیق کیے گئے تو جس مٹی سے ہم گوندھے گئے تھے اس مٹی کی رمق ہم سب میں موجود تھی۔  ہمیں دولت سے زیادہ اس بات سے غرض تھی کہ میرے سامنے اگر کوئی نہیں تو پیچھے جا کر یقینا میرے اچھے کام پر مجھے گالی دیتا ہوگا ۔ کیا رشتہ دار، کیا دوست، کیا احباب، وہ مجھے بے وقوف کہتے ہوں گے۔  لیکن اس کے بعد بھی ہم نے اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا۔  ہم نے کسی سے مفاد پرستی نہیں کی۔  دھوکہ نہیں دیا ۔ جھوٹ نہیں بولا۔  طاہرہ اور سلیم خان کی جوڑی ایک بے مثال جوڑی تھی۔  شادی کے 49 سال اکٹھے گزارنا اور پھر اتنے پرسکون انداز میں چلتے پھرتے اپنی اولادوں کو وقت دیتے ہوئے ، خاموشی سے ہنستے مسکراتے ہوئے، بغیر کسی تڑپ کے،  پرسکون نیند سو جانا ۔۔۔بالکل ایسے ہی جیسے ماں اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔  بچہ سو گیا۔  سر لڑھک گیا۔  نہ ماں کو پتہ چلا،  نہ بچے کو۔  اتنی پرسکون موت کہ جس کے لیئے ہر ایمان والا دعا کرتا ہو یا اللہ ہمیں چلتے پھرتے بغیر کسی چارپائی کی محتاجی کے،  بغیر کسی کے سر پر بوجھ بنائے،  عزت کے ساتھ ایمان کے ساتھ اس دنیا سے لے کر جانا۔ آمین  ایسی ہی موت، ایسی ہی بدائی اس دنیا سے سلیم خان صاحب کی ہوئی۔  ان کے چہرے کا پرسکون انداز حالانکہ ان کی رنگت سانولی تھی لیکن جاتے ہوئے ان کے چہرے پر روشنی اور بالکل صاف رنگت یہ بتا رہی تھی کہ الحمدللہ میں ایمان پر تھا میں سیدھے راستے پر تھا۔  میں صراط مستقیم پر تھا۔  اور میں خوشی سے اس دنیا سے اس دنیا کی طرف اپنے سفر کو جاری کر رہا ہوں۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ اس روز دنیا سے ایک اچھا انسان کم ہو گیا ۔ لیکن مجھے امید ہے کہ  اس دنیا میں جہاں وہ گیا ہے،  اس میں اس کا خیر مقدم بہت اچھا ہوا ہوگا۔  بطور مسلمان،  بطور ایمان والے یہ میرا یقین ہے کہ جس طرح سے انہوں نے اس دنیا کو خدا حافظ کہا ۔ کیونکہ یہ زندگی مومن کے لیے جیل ہے اور کافر کے لیئے جنت ۔ تو ہمارے بدن کا یہ جیل خانہ روشنی کے اس پرندے کو جب آزاد کرتا ہے تو واقعی وہ اطمینان ایمان والوں کو نصیب ہوتا ہے۔  ان کی بیٹیوں کے لیئے ان کی بیگم کے لیے یقینا ان کی کمی تو کوئی پوری نہیں کر سکتا ۔ لیکن وہ ان پر فخر کر سکتے ہیں۔  وہ ایک بہترین باپ تھے۔  ایک بہترین شوہر تھے ۔ جو اپنی بیوی کی آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتے تھے۔  جو اپنی بیٹیوں کے لیئے ہر وقت ان کی پشت پر کھڑے رہتے تھے ۔ وہ شادی شدہ تھیں۔ بچوں والی تھیں لیکن ان کی پشت پر مضبوطی سے کھڑے رہے۔  انہوں نے وہ سنت نبھائی جسے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو بیاہنے کا مطلب انکو لاوارث چھوڑ کر،  کسی کے قدموں میں پھینک دینا نہیں ہے۔  بلکہ ان کا ساتھ دینا ہے ۔ جب تک وہ زندہ ہیں یا جب تک آپ زندہ ہیں۔  انہوں نے بیٹیوں سے اپنی محبت کی،  ان کا ساتھ دینے کی وہ سنت نبھائی۔  انہوں نے سچ بول کر ایمانداری کے ساتھ وہ زندگی گزاری جو ایک مسلمان کو گزارنی چاہئے ۔ جو ایک اچھے انسان کو گزارنی چاہئے ۔ مجھے فخر ہے کہ فیس بک سے بننے والا یہ تعلق 8 فروری 2016ء سے 2026ء میں ان کی وفات تک،  ان کے اس دنیا سے اس دنیا میں منتقل ہونے تک برقرار رہا۔  بہت عزت کے ساتھ، محبت کے ساتھ، بہت توقیر کے ساتھ، انہوں نے ہمیشہ بہت عزت دی ۔ میں اور شیخ صاحب میرے بچے جنہیں وہ  خود ہمیشہ فرمائش کر کے بلاتے تھے۔  جب دو تین بار وہ بھی ساتھ گئے اور ان کے سر پہ انہوں نے ہاتھ رکھا ۔ بہت محبت دی۔  واقعی جیسے وہ اپنے  ننہال میں آئے ہوں۔  یقینا کوئی نانا دادا جیسی محبت کر سکتا ہے۔  کوئی بڑا بھائی جیسے ہمارے سر پہ ہاتھ رکھ سکتا ہے۔  اتنی ہی محبت۔ نہ ہماری جائیدادیں بٹنی تھیں ، نہ ہمارے کوئی رشتے ہونے تھے،  نہ ہماری ایک دوسرے کے ساتھ کوئی خاندانی تعلقات تھے ،جن کا ہم لحاظ رکھتے، ہم چہروں کی اس کتاب کی دنیا میں ملے، جسے لوگ فیس بک کہتے ہیں اور ان کے جانے تک ہم فیس بک کے علاوہ دوسرے سوشل میڈیاز پر منتقل ہو چکے تھے۔  وہ بھی اپنی سیاسی مصروفیات میں تھے۔  اپنے ملک سے بے حد محبت کرتے تھے۔  انہیں ہر اس شخص سے محبت تھی جو پاکستان کی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔  جو پاکستان سے محبت کرتا ہے۔  اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔  سلیم خان صاحب نے دوستوں رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں کی صورت میں بہت سے زخم بھی اٹھائے۔  درد اٹھائے ۔ تکلیفیں بھی اٹھائیں۔  لیکن اس کے بعد بھی ان کی جانب سے کسی کو کوئی نقصان نہیں دیا گیا ۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درد اٹھائے تو مگر کسی کو درد دیئے نہیں۔  اس کے بدلے صرف محبت، خلوص بانٹا۔  یا دل بہت دکھ جائے تو خاموشی اختیار کر لی۔ سلیم خان صاحب کو ہم ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔  طاہرہ سلیم صاحبہ ہمارے لیئے اسی عزت کی جگہ اور مقام پر رہیں گی۔  جس جگہ پر وہ سلیم خان صاحب کی زندگی میں تھیں ۔ ہم ہمیشہ ان کے ساتھ جڑے رہیں گے انشاءاللہ ۔ کیونکہ اس محبت میں کوئی غرض نہیں ہے۔  کوئی لالچ نہیں ہے۔  کوئی مفاد نہیں ہے ۔ لیکن پھر بھی جب بھی میں کبھی کسی تکلیف میں ہوئی تو سب سے پہلے آنے والا فون میرے لیئے سلیم خان بھائی کا یا طاہرہ صاحبہ کا تھا۔  میں کیسے ان کی عزت نہ کروں۔  جو ہمیشہ میری ہر کامیابی پر سب سے پہلے خوش ہوتے ہوں ۔ جو میری ہر بات کے اوپر سب سے پہلے آ کر مجھے شاباش دیتے ہوں۔  میری کسی بھی کارکردگی پر دل کھول کر مجھ سے محبت کا اظہار کرتے ہوں۔  میں ان سے محبت کیوں نہ کروں میرا ان سے خون کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔  لیکن واقعی انہوں نے ثابت کیا رشتے خون کے نہیں ہوتے رشتے احساس کے ہوتے ہیں۔  خون کے رشتے تو آپ کا خون بھی بہا دیتے ہیں،  خون کے رشتے تو آپ کے خون کو پانی کر دیتے ہیں۔  آپ کو خون تھکوا دیتے ہیں۔  لیکن وہ جن سے خون کا کوئی رشتہ نہیں ۔ سچ میں وہی رشتے ہوتے ہیں جو آپ کے ساتھ ہر وہ بات شیئر کرتے ہیں۔  جو شاید خون کے رشتے بھی برداشت نہیں کرتے۔  سن نہیں سکتے ۔ سہہ نہیں سکتے ۔ میری بہت ساری دعائیں سلیم خان صاحب کے لیئے ۔ آپ جہاں بھی ہیں۔  یقینا وہ بہت اچھی دنیا ہے۔  کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔  اچھے لوگ ہمیشہ اچھی جگہ پر ہوں گے اور بری جگہ برے لوگوں کے لیئے ہے۔ 

پہلی ملاقات کی یادگار 2016ء


ایکساتھ سمندر یاترا 2023ء

بدھ، 18 مارچ، 2026

مارچ 18 2026ء ۔ سند مشاعرہ ۔ راہ ادب فرانس ۔ بزم ارباب سخن پاکستان ۔ اردو مشاعرے ۔ رمضان سپیشل 2026ء


     سند مشاعرہ 💐
   رمضان سپیشل 
         1447ھ

راہ ادب فرانس اور بزم ارباب سخن پاکستان کا 95واں آن لائن عالمی اردو مشاعرہ
گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی کے تعاون کیساتھ پیش کیا گیا۔
منتظمین:
۔ چوہدری محمد نواز گلیانہ، اٹلی
۔ ملک رفیق کاظم بھسین۔ لاہور 
۔ کامران عثمان ۔ کراچی

تاریخ : 18مارچ 2026ء
 دن: بدھ 
 وقت:
 پاکستان دوپہر 3بجے 
بھارت دوپہر 3.30 بجے 
یورپ: صبح 11 بجے

منتظمہ و نظامت کار :
 ممتازملک، پیرس، فرانس

 صدارت:
۔ سرکار مدینہ ص

نگران اعلی:
خواجہ فرید الدین ۔ انڈیا

رہنمائی:
شجاع الزماں خان شاد ۔ سعودی عرب 
. سرور صمدانی۔  ملتان 

مجلس ثنا خوان: 
۔ اشرف یعقوبی۔  انڈیا
۔ راحت رخسانہ ۔ کراچی
۔ ڈاکٹر سخی سرمست۔ انڈیا
۔ اختر امام انجم۔  انڈیا
۔ شازیہ عالم شازی۔ کراچی 
۔ طاہر ابدال طاہر ۔ لاہور
۔ اظہر سلیم ۔ لاہور 
۔ رضوانہ رشاد۔ انڈیا
۔ فوزیہ اختر ردا۔  انڈیا 
۔ شمیم خان۔  فرانس 
۔ عابد حسن عابد راولپنڈی
۔  رشید حسرت کوئٹہ
                ۔۔۔۔۔۔


آپ سب کی شرکت کے لیئے ہم تہہ دل سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ 
♥️💙💜🤎💖🩶🩷💚🤍💐💐💐💐💐💐💐💐💐
شکرگزار
ٹیم : راہ ادب فرانس 
ٹیم: بزم ارباب سخن پاکستان 
ٹیم: گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی
                 ۔۔۔۔۔۔

پیش ہے مشاعرے کا یوٹیوب لنک اسے کاپی پیسٹ کر کے مشاعرے کا لطف لیجیئے۔ 👇

https://www.youtube.com/live/9nSnkLz0rpA?is=lJqH2hix-rq-CYrY
               ۔۔۔۔۔۔۔
https://youtu.be/_qoJReMXA4Y?si=XsY8xs1eGfYD4ldy
               ........


مارچ13/ 2026ء ۔ سند مشاعرہ ۔ راہ ادب فرانس ۔ پنجابی مشاعرہ ۔ رمضان سپیشل 2026ء



    سند مشاعرہ💐
   رمضان سپیشل
          1447ھ 

راہ ادب فرانس دا 72واں آن لائن عالمی پنجابی مشاعرہ , گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی دی سانجھ نال پیش کیتا گیا۔ 
تاریخ:
13مارچ 2026ء
دن :جمعہ
 ویلہ :
 پاکستان: دوپہر 3 وجے
 انڈیا: دوپہر 3.30 وجے
 یورپ: صبح 11وجے

انتظام کار :
۔ چوہدری محمد نواز گلیانہ اٹلی 
۔ کامران عثمان ۔ کراچی 

منتظمہ تے نظامت:
۔ ممتازملک ۔ پیرس فرانس 

نگران:
۔ ملک رفیق کاظم بھسین۔ لاہور

مہمان سرکار مدینہ:
۔ ندیم افضل ندیم ۔ شیخوپورہ
۔ ساجد نصیر ساجد۔ اٹلی
۔ نوید عرفان ندیم ۔ اٹلی 
۔ سرور صمدانی ۔ ملتان
۔ اظہر سلیم ۔ لاہور
۔ رومی بیگ گجراتی۔ عمان 
۔ طاہر ابدال طاہر ۔ لاہور
۔ رضوانہ رشاد۔ انڈیا 
               ۔۔۔۔۔۔


اسی تہاڈی ایس خوبصورت شرکت لئی دل دیاں گہرائیاں نال تہاڈا شکریہ ادا کردے آں۔ 💐🙏
شکر گزار:
ٹیم: راہ ادب فرانس 
ٹیم: گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی 
                    ۔۔۔۔۔۔۔۔

پیش اے مشاعرے دا یوٹیوب لنک ۔ ایس نوں کاپی کر کے پیسٹ کر مشاعرہ انجوائے کرو👇

https://www.youtube.com/live/8c6dVKpV0OA?is=pygjxidsQRMiQ4kM
               ۔۔۔۔۔۔۔

https://youtu.be/IT56oT6PQqs?si=YURl8lXlokGrvZqW
               ۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 12 مارچ، 2026

ویمن ڈے مشاعرہ 2026ء ۔ ممتازملک شرکت


بدھ، 11 مارچ، 2026

مارچ11/ 2026ء۔ راہ ادب فرانس ۔ بزم ارباب سخن پاکستان ۔ اردو مشاعرہ ۔ رمضان سپیشل 2026ء۔ حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ


     سند مشاعرہ 💐
   رمضان سپیشل 
         1447ھ

راہ ادب فرانس اور بزم ارباب سخن پاکستان کا 94واں آن لائن عالمی اردو مشاعرہ
گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی کے تعاون کیساتھ پیش کیا گیا۔
منتظمین:
۔ چوہدری محمد نواز گلیانہ، اٹلی
۔ ملک رفیق کاظم بھسین۔ لاہور 
۔ کامران عثمان ۔ کراچی

تاریخ : 11مارچ 2026ء
 دن: بدھ 
 وقت:
 پاکستان دوپہر 3بجے 
بھارت دوپہر 3.30 بجے 
یورپ: صبح 11 بجے

منتظمہ و نظامت کار :
 ممتازملک، پیرس، فرانس

 صدارت:
۔ سرکار مدینہ ص
رہنمائی:
شجاع الزماں خان شاد ۔ سعودی عرب 

مجلس ثنا خوان: 
۔ آصفہ مریم۔ نارووال 
۔ راحت رخسانہ ۔ کراچی
۔ ڈاکٹر سچی سرمست۔ انڈیا
۔ سرور صمدانی۔ ملتان 
۔ مرزا ارشد خان ۔ اٹک
۔ قمر کیانی۔ ملتان
۔ شازیہ عالم شازی۔ کراچی 
۔ طاہر ابدال طاہر ۔ لاہور
۔ اظہر سلیم ۔ لاہور 
۔ رضوانہ رشاد۔ انڈیا
                ۔۔۔۔۔۔

آپ سب کی شرکت کے لیئے ہم تہہ دل سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ 
♥️💙💜🤎💖🩶🩷💚🤍💐💐💐💐💐💐💐💐💐
شکرگزار
ٹیم : راہ ادب فرانس 
ٹیم: بزم ارباب سخن پاکستان 
ٹیم: گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی
                 ۔۔۔۔۔۔

پیش ہے مشاعرے کا یوٹیوب لنک اسے کاپی پیسٹ کر کے مشاعرے کا لطف لیجیئے۔ 👇

https://www.youtube.com/live/6iZ_GmDWOCg?
is=AhtxOzKBoJt_6Ynn
               ۔۔۔۔۔۔۔
https://youtu.be/Vi4XaXPmnII?si=ELuWrjrPKiWdlx1k
               ........


جمعہ، 6 مارچ، 2026

مارچ 6/ 2026ء۔ سند مشاعرہ۔ راہ ادب فرانس۔ پنجابی مشاعرہ۔۔رمضان سپیشل 2026ء /



    سند مشاعرہ💐
   رمضان سپیشل
          1447ھ 

راہ ادب فرانس دا 71واں آن لائن عالمی پنجابی مشاعرہ , گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی دی سانجھ نال پیش کیتا گیا۔ 
تاریخ:
6مارچ 2026ء
دن :جمعہ
 ویلہ :
 پاکستان: دوپہر 3 وجے
 انڈیا: دوپہر 3.30 وجے
 یورپ: صبح 11وجے

انتظام کار :
۔ چوہدری محمد نواز گلیانہ اٹلی 
۔ کامران عثمان ۔ کراچی 

منتظمہ تے نظامت:
۔ ممتازملک ۔ پیرس فرانس 

صدارت:
۔ ملک رفیق کاظم بھسین۔ لاہور

مہمان سرکار مدینہ:
۔ ندیم افضل ندیم ۔ شیخوپورہ
۔ ساجد نصیر ساجد۔ اٹلی
۔ نوید عرفان ندیم ۔ اٹلی 
۔ سرور صمدانی ۔ ملتان
۔ اظہر سلیم ۔ لاہور 
۔ الیاس آتش۔ مریدکے
۔ عطیہ رحمان ۔ شاہدرہ 
۔ رومی بیگ گجراتی۔ عمان 
۔ طاہر ابدال طاہر ۔ لاہور
۔ اشفاق احمد ۔ سپین 
۔ یوسف تابش اسلام پوری ۔ اوکاڑا
               ۔۔۔۔۔۔


اسی تہاڈی ایس خوبصورت شرکت لئی دل دیاں گہرائیاں نال تہاڈا شکریہ ادا کردے آں۔ 💐🙏
شکر گزار:
ٹیم: راہ ادب فرانس 
ٹیم: گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی 
                    ۔۔۔۔۔۔۔۔

پیش اے مشاعرے دا یوٹیوب لنک ۔ ایس نوں کاپی کر کے پیسٹ کر مشاعرہ انجوائے کرو👇

https://www.youtube.com/live/-4VUNTeF-IE?is=aKgLFtu9lcOmyHtU
               ۔۔۔۔۔۔

شرکت ممتاز ملک ۔ پنجابی مشاعرہ

3فروری 2026 کلونت کور چن صاحبہ ولوں ہون والے آن لائن عالمی پنجابی مشاعرہ وچ پیرس توں ممتاز ملک دی شرکت

چل چلیئے مدینے دربار چلیئے۔ پنجابی نعت



پھل رحمتاں دے چنن ہزار چلیئے
چل چلیئے مدینے دربار چلیئے

ہر اک دے نصیباں وچ ہوندا نہیں  
بلایا سانوں اے اوس سرکار چلیئے

دل کردا اے اوتھے ہر وار چلیئے
چھڈ رولے اے سارے گھر بار چلیئے

کیوں ڈردا ایں انہاں نوں پکار من کے
نہیں چھڈدے او غماں وچکار چلیئے 

ایویں ہویا نہیں شہر مدینہ منتاز
رہندے رب دے مٹھل من ٹھار چلیئے
۔۔۔۔۔۔۔

بدھ، 4 مارچ، 2026

مارچ4/ 2026ء سند مشاعرہ ۔ راہ ادب فرانس ۔ بزم ارباب سخن پاکستان ۔ اردو مشاعرہ ۔ رمضان سپیشل ۔ حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ


     سند مشاعرہ 💐
   رمضان سپیشل 
         1447ھ

راہ ادب فرانس اور بزم ارباب سخن پاکستان کا 93واں آن لائن عالمی اردو مشاعرہ
گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی کے تعاون کیساتھ پیش کیا گیا۔
منتظمین:
۔ چوہدری محمد نواز گلیانہ، اٹلی
۔ ملک رفیق کاظم بھسین۔ لاہور 
۔ کامران عثمان ۔ کراچی

تاریخ : 4مارچ 2026ء
 دن: بدھ 
 وقت:
 پاکستان دوپہر 3بجے 
بھارت دوپہر 3.30 بجے 
یورپ: صبح 11 بجے

منتظمہ و نظامت کار :
 ممتازملک، پیرس، فرانس

 صدارت:
۔ شجاع الزماں خان شاد۔ سعودی عرب 
۔ رشید حسرت۔ کوئٹہ

مجلس ثنا خوان:
۔ ندیم افضل ندیم ۔ شیخو پورہ 
۔ سرور صمدانی۔ ملتان 
۔ ملک رفیق کاظم بھسین ۔ لاہور
۔ مرزا ارشد خان ۔ اٹک
۔ اختر امام انجم ۔ انڈیا
۔ عابد حسن عابد ۔ راولپنڈی 
۔ اظہر سلیم ۔ لاہور 
۔ شبانہ خان شابی تار۔ کراچی
۔ منظور شاہد ۔ قصور
۔ یوسف تابش اسلامپوری۔ اوکاڑا 
۔ محرم عروج ۔ فیصل آباد 
۔ رضوانہ رشاد۔ انڈیا
                ۔۔۔۔۔۔


  آپ سب کی شرکت کے لیئے ہم تہہ دل سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ 
♥️💙💜🤎💖🩶🩷💚🤍💐💐💐💐💐💐💐💐💐
شکرگزار
ٹیم : راہ ادب فرانس 
ٹیم: بزم ارباب سخن پاکستان 
ٹیم: گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی
                 ۔۔۔۔۔۔

پیش ہے مشاعرے کا یوٹیوب لنک اسے کاپی پیسٹ کر کے مشاعرے کا لطف لیجیئے۔ 👇


https://www.youtube.com/live/qKPXdHhEQRk?is=h6QlHsHbic0B_dvP
                ۔۔۔۔۔

https://youtu.be/BOhfXb8svE8?si=3Fj8Zs_YRfVAAd5C
             ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس محفل سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تبصرہ

شجاع الزماں خان شاد 
سعودی عرب 

عمدہ انعقاد۔۔۔۔ 
محفلِ تقدیس کا اہتمام مقدس ماہ میں تطہیر ِ قلبی کا سبب ہے۔ 
ممتاز ملک صاحبہ کی کیف و سرور سے لبریز نظامت نے اس محفل کو وجد کی کیفیات سے مہمیز کیا۔ 
جملہ شرکاِء نے خلوصِ دل سے عقیدت بھرا کلام پیش کیا۔ 
راہِ ادب فرانس اور بزمِ ارباب سخن کے لیے ہدیہء تبریک۔

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/