راہ ادب فرانس کی آٹھویں سالگرہ
رپورٹ:
(ممتازملک۔ پیرس فرانس)
فرانس کے شہر پیرس میں پاکستانی خواتین کی پہلی ادبی نسائی تنظیم راہ ادب فرانس کی اٹھویں سالگرہ نہایت باوقار انداز میں ایک مقامی ریسٹورنٹ میں منائی گئی۔ (اس تنظیم کا قیام 12اپریل 2018ء کو پیرس کے ایک مقامی ریسٹورنٹ میں شمیم خان صاحبہ ، روحی بانو صاحبہ اور ممتازملک صاحبہ کی مشاورت میں عمل میں آیا تھا۔)
جس میں راہ ادب فرانس کی ٹیم اور قریبی ادبی دوستوں نے شرکت کی۔ پروگرام کی نظامت محترمہ ممتازملک نے کی ۔۔ پروگرام کا آغاز آسیہ ایوب خان صاحبہ کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ غزالہ یاسمین صاحبہ نے نعتیہ اشعار پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ جبکہ منتخب کلام پیش کرنے والی خواتین میں معروف صحافی محترمہ ناصرہ خان صاحبہ آسیہ ایوب خان صاحبہ ، غزالہ یاسمین صاحبہ اور فرح کریم صاحبہ شامل تھیں۔ سب نے ٹیم راہ ادب کو ان کے دنیا بھر میں ہر ہفتے کامیاب ادبی اردو اور پنجابی پروگراموں اور مشاعروں کے آن لائن عالمی انعقاد پر بھرپور مبارکباد پیش کی۔
جبکہ ٹیم راہ ادب کی جانب سے بانی اور صدر محترمہ ممتاز ملک صاحبہ نائب صدر محترمہ شمیم خان صاحبہ اور تنظیم کی آرگنائزر محترمہ روحی بانو صاحبہ نے اپنے خوبصورت کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ۔ سبھی دوستوں کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اس قسم کی ادبی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا رہے گا۔ پروگرام کے اختتام پر بہترین ظہرانے کا اہتمام کیا گیا ۔ جو کہ سیلف پیمنٹ کی ایک بہترین مثال رہا۔
فرانس میں ادبی پروگرام کا انعقاد بذات خود ایک جہاد سے کم نہیں ہے ۔ یہاں پر مقیم پاکستانیوں کو نہ تو کتاب خریدنے سے کوئی دلچسپی ہے ، نہ ہی اسے پڑھنے سے ۔ پھر یہاں پر مفت خوری کی عادت نے انہیں ویسے بھی کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ اس لیئے ٹیم راہ ادب فرانس نے یہ بیڑا اٹھانے کی ٹھانی کہ ہم یہاں لوگوں کی غیرت جگانے کا کام کریں گے ۔ انہیں اپنی جیب سے کھانے کی اور کسی پر بوجھ نہ بننے کا عملی سبق سکھائیں گے۔ ان میں ادبی شعور پیدا کرنے کی یہ کوششیں ہماری زندگی کا مقصد ہیں ۔ جو قومیں کتاب اور قلم سے ناطہ توڑ لیتی ہیں وہ چاہے کتنے بھی مہنگے کپڑے پہن لیں یا خود پر کتنے بھی زیورات کا بوجھ لاد لیں ۔ ان میں اور وزن اٹھانے والے گدھے میں رتی بھر بھی فرق نہیں ہوتا ۔ کیونکہ ایسے ہی لوگ بڑے آسانی کیساتھ شکار کیئے جاتے ہیں۔ کبھی مذہب کے نام پر، کبھی سیاست کے نام پر ، کبھی کسی شخصیت کے نام پر ۔ علمی اور ادبی پروگرام اسی سوجھ بوجھ اور دانشمندی کو پیدا کرنے میں اپنا بہترین کردار ادا کرتے ہیں ۔ یاد کیجیئے جب ہمارے بچپن میں ہر ہفتے مہینے میں بزم ادب کے نام سے سکول کالج میں پروگرام ہوا کرتے تھے۔ تو ہم میں معلومات اکٹھی کرنے ,شعر و شاعری پڑھنے یاد کرنے , تقریروں کے لیئے مواد اکٹھا کرنے کی کیسی تگ و دو ہوا کرتی تھی ۔ جو ہمیں تمیز اور تہذیب سکھانے کا موجب بنتے تھے۔ آج کے 1000نمبرز میں سے 1100 نمبرز لینے والے نام نہاد طالبعلم کو پوچھیں تو اسے بزم ادب کا نام اور مطلب تک معلوم نہیں ہے ۔ نتیجہ ہماری علم اور علمی پروگراموں سے دوری کے سبب نہ ہم اچھی علاقائی زبان جانتے ہیں ، نہ اچھی اردو بولتے ہیں، نہ اچھی انگریزی ، نہ جس ملک میں رہتے ہیں اس کی زبان اچھے سے جانتے بولتے یا سمجھتے ہیں ۔ راہ ادب فرانس نے اسی بات پر یہ مشکل راہ اپنائی کہ ہم اپنی اولادوں کے لیئے اپنی زبان اور علم و ادب کو زندہ رکھ سکیں ۔ وہ اس میں کامیاب ہو یا نہ ہو لیکن اپنے حصے کا کام اور یہ ادبی سفر پوری ایمانداری کیساتھ جاری رہیگا ۔ ان شاءاللہ
ان الفاظ اور دعاؤں کیساتھ ممتاز ملک صاحبہ، شمیم خان صاحبہ اور روحی بانو صاحبہ نے تمام دوستوں کیساتھ مل کر راہ ادب فرانس کی سالگرہ کا کیک کاٹا ۔ اور تمام دوستوں کا ایک بار پھر سے تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
۔۔۔۔۔۔