جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کتاب
ڈیجیٹل کی دنیا میں اج کتاب اپنی ساخت کو تبدیل کرتے ہوئے بڑی تیزی سے داخل ہو چکی ہے کاغذ پر کتاب پڑھنا لوگوں کی جبلت میں شامل رہا ہے۔ لیکن ان کو وہاں سے ہٹا کر ہاتھ میں کتاب کو چھوئے بغیر الفاظ کو محسوس کئے بغیر صرف آنکھوں سے دیکھنا اور آنکھوں سے ذہن میں اتارنا ایک مختلف تجربہ ہے۔ جس کے لیئے ہماری پچھلی نسل اتنی آسانی سے راغب نہیں ہوتی۔ ہمیں لطف کتاب پڑھنے کا تب آتا ہے جب وہ ہمارے ہاتھوں میں ہو۔ اس کا لمس اس کے الفاظ کو چھو کر ہم پہلے ہاتھوں سے اسے آنکھوں تک، انکھوں سے اپنے ذہن تک اتارتے ہیں۔ پھر اسے اپنے دل میں بساتے ہیں۔ لیکن آج ڈیجیٹل دنیا میں دیکھا جائے تو اس کی کوسٹ کو ، اس کی قیمت کو کم کرنے کے لیئے پہلی بار اگر سوچا جائے تو یہ بہت بہترین انداز ہے کہ ڈیجیٹل کی دنیا میں کتاب کو محفوظ کر دیا جائے لیکن اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو کتاب جو کاغذ پر آتی ہے وہ شاید ایک انسان کے بعد بہت شوقین اس کی اولاد ہے تو وہ اس کتاب کو سنبھالتی ہے ورنہ اسے ادھر ادھر دے دلا کر یا پھر ردی میں دینے کے بعد ختم کر دیا جاتا ہے۔ لیکن لکھنے والے پر یا اس کی روح پر کیا گزرتی ہوگی جس نے وہ کتابیں لکھی ہیں یا پڑھی ہیں یا کبھی خریدی تھی بڑے شوق سے۔ اپنی لائبریری بنائی تھی۔ اس حساب سے اگر ڈیجیٹل ورلڈ کو دیکھا جائے۔ ڈیجیٹل بک کو دیکھا جائے۔ اس کتاب کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ ہم رہیں یا نہ رہیں ہماری اولاد باذوق ہو یا بدزوق ہو لیکن یہ کام اور یہ کتاب ہمیشہ کے لیئے اس دنیا میں محفوظ ہو جائے گی۔ ہمیں ہمارے بعد ڈھونڈتا ہوا کوئی بھی کہیں سے آئے گا اور ڈیجیٹل ورلڈ میں ہمیں ڈھونڈنا چاہے گا تو باسانی ہمیں ڈھونڈ سکے گا اور کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کونے میں ہم اپنے کام کے ساتھ زندہ رہیں گے۔ جسم فانی ہے لیکن ہر انسان کا کام لافانی ہوتا ہے۔ اور وہ اچھا ہو تو پھر کیا ہی بات ہے ۔ تو میں سمجھتی ہوں کہ ڈیجیٹل کی دنیا میں کتاب کا آنا بہت خوش آئند ہے ۔ اور پڑھنے کا ذوق اور شوق پیدا کرنے کی ضرورت ہے لوگوں کو یہ سمجھانے کی کہ کہاں پر کون سی چیز اچھی ہے مثبت ہے اور جو منفی ہے اس کو آپ نے کیسے سمجھنا ہے۔ اس کے جو منفی اثرات ہیں اس سے آپ نے کیسے بچنا ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھنا اور سمجھانا بہت زیادہ ضروری ہے۔
باقی ڈیجیٹل کی دنیا میں کتاب آنا بہت خوش ہے لیکن ہاتھ میں چھو کر کتاب پڑھنے کا نشہ وہی جانتا ہے جس نے کبھی کتاب سے محبت کی ہو۔ یا جس کے لیے مطالعہ ایک نشہ رہا ہو۔
رائے۔۔۔
ممتازملک
پیرس فرانس