میرا نام ممتازملک ہے ۔ میں گزشتہ 28 برس سے ولموبل میں مقیم ہوں ۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کی میری کے نزدیک بے زبان جانوروں کے لئے بنایا گیا ایک شیلٹر ہاؤس بند کیا جا رہا ہے۔ جہاں پر ریسکیو کئے گئے جانور لا کر انہیں کسی کو گود دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان کا خیال رکھا جاتا ہے۔
اور آپ اب اس شیلٹر کو بند کروانا چاہتے ہیں ۔۔
کیوں بند کروانا چاہتے ہیں؟
ان بے زبانوں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے ؟
کہاں جائیں گے وہ ؟
کیا آپ ان سب جانوروں کو گود لے رہے ہیں؟
اگر ایسا ہے پھر تو بہت اچھی بات ہے ، اور اگر ایسا نہیں ہے تو آپ اس شیلٹر کو صرف اس لیئے بند کروانا چاہتے ہیں کہ وہاں اسے چلانے والی خاتون کے شوہر کے ساتھ آپ کا کوئی سیاسی مقابلہ رہا یا آپ الیکشن میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے یا آپ سے وہ پچھلا الیکشن جیتے تھے یا اب آپ ان سے یہ الیکشن جیت چکے ہو اور ان کی بیگم وہاں دیکھ بھال کر رہی ہے۔ لہذا آپ اس معاملے کو ایسے ممالک کی طرح ہینڈل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں ہم مہذب نہیں کہتے، جنہیں ہم منصف نہیں کہتے، آپ دو بڑے ہاتھیوں کی لڑائی میں معصوم بے زبان جانور گھاس کی طرح کچلے جائیں گے۔ بے گھر کر دیے جائیں گے۔
وہ شیلٹر ان کا گھر ہے۔ اس گھر میں سے ایک معصوم سا بچہ میں نے بھی گود لیا تھا ۔ وہ بچہ جسے کوئی نہیں لیتا تھا کیونکہ وہ کالا تھا اور وہ معصوم سا بچہ کالے رنگ کی وجہ سے واپس کر دیا جاتا تھا۔ لیکن دو ماہ کا وہ معصوم جب آیا تو ہم سب گھر والوں نے اس کے لیئے اپنے چھوٹے سے گھر ہی نہیں اپنے دل کے دروازے بھی کھول دیئے۔ میں نے اس کا نام لڈو رکھا ۔ وہ لڈو اب میرے گھر کا لاڈلا بچہ ہے۔ ہم سب اس بچے کے نوکر ہیں اور ہمیں وہ بہت عزیز ہے میں یہ کبھی نہیں سوچ سکتی کہ میں اس بچے کو اپنے گھر سے باہر کر دوں ۔ کیونکہ میرے خیال میں یہ گھر اس کا ہے ہم اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس کی ادائیں ہماری خوشی ہیں ۔ وہ اداس ہو تو ہم سب فکرمند ہو جاتے ہیں ۔
ایسے میں آپ شیلٹر کے بچوں سے، ان بے زبان جانوروں سے، ان کا گھر چھین لیں گے، جو پہلے ہی ریسکیو کئے گئے ہیں۔ جانے کتنے دکھ، کتنی تکلیفیں، کتنے غم دیکھ کر وہ یہاں تک محفوظ ہاتھوں تک پہنچے۔ جہاں ان سے پیار کیا جائے ۔ جہاں ان کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ آپ ان سے یہ گھر مت چھینیں۔
اس گھر کو چھیننے کے بعد آپ ان بچوں کی آنکھوں میں وہ انتظار دیکھ سکیں گے؟ جنہیں یہ یقین نہیں ہوگا کہ انہیں اگلے وقت کا کھانا ملے گا یا نہیں ملے گا ۔۔
کیا آپ خود کو ان بچوں کی جگہ پر رکھ کر تصور کر سکتے ہیں ؟
فرض کیجئے آپ وہ بلی کے بچے ہوتے اور وہ بلی کے بچے آپ کی جگہ میئر ہوتے۔
آپ بھی دروازے پر دیکھتے ہیں کہ کوئی آپ سے محبت کرے۔
کوئی آپ کی بھوک کو مٹانے کا سامان کرے اور کبھی کبھی بھوک سے زیادہ اہم چیز محبت کا سایہ ہوتا ہے ۔ چھت ہوتی ہے۔ جہاں انسان کم کھانے میں بھی خوش رہ سکتا ہے۔ تو وہ معصوم بے زبان بھی کم میں خوش رہ لیتے ہیں۔ لیکن ڈر کے سائے میں جی نہیں پاتے۔
وہ جو پہلے ہی انسانوں کے ستائے ہوئے ہیں، ان سے ڈرے ہوئے ہیں۔ ان کے ڈر کو ، خوف کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر آپ کو کسی سے سیاسی اختلاف ہے یا آپ کو لگتا ہے کہ اس ادارے میں کوئی فنڈنگ درست طریقے سے استعمال نہیں ہو رہی تو آپ یہ کر سکتے ہیں کہ آپ اپنی سیاسی مخالف کی بیگم کو اس ذمہ داری سے سبکدوش کر سکتے ہیں کسی جائز وجہ کے ساتھ یا ان سے درخواست کر سکتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ چلنا ارام دہ محسوس نہیں کرتا اس لیئے آپ اس شیلٹر کی ذمہ داری کسی اور کو دے دیجیئے تو مجھے امید ہے کہ وہ خوشی خوشی کسی اور اچھی اور ہمدرد اور ایماندار خاتون کو یہ ذمہ داری دے دیں گی۔ لیکن خدا کے لیئے آپ اس شیلٹر کو بند کر کے معصوم بچوں سے ان کا گھر، ان کی پناہ گا نے چھینیں۔
یا تو ان بچوں کو گود لے لیجیئے لیکن پھر اور بچے جنہیں ریسکیو کیا جاتا ہے، ان کا کیا ہوگا !
میری فرینچ زبان بہت اچھی نہیں ہے۔ پھر بھی میں نے سوچا میں آپ کے پاس آپ کی علاقے میں رہنے والی عوام میں سے ایک ہوں۔ جہاں کے اس شیلٹر کا ایک بچہ ، میرا بچہ ہے۔
اس تعلق سے میرا حق ہے کہ میں اس پر آواز اٹھاؤں۔ آپ کو اپنے دل کی تکلیف پہنچاؤں۔ شاید آپ اسے سمجھ سکیں۔
بہت ساری ہمدری کی امیدوں کے ساتھ
ممتازملک
ولموبل
میرا لڈو
اچھا دن میئر صاحب
میرا نام ممتازملک ہے ۔ میں گزشتہ 28 برس سے ولموبل میں مقیم ہوں ۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کی میری کے نزدیک بے زبان جانوروں کے لئے بنایا گیا ایک شیلٹر ہاؤس بند کیا جا رہا ہے۔ جہاں پر ریسکیو کئے گئے جانور لا کر انہیں کسی کو گود دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان کا خیال رکھا جاتا ہے۔
اور آپ اب اس شیلٹر کو بند کروانا چاہتے ہیں ۔۔
کیوں بند کروانا چاہتے ہیں؟
ان بے زبانوں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے ؟
کہاں جائیں گے وہ ؟
کیا آپ ان سب جانوروں کو گود لے رہے ہیں؟
اگر ایسا ہے پھر تو بہت اچھی بات ہے ، اور اگر ایسا نہیں ہے تو آپ اس شیلٹر کو صرف اس لیئے بند کروانا چاہتے ہیں کہ وہاں اسے چلانے والی خاتون کے شوہر کے ساتھ آپ کا کوئی سیاسی مقابلہ رہا یا آپ الیکشن میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے یا آپ سے وہ پچھلا الیکشن جیتے تھے یا اب آپ ان سے یہ الیکشن جیت چکے ہو اور ان کی بیگم وہاں دیکھ بھال کر رہی ہے۔ لہذا آپ اس معاملے کو ایسے ممالک کی طرح ہینڈل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں ہم مہذب نہیں کہتے، جنہیں ہم منصف نہیں کہتے، آپ دو بڑے ہاتھیوں کی لڑائی میں معصوم بے زبان جانور گھاس کی طرح کچلے جائیں گے۔ بے گھر کر دیے جائیں گے۔
وہ شیلٹر ان کا گھر ہے۔ اس گھر میں سے ایک معصوم سا بچہ میں نے بھی گود لیا تھا ۔ وہ بچہ جسے کوئی نہیں لیتا تھا کیونکہ وہ کالا تھا اور وہ معصوم سا بچہ کالے رنگ کی وجہ سے واپس کر دیا جاتا تھا۔ لیکن دو ماہ کا وہ معصوم جب آیا تو ہم سب گھر والوں نے اس کے لیئے اپنے چھوٹے سے گھر ہی نہیں اپنے دل کے دروازے بھی کھول دیئے۔ میں نے اس کا نام لڈو رکھا ۔ وہ لڈو اب میرے گھر کا لاڈلا بچہ ہے۔ ہم سب اس بچے کے نوکر ہیں اور ہمیں وہ بہت عزیز ہے میں یہ کبھی نہیں سوچ سکتی کہ میں اس بچے کو اپنے گھر سے باہر کر دوں ۔ کیونکہ میرے خیال میں یہ گھر اس کا ہے ہم اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس کی ادائیں ہماری خوشی ہیں ۔ وہ اداس ہو تو ہم سب فکرمند ہو جاتے ہیں ۔
ایسے میں آپ شیلٹر کے بچوں سے، ان بے زبان جانوروں سے، ان کا گھر چھین لیں گے، جو پہلے ہی ریسکیو کئے گئے ہیں۔ جانے کتنے دکھ، کتنی تکلیفیں، کتنے غم دیکھ کر وہ یہاں تک محفوظ ہاتھوں تک پہنچے۔ جہاں ان سے پیار کیا جائے ۔ جہاں ان کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ آپ ان سے یہ گھر مت چھینیں۔
اس گھر کو چھیننے کے بعد آپ ان بچوں کی آنکھوں میں وہ انتظار دیکھ سکیں گے؟ جنہیں یہ یقین نہیں ہوگا کہ انہیں اگلے وقت کا کھانا ملے گا یا نہیں ملے گا ۔۔
کیا آپ خود کو ان بچوں کی جگہ پر رکھ کر تصور کر سکتے ہیں ؟
فرض کیجئے آپ وہ بلی کے بچے ہوتے اور وہ بلی کے بچے آپ کی جگہ میئر ہوتے۔
آپ بھی دروازے پر دیکھتے ہیں کہ کوئی آپ سے محبت کرے۔
کوئی آپ کی بھوک کو مٹانے کا سامان کرے اور کبھی کبھی بھوک سے زیادہ اہم چیز محبت کا سایہ ہوتا ہے ۔ چھت ہوتی ہے۔ جہاں انسان کم کھانے میں بھی خوش رہ سکتا ہے۔ تو وہ معصوم بے زبان بھی کم میں خوش رہ لیتے ہیں۔ لیکن ڈر کے سائے میں جی نہیں پاتے۔
وہ جو پہلے ہی انسانوں کے ستائے ہوئے ہیں، ان سے ڈرے ہوئے ہیں۔ ان کے ڈر کو ، خوف کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر آپ کو کسی سے سیاسی اختلاف ہے یا آپ کو لگتا ہے کہ اس ادارے میں کوئی فنڈنگ درست طریقے سے استعمال نہیں ہو رہی تو آپ یہ کر سکتے ہیں کہ آپ اپنی سیاسی مخالف کی بیگم کو اس ذمہ داری سے سبکدوش کر سکتے ہیں کسی جائز وجہ کے ساتھ یا ان سے درخواست کر سکتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ چلنا ارام دہ محسوس نہیں کرتا اس لیئے آپ اس شیلٹر کی ذمہ داری کسی اور کو دے دیجیئے تو مجھے امید ہے کہ وہ خوشی خوشی کسی اور اچھی اور ہمدرد اور ایماندار خاتون کو یہ ذمہ داری دے دیں گی۔ لیکن خدا کے لیئے آپ اس شیلٹر کو بند کر کے معصوم بچوں سے ان کا گھر، ان کی پناہ گا نے چھینیں۔
یا تو ان بچوں کو گود لے لیجیئے لیکن پھر اور بچے جنہیں ریسکیو کیا جاتا ہے، ان کا کیا ہوگا ؟
میری فرینچ زبان بہت اچھی نہیں ہے۔ پھر بھی میں نے سوچا میں آپ کے پاس آپ کی علاقے میں رہنے والی عوام میں سے ایک ہوں۔ جہاں کے اس شیلٹر کا ایک بچہ ، میرا بچہ ہے۔
اس تعلق سے میرا حق ہے کہ میں اس پر آواز اٹھاؤں۔
تاکہ کل مجھے یہ سوچ کر خود سے شرمندہ نہ ہونا پڑے کہ کاش میں اس وقت آواز اٹھاتی تو کچھ اچھا کر سکتی تھی۔
آپ کو اپنے دل کی تکلیف پہنچاؤں۔ شاید آپ اسے سمجھ سکیں۔
بہت ساری ہمدری کی امیدوں کے ساتھ
ممتازملک
ولموبل
.....
Bonjour
Monsieur le Maire, M. Patrice Calméjane,
je m’appelle Mumtaz Malik. Je vis à Villemomble depuis 28 ans. J’ai appris que le refuge pour les animaux sans voix, situé près de votre mairie, allait être fermé. C’est un endroit où l’on recueille des animaux sauvés, où l’on essaie de leur trouver des familles pour les adopter et où l’on prend soin d’eux. Et vous voulez fermer ce refuge ? Pourquoi voulez-vous le fermer Qu’est-ce que ces êtres sans voix vous ont fait ? Où vont-ils aller ? Est-ce que vous allez adopter tous ces animaux ? Si c’est le cas, c’est une très bonne chose. Mais si ce n’est pas le cas, voulez-vous fermer ce refuge seulement parce que la femme qui s’en occupe est l’épouse de quelqu’un avec qui vous avez eu une opposition politique, parce que vous vous êtes retrouvé face à face lors d’une élection, ou parce qu’il a remporté l’élection précédente contre vous ou parce que vous venez maintenant de gagner cette élection contre lui et que c’est son épouse qui s’occupe de ce refuge ? Allez-vous gérer cette situation comme le font des pays que nous ne considérons pas comme civilisés,
comme des pays que nous ne considérons pas comme justes ? Dans le combat entre deux grands éléphants, est-ce que ce sont des animaux innocents et sans voix qui vont être écrasés comme de l’herbe et qui vont se retrouver sans maison ? Ce refuge, c’est leur maison. Moi aussi, j’ai adopté l’un de ces petits êtres innocents dans cette maison. C’était un petit qui ne trouvait personne pour l’adopter parce qu’il était noir. Ce pauvre petit était refusé à cause de sa couleur noire. Mais lorsque ce petit être innocent, âgé de seulement deux mois, est arrivé chez nous, toute notre famille lui a ouvert les portes de notre petit maison, et surtout les portes de nos cœurs. Je l’ai appelé Laddoo. Aujourd’hui, Laddoo est devenu l’enfant chéri de notre maison. Nous sommes tous à son service et il nous est très cher. Je ne pourrais jamais imaginer faire sortir cet enfant de chez moi, parce que, pour moi, cette maison est la sienne. C’est nous qui vivons avec lui. Ses petites manières sont notre bonheur. Lorsqu’il est triste, nous sommes tous inquiets. Dans ces conditions, vous allez enlever leur maison à ces enfants du refuge, à ces animaux sans voix qui ont déjà été sauvés ? Qui sait combien de souffrances, combien de douleurs et combien de chagrins ils ont dû traverser avant d’arriver jusqu’ici, en sécurité, entre des mains qui prennent soin d’eux, dans un endroit où ils peuvent être aimés ? Et maintenant vous allez leur enlever cette maison ? Après leur avoir enlevé cette maison, pourrez-vous regarder dans les yeux de ces enfants et voir cette attente, cette peur de ne pas savoir s’ils auront leur prochain repas ou non ? Pouvez-vous vous mettre à la place de ces enfants et essayer de l’imaginer ? Imaginez que vous ayez des petits chatons, et que ces petits chatons soient à votre place de maire. Eux aussi regarderaient la porte, en attendant que quelqu’un les aime, que quelqu’un fasse en sorte qu’ils n’aient pas faim. Et parfois, plus important encore que la nourriture, il y a l’amour. Il y a un toit, une présence, une protection. Lorsqu’un être humain peut être heureux avec peu de choses, un animal innocent peut lui aussi être heureux avec peu, mais ils ne peuvent pas vivre sous l’ombre de la peur. Surtout ceux qui ont déjà souffert à cause des êtres humains, ceux qui en ont déjà peur et pour lesquels on essaie justement d’éloigner cette peur et cette angoisse. Si vous avez un désaccord politique avec quelqu’un, ou si vous pensez qu’il y a un problème et que les choses ne sont pas utilisées correctement dans cet établissement, vous pouvez faire autrement. Vous pouvez relever de cette responsabilité l’épouse de votre opposant politique, pour une raison légitime. Ou vous pouvez lui demander : « Je ne me sens pas à l’aise à l’idée de continuer à travailler avec vous, alors pourriez-vous confier la responsabilité de ce refuge à quelqu’un d’autre ? » Et j’espère qu’elle accepterait volontiers de confier cette responsabilité à une autre femme qui serait bonne, compatissante et honnête. Mais, pour l’amour de Dieu, ne fermez pas ce refuge et n’enlevez pas à ces enfants innocents et sans voix leur maison, leur refuge. Ou alors, adoptez ces enfants. Mais dans ce cas, qu’adviendra-t-il des autres animaux qui continueront à être sauvés et recueillis ? Mon français n’est pas très bon. Pourtant, je me suis dit que, puisque je fais partie des habitants de votre ville, puisque je vis dans votre commune, et que l’un des enfants de ce refuge est devenu mon enfant, j’ai le droit, en tant que citoyenne et en tant que personne concernée, de prendre la parole à ce sujet et de vous faire parvenir la douleur que je ressens dans mon cœur.
à me reprocher demain ‘J’aurais dû prendre la parole à ce moment-là, peut-être que j’aurais pu contribuer à faire quelque chose de bien.’"* Ensuite, votre
Peut-être pourrez-vous la comprendre. Avec beaucoup d’espoir et de compassion,
Mumtaz Malik,
79 avenue de Rosny
93250
Villemomble.
میرا لڈو