ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک
اردو شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اردو شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 11 نومبر، 2025

شکار یار/ شاعری ۔ اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا ۔ اشاعت 2024ء


شکار یار

مجھے دشمنوں کی خبر نہیں میں ہوں دوستوں کا شکار یار 
میرے ہاتھ باندھ کے اسطرح مجھے بے بسی سے نہ مار یار

ہے سکون شرط اگر اختتام پہ جنگ میں تو بگل بجا
جو قرار کھو کے ملی اگر میری جیت ہے میری ہار یار

ہوں بھلے سے کتنی شکستہ پا نہ تو بستیوں کے یہ پل گرا
مجھے شک یے چھوٹ نہ جائے کچھ
ابھی جانا ہے پھر پار یار

جسے اپنے سچ پہ یقین ہو اور خندہ جسکی جبین ہو
جو عمل میں عزم صمیم ہے اسے ڈر نہیں سر دار یار 

تیرے پاس ہے جو یہ اختیار تو بدل دے اپنا ہر اک مدار 
یوں نہ ایڑیاں تو رگڑ کے جی نہ تو زندگی یوں گزار یار

ممتاز یہ ہے نصیب جو مجھے گھیرتا ہے گراتا ہے 
میرے ساتھ ہی یہی ہوتا ہے کاہے ہوتا ہے ہر بار یار
●●●

جمعہ، 19 ستمبر، 2025

سجاتے ہیں لوگ۔ اردو شاعری

کیسے چہرے پہ چہرہ سجاتے ہیں لوگ 
 کیا ہیں وہ اصل میں یہ چھپاتے ہیں لوگ

من پسند رنگ میں دنیا آئے نظر
اپنی انکھوں پہ چشمہ لگاتے ہیں لوگ

جس سے کچھ حیثیت اور اونچی لگے
پاس اپنے انہیں کو بٹھاتے ہیں لوگ

پاؤں دھرتی پہ اور آسماں پہ کمند
 جو نہیں ہیں وہ اپنا بتاتے ہیں لوگ

مسکرا کر یہ محفل میں ملتے تو ہیں
آستینوں میں خنجر چھپاتے ہیں لوگ

وہ جو معصوم اور سادہ دل رہ گئے
کیسے درد اپنے دل کا دباتے ہیں لوگ

منہ پہ کرتے ہیں تعریف اور نااہل
پشت پر طنزیہ مسکراتے ہیں لوگ


اتنا ممتاز ہونے کا کیا فائدہ
جب ڈراتے ہیں آنکھیں دکھاتے ہیں لوگ

منگل، 19 اگست، 2025

وارے۔ اردو شاعری




ہر اک رنجش سبھی شکوے تیری مسکان پہ وارے
مجھے تو دوست کہتا ہے اسی پہچان پہ وارے 

تو کیا سمجھا تمہاری بے اعتنائی مار ڈالے گی
تو جس پر دھیان دیتا ہے تمہارے دھیان پہ وارے

محبت سب کو اپنی جان سے ہونا تو فطری ہے
سلام اس پر جو اپنی جاں  کسی کی جان پہ وارے 

وہ تھا  کردار میں بےمثل اور گفتار میں اعلی 
سبھی مہمان جاتے تھے میرے مہمان پہ وارے 

سدھر جائیگا اکدن لوٹ آئے گا میری جانب
سبھی پل زندگی کے تھے اسی امکان پہ وارے 

اگر گننے کی نوبت آ گئی تو ہار جاؤ گے
کہ سارے فائدے ہم نے تیرے نقصان پہ وارے 

نہیں تھا جوش کافی زیست کے ممتاز ہونے کو 
زمانہ ہو گیا خود کو اسی  ہیجان پہ وارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 11 جولائی، 2024

* ◇ آسان سمجھ رکھا ہے/ اردو شاعری / اور وہ چلا گیا

آسان سمجھ رکھا ہے 


معاملہ اتنا بھی آسان نہیں ہے صاحب
جتنا انسان نے آسان سمجھ رکھا ہے

میری امید قوی اتنی  کہ دل نے میرے
 غم کو ہر درد کو مہمان سمجھ رکھا ہے

ایک طوفان ہے ہر چیز مٹا دیگا یہ 
تم نے وقتی جسے ہیجان سمجھ رکھا ہے

جو نہیں چاہیئے  وہ یاد بھی رکھے کیونکر
مصلحت ہے جسے نسیان سمجھ رکھا ہے

اس کے نمبر کبھی کم ہو نہیں سکتے صاحب
جس نے مضمون کا عنوان سمجھ رکھا ہے

کتنا اچھا ہے یہ ممتاز بھرم رکھتا ہے
ایک پردہ جسے مسکان سمجھ رکھا ہے
                   ●●●              




بدھ، 10 جولائی، 2024

* توڑا ہے کسی نے ۔ اردو شاعری۔ مصرع طرح۔ اور وہ چلا گیا


مصرعہ طرح:
دل امید توڑا ہے کسی نے۔۔۔


حساب زیست جوڑا ہے کسی نے
دل امید توڑا ہے کسی نے

وہ گل جو شاخ پر سویا ہوا تھا
اسے جا کر جھنجھوڑا ہے کسی نے

بہت قابل جسے مانا جہاں نے
ناکارہ کر کے چھوڑا ہے کسی نے

نشانے پر  رقیب زندگی تھا
نئے رخ اسکو موڑا ہے کسی نے

میری آنکھوں سے جو بہنے لگا ہے
لہو دل کا نچوڑا ہے کسی نے

بہت نازک تھا دل کا آبگینہ 
اسے پتھر پہ پھوڑا ہے کی نے

لہو کی باڑ سی کیوں آ گئی ہے
یہاں پر  دل نچوڑا ہے کسی نے

درندہ بن وجود آدمیت
تسلی سے بھنبھوڑا ہے کسی نے

پڑے ممتاز بل جب تیوری پر
نگاہوں کو سکوڑا ہے کسی نے
-------



 

جمعرات، 23 نومبر، 2023

نظر بد ۔ اردو شاعری۔ جا میں نے تجھے آزاد کیا

نظر بد
کلام:
   (ممتازملک ۔پیرس)

خدایا ان پر بھی رحم فرما
جو نظر بد کا شکار ہو کر
تمام خوشیاں گنوا چکے ہیں
نگاہ حاسد کی مار ہو کر 

کہ نظر بد وہ بلا ہے جو کہ
لیجائے بندے کو قبر تک اور
ہیں اونٹ ہوتے کباب اس سے
بخیل نیت ہیں  دل کے یہ چور

خدا بچائے تمام لوگوں کو 
نظر بد کی تباہیوں سے
اسی کی لگتی ہے جسکا دل ہو
بھرا ہوا بس سیاہیوں سے

کہیں پہ مرچیں سلگ رہی ہیں
کہیں پہ صدقے دیئے گئے ہیں
معوذالتین اک علاج ربی 
ہے ہولناکی نظر بشر کی 

ہیں کامیابی سے جلنے والے
ترقیوں پر اچھلنے والے
ہے شوق ممتاز ہونے کا پر
بجائے محنت مچلنے والے

خدایا ان پر بھی رحم فرما
خدا ان پر بھی رحم فرما
   ۔۔۔۔۔

ہفتہ، 21 اکتوبر، 2023

ہائے ۔ نظم۔ جا میں نے تجھے آزاد کیا



ہائے

میں تو پیدا ہوتے ہی
اپنے ہی ماں باپ کے ہاتھوں
دنوں میں بوڑھی کر دی گئی

بچپن کے سب کھیل کھلونے
بے فکری اور چنچل پن
میرا کوئی حق نہیں
 کہہ کر
مجھ سے چھین لی گئی

پڑھنا مجھکو اچھا لگتا تھا
 تو میری ہر کتاب
 کبھی جلائی جاتی تھی اور
 کبھی وہ پھاڑی گئی

رنگیں آنچل فیشن شوخی
چوڑیاں میک اپ 
پسند تھیں  لیکن
 مجھ پر حرام وہ کر دی گئی

اپنی مرضی سے جیون کا 
ساتھی چننا حق تھا میرا
وہ بھی چاہت مجھ سے
 چھین کے خود ہی برتی گئی

جو ترکے میں حق تھا اس پر
 ماں جائے بھی نوچتے اور کھسوٹتے کتے
 ہر دم چارو چاری گئی

کسکو یہ ممتاز سنائے
ہائے میں کیسے روندی گئی
ہائے میں کیسے ماری گئی 
   ۔۔۔۔۔۔

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/