ممبر پہ بیٹھ ہم پہ برسنے لگا ہے اب
کتنے نقاب تو نے لگائے تھے پھر بھی ہم
ٹھوکر لگا چکے تو ترسنے لگا ہے اب
ہمنے ہجوم تجھکو دیا بات کیجیئے
تنہائیوں میں بھی تو گرجنے لگا ہے اب
وہ جو چلا تھا دوسروں کے ساتھ کھیلنے
پاگل ہوا تو خود پہ ہی ہنسنے لگا ہے اب
بیساکھیاں سنبھالیں تجھے تو نہیں انہیں
جب ہٹ گئیں تو ریت میں دھنسنے لگا ہے اب
نکلا ہے اب دعاؤں کے دامن سے اس طرح
نام اس کا جیسے کانوں کو ڈسنے لگا ہے اب
ممتاز ہاتھ جس سے ملاؤ تو سوچ لو
کسطرح سے شکنجہ وہ کسنے لگا ہے اب
۔۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں