زخم کیوں کر سیا نہیں جاتا
درد یہ اب سہا نہیں جاتا
ساتھ رہنا بھی تیرے مشکل ہے
بن تیرے بھی رہا نہیں جاتا
خود سمجھ لے تیری عنایت ہے
ہے جو کہنا کہا نہیں جاتا
ہر طرف سے ہوں میں خسارے میں
تو کہے کچھ میرا نہیں جاتا
اب تو لازم طلب ہے سائے کی
دھوپ میں اور جلا نہیں جاتا
تو ہے اس سے بھی باخبر مولا
جو دعا میں کہا نہیں جاتا
کتنی ممتاز ہے مسیحائی
ورنہ ہم سے چلا نہیں جاتا
۔۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں