شکار یار
مجھے دشمنوں کی خبر نہیں میں ہوں دوستوں کا شکار یار
میرے ہاتھ باندھ کے اسطرح مجھے بے بسی سے نہ مار یار
ہے سکون شرط اگر اختتام پہ جنگ میں تو بگل بجا
جو قرار کھو کے ملی اگر میری جیت ہے میری ہار یار
ہوں بھلے سے کتنی شکستہ پا نہ تو بستیوں کے یہ پل گرا
مجھے شک یے چھوٹ نہ جائے کچھ
ابھی جانا ہے پھر پار یار
جسے اپنے سچ پہ یقین ہو اور خندہ جسکی جبین ہو
جو عمل میں عزم صمیم ہے اسے ڈر نہیں سر دار یار
تیرے پاس ہے جو یہ اختیار تو بدل دے اپنا ہر اک مدار
یوں نہ ایڑیاں تو رگڑ کے جی نہ تو زندگی یوں گزار یار
ممتاز یہ ہے نصیب جو مجھے گھیرتا ہے گراتا ہے
میرے ساتھ ہی یہی ہوتا ہے کاہے ہوتا ہے ہر بار یار
●●●
