بندھا ہے
یہ دوستی ، رشتے وفا خلوص کی گردان
ہر ایک مفادات کی ڈوری سے بندھا ہے
پیتے ہیں لہو تب کہیں پروان چڑھے ہیں
رشتہ میرا ہر ایک تجوری سے بندھا ہے
سونے کا نہیں طفل بھی کہ چین جو اسکا
آواز میں ماں کی کسی لوری سے بندھا ہے
مجبور ہے ہر شخص نبھانے کے لیئے اب
اعلانیہ کوئی ، کوئی چوری سے بندھا ہے
یہ جانتے وہ شخص تباہی ہے مگر کیوں
خواہش سے بندھا ہے کوئی زوری سے بندھا ہے
ممتاز سبھی لوگ جو ممتاز ہوئے تھے
ہر ایک کا قصہ کسی بوری سے بندھا ہے
۔۔۔۔۔۔۔