گل کی امید میں ملا ہے رنج
وہ ہے کیوں کامیاب یہ دکھ ہے
رب سے ناراضگی صلہ ہے رنج
اس کی بہتات پائی جاتی ہے
ساری دنیا میں سلسلہ ہے رنج
بزم ساری نقار خانہ ہے
اور طوطی کرے گلہ ہے رنج
اسکا الزام نہ کسی کو دے
اپنی مرضی سے مبتلاء ہے رنج
جتنی چاہت لٹائی تھی ناحق
کوئی جاء سے نہیں ہلا ہے رنج
تو نے ممتاز ہو کے دیکھا ہے
ہر قدم ایک ابتلا ہے رنج
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں