ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک

ہفتہ، 1 اگست، 2026

گل کی امید میں ملا ہے رنج۔ اردو شاعری ۔ باردگر

دل کہ ٹہنی پہ جو کھلا ہے رنج
گل کی امید میں ملا ہے رنج

وہ ہے کیوں کامیاب یہ دکھ ہے
رب سے ناراضگی صلہ ہے رنج

اس کی بہتات پائی جاتی ہے
ساری دنیا میں سلسلہ ہے رنج

بزم ساری نقار خانہ ہے
اور طوطی کرے گلہ ہے رنج

اسکا الزام نہ کسی کو دے
اپنی مرضی سے مبتلاء ہے رنج 

جتنی چاہت لٹائی تھی ناحق
کوئی جاء سے نہیں ہلا ہے رنج

تو نے ممتاز ہو کے دیکھا ہے
ہر قدم ایک ابتلا ہے رنج

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/