پلوں کے نیچے سے اتنے دن میں
بہت سا پانی گزر چکا ہے
طلوع ہوا تھا جو کل سویرے
وہ آفتاب اب اتر چکا ہے
قبول کر لو بہانے اسکے
جو غلطیوں سے مکر چکا ہے
نہ آزمائش میں اسکو ڈالو
سنا ہے کہ وہ سدھر چکا ہے
جو مسکرا کر ملا سمجھ لو
وہ غم سے اپنے ابھر چکا ہے
تمہیں ہو معلوم تب تلک یہ
حیات کے پر کتر چکا ہے
سنا ہے ممتاز ہونے کا جو
تھا زعم اب اس سے ڈر چکا ہے
۔۔۔۔۔۔۔