ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک

جمعرات، 30 اپریل، 2026

آتش جواں تھا کبھی تو۔ اردو شاعری ۔ باردگر

ہر اک لب پہ جو داستاں تھا کبھی تو
سنا ہے یہ آتش جواں تھا کبھی تو

اچانک زمانے پہ ظاہر ہوا ہے 
جو اک شخص مجھ میں نہاں تھا کبھی تو


نہیں آج تم کو رہا یاد لیکن  
تمہارا ہی یہ بھی بیاں تھا کبھی تو

نہیں آج پہچان میں آ رہا پر
رہا محفلوں کی یہ جاں تھا کبھی تو 

جسے آج خود ہے طلب سائباں کی
جہاں بھر کی جائےاماں تھا کبھی تو

جو ممتاز بند آنکھ سے بھی دکھے نہ
کھلی آنکھ میں  آسماں تھا کبھی تو 
                 ۔۔۔۔۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/