ہر اک لب پہ جو داستاں تھا کبھی تو
سنا ہے یہ آتش جواں تھا کبھی تواچانک زمانے پہ ظاہر ہوا ہے
جو اک شخص مجھ میں نہاں تھا کبھی تو
نہیں آج تم کو رہا یاد لیکن
تمہارا ہی یہ بھی بیاں تھا کبھی تو
نہیں آج پہچان میں آ رہا پر
رہا محفلوں کی یہ جاں تھا کبھی تو
جسے آج خود ہے طلب سائباں کی
جہاں بھر کی جائےاماں تھا کبھی تو
جو ممتاز بند آنکھ سے بھی دکھے نہ
کھلی آنکھ میں آسماں تھا کبھی تو
۔۔۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں