ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک
‏اشاعت 2024ء لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏اشاعت 2024ء لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 19 اکتوبر، 2026

یاد آئیگا/ مختیار کی یاد میں ۔ اور وہ چلا گیا۔ اشاعت 2024ء


سفر ختم




ملک مختیار احمد
(1973ء تا 2022ء)

یہ تو طے ہے کہ سفر ختم یہ ہو جائے گا 
فکر تو یہ ہے کہاں کیسے وہ مل پائے گا 

تو تو کہتا تھا کہ تنہا مجھے ڈر لگتا ہے 
اب اکیلے یہ سفر کیسے تو کر پائے گا

ہائے مجبوریاں گھر بار کی کرتی ہیں جدا 
ورنہ بھائی نہ جدا بہن سے ہو پائے گا 

ساتھ تیرے بڑی بے فکر سواری تھی میری
اب جہاں جاونگی تو یاد مجھے آئے گا 

میں نے غصے میں  کبھی ڈانٹ دیا تیرے لیئے
وقت پر جو نہ دوا کھائے گا مر جائےگا 

زخم تیرے تو دوا سے نہ تھے بھرنے والے 
کون یہ دیکھتا کس کو کوئی سمجھائے گا 

یہ دعا ہے میری مختیار جہاں تو جائے
اس میں غم کوئی تیرے پاس نہیں آئے گا

سوچ کر برچھیاں چلتی ہیں کلیجے پہ میرے
بھائی ممتاز کا  تصویر میں مسکائے گا 
                 ●●●                   

پیر، 13 اپریل، 2026

* بے حساب / اردو شاعری۔ اور وہ چلا گیا ۔ اشاعت 2024ء

بے حساب

نعمتوں کا حساب ہوتا ہے
رحمتیں بے حساب ہوتی ہیں

وقت آنے پہ علم ہوتا ہے 
حکمتیں بے نقاب ہوتی ہیں

یونہی بیکار مت سمجھ لینا
وہ جو داخل نصاب ہوتی ہیں

اپنے اعمال خود لکھے ہونگے
جو سنہری سا باب ہوتی ہیں

سب سے بہتر ہے اپنے چاہت سے
رب کا جو انتخاب ہوتی ہیں

جتنی ممتاز منزلیں دیکھیں 
کتنی آنکھوں کا خواب ہوتی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 26 جون، 2025

◇ نہ ‏جایا ‏کر ‏تو/ اردو ‏شاعری ‏۔ اور وہ چلا گیا ۔ اشاعت 2024ء


نہ جایا کر تو 

گھر سے غم لیکے کہیں اور نہ جایا کر تو (tu)
 رب کو سجدوں میں سبھی حال سنایا کر تو

اثر اس کا جو تجھے کرنا ہے زائل تو سن
چلتے پانی میں یہ تعویذ بہایا کر تو 

دولت درد فراوانی سے ملتا ہے جنہیں 
انکو بتلاؤ کہ دکھیوں پہ لٹایا کر تو 

اتنے سستے نہیں ہر ایک پہ وارے جائیں 
کسی اچھے کے لیئے اشک بچایا کر تو

جسکے ہاتھوں میں شفا رکھی ہے تیری خاطر
زخم اپنے یہ وہیں جا کے دکھایا کر تو 

نفرتیں سخت بنا دیتی ہیں چہرے ممتاز 
اپنے ہونٹوں پہ تبسم کو سجایا کر تو 
●●●

بدھ، 28 اگست، 2024

& کیسی محبت ۔ افسانہ۔ سچی کہانیاں۔ قطرہ قطرہ زندگی۔ اشاعت 2024ء

       
            کیسی محبت


بہت سارے پیسے خرچ کر کے قرضے لیکر اور جانے کہاں کہاں کے دھکے کھانے کے بعد آخر کار وہ فرانس پہنچ ہی گیا۔
 گھر میں جب بھی فون پہ بات کرتا تو وہاں سے پیسے کے مطالبے کے سوا کوئی دوسری بات ہوتی تو صرف یہ اور سناؤ بھئی وہاں پہ کاغذ مل گئے ہیں۔
 امی جی  یہ کاغذ اتنی آسانی سے نہیں ملتے،  یا تو آپ نے یہاں شادی کی ہو یا پڑھائی کر رہے ہو یا کاروبار کر رہے ہو، تب یہاں کے کاغذات ملتے ہیں۔
 تو شادی کرنا کون سا مشکل ہے۔ پھنسا لو کسی میم کو۔
امی جی نے بڑا دانشورانہ مشورہ دیا۔
 امی جی یہاں میمیں  کوئی سڑک پہ نہیں پڑی ہوتیں،  جو ہر کسی کو گھاس ڈالیں۔
وہ جھلا کربولا
تو وہاں پر کسی پاکستانی کو دیکھ لینا ، کسی پاکستانی لڑکی کو پھنسا لے ، وہاں پر انہیں کون پوچھتا ہے؟ 
ہاں امی جی دیکھ رہا ہوں۔ کوشش کر رہا ہوں ۔دیکھو اب۔ دعا کرنا۔
 پچھلے دنوں کسی کی سفارش پر اسے ایک ریسٹورنٹ میں کام تو مل گیا جہاں فی الحال وہ ویٹر کے طور پر لوگوں کو چائے کافی سرو کرتا یا ٹیبل صاف کرتا۔
 ریسٹورنٹ کا مالک اچھا آدمی تھا۔ وہ اس کو اپنے بیٹے کی طرح عزت دیتا اور اس کا خیال رکھتا تھا۔ اس نے کافی عرصہ پہلے  فرانس میں آ کر اپنی فیملی کے ساتھ رہائش اختیار کی تھی ۔
آہستہ آہستہ اپنی محنت سے  ترقی کرتے ہوئے آج وہ ایک ریسٹورنٹ کا مالک تھا۔
 اس کی بڑی بیٹی ابھی 18 سال کی ہو رہی تھی اور یہاں کے مقامی سکول سے اپنی بنیادی تعلیم مکمل کرنے کے آخری سال میں تھی۔ اپنے  لیسے سے چھٹی کے بعد وہ اکثر باپ کا ہاتھ بٹانے کے لیئے ریسٹورنٹ بھی چکر لگا لیتی۔ 
 اس روز رشید کی نظر اس پر پڑی تو اس کے دماغ میں فورا ماں کا جملہ گھومنے لگا کہ کسی لڑکی کو پھنسا کر کاغذ حاصل کر لے تو نے کون سا ہمیشہ رہنا ہے اسکے ساتھ۔
 لیکن یہ لڑکی بھولی بھالی سی 18 سال کی سٹوڈنٹ ، جو اپنے گھر میں سب سے بڑی بیٹی تھی ۔ اسے اپنے لیئے ایک آسان شکار لگی۔
عام طور پر تو کوئی لڑکی یا مقامی عورت اس کے ہاتھ نہیں آئی۔ لیکن اس نے سوچ سمجھ کر  اس لڑکی کی طرف بڑھنے کا فیصلہ کیا ۔
وہ جب بھی آتی یہ جان بوجھ کر اس کے آگے پیچھے گھومتا۔
 اس کی خاطر مدارت کی کوشش کرتا ۔ اس کی تعریفیں کرتا۔  اس کے ساتھ لطیفہ گوئیاں کرتا ۔ رفتہ رفتہ وہ لڑکی اس کے ساتھ کچھ بے تکلف ہو گئی ، تو اس نے اسے شیشے میں اتارنا شروع کیا۔ 
 یہاں تک کہ اسے شادی کی دعوت دے ڈالی۔
 وہ لڑکی اس کی تعریفوں پر پہلے ہی پھولے نہیں سما رہی تھی۔  شکل صورت کا تو رشید اچھا تھا۔  لیکن تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی ۔ ہنر بھی کوئی نہیں تھا اس کے پاس۔  بس عام سے لڑکوں کی طرح منہ اٹھا کر کسی نہ کسی طرح دھکے کھا کر فرانس پہنچ چکا تھا ۔
یہ بے وقوف، کم عمر، ناسمجھ، دیسی لڑکوں کی چالاکیوں سے بے خبر لڑکی آسانی سے اس کے جال میں پھنستی چلی گئی۔
 وہ اکثر اس کے لیئے چھوٹے موٹے تحفے لے آتا۔ اس کے دن رات قصیدے بڑھتا اس کی ایسی ایسی باتوں پر تعریف کرتا ۔جس کے بارے میں خود اس نے بھی نہیں سوچا تھا کہ اس میں بھی ایسی کوئی خوبی ہے۔ آہستہ آہستہ وہ مکمل طور پر اس کے شکنجے میں پھنستی چلی گئی۔
 اس نے اس لڑکی عظمی سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا، اس کے ماں باپ کو پتہ چلا تو انہوں نے رشید کو نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی۔
 لیکن عظمی اپنے ماں باپ کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔
 رشید یہاں کام کرے یا کہیں بھی رہے۔ میں اسی سے شادی کروں گی۔
 ماں نے سمجھایا ۔
باپ نے سمجھایا۔۔
 گڑگڑائے روئے اس کے آگے ۔ لیکن وہ تو جیسے پتھر ہو چکی تھی ۔
جانے کون سا جادو پھونکا تھا اس رشید نے اس پر ،  کہ وہ ہر صورت میں اسی سے  شادی کرنے کے لیئے بے قرار تھی۔ اس کے لیے دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کوئی نہیں تھا ۔
 ماں باپ نے سمجھایا۔
 دیکھو اس لڑکے کے پاس یہاں کے پیپرز نہیں ہیں۔ تعلیم نہیں ہے ۔ زبان بھی نہیں ہے۔  برباد کر دے گا تمہیں۔  بچ جاؤ اس سے ۔
 تمہارے لیے اچھے سے اچھا رشتہ یہاں موجود ہے اور یہاں نہیں تو ہم تمہیں پاکستان سے بہترین لڑکا  شادی کر کے لا دیں گے۔ 
 لیکن نہیں محبت میں وہ اندھی گونگی بہری ہو چکی تھی۔ اسے صرف رشید چاہیے تھا اور رشید اسے دن رات اسکے ماں باپ کے خلاف اکساتا رہتا ۔ 
دیکھو وہ تمہاری بات نہیں مانتے۔  دیکھو وہ تم سے محبت نہیں کرتے۔ دیکھو تمہاری کسی خواہش کا احترام نہیں کرتے۔  صرف میں ہوں جو تمہارے پیچھے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ 
 میں تمہارے لیے جان بھی دے سکتا ہوں۔
 ایسی ہی فلمی باتوں سے وہ اس کی ہر کمی کو بھول کر اس پر فدا ہو چکی تھی۔
یہ فرانس میں جوان ہونے والی پہلی نسل سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی۔
 جو سب کچھ بھول کر اس کے ساتھ گھر بسانے کو تیار ہو گئی۔
 یہاں تک کہ اپنے ماں باپ کی اجازت کے بغیر اس لڑکی نے  رشید کے ساتھ نکاح کر لیا۔ 
اسکی ماں کو غشی کے دورے پڑ رہے تھے تو  باپ صدمے سے نڈھال ہو گیا۔
 لیکن عظمی کو  اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
 اس نے جا کر رشید کے ساتھ ایک کمرے کا  فلیٹ کرائے پر لے کر اس کے ساتھ  فلیٹ میں رہائش اختیار کر لی۔
 نکاح کرتے ہی  رشید کے اطوار ہی بدل گئے۔
 اس نے دیکھا کہ اس کے ماں باپ نے تو اس کو اتنی آسانی سے چھوڑ دیا۔  جو کہہ چکے تھے دوبارہ اس گھر کا رخ نہ کرنا۔ تم مر چکی ہو ہمارے لیئے۔
 اب اس لڑکی کی دولت تو اس کے کام آ نہیں رہی تھی۔ وہ تو سوچ رہا تھا ۔ 
نکاح کرتے ہی وہ مجبورا اسے داماد قبول کر لیں گے اور وہ راتوں رات انکی حسین بیوقوف بیٹی کیساتھ  ان کے پیسے کا بھی مالک بن جائے گا اور ریسٹورنٹ کا بھی مالک بن جائے گا۔
 اب لڑکی تو اس کے ہاتھ آ ہی چکی ہے ۔جو اسے پیپر دلوا دے گی۔
لیکن پیسہ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ نوکری بھی ہاتھ سے گئی اور خرچہ بھی بڑھ گیا۔
عظمی کو کام کرنے کی اجازت اس لیئے نہیں دیتا کہ جیسے اس نے اسے بیوقوف بنا کر جال میں پھانسا تھا اب اسے ڈر تھا کہ کوئی اور بھی اسے ورغلا کر اس کے ہاتھ سے نہ لے اڑے۔
 چند ہی روز میں اس نے اپنا اصلی دیسی رنگ دکھانا شروع کر دیا ۔
بات بات پر گالی گلوچ اور اب تو مار پیٹ بھی روز کا معمول بن چکی تھی۔
  چند مہینے کی مارپیٹ اور طعنہ زنی نے ہی عظمی کو پہچانے جانے کے قابل نہ چھوڑا تھا ۔ 
وہ لڑکی جسے والدین کے گھر میں کبھی کسی نے جھڑکا تک نہ تھا۔ اب وہ دن رات اپنی پڑھائی کے زمانے کے بجائے عذاب ناک وقت کو جھیل رہی تھی۔ 
 عظمی  امید سے ہو چکی تھی۔
 اب اس کی ہر بات ہر خوبی رشید کو زہر لگنے لگی۔ 
 اس کی ہر قربانی رائیگاں گئی۔
 رشید اسے ہر بات پر غلیظ گالیاں دیتا ۔ اسے کسی سے ملنے نہ دیتا اور جب دل کرتا اس کی کسی بھی بات کو بہانہ بنا کر اس کی اچھی خاصی مرمت کر دیتا ۔
 پہلے چانٹے سے شروع ہو کر باقاعدہ تشدد کے اوپر بات چلی گئی شادی کے دسویں مہینے اس نے ایک بیٹی کو جنم دیا۔
 لیکن بچی کے ہونے کے بعد رشید کی تکلیف میں اور اضافہ ہو گیا۔
 ایک تو پہلے وہ اس لڑکی کو بہلا پھسلا کے گھر سے بھگا کے لایا تو اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔
اوپر سے بیٹی پیدا ہو گئی ۔
اس پینڈو اور جاہل کے لیئے یہ ایک اور نیا تماچہ تھا بیٹی کا باپ بننا ۔
اس نے اس کی زندگی حرام کر رکھی تھی ۔
وہ  بچی بمشکل ابھی دو تین مہینے کی تھی کہ عظمی پھر سے امید سے ہو چکی تھی ۔
چھوٹی بچی کا ساتھ ، دوبارہ سے پریگننسی، کم عمر لڑکی دوسری بار یہ بوجھ اٹھا رہی تھی اور پھر گھر کا تشدد اس قدر بڑھ گیا کہ وہ کئی بار اس سے مار کھاتے کھاتے بے ہوش ہو جاتی۔
 وہ کسی سے بات کر لیتی تو وہ اسے اس کا عاشق قرار دے دیتا ۔
گھر سے باہر جانے نہیں دیتا کہ تم میری شکایت کر دو گی۔
 گھر کے اندر اسے ہر تنگی میں رکھ کر وہ جانے کون کون سی ذہنی اذیت دے کر اسے وہ اسے تل تل مار رہا تھا۔
 رشید کی حرکتیں بالکل ذہنی مریض جیسی تھیں ۔
عظمی رات دن  اپنے ماں باپ کو یاد کر کے شرم کے مارے رویا کرتی کہ
ماما مجھے معاف کر دیں ۔ میں نے کس جانور کے ساتھ رشتہ جوڑنے کے لیئے اپنی محبت کرنے والے ماں باپ کھو دیئے۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ اب اس کی مرضی کے بغیر اس کی بیوی اپنے ماں باپ سے بھی ملے ۔
چھوٹی سی بچی بلکتی روتی رہتی لیکن وہ اس کے خرچ کے لیئے نہ پیسے دیتا نہ گھر کی ضرورتیں پوری کرتا۔
 کبھی کام کرتا اور کبھی فارغ ہوتا۔ جس دن کام نہ ہوتا اس دن کام نہ ہونے کا غصہ اس پہ اتارتا اور جس دن کام ہوتا اس دن تھکاوٹ کا کہہ کر اس پر اپنا غصہ اتارتا ۔
لگاتار دوسری پریگننسی کم عمری اور خوراک کی کمی نے اس میں خون کی کمی پیدا کر دی ۔
پریگنیننسی کا بوجھ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا ۔
وہ اسے کہیں دوا دارو کے لیئے بھی لے جانے کو تیار نہ تھا ۔
ایک روز اس نے اسے اتنا مارا کہ وہ بے ہوش ہو گئی۔
 اس کے مار پیٹ کے شور کو سن کر ساتھ کے پڑوس میں سے کسی نے پولیس کو فون کر دیا ۔ 
پولیس کا سائرن سنتے ہی وہ تو گھر سے غائب ہو گیا کیونکہ وہ جانتا تھا جو کچھ وہ کر رہا ہے وہ کبھی بھی کہیں بھی پکڑا جا سکتا ہے۔
 عظمی کی حالت بیحد خراب تھی۔ نیم بے ہوشی کی حالت میں پولیس نے اسے وہاں سے ریسکیو کیا اور فوری طور پر اسے ہسپتال منتقل کیا گیا ۔
 بیوی کے ہسپتال پہنچنے کا منظر اس نے  اپنی بلڈنگ کے باہر ہی دور سے ہی  دیکھ لیا کہ پولیس اسے لے جا رہی ہے۔
 اب اسے اپنی فکر پڑ گئی
 کہ میں سامنے گیا تو پولیس مجھے ضرور گرفتار کرے گی۔
 اس لڑکی کے بیان پر تو میں جیل چلا جاؤں گا۔
 لہذا اس نے گھر نہ جانا مناسب سمجھا ۔
لیکن چھپ کر ہر بات سے باخبر رہا۔
 ہسپتال میں کسی نے اس کے ماں باپ کو خبر کر دی کہ تمہاری بیٹی اس حالت میں ہے ۔
ماں تھی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے شوہر کو مجبور کیا کہ جا کر اسے دیکھو۔ 
چلو میرے ساتھ۔
ہسپتال میں عظمی نے قبل از وقت  ایک بیٹے کو جنم دیا۔
عظمی کی ماں نے جب اپنی بیٹی کو دیکھا۔ اس کے زخموں کو دیکھا تو برداشت نہ کر سکی۔
 اسے سینے سے لگایا اور خوب روئی۔ 
دو سال میں دو بچے، جسم اور روح پر بیشمار زخم ، دل پر صدمات ۔۔
یہ تھی اس مجرم صفت دیسی کی کل کارکردگی ۔
 عظمی  بھی اپنی ماں سے لپٹ کر بری طرح روئی اور خوب معافی مانگی۔
 ماں سے منت کی کہ مجھے اپنے گھر لے جاؤ ۔
ہسپتال سے کافی روز کے بعد اسے فارغ کیا گیا ۔
ڈاکٹر نے اسے شدید احتیاط کا کہا اس کے ہاں اس مار پیٹ کے دوران ابھی وہ مشکل سے بیس سال کی نہیں تھی لیکن دو بچوں کی ماں بن چکی تھی ۔
 ذہنی طور پر بھی وہ بکھر چکی تھی۔
 اس کا اعتبار ٹوٹا تھا۔ اس کا یقین ٹوٹا تھا۔ اس کی عزت تو گئی تھی۔ لیکن اپنی نظر میں اس کی وہ قدر بھی نہ رہی۔
 وہ بہت کم بولنے لگی تھی۔
 ماں اسے دیکھتی اور کڑھتی رہتی۔
 وہ اسے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئی۔ لیکن اس روز بچی کے رونے پر وہ چڑ سی گئی۔
 ماں نے کہا بھئی بچے پیدا کرنے کا شوق تھا ۔ عشق لڑا رہی تھی تو سنبھالو اسے۔
 ماں کی یہ بات اس نے خاموشی سے سنی ۔ 
سر نیچے کیئے وہ کتنی دیر آنسو ٹپکاتی رہی۔
 بچی کو گود میں اٹھا کر اس نے بھنبھوڑ ڈالا ۔
وہ اسے اٹھا کر کہیں پھینک دینا چاہتی تھی۔
 کیونکہ وہ خود ابھی بچی تھی 20 سال کی وہ بچی جو ابھی خواب دیکھتی، ابھی یونیورسٹی جاتی۔ اپنی تعلیم مکمل کرتی۔ کچھ بننے کا عزم کرتی۔
 وہ لڑکی دو بچوں کے ساتھ باندھ دی گئی۔
 اس کی ماں نے بچی کو اس کے ہاتھ سے چھین لیا۔
وہ بستر پر پڑی جانے کتنی دیر روتی رہی۔
 اس کی ماں کے لیئے یہ دو چھوٹے چھوٹے معصوم بچے سنبھالنے ، بالکل نو زائیدہ اور ایک سال بھر کی بچی آسان نہیں تھا۔
 اس کے بہن بھائی بھی ان کو دیکھتے لیکن وہ خود صبح جاتے اور شام کو سکولوں سے واپس آتے ۔
وہ زیادہ اس کا ساتھ نہیں دے سکتے تھے۔
 پھر گھر سے بھاگنے کے بعد، من مانی کرنے کے بعد اس کی عزت دو کوڑی کی ہو چکی تھی۔
 وہ کسی سے نظر ملا کر حوصلے کے ساتھ بات نہیں کر سکتی تھی۔ خاموش رہتی تھی کھانا کھاتے ہوئے اسے شرم آتی تھی۔
 کھانے کی میز پر بیٹھی ہوئی اسے لگتا تھا شاید وہ  بھیک کی روٹی کھا رہی ہے۔
 اسے اپنے والدین کا اپنا  گھر اسے پرایا لگتا تھا۔
 لیکن آج ماں بیٹی میں اسی بات پہ  بحث ہوئی۔
 بحث بڑھتے بڑھتے  ماں نے کہا اگر اتنے ہی نخرے تھے تو اپنے میاں کے ساتھ ہی نبھا کر لیتی۔
 ہم تو برے تھے وہ تو تیرا من چاہا تھا نا۔ جب یار بنایا تھا تو ہم سے پوچھ کے بنایا تھا۔ رہتی اس کے ساتھ ۔ نبھا کر کے دکھاتی۔  زندگی گزار کے دکھاتی۔ ہمارے گلے نہ پڑتی۔
 ماں نے یہ کہا اور پیر پٹختے ہوئے اس کے کمرے سے باہر چلی گئی۔
 یہاں عظمی کے دماغ کی حالت غیر ہوتی چلی گئی۔
 ماں کا دیا ہوا طعنہ گولی کی طرح اس کے سینے پر لگا۔ اس کا دل اتھل پتھل ہو رہا تھا۔ بے عزتی کی ایک ایسی شدید لہر تھی جو اس کے رگ و پے سرایت کر گئی۔
 اس نے سوچے سمجھے بغیر کھڑکی کا رخ کیا۔
 کھڑکی کھولی اور گیارویں منزل سے کود گئی۔
 ماں جو بڑبڑاتی ہوئی کچن میں جا چکی تھی۔ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب اس کی بیٹی اس کے ہاتھوں سے نہیں  بلکہ اس دنیا سے بھی نکل چکی تھی۔ 
 جب کافی دیر تک اسے بیٹی کا کوئی جواب سنائی نہیں دیا تو غصے میں اس کے کمرے کی طرف آئی۔
 میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتی۔ لیکن وہاں کوئی نہیں تھا بچے کے رونے پر اس نے اسے ڈھونڈنا شروع کیا.
 سارے کمروں میں دیکھا . سارے فلیٹ میں چھان مارا . لیکن اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا ۔ 
اتنی دیر میں اس کی پڑوسن بھاگتی ہوئی آئی اور زور زور سے دروازے کی گھنٹی بجائے جا رہی تھی۔
اس کے دروازہ کھولتے ہیں وہ بولی
 مادام  تمہاری بیٹی کہاں ہے؟
 اس نے کہا یہیں ہو گی۔ کیوں کیا ہوا کیا کہنا ہے اسے؟
 جا کر دیکھو نیچے کیا ہوا ۔
نیچے نیچے کیا ہوا۔۔
 اس پڑوسن کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ اسے کیا کہتی ہے کہ تمہاری بیٹی کی لاش پڑی ہے نیچے۔
 اس نے کہا
 فورا نیچے جاؤ کافی دیر سے وہاں پولیس آئی ہے۔ 
  الہی خیر کہتے ہوئے 
 وہ جلدی سے لفٹ کے ذریعے نیچے اتری ۔
پہنچی تو ایک ہجوم تھا وہاں پر۔ پولیس بھی تھی۔
 اس نے کہا
 کیا ہوا 
کیا ہوا۔۔
 ایک پولیس افیسر نے اسے روکتے ہوئے کہا
 رک جاؤ
 آپ کون؟
 اس نے اپنا نام بتایا۔
 اس کی پڑوسن اس کے ساتھ تھی۔ انہوں نے کہا اسے جانے دو یہ اس کی ماں ہے۔
 پولیس نے اس کو ایک فاصلے تک جانے دیا 
لیکن یہ کیا اپنی بیٹی کی لاش دیکھ کر وہ اپنے اوسان خطا کر بیٹھی۔۔
 اف میرے خدا یہ کیا ہوا میں تو اس سے باتیں کر رہی تھی۔۔
 مجھے پتہ ہی نہیں چلا ۔
میں تو کچن میں اس سے باتیں کر رہی تھی کھڑے ہو کر، 
 اور یہ کس وقت کود گئی ۔۔
عظمی موقع پر ہی وہ دم توڑ چکی تھی۔
اسکی میت کو لیجایا گیا ۔ اسے غسل دیتے وقت جب ماں نے اپنی لاڈلی بیٹی اپنی پہلی اولاد کو جس نے اسے پہلی بار ماں کہہ کر پکارا اسے اس کے بدن کو دیکھا جہاں جگہ جگہ زخموں کے نشان تھے ۔
وہ یہ سوچتے ہوئے غش کھا رہی تھی کہ اف خدایا میں میں اتنی بے حس کیسے ہو سکتی تھی۔ مجھے میری بیٹی کی آہیں سسکیاں سنائی کیوں نہیں دیں؟
 کیسے مجھے پتہ نہیں چلا کہ وہ ایک درندے کے شکنجے میں پھنس چکی ہے۔
 ہم ماں باپ اپنی بیٹیوں کو ایسے لاوارث کیسے چھوڑ سکتے ہیں ،
کیسے وہ اتنا ظلم اس پر کر  سکتا ہے۔
 وہ ذرا سا ہوش سنبھالنی اور پھر سے بے ہوش ہو جاتی۔
 اس کی ماں کی حالت غیر ہوتی جا رہی تھی۔
 اپنی لاٹری بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر ، اس کی میت کو دیکھ کر اس کا خود مر جانے کو جی چاہا، لیکن اس کے بچے اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے۔
 اگر میں بھی نہ رہی ۔۔۔
اس کے شوہر نے کہا اگر تم بھی نہ رہی تو تم کیا سوچتی ہو ان بچوں کا کیا بنے گا۔۔
حوصلہ کرو۔ ہماری بیٹی نہیں رہی لیکن اس کے دوبچے ہماری گود میں ہیں ۔ انکا سوچو
  اپنی بیوی کو ذہنی اذیت کے لیئے اور اس پر گھریلو تشدد کے لیئے اس کے شوہر کو نامزد کیا گیا۔
پولیس نے اسے ڈھونڈ نکالا ۔
گرفتار کیا۔
 اس پر کیس چلا اور اسے جیل ہو گئی۔
سات سال کی جیل کاٹنے کے بعد باہر نکلتے ہی  اس نے اپنے بچوں کی کسٹڈی انکے نانا نانی سے دوبارہ حاصل کر لی ۔
نہ چاہتے ہوئے بھی بچوں کے نانا نانی کچھ نہ کر سکے۔ 
یہ کیسا قانون ہے بچوں کو انکی ماں کے قاتل کے حوالے کر رہا ۔

رشید نے اپنے سات اور آٹھ سال کے  بچوں کو پاکستان ایک دور دراز کے گاؤں میں لیجا کر اپنی ماں کے حوالے کر دیا۔
 اس کی ماں جو پہلے ہی اس کو یہاں سے احکامات بھیج کر چلایا کرتی تھی۔
 اس نے یہ سوچ کر وہ بچے اپنے پاس رکھ لیئے کہ بیٹا اسی بہانے ہر مہینے ایک موٹی رقم اسے بھجوانے پر مجبور رہے گا اور اس کے ساتھ بنا رہے گا۔
 گھر میں ان بچوں کی چچی بھی موجود تھی۔  یوں چچی جو رشید کی اپنی خالہ زاد تھی اور خالہ بھانجی نے جو ساس بہو بھی تھیں۔
مل کر ان بچوں کی ذمہ داری لی۔
 اسے میٹھے میٹھے سپنے دکھائے۔
 اپنا کلچر سکھانے کے بہانے، اپنی تہذیب سکھانے کے بہانے،  ان کو مسلمان بنانے کے بہانے،  انہوں نے وہ بچے اپنے پاس رکھے۔ 
سارا دن ان بچوں کے ذہن میں انکی ماں کی بدکرداری کا زہر بھرا جاتا۔
یہ معصوم بچے جو کسی کو اپنی ضرورت بھی ٹھیک سے نہیں بتا سکتے تھے لیکن ان بچوں کو اس کی ماں اور بھاوج نے لاٹری کا ٹکٹ سمجھا ۔
تھوڑے دن جب تک وہ رہا ان بچوں سے خوب لاڈ پیار ہوتا رہا۔
 اس کے بعد یہ بچے اس دور دراز افتادہ ایسے گاؤں میں جہاں ابھی تک بجلی بھی نہیں تھی اپنے بچے چھوڑ کر  آ گیا اور خود فرانس میں اپنی اسی صبح شام میں گم ہو گیا ۔
کسی نئے شکار کے انتظار میں ۔
اس نے زندگی کا آغاز کیا ۔
وہ بچے اس دور افتادہ گاؤں میں اپنی دادی اور چچی کے ظلم و ستم کا شکار ہوتے رہے ۔
ان دونوں کو پورا کھانا تک نہ ملتا۔ ڈرے سہمے کسی بھی کونے میں سو جاتے۔
 سارا دن چچی اور دادی کی مار پیٹ کا شکار رہتے ہر بات پر انہیں طعنے دیئے جاتے۔
 ان کی ماں کو بھگوڑی کہا جاتا ان کی ماں کو عاشق مزاج کہا جاتا اور وہ معصوم لڑکی جو ان کے بیٹے کے ہاتھوں قبر میں جا سوئی۔ اسے گندے ناموں سے پکارا جاتا۔
 یہ بچے ذہنی طور پر دبتے چلے گئے۔
 کسی سے کھل کر بات نہیں کر سکتے تھے۔
 اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتے تھے۔

وہ دونوں بچے ہسنا بھول چکے تھے۔
 آخر چھ سات سال کی فرانس میں کی ہوئی عیاشی کے بعد اسے جب لوگوں نے احساس دلانا شروع کیا کہ تم اپنے بچے کیوں نہیں بلاتے۔ شادی کیوں نہیں کرتے۔اپنا گھر کیوں نہیں بساتے۔
  اس کی ماں نے اس کا رشتہ اس کے گاؤں کے قریبی شہر میں پکا کر دیا ۔
یوں اس بار وہ پاکستان گیا تو دوستوں نے اسے صلاح دی 
 اگر تم اس بار اپنے بچے لے کر نہیں آئے، 16 سال کی عمر سے پہلے پہلے، تو یاد رکھو ان بچوں کے آنے میں مشکلات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔
 حالانکہ وہ بچے فرانس میں پیدا ہوئے ہیں لیکن بہت سے قوانین تبدیل ہوتے رہتے ہیں، تو بچوں کے لانے میں مشکل ہو جاتی ہے۔
 اس لیے بہتر ہے کہ انہیں لا کے یہاں سکول میں داخل کرواو۔
 لیکن وہ چھوٹے گھر کا ، چھوٹے علاقے کا، چھوٹی سوچ کا ایک ایسا آدمی تھا  جو اس چیز کو ہضم نہیں کر پا رہا تھا.
 کیونکہ جب وہ خود کسی اور کی بیٹی بھگا کر لایا تھا۔ اسے ہر وقت کے دھڑکا رہے گا کہ کوئی اس کی بیٹی بھگا کر نہ لے جائے۔
 مکافات عمل تو ہر وقت آپ کے پیچھے رہتا ہے۔
 لیکن بالاخر اسے شادی کا فیصلہ لینا پڑا ۔ ساری زندگی محض عیاشی پہ نہیں گزاری جا سکتی تھی۔
 اسے بھی اب گھر کا کھانا چاہیئے تھا۔ 
 بالآخر اس کی ماں کے کہنے پر اس نے نزدیک کے شہر سے ایک لڑکی کا رشتہ اس کے لیے پسند کیا۔
 لیکن وہ اس کے بچے اس کے ساتھ بھیجنا نہیں چاہتی تھی۔ بیوی کے لیئے دستاویزات بنانے کے بعد اس نے اسے اپنے پاس فرانس بلا لیا۔
 ڈیڑھ دو سال کی اسی کوشش میں اسکی ماں نے اسے بچے لے جانے سے منع کرنے کے لیے ہر زور لگایا۔ لیکن دوستوں کی بات اس کے ذہن میں سما چکی تھی ، 
کہ بچے یہاں لاؤ گے تو کئی سرکاری فائدے بھی تمہیں ملیں گے۔
 لیکن ابھی بھی وہ جب دوسری شادی کر رہا تھا تو اس کا خیال تھا۔
 میں اور بچے پیدا کر لوں گا مجھے ان بچوں کی کیا ضرورت ہے۔
 لیکن خدا کی لاٹھی بھی بے آواز ہوتی ہے۔
 جس معصوم لڑکی کی موت کی وہ وجہ بن چکا تھا اسے بچوں پہ بچے پیدا کرنے کی ایک مشین سمجھ چکا تھا۔ اب شاید قدرت اسے اس بات کا جواب دینے والی تھی۔
 دوسری بیوی شکل صورت میں اچھی تھی ۔خوبصورت تھی۔ لیکن  بیحد حاسدانہ مزاج رکھتی تھی۔
 پیرس کے نام پر وہ شادی کر کے تو آ گئی تھی لیکن وہ اس کے بچے کبھی بلانا نہیں چاہتی تھی۔
 اسے بھی اسی بات کا انتظار تھا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ یہاں اپنا گھر بنائے گی۔
 اللہ کی کرنی مہینوں پہ مہینے گزرتے چلے گئے لیکن اللہ نے ان کا دامن خوشی سے نہیں بھرا۔
 کرتے کرتے اس بات کو تین چار سال کا عرصہ گزر گیا اور اللہ نے انہیں اولاد کی نعمت سے محروم رکھا۔
 ڈاکٹرز نے جواب دے دیا 
سوری تم اولاد نہیں پیدا کر سکتی۔
 اب تو رشید کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
 اس نے جلد سے جلد پاکستان کی ٹکٹ کٹوائی اور پاکستان جا پہنچا۔
  اپنے بچے اپنے ساتھ  لیئے۔ ہر کسی کی مخالفت کے باوجود وہ انہیں مہینے بھر میں اپنے ساتھ واپس فرانس لے آیا۔
یہاں آ کر اس نے بچوں کے کو انکی عمر کے سکول میں (لازمی تعلیم کی سرکاری پابندی کے سبب) داخل کر دیا ۔
لیکن اب اس کی دوسری بیوی شاہانہ کے سینے پر یہ بچے سانپ بن کر لوٹنے لگے۔
 رشید کی بیٹی جو اب 17 سال کی ہو چکی تھی۔ وہ اتنے دکھ اپنی دادی اور چچی کے ہاتھ سے اٹھا چکی تھی اور اپنے بھائی کو اتنے ظلم سہتے ہوئے دیکھ چکی تھی کہ وہ ہر بات میں اپنا حق لینے کے لیے ہر ایک سے مقابلہ کرنے کو تیار ہو جاتی۔
 وہ دوسروں سے ہر خوشی چھین لینا چاہتی تھی ۔
اس کے منہ پر کبھی مسکراہٹ نہیں آتی تھی۔ کسی نے اسے کبھی مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔
 ایک عجیب سی سختی اس کے چہرے پر تھی۔ دور سے دیکھنے پر اس کا چہرہ پتھر سے تراشہ ہوا لگتا۔
 دونوں بہن بھائی جیسے ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔
 ظاہر ہے دونوں نے تکلیفیں جو ایک جیسی اٹھائی تھیں۔ دونوں کی محسوس کرنے کی حس، درد اٹھانے کی حس ، بھی ایک جیسا کام کر رہی تھی۔
 یہاں پر پڑھائی شروع ہوئی۔ اس نے شکر ادا کیا۔
 لیکن اب وہ جب بھی اسے دیکھتی اسے اپنی ماں اور  اپنی ننہیال یاد آتی۔
لیکن ماں کی موت کے بارے میں سننے کے بعد وہ اپنی ننھیال سے ملنے کے لیئے بھی تیار اس لیئے نہیں تھی کہ پہلے تو رشید انہیں ان کی طرف جانے نہیں دیتا تھا اور اگر کسی کے کہنے پر شرما شرمی جانا بھی پڑتا۔ تب بھی وہ اپنی ماں کی قتل کا ذمہ دار اپنی ننہیال کو سمجھ رہے تھے۔
 کیونکہ یہ زہر کتنے سال تک اس کی دادی اور اس کی چاچی نے ان کے کانوں میں بھرا تھا۔
 اس لیئے اس نے اپنا سارا غصہ اور غضب نکالنے کے لیے اپنی سوتیلی ماں شاہانہ کو ٹارگٹ بنا لیا ۔
 شاہانہ بھی کم نہیں تھی جو ایک رنگ کا سوٹ ایک کے لیئے آتا تو دوسری اس میں کٹ لگا کے یا استری رکھ کے بھول جاتی اور وہ اسے پہننا نصیب نہ ہوتا۔
 کبھی اٹھا کر اس کی کوئی چیز کھڑکی سے باہر پھینک دیتی ۔
کبھی ایک دوسرے کی چیزیں پھینکتے، کپڑے پھاڑتے  جلاتے ،گویا حسد کا ایک ایسا عذاب تھا جو رشید کو شام کو گھر آنے کے بعد دونوں کے فساد کی صورت میں سننا پڑتا۔
 بیٹی کو برا بھلا کہتا ہے اور کبھی بیوی کو ایک آدھ لگا دیتا۔
 لیکن یہ مقابلہ ختم ہونے پہ آتا دکھائی نہیں دیتا تھا۔
 آخر کار اس کے بیٹے نے بھی بنیادی پڑھائی کے بعد اپنا سکول چھوڑ دیا۔
 اور یوں زبان تو وہ سیکھ ہی چکا تھا اب  اسے آوارہ گردی میں مزہ آنے لگا۔
 اس کے لیئے پیرس کی ہوا بھی نئی نئی تھی۔
 نئی نئی اس نے موٹر سائیکل چلانا سیکھی۔
 زبان سیکھنے کے بعد وہ اپنے اپ کو بہت زیادہ خود مختار سمجھنے لگا۔
 پچھلی بندشوں کے بدلے اس نے اگلے رشتوں سے لینے شروع کیئے۔
 بہت سی بری صحبتوں کا شکار ہوا۔ جیل تک سے ہو آیا۔
  اس کی بیٹی جو ہر چیز سے بیزار ہو چکی تھی۔ وہ لوگوں کو اپنے غصے کا شکار بناتی ۔
  رشید اب روز پستا تھا ۔ کبھی بیٹی کے ہاتھوں اور کبھی اپنی بیوی کے ہاتھوں۔
کئی کئی دن اپنے گھر نہیں جاتا اپنے دفتر میں ہی سوتا ہے ۔
 کیونکہ خدا نے سکون اس کی زندگی سے الگ کر دیا تھا ۔
وہ حرام حلال طریقوں سے مختلف کمپنیز بنا کر نوٹ تو بہت چھاپ رہا تھا۔
 لیکن سکون اور گھر کا بنا کھانا اس کا خواب ہو چکے تھے۔
 وہ یہی سوچتا کہ کاش وہ سکون اور گھر کے کھانے کی لذت  بھی پیسوں سے خرید سکتا۔۔۔۔
                     ۔۔۔۔۔۔۔۔



بدھ، 31 جولائی، 2024

تبصرہ۔ ممتاز منور انڈیا۔ اور وہ چلا گیا۔ اشاعت 2024ء


ممتاز شاعرہ ممتاز ملک

کرونا وبا کے دوران ایک مثبت بات یہ ہوئی کہ آن لائن مشاعروں کا دور شروع ہو گیا۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک کے شعراء سے متعارف ہونےکا موقع ملا۔ انھیں میں سے ایک باوقار شخصیت ہیں ممتاز ملک ۔
جن کا تعلق پیرس سے ہے۔ حسین و جمیل، شگفتہ مزاج ,زندہ دل اور زندگی سے بھر پور۔ بہترین ناظمہ۔
 ان کی نظامت میں مشاعرہ پڑھنے   کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ آپ  ادبی تنظیم "راہ ادب فرانس " کی بانی اور روح رواں ہیں۔ جس کے تحت آپ اردو اور پنجابی عالمی مشاعرے منعقد کرواتی رہتی ہیں۔ اپنی خوبصورت ادا سےاور دلفریب ترنم میں جب آپ اپنا کلام پیش کرتی ہیں تو سامعین مسحور ہو جاتے ہیں۔ جتنے خوبصورت  طریقے سے کلام کی ادائیگی ہوتی ہے اتنا ہی خوبصورت ان کا کلام ہوتا ہے۔ ان کا شعری مجموعہ"اور وہ چلا گیا" ابھی ابھی موصول ہوا۔ ممتاز صاحبہ کے حکم کی تعمیل میں اس کتاب کے تعلق سے  اپنے خیالات پیش خدمت ہیں۔
اس کتاب کو ادارۀ اردو سخن ڈاٹ کام نے شائع کیا ہے ۔ 200 صفحات پر مبنی اس کتاب کا انتساب بھی دلچسپ ہے۔ جس کو أپ نے "وطن عزیزکی فلاح و بہبود کے لۓ سوچنے والوں کے نام" کیا ہے۔ کیونکہ آپ خود بھی معاشرے کی فلاح و بہبود کے بارے میں نہ صرف سوچتی ہیں بلکہ اس میدان میں فعال بھی ہیں۔ جس کی جھلک  ان کے کلام میں بھی نظر أتی ہے ۔ وہ کہتی ہیں

ناچتی پھرتی ہے یہ نسل نو
کجھ تو ان میں فنون رہنے دو

یہ شعر بھی ملاحظہ کریں

گھر میں ہی انصاف کی پامالیاں ہونے لگیں
داغ سینے کے زمانے کو دکھانے پڑ گئے

ممتاز صاحبہ اج کے دور کی خاتون ہیں۔ تعلیم یافتہ، اپنا ذہن، اپنی راۓ رکھنے والی۔ اپنے وجود کی اہمیت جتانا خوب جانتی ہیں۔کہتی ہیں

چوڑیاں چھوڑ کے ہتھیار  اٹھایا میں نے 
نہ سمجھ تو اسے بیکار اٹھایا میں نے

 اسی طرح وہ اپنے أپ کو کسی سے کمتر نہیں سمجھتیں۔  بلکہ برابری کا درجہ چاہتی ہیں۔

تمہارے رنج و غم اپنے جگر میں پالتی ہوں
میں ہمدم ہوں محض اک شوق رکھوالی نہیں ہوں

کہیں کہیں ان کی شاعری میں زمانے سے شکایت کا رنگ بھی نظر آتا ہے۔ وہ کہتی ہیں

یہ مطلب پرستوں کی دنیا ہے پیارے
یہاں زندگی کون ہنس کے گزارے
یہاں پر خوشی میں تو ہنستے ہیں سارے
مگرساتھ روتے نہیں ہیں ہمارے

انہیں اپنے دوستوں سے بھی گلہ ہے کہ

اپنے ہی رلاتے ہیں اپنے ہی ستاتے ہیں
غیروں میں کہاں دم تھا کہ آنکھ کو نم کرتے

 آج کل کے حالات پر بھی وہ گہری نظر رکھتی ہیں اورفرماتی ہیں

ہے تم پر فرض پہلا،  پرورش اچھی کرو ان کی
جنم دیتے ہی جن کو تم ، لگاتے ہو کمانے پر

ان شکوے شکایات کے باوجود آپ نہایت پر امید ہیں

جہاں کوئی نیا أباد کر لیں
یہ دنیااب پرانی ہو گئی ہے

 اور یہ بھی ملاحظہ کریں

رات کے بعد ممتاز دن آئیگا 
سوچ نہ دن کے آگے محض رات ہے

آپکی شاعری کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو پڑھنے کے بعد قاری کے ذہن پر ایک مثبت تاثر چھا جاتا ہے ۔ شاعر کا کمال ہی یہی ہے کہ وہ اپنے قاری کی سوچ کوصحیح اور مثبت سمت دے ۔
اس کتاب کی اشاعت پر میں ممتاز صاحبہ کو دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں اور دعا گو ہوں

اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
 ڈاکٹر ممتاز منور
صدر
انجمن ترقی اردو( ہند)
پونے. . . .  انڈیا
                 ۔۔۔۔۔۔۔

بدھ، 24 جولائی، 2024

تبصرہ ۔ رحمان امجد مراد ۔ اور وہ چلا گیا ۔ اشاعت 2024ء



تبصرہ: رحمان امجد مراد سیالکوٹ 
لکھاری۔  40 کتب

شعر اور فرد کے مابین استوار ہونے والے رشتوں میں سب سے واضح اور معتبر رشتہ "لاشعور" کی سطح پر قائم ہوا کرتا ہے۔ شعری زبان اور ہیئت (form) کی تفہیم فوری طور پر "شعور" کی مرہون منت ہی سہی لیکن متن( text) کی(application) ہمیشہ "لاشعور" بلکہ اگر صحیح اصطلاح اپنائی جائے تو "اجتماعی لاشعور " کے وسیع و عریض علاقے پر ہوتی ہے ۔ یوں بھی جدید نفسیات کے مطابق افہام کی اصل سطح "اجتماعی لاشعور" کی انہی یادداشتوں سے عبارت ہے۔  تخلیق سے اظہار تک کے تمام مراحل سہل نہیں ۔ نہ جانے کتنے ہی ہفت خواں سر کرنے کے بعد شاعر اس اقلیم سخن تک رسا ہوتا ہے
 جہاں اسے لفظ کا اصل فطری لحن نصیب ہوتا ہے اور بقول غالب~
 بے نشہ کس کو طاقت آشوب آگہی
 بہرحال سخن کے حوالے سے کام پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ (اگرچہ نہ ہونے کے برابر صحیح ) اور آج بھی اس سلسلے میں انفرادی سطح پر بہت سے لوگ مصروف کار ہیں۔ آج اس قبیلے کی ایک فرد سے آپکو ملوانا چاہتا ہوں۔ اس کے کہے ہوئے شعروں میں، اس کے برتے ہوئے لفظوں میں، دھیما سا سہی لیکن ایک نیا ذائقہ آپ کو ضرور ملے گا۔
 >ساری دنیا کو لے کے کیا کرنا
 صرف میرا، میرے خدا ہو جا

>جب سے چوما ہے میں نے صحن حرم
 بے قراری سے میں قرار میں ہوں
 محترمہ ممتاز ملک کی ذات اور شاعری میں جو باتیں مشترک ہیں اور ان میں سب سے اہم بات کسی اور کو اپنا گرویدہ بنانے کی خصوصیت ہے۔ جس طرح محترمہ ممتاز ملک سے ملنے والا شخص ان سے متاثر ہوتا ہے بلکہ دوسری تیسری ملاقات میں ان کے گنوں کو پوری طرح جان جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح ان کی شاعری فوری طور پر ذہنوں پر حاوی ہو کر اپنی موجودگی کا اظہار کرتی ہے۔ ( یہ میرا خیال ہے) آئیے محترمہ ممتاز ملک کے آئینے کے سامنے کچھ وقت گزارتے ہیں۔۔۔
* ہم نہ آتے جو یہاں کون بتاتا ہم کو
 کس کی اوقات ہے کیا آ کے یہاں جان لیا 

*کھردری کھردری اداسی ہے
 مخملی مخملی خماری ہے 

*ساری دنیا کی اذیت سے تقابل کرتے
 اس کا ہر لفظ جہاں بھر سے تھا بھاری ہم

* محرومیوں کا درد یا احساس کی کمی ہے
 سوچوں کے آئینوں پر اک گرد سی جمی ہے 

*دھڑکنیں ہو گئیں ساقط تیرے جاتے جاتے
 کس طرح تجھ کو میری جان بھلائیں گے ہم

* اگر ہر شعر کو اکائی سمجھا جائے تو اس کتاب میں شامل اکثر غزلیں ایک بالغ نظر حساس شخصیت کی زندگی میں لمحہ لمحہ رنگ بدلتی رتوں اور تیور بدلتے رشتوں کی رپوتاژ بھی کہلا سکتی ہیں دراصل ۔۔۔۔۔ 
سچا تخلیق کار وہی ہوتا ہے جو اپنی داخلی واردات کے ساتھ ساتھ خارجی معاملات و مشاہدات کو بھی پیرایئہ اظہار دینے کا ہنر رکھتا ہو۔
محترمہ ممتاز ملک پر یہ نقطہ یقینا منکشف ہو چکا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں مذکورہ بالا دونوں جہتیں موجود ہیں اور لطف یہ کہ تمام تر فنی باریکیوں کے ساتھ ۔۔
چند مثالیں ملاحظہ ہوں ۔۔۔
*میرے ہاتھوں میں چھپے راز بتانے والے
 اب کہاں ملتے ہیں وہ ساتھ نبھانے والے

 *ہرگز یہ سمجھنا یہاں دشوار نہیں ہے
 اس ملک سے کوئی بھی وفادار نہیں ہے

* گھلی ہیں سسکیاں ہر ایک لے میں 
 یہی اس گیت کا رنگ طرب ہے

* کیا خوشی کبھی تذکرہ کرتا
 یہ تو پہلو میں غم کی سوتی ہے 

* لب پہ نغمے وصال کے لیکن
 آنکھ میں ہے جدائی کا موسم

 اس کتاب کی بیشتر غزلوں میں شاعرہ کی ٹریٹمنٹ میں نہایت سادگی نظر آئے گی۔ اس کی زبان میں محاورے سے زیادہ روزمرہ کا لہجہ استعمال ہوتا ہے۔  محترمہ ممتاز ملک اور لفظوں کے درمیان بڑی بے تکلفی ہے اور یہ بڑی اہم چیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ہاں جیتی جاگتی اور سانس لیتی زندگی دکھائی دیتی ہے۔
* وہ بھی تجھ کو بچا نہیں سکتے 
جی اٹھے ہیں جو تیرے آنے پر

* گر بجھا سکتے نہیں، اچھا ہے تم دور رہو 
مت بھڑکتے ہوئے، شعلوں کو ہوا دو جا کر

* بہت قابل جسے مانا جہاں نے
 ناکارہ کر کے چھوڑا ہے کسی نے

* دبا کے درد کو مسکان کوئی کم تو نہیں 
اسے اسی میں تو بے حد کمال گزرا ہے 

*نظروں سے لوگ پوچھتے ہیں سجتا دیکھ کر 
کس کو سنگھار اپنا دکھائیں تیرے بغیر

* لب نہ کہہ پائیں وہ آنکھوں سے عیاں ہوتی ہے
 ہر محبت میں عقیدت یہ کہاں ہوتی ہے
 ہم نے محسوس کیا خود کو بھی بے بس اس جاء
 والہانہ سی یہ زنجیر جہاں ہوتی ہے

* جب ضرورت ہو مجھے یاد بھی کر لیتا ہے
 بن ضرورت کے نہیں وقت گنوانے والا 

* معاملہ اتنا بھی آسان نہیں ہے صاحب
 جتنے انسان نے آسان سمجھ رکھا ہے

* ہم زندگی کی بھیڑ میں گم کس قدر ہوئے 
کھینچا ہے واپسی نے بھی فرمان کی طرح

* جو کچھ گزر رہی ہے اس سے نظر چرا کر
 کچھ اور ہی دکھانا , آسان نہیں ہوتا 

*زندگی میں سکون رہنے دو
 تھوڑا تھوڑا جنون رہنے دو 
ہو چکا ہے جو رب کی رحمت سے 
تم بھی اس کو ملعون رہنے دو

 زندگی کی کڑوی اور سنگین حقیقتوں کی نقاب کشائی محترمہ ممتاز ملک کے مزاج کا حصہ ہے۔ وہ تخیل پرست نہیں بلکہ جو کچھ اپنے سامنے دیکھتی ہے اس کو اپنے شعر کا موضوع بناتی ہے۔  خارجی حالات کو دیکھ کر جو باتیں اس کے ذہن میں آتی ہیں۔ انہی کی تفصیل اور جزئیات کو پیش کرتی ہیں۔ اس کی شاعری میں عذاب زیست کے سارے باب کھلے نظر آتے ہیں۔  محترمہ ممتاز ملک جذبوں کا جوڈو کھیلنا جانتی ہیں ۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں زندگی کی بڑی بڑی حقیقتوں کو بیان کر جاتی ہیں۔ دراصل اس نے چھوٹی باتوں میں ہی زندگی کی حقیقتوں کو دیکھا ہے ۔ اس لیے وہ ہر اس چیز کو ٹٹولتی ہے جس پر ہاتھ ڈالنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ فنی اعتبار سے وہ اپنا جواب آپ ہے۔۔۔ وہ حساس اور بے باک ہونے کے ساتھ ساتھ غیور بھی ہے۔ اس کے شعری سٹائل میں سادگی اور پرکاری کے ساتھ تیکھا پن اور نوک پلک کی درستی بڑی مٹھاس کے ساتھ بھری ہوئی ہے۔ وہ دو مصروں میں بے تکلفی کے ساتھ سارے گن ظاہر کر دیتی ہے۔ وہ شعر بازوں اور شعر گروں سے الگ تھلگ رہ کر اپنے فیصلے صادر کرنے کی عادی ہے۔ اس لیے وہ اکثر فیصلے درست کرتی ہے۔ وہ بڑی سے بڑی ٹریجڈی کو سہولت کے ساتھ ایک شعر میں بیان کر سکتی ہے۔ اس کی شاعری مخملی ملائم کے ساتھ کلف کیئے ہوئے کاٹن کی طرح کھنک اور اینٹھتی ہوئی اکڑ بھی موجود ہے۔
" اور وہ چلا گیا"  کا عنوان ہی اپنے اندر بے پناہ درد اور معنویت رکھتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر یہ مصرع جس شعر یا غزل سے لیا گیا ہے۔ اس کا موڈ کیا ہے ۔ ہمارے نزدیک ہر مصر ایک الگ اور آزاد بلاز کی حیثیت رکھتا ہے، اور ایک اکائی کی حیثیت سے ہر مصرع شاعرہ کی مکمل تحلیل نفسی کا تقاضا کرتا نظر آتا ہے۔ کم از کم میرا تو یہی خیال ہے۔ آپ بھی اس کتاب کے ٹائٹل کو کچھ وقت الگ سے ضرور دیں۔
 محترمہ ممتاز ملک کے بقول~

ہم کو بھی سانس لینے کو، تازہ ہوا ملے 
گل سے گلوں سے، ہم کو لگاوٹ نصیب ہو
 میں محترمہ ممتاز ملک کو ان کے پابچویں  اردو شعری مجموعہ کلام " اور وہ چلا گیا "
کی تخلیق پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں 
" اللہ کرے زور قلم اور زیادہ"
 دعاگو 
رحمان امجد مراد
 بانی اور چیئرمین کرائیڈن اکیڈمی سیالکوٹ 
0321.6151642

پیر، 22 جولائی، 2024

* عمر گزاری ہے/ اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا ۔اشاعت 2024ء


عمر گزاری ہے 

لو یو لو یو کرتے کرتے اس نے عمر گزاری ہے 
جھوٹ کا لو یو سچ کی خاموشی پر ہر دم بھاری ہے

ہر  بات کھلی ہے اور یہاں  ہر راز سے پردہ اٹھا ہے
 دل پھر بھی  تسلیم کرے نہ، ایک عجب لاچاری ہے

راہنما خود بھٹکا ہے اور آقاؤں کی دہشت ہے
 کیسا انتخاب ہے جو غیرت پر ضرب کاری ہے 

حق بات کہو تو غداری کی سندیں ہوتی ہیں جاری
ایمان کا سودا طے کرنا ہی کاہے کی دلداری ہے

بند یہاں بندہ سکتا ہے جو لوٹ مچی ہے ہر جانب  
ایمان سلامت ہو اپنا اور  شرط محض بیداری ہے

حد ہوتی نافرمانی کی حد ہوتی ہے گستاخی کی
یہ بات اسے سمجھانے میں پیش آتی 
ہر دشواری ہے

ان گلیوں میں کیا رکھا ہے ممتاز سوا بہروپیوں کے
نت روز تماشے ہوتے ہیں اک اور کی  اب تیاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 18 جولائی، 2024

* کبھی برسوں پہلے / اردو شاعری۔اور وہ چلا گیا . اشاعت 2024ء


کبھی برسوں پہلے 
کلام:
(ممتازملک۔پیرس)


سلسلہ پھر وہیں یادوں کا جڑا ہے میری
جس جگہ ٹوٹ گیا تھا کبھی برسوں پہلے

اب بھی خوشبو ہے میرے ہاتھ میں اس آنچل کی
 ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا کبھی برسوں پہلے

مجھ کو زمزم سا مقدس ہے تیرے ہاتھوں جو
اک گھڑا پھوٹ گیا تھا کبھی برسوں پہلے

رہزنی بھی نہ تیری بھول سکے ہیں اب تک
میری ہر یادکوجو لوٹ گیا تھا کبھی برسوں پہلے

کتنے نادان ہو کیوں سچ کی ہے امید اس سے
بول کے  جھوٹ گیا تھا کبھی برسوں پہلے

پرسش غم کے نہ انداز سکھا تو مجھکو
ضبط ممتاز یہاں ٹوٹ گیا تھا کبھی برسوں پہلے
●●●





منگل، 28 مئی، 2024

* معافی نہیں ہوتی۔ اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا۔ اشاعت 2024ء


معافی نہیں ہوتی


اک جیسی دوا زخم کو کافی نہیں ہوتی
کہہ دو اسے ہر بات کی معافی
 نہیں ہوتی

 کفارہ ادا کرنا گناہوں کا ہے لازم
 بن اسکے کبھی کوئی تلافی نہیں ہوتی

اپنی بھی ہو تعظیم تو یہ بات کہیں پر
آداب محبت کے منافی نہیں ہوتی

چلتے ہیں اکیلے ہی عقیدت کے سفر پر
تنہائی عقیدت میں کیا شافی نہیں ہوتی

جینے کے لیئے چاہیئیں اسباب ضروری
سوچو تو کوئی چیز اضافی نہیں ہوتی

چھوڑے ہوئے گھر کو ہے پلٹنے کا ارادہ 
ممتاز پوچھو وعدہ خلافی نہیں ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔

اتوار، 26 مئی، 2024

* پھر سے ہو۔ اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا۔ اشاعت 2024ء


پھر سے ہو 

جو کچھ گزر چکا ہے وہ اک بار پھر سے ہو 
گزرا جو اچھا وقت وہ ہر بار پھر سے ہو

شکوے بھلا کے پھر نیا آغاز کر سکیں 
گر اک اشارہ آپ کا سرکار پھر سے ہو

لگتا ہے ڈر یہ موقع اسے دیتے ہوئے بھی
ایسا نہ ہو سفر کہیں  بیکار پھر سے ہو

کہتے ہیں کہ امید پہ قائم ہے زندگی
لیکن جو زندگی کی کہیں ہار پھر سے ہو

یوں بے بسی سے جینا کوئی زندگی ہے کیا
ہر فیصلے میں مجھکو ہی انکار پھر سے ہو

رستہ ہمارے پیار کا ہموار پھر سے ہو
ایسا نہ ہو کہ پیار کا پیوپار پھر سے ہو

ممتاز خود کو کس طرح پھر سے خفا کروں 
جھوٹی خوشی کے ہاتھ میں تلوار پھر سے ہو 
۔۔۔۔۔۔۔

اتوار، 19 مئی، 2024

& اتنی سی تو بات تھی۔ افسانہ۔ قطرہ قطرہ زندگی ۔ اشاعت 2024ء




       اتنی سی تو بات تھی
 افسانہ۔
          ممتاز ملک
         پیرس فرانس

دو سال ہو چکے تھے اس کی شادی کو ۔ سسرال والوں نے دبا کر اسے اپنی ملازمہ بنا رکھا تھا۔ لیکن انہیں یہ یاد نہیں رہا کہ ان دو سالوں میں کوئی عید بھی آئی۔ کوئی شب برات بھی آئی۔ کوئی تہوار بھی آیا۔ لیکن اسے ایک جوڑا تو کیا ایک دوپٹہ تک لے کر دینے کی توفیق نہیں ہوئی۔ جبکہ یہ گھر اس کے شوہر کے باہر سے بھیجے ہوئے ہزاروں روپوں ہر ماہانہ چل رہا تھا۔ باقی سارے ہڈ حرام اپنی کمائیاں اپنے اپنے کھاتے خفیہ خانوں میں جوڑ جوڑ کر مالدار ہو رہے تھے اور باہر بیٹھا ہوا احمق خود تو اپنا خون انہیں سالہا سال سے پلا ہی رہا تھا۔  الٹا اپنے نام کے پٹے میں باندھ کر ایک معصوم لڑکی کی زندگی کو۔بھی گھن کی طرح چٹوا رہا تھا۔ 
  اس لڑکی کی آنکھوں سے اس کی باتوں کا درد صاف جھلک رہا تھا۔
 میں نے اپنی زندگی کے قیمتی ترین اور اپنی شادی کے بعد اپنے حسین ترین دن  ان کی چاکری میں گزار دیئے ۔ان لوگوں کے جوتے کھاتے ہوئے مجھے عرصہ گزرا۔ لیکن مجھے کیا ملا ۔
میں لعنت بھیجتی ہوں جوائنٹ فیملی میں رہنے پر اور سسرالیوں کی خدمتیں کرنے پر۔ اور اس کے لیئے دوسروں کو لیکچرز جھاڑنے والوں پر اور اسکے فائدے گنوانے والوں پر۔
 اس کے لہجے کی سختی اس کی اذیتوں کو بیان کر رہی تھی۔ زبیدہ بیگم یہ سب کچھ سن کر ایک عجیب سے کرب میں مبتلا ہو چکی تھیں۔انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ بھی  اس پر اس کے سسرال والوں کی سائیڈ لے کر اس کا کوئی ترانہ سنائیں۔ اسے جوائن فیملی سسٹم اور ساس سسر کی خدمت کے کوئی لیکچرز دیں یا پھر اس کی ذات کے درد کے ساتھ کھڑا ہو کر اسے حوصلہ دیں۔ اسے شاباش دیں کہ اس نے ایسے لوگوں کے ساتھ گزارا کیا۔ آج رات نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
 وہ سوچ رہی تھیں کہ ایک ادمی کا کیا کیسے بہت سارے لوگوں کے آگے آتا ہے ؟
کیوں لوگ بھول جاتے ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو ویلوٹ کی نائٹیاں بہنانے والے جس بھائی کی کمائی پر یہ عیش انہیں کروا رہے ہیں، اس بھائی کی اپنی بیوی ان کے گھر میں 24 گھنٹے کی چاکری کر رہی ہے اور ایک دھیلے کی چیز بھی اس کے نصیب میں نہیں ۔
یہ کیسے بددعائے ہوئے لوگ ہوتے ہیں؟
 بے شرمی کی کیسی کیسی مثالیں ہمارے ارد گرد بکھری ہوئی ہیں ۔ 
ہم جتنے مرضی سجدے کر لیں۔ جتنی مرضی لوگوں کے سامنے نیکیاں بگھار لیں۔ لیکن اصل نیکی وہ ہوتی ہے جو ہم اپنے رشتوں میں ایمانداری کے ساتھ اپنے حقوق اور فرائض کو متوازن کر کے ادا  کرتے ہیں۔ وہ چاہے کسی کو دکھائی اور سنائی دیں یا نہ دیں لیکن حقیقت میں اس کے اثرات ہر طرف بکھرتے ہیں۔
 لہجوں میں بھی، رویوں میں بھی، رشتوں میں بھی،۔۔۔۔
 یہ سب سوچتے سوچتے فجر کی اذان ہونے لگی انہوں نے اٹھ کر وضو کیا، نماز ادا کی اور کچن میں جا کر اپنے لیئے چائے بنانے لگیں آج انہوں نے گھر میں رکھی سبزی اور گوشت نکال کر ٹرے میں رکھا ،کہ آج کے کھانے کی طرف سے یہ سوچنے کا وقت ضائع نہ ہو کہ کیا بنانا ہے؟ جتنی دیر تک انہوں نے چائے بنائی اور سلائس پر مکھن لگایا چولہے پر ہنڈیا چڑھا چکی تھیں۔بیٹا تو ان کا بھی ملک سے باہر تھا۔  ابھی ان کی بہو سوئی ہوئی تھی۔ 
 انہیں کچھ تو کرنا تھا سوچا کیوں نہ لگے ہاتھوں ایک کام کر دیا جائے 
کل کی پڑوس  کی بہو کی باتیں ان کے ذہن میں، ان کی سوچوں میں بہت سا طوفان برپا کر کے، بہت کچھ تہس نہس تو کر چکی تھیں۔
لیکن بہت کچھ سنوار بھی چکی تھیں۔
انہوں نے آج خوشی خوشی سالن چڑھا کر اپنی ناشتے کے برتن دھو کر سنک میں لگائے اور اپنے کمرے میں جا کر تسبیح کرنے کے بعد خاموشی سے بازار کا رخ کیا۔
علی صبح  تھی۔ بازار کھلنے جا رہے تھے اپنی پرانی دکان پر گئیں اور ان سے کہا 
 ایک اچھا سا سوٹ دکھاؤ جو آج کل چل رہے ہیں۔
بہت سارے جوڑوں میں سے انہوں نے بہت ہی خوبصورت سے پلچھی کے ایک جوڑے کا انتخاب کیا۔ اچھی سی پیکنگ کروائی ۔
کچھ سوچا مسکرائیں۔
ساتھ میں میچنگ جوڑیاں لیں ۔راستے میں ایک خاص دکان سے ٹھہر کر رسگلے پیک کروائے۔ 
 رکشے کو ہاتھ دیا۔ راستے میں ایک۔بچہ گجرے بیچتا دکھا تو اس سے ایک جوڑی گجروں کی خریدی۔
گھر پہنچیں۔
گھر پہنچتے پہنچتے تقریبا ایک بج چکا تھا۔
 بہو اپنے کمرے میں تھی گھر بالکل الٹ پلٹ پڑا تھا بالکل ایسے جیسے کسی کی اداسی کسی کی ناراضگی کا بگل بجا رہا ہو۔
انہوں نے دیکھا کچھ سوچا مسکرائیں۔
 انہوں نے بہو کے کمرے میں جا کر اس کی خیریت معلوم کی ۔
وہ بہت حیران ہوئی جی امی آپ یہاں۔۔۔
 ہاں بیٹا میں نے سوچا تم تھکی ہوئی ہو گی۔
 میں دیکھ لوں ۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری ۔
ناشتہ کیا کہ نہیں ۔
جی جی میں ٹھیک ہوں ۔
بس ذرا سر میں درد تھا۔
 او ہو کوئی دوا لی؟
 خیر میں تمہارے لیے چائے بنا دیتی ہوں۔
 وہ حیران تھی پیچھے لپکی نہیں نہیں امی اپ رہنے دیں اپ کیوں بنائیں گی۔  میں خود بنا لوں گی۔
 نہیں بیٹا میرے سر میں درد ہوتا ہے تو تم مجھے چائے بنا دیتی ہو نا ۔۔
وہ اپنی ساس کے رویے پر حیران تھی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ اس کی ساس کا  طنز ہے مذاق ہے یا کوئی انقلاب ...
وہ کچن میں گئیں۔
 انہوں نے چائے چڑھائی۔
 زویا انہیں روکتی رہ گئی۔
 نہیں نہیں امی آپ نہ کریں پلیز میں کر لوں گی۔
 نہیں بیٹا کیا میری بیٹی عمیرہ یہاں ہوتی تو میں اس کے لئے چائے نہیں بنا سکتی تھی۔
ہاں نہیں ۔۔ وہ گڑبڑا سی گئی۔۔
 انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا۔ اسے شفقت سے دیکھا۔
  اسے کرسی پر بٹھا دیا ۔
زویا ہکی بکی تھی، کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔
 آج میں نے تمہیں ایک سرپرائز دینا تھا۔
یہ سنتے ہی اسکا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔
کہ لو جی اب ان مہربانیوں کا اصل مطلب سامنے آنے والا ہے۔
 جانتی ہو ابھی میں کہاں گئی تھی؟
 جی کہاں گئی تھیں؟
زویا نے حیران ہو کر پوچھا۔
 انہوں نے کہا پہلے اپنی آنکھیں بند کرو ۔ جب میں کہوں گی تب کھولنا۔
 وہ حیران ہو گئی۔
 اپنی ساس کے رویے پر کہ کیا ہو رہا ہے۔
 پھر بھی ان کے کہنے پر اس نے انکھیں بند کیں۔
 یہیں بیٹھی رہنا۔ وہ یہ کہہ کر اپنے کمرے میں گئیں۔
انہوں نے اس کے سوٹ کا گفٹ رسگلے کا ڈبہ چوڑیوں کا ڈبہ ساتھ رکھا ایک ٹرے میں سجا کر اور ٹیبل پر لا کر رکھ دیا اس کے سامنے پھولوں کی گجروں کے ساتھ۔
 انکھیں کھولو
 اس نے آنکھیں کھولیں
 ارے واہ یہ سب کیا ہے امی؟ 
کیا میرا کی جانب جانے کا ارادہ ہے؟
 میرا کی جانب کیوں؟
 انہوں نے حیران ہو کے پوچھا شاید وہاں کوئی فنکشن ہے 
اس کے لیئے آپ نے تیاری کی ہے۔
 ارے نہیں بیٹا میرا میری بیٹی ہے۔ میرے گھر میں آتی ہے۔مہمان ہے۔ ہم جو کچھ مہمان کے لئے کر سکتے ہیں۔
 ہمیں کرنا چاہئیے، لیکن میرے گھر کی میزبان میری یہ بہو رانی ہے۔
 یہ تمہارے لئے۔
میرے لیئے۔۔۔
 لیکن کیوں؟ تمہارے لیئے انہوں نے ایک کارڈ اسکی جانب بڑھایا۔
اس نے جھجھکتے ہوئے وہ خوبصورت سا کارڈ کھولا ۔
جس پر لکھا تھا 
شکریہ ہماری زندگی میں انے کے لیئے ۔ 
تمہاری دوست 
یہ پڑھ کر اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
 امی یہ کس کے لیئے لکھا آپ نے۔
وہ اب بھی نہ سمجھتے ہوئے پوچھ بیٹھی۔
 تمہارے لیئے لکھا ہے میرا بچہ تمہارے لیئے۔ تمہارے آئے سے زندگی میں بہت ساری آسانیاں ہوئیں جسکا کا مجھے پہلے پہل  احساس تک نہیں ہوا۔
 میں اپنی بیٹی کی محبت میں تو گرفتار رہی ، لیکن جس نے 24 گھنٹے میرے ساتھ میرا دکھ سکھ، میری خوشی، میرا غم دیکھا وہ مجھے دکھائی ہی نہیں دی۔ سچ پوچھو بیٹا مجھے معاف کر دینا۔ ہمارے قریب کی نظر ہمیشہ کمزور رہی ہے۔ چراغ تلے ہی ہمیشہ اندھیرا کیوں رہتا ہے۔ میری اصل بیٹی تو تم ہو بیٹا۔ یہ تمہارے لیئے شکریہ ادا کیا ۔
تحفے تمہاری پسند اور محبت کے لیئے۔ اپنا خیال رکھا کرو۔ خوش رہا کرو ۔ یہ گھر تمہارا ہے۔ میری بیٹیاں اگر یہاں آئیں تو یہ ان کے لیئے مہمان خانہ ہے۔ لیکن تمہارا تو یہ گھر ہے بیٹا ۔ تو تم اپنے مہمانوں کو جتنی خوشی اور عزت سے ویلکم کرو گی اس سے تمہاری عزت اور مرتبے میں اضافہ ہوگا اور تمہارے لیے دعاؤں کے راستے کھلے رہیں گے اور نہیں کرو گی تو کوئی تم سے زبردستی نہیں کروا سکتا۔ یہ دعاؤں کے دروازے ہم اپنے ہاتھوں سے یا کھولتے ہیں یا بند کر دیتے ہیں۔
تم تو بہت سمجھدار ہو میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہوں گی، لیکن میرا وعدہ ہے میں اپنی بیٹی کے لیے یہ عید کا جوڑا ، چوڑیاں ، تمہیں بہت پسند ہیں نا رسگلے۔ یہ صرف تمہارے لیئے 
 اب یہ گجرے تمہارے ہاتھوں میں مہکیں تاکہ میرے بچے کا گھر مہکتا رہے ۔ وہ شام کو آئے تو اس کے چہرے پر سکون کی مسکراہٹ ہو۔ مجبوری کی نہیں،  اور وہ تب ہوگی جب تم اسے سکون دوگی۔ تم خود خوش ہوگی اور تم اسے یہ تب دو گی جب میں تمہیں خوشی دوں گی ،سکون دو گی، اپنا خیال رکھا کرو بیٹا۔ زویا کی انکھیں چھلکتی جا رہی تھیں 
وہ اس کایا پلٹ پر حیران تھی اس کے دل سے دعا نکل  رہی تھی ۔ 
خدایا جس نے میری ساس کے دل میں جنت کا یہ گوشہ پیدا کیا ۔ انسانیت جگائی۔  خدا اسے کوئی دکھ نہ دے ۔
انہوں نے اپنی اپنی بہو کا سر اپنے سینے سے لگایا۔ اس کے آنسو پونچھے۔ ماتھا چوما اور چائے کا کپ اس کے سامنے کر دیا۔۔۔۔۔
                ۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 1 فروری، 2024

* وفادار نہیں ہے ۔اردو شاعری۔ اور وہ چلا گیا۔ اشاعت 2024ء

مصرعہ طرح:
 الیاس عاجز صاحب کا
" اس ملک سے کوئی بھی وفادار نہیں ہے"


ہر گز یہ سمجھنا یہاں دشوار نہیں ہے
اس ملک سے کوئی بھی وفادار نہیں ہے

 دعوی تو سبھی کرتے ہیں آگے نہیں بڑھتے
 سچ پوچھو تو اس کا کوئی غم خوار نہیں ہے 

حق چاہیئے سچ چاہیئے بس اپنے لیئے ہی
 اوروں کے لیے کوئی بھی دلدار نہیں ہے

جھوٹوں کی قدم بوسی کو حاضر ہے زمانہ
سچے کے لیئے راستہ ہموار نہیں ہے

شرفاء کے لیئے ملک ہوا جیل سے بدتر
بدمعاش میری قوم کا  لاچار نہیں ہے

حالات بدل جائیں گے ہر فرد جو بدلے
لیکن یہ بدلنے کو ہی تیار نہیں ہے

 ہر چور محلات میں رہتا ہے جہاں پر
 مزدور کے حالات کا پرچار نہیں ہے

کچھ فرق نہیں پڑتا کہ دنیا کیا کہے گی
غیرت کی دہائی یہاں بیکار نہیں ہے؟

ہم خود ہی تو امراض ہیں اس ملک کے ورنہ
یہ ملک کسی طور سے  بیمار نہیں ہے

انصاف عدالت میں نہیں ملتا یہاں پر
حق کے لیئے کوئی کھڑی سرکار نہیں ہے

مزدور ہو چاہے ہو حکمران یہاں کا
 ممتاز  کیئے اپنے  شرمسار نہیں ہے
      
      ------

پیر، 29 جنوری، 2024

& فرمانبردار۔ افسانہ ۔ سچی کہانیاں۔ قطرہ قطرہ زندگی ۔ اشاعت 2014ء


          فرمانبردار 


ارے کیا ہو گیا، کیوں بات کا پتنگڑ بنا رہی ہے ۔ اتنے اچھے ساس سسر ہیں تمہارے ۔ اتنا فرمانبردار بیٹا ہے انکا، اورکیا چاہیئے تمہیں؟ 

زرینہ نے میکے آئی ہوئی ناراض بیٹی کو سمجھانا چاہا۔

امی یہی تو مسئلہ ہے۔

 صومانہ تڑپ کر بولی ۔

ایسے والدین پکے دوزخی ہوتے ہیں جو گھر کی ایک اولاد کو اسکی فرمانبرداری کے سبب نوکر بنا کر اپنے ہڈ حرام لاڈلوں کا بوجھ ساری عمر کے لیئے انکے گلے ڈال دیتے ہیں ۔ 

ایسے بیٹوں کی بیویاں بھی گھروں میں نوکرانیاں بنا لی جاتی ہیں اور ساری عمر ذلیل کی جاتی ہیں۔

 ایسے فرمانبردار لڑکوں کے ساتھ کبھی شادی نہیں کرنی چاہیئے ۔ وہ کبھی اپنی بیوی کے اچھے شوہر نہیں بن سکتے۔ آپکو میری بات میری تکلیف کیوں سمجھ نہیں آتی؟

صومانہ تڑپ رہی تھی 

صبح کے پانچ بجے اٹھتی ہوں نماز بمشکل پڑھتی ہوں اس کے بعد سب کی جو خدمتیں شروع ہوتی ہیں۔ صبح کے ناشتے سے لے کر دوپہر کے کھانے اور دوپہر کے کھانے سے سہہ پہر کی چائے اور رات کے کھانے کے بعد تک جب تک یہ لوگ سونے نہ چلے جائیں۔ 12 بجے مشکل سے مر مٹ کے مجھے بستر پہ لیٹنا نصیب ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد فرمانبردار بیٹا تو پوچھتا بھی نہیں ہے کہ میری ہڈیوں میں کتنا دم باقی ہے یا نہیں ہے اسے اپنی خدمت کروانی ہوتی ہے۔ ماں کے سامنے گھنگنیاں منہ میں ڈالے بیٹھا ہوتا ہے۔

 لیکن میرے سامنے وہ گھر کا سب سے بڑا بدمعاش ہوتا ہے۔ اسے رپورٹ دینی ہوتی ہے مجھے کہ آج میں نے کس کس کی خدمت میں کوئی کمی بیشی کی کہ نہیں کی۔

 کسی کی چوں ہو یا کسی کا چنگ ، مجھے  نیند نصیب نہیں ہو سکتی، جب تک میں اس کی صفائی پیش نہ کر دوں۔ ہاتھ باندھ کر لوگوں سے معافیاں نہ مانگوں۔ ہر دوسرے دن ڈھیروں ڈھیر کپڑوں کے لیئے دھوبن بنی ہوتی ہوں ۔  میری ساس سسر نے تو کبھی مجھے یہ تک نہیں پوچھا کہ بیٹی تمہاری طبیعت ٹھیک ہے کہ نہیں ہے۔ بخار ہو مر رہی ہوں ، چاہے مر جاؤں تب تک مجھے اس گھر کی چاکری کرنی ہے۔

 لعنت ہے ایسی شادی پر۔ اگر شادی اس کا نام ہے تو میں اس پر ایک ہزار بار لعنت بھیجتی ہوں ۔ اگر  اپنے ہاتھوں سے دو وقت کی روٹی کما کر میں کھا سکتی  تو مجھے ان لوگوں کی بدمعاشیاں نہ جھیلنا پڑتیں۔ اسی لیئے شاید آپ لوگ بیٹیوں کو پڑھاتے نہیں ہیں کہ ہم لوگ اپنی روٹی خود کمانے لگے تو ایسے ایسے خبیثوں کی غلامی میں نہیں پڑیں گے ہم لوگ۔ 

آپ لوگوں کو مفت میں بیگار کی نوکرانیاں کہاں سے ملیں گی؟

بیٹیوں کے دشمن ہیں آپ سب والدین ۔ رحمت رحمت کہہ کر انہیں جوتا بنا دیا۔ ڈور میٹ بنا دیا ہمیں آپ نے لوگوں کے آگے۔ اگر ہم اتنی ہی رحمتیں ہوتی نا تو ہمیں رحمتوں کی طرح سنبھالتے۔ کسی قابل کرتے۔ عزت سے اپنی زندگی گزارنے کے طریقے سکھاتے۔ ہنر سکھاتے۔ تعلیم تربیت کرتے ہماری۔ 

یوں لوگوں کے گھروں میں دو روٹی اور ایک عارضی ٹھکانہ، پرائی چھت ، دلوانے کے لیے ہمیں کسی بھی فرمانبردار کے گلے نہ باندھ دیتے۔

ہماری خیر خبر لیتے ۔ ہم زندہ ہیں یا مر گئے۔  اچھے ہیں یا برے ہیں۔ گھر کے 15، 15 لوگوں کے ، آئے گئے کے آگے، ہم باورچی ہیں  لیکن ہم نے کھانا کھایا یا نہیں یہ ہم سے کوئی نہیں پوچھتا ۔

ہماری عزتیں محفوظ ہیں یا نہیں۔  رات کو نیند ملتی ہے سونے کے لیئے کہ نہیں ، کھانا کھا سکتے ہیں یا نہیں۔ کھانا کھانے کی چھٹی ملتی ہے ہمیں کہ نہیں۔ پوچھا کبھی آپ لوگوں نے؟ 

صومانہ نے آج اپنا ہر زخم اپنی ماں کے سامنے عریاں کرنے کی شاید قسم کھا لی تھی۔

بھاڑ میں جائے ان کا وہ بڑا گھر ,خوبصورت گھر,  نوکر صرف نوکر ہوتا ہے اور میں اس گھر میں خود کو کبھی بہو محسوس نہیں کرتی۔ مجھے یہی محسوس ہوا کہ میں اس گھر کی ایک نوکرانی ہوں اور وہ نوکرانی جو خرید کے لائی گئی ہے۔

 کیونکہ نوکرانیاں بھی مجھ سے اچھی ہوتی ہیں۔ اپنے جوٹھے ہی صحیح کبھی ان کو کپڑے تو دلوا دیئے جاتے ہیں۔ کبھی ان کو عید شب برات کی چھٹی مل جاتی ہے۔ انہیں تنخواہ تو مہینے کے بعد ملتی ہے نا۔ 10 ہزار فرمائشیں وہ نوکرانیاں اپنی پوری کرواتی ہیں۔ تنخواہ کے باوجود۔

میں تو ایک نوکرانی سے بھی بدتر زندگی گزار رہی ہوں۔ پھر بھی آپ کہتی ہیں کہ میں اس پر صبر کروں، اس پہ شکر کروں۔

انکے لاڈلے بیٹے مفت کا کھاتے ہیں،عیش کرتے ہیں اور سارے گھر پر دھونس بھی جماتے ہیں۔

اپنی بیویوں کو انہوں نے میری دیورانیوں کو میرے سر پر میری مالکنیں بنا رکھا ہے ۔ گھر میں جو پکے گا ان کی مرضی سے۔ جو کھایا جائے گا ان کی مرضی سے۔ ہر نئی چیز آئے گی تو ان کے لیئے آئے گی۔ لاڈلے بیٹے دیوار بن کے آگے کھڑے ہوتے ہیں اپنی بیویوں کے لیئے ۔

 مجال ہے کہ ساس کی کوئی گرم ہوا گرم پھنک تک بھی ان کی بیویوں تک پہنچ سکے۔

 ایسا سناتے ہیں کہ اماں جی کا دماغ ٹھیک ہو جاتا ہے اور ایک میں۔۔

 میں لہولہان مردہ بھی پڑی ہوں نا تو میرا شوہر میرا جنازہ بھی کبھی نہیں پڑھنے آئے گا ، جب تک  اپنی اماں کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر اجازت نامے پر دستخط نہ کروا لے کہ میں چلا جاؤں، کہیں میری جنت تو نہیں چھن جائے گی ۔۔۔

 لعنت بھیجتی ہوں میں ایسے شوہر کے اوپر۔ نہیں چاہیئے مجھے ایسا شوہر۔

وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ 

بیٹا ساری دنیا میں میاں بیوی کے بیچ جھگڑے ہوتے ہی ہیں۔ لڑکیاں صبر شکر کے ساتھ گزارا کر لیتی ہیں تم کیوں باتوں کو بڑھا رہی ہو۔۔۔

وہ سٹپٹا کر رہ گی اپنی ماں کے اس سبق کے اوپر۔ اماں آپ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کہہ رہی ہوں؟  میں کتنی تکلیف میں ہوں؟ 

میری زندگی کا چین سکون میری شکل صورت میری ہڈیوں کا زور تباہ ہو چکا ہے۔

 میں ان سات سال کے اندر گھس چکی ہوں. آپ کو میری بات سمجھ نہیں آ رہی۔

 ان سب نے مل کر میری ذات کا بھرتا بنا دیا ہے۔ آپ کو محسوس نہیں ہو رہا۔۔۔۔

میں بڑے سے بنگلے میں رہتی ہوں۔ مگر اس بنگلے میں میرے ساتھ میری کیا اوقات ہے اور کیا ہوتا ہے یہ آپ کو سنائی اور سجھائی نہیں دے رہا۔

 میں بڑی سی گاڑی میں بیٹھ کے آ جاتی ہوں مگر اس گاڑی میں بیٹھنے کے بعد اور اٹھنے سے لے کر بیٹھنے  تک مجھے کتنی باتیں سنائی جاتی ہیں ۔ کتنے طعنوں تشنوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ کتنی احسان مندیاں کرنی پڑتی ہیں۔ کتنے شکر گزاریاں کرنی پڑتی ہیں۔ آپ کو پتہ ہے وہ ٹیکسی اور وہ رکشہ بہت اچھا ہے۔ جس میں میں کسی کی احسان مند تو نہیں ہوں۔

میں تو ہوں ہاں کے سوا اپنی مرضی سے کوئی سوال تک نہیں کر سکتی ۔

 میں اپنی مرضی سے کچھ پہن نہیں سکتی ۔ 

نہ جاگ سکتی ہوں نہ سو سکتی ہوں

 نہ کھا سکتی ہوں نہ پی سکتی ہوں۔

نہ اپنی مرضی سے کسی کو ملنے جا سکتی ہوں ۔ نہ کسی کو ملنے کے لیئے بلا سکتی ہوں ۔ 

 اور آپ مجھے سبق سکھا رہی ہیں۔

 بھاڑ میں جائے ایسا صبر جو انسان کی ذات کو زیرو پہ لا کے کھڑا کر دے۔

جذبات میں جانے وہ کیا کچھ بولتی چلی گئی۔

 اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا۔  یہ سیلاب جیسے آج سب کچھ بہا لے جائیگا۔

 اس نے نہایت مایوسی کے ساتھ اپنے آنسو پونچھے ۔ کچھ سوچا لمبی سانسیں لیں ۔ اپنا بیگ اٹھایا اور دروازے کی جانب چل دی

جاتے ہوئے اس نے آنسو بھری نگاہوں سے اپنی ماں کی جانب دیکھا اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ، ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولی امی ایک بات کہوں

امی نے اسے دکھ اور حیرت سے دیکھا۔۔۔

 بول بیٹا

اس نے آنسو پونچھتے ہوئے گلوگیر لہجے میں کہا

 اگر آپ کو اپنی بیٹیوں کا سکھ چاہیئے تو انکا رشتہ گھر کے لاڈلے بیٹے کو دیجیئے گا کیونکہ وہ اپنی بیوی کے بھی لاڈ اٹھوا سکتا ہے ۔ جبکہ فرمانبردار تو اپنی بیوی کو اپنے گھر والوں کے ظلم سے بچانے کے لیئے پھس بھی نہیں کر سکتا۔

 امی اگلی بیٹی کا رشتہ سوچ سمجھ کر دینا۔

وہ لڑکھڑاتے قدموں سے گھر سے باہر نکل گئی اور

 کمرہ دیر تک اس کی آواز سے گونجتا رہا۔۔

       (ممتازملک ۔پیرس)

                ۔۔۔۔۔۔

منگل، 16 جنوری، 2024

جاری ہے۔ اردو شاعری ۔اور وہ چلا گیا۔ اشاعت 2024ء


جاری ہے


یہ بگولوں نے دی خبر ہم کو
دل کے صحرا میں رقص جاری ہے
 
کھردری کھردری  اداسی ہے
مخملی مخملی خماری ہے

ہاتھ باندھے کھڑے ہیں دیوانے 
دل کی دنیا پہ وجد طاری ہے

اس نے لفظوں کا صور پھونکا ہے
اب سنبھلنا تو اضطراری ہے

یہ تو پہلے سے طے تھا کیوں اس پر
ہائے دل ایسی بیقراری ہے

یہ محبت کا وہ وظیفہ ہے
 جو الٹ جائے پھر تو بھاری ہے

میں نے پرہیز جب نہیں رکھا
درد میرا تو اختیاری ہے

مجھ کو ممتاز کر کے تنہا کر
واہ کیسی یہ غمگساری ہے

    --------      

جمعہ، 5 جنوری، 2024

* وردان کی طرح۔ اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا ۔ اشاعت 2024ء


عرفان کی طرح


ہیجان کی طرح کبھی عرفان کی طرح
ہر اک کتاب زیست ہے گردان کی طرح 

اتنے تو خوش نصیب نہ تھے خواب میں بھی ہم
ہمکو ملا ہے تو کسی وردان کیطرح 

ہم زندگی کی  بھیڑ میں گم اس قدر ہوئے
کھینچا ہے واپسی نے بھی فرمان کی طرح

اللہ کا قرب چاہنے کی چاہ ہو چلی 
رستہ نہ روکیئے میرا شیطان کی طرح

جب سے خرید لایا وہ انگیٹھی اک نئی
اس میں یہ دل سلگتا ہے لوبان کی طرح

طعنے و تشنیع سارے کتابوں میں بند کر
اک ایک ورق ہم نے پڑھا گیان کی طرح

ایسے گرے ہیں عرش سے مٹی کی گود میں
بھٹکے ہوئے وجود کو فیضانِ کی طرح

ہر پل ہمارے مد مقابل ہے زندگی 
ہم کو ملی ہے زیست بھی میدان کی طرح 

گر کر سنبھلنے کا جو سبق بھولتا نہیں 
دوڑے لہو میں ہمت مردان کی طرح 

یہ سوچنے کی بھول نہ کرنا کہ قرض تھا
ممتاز نے یہ دی ہے  وفا دان کی طرح

---------




بدھ، 22 نومبر، 2023

& سپرے۔ افسانہ ۔ قطرہ قطرہ زندگی۔ اشاعت 2024ء

      سپرے

توقیر اپنی ماں کیساتھ زندگی کے سفر میں خوشی خوشی رواں تھا ۔  وہ کئی روز سے اس پر زور دے رہی تھی کہ اب اسے اپنا گھر بسا لینا چاہیئے لیکن وہ سمجھتا تھا کہ اسے کسی ساتھی کی فی الحال کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔
بیٹا اب تو تم پینتیس سال کے ہو چکے ہو ، ملنے والوں کا بھی پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ
 اور بھئی کب کھلا رہی ہیں اپنے بیٹے کی شادی کی مٹھائی۔۔
 اس نے ایک ملنے والے انکل کی نقل اتار کر بتایا تو توقیر بھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا ۔
ماما جی آپکو تو نقال ہونے کا ایوارڈ ملنا چاہیے۔ آپ سے اچھے ملنے والوں کی نقل اور کوئی نہیں اتار سکتا ۔
بیٹا جی فی الحال تومیرا ایوارڈ ہے تمہارا بیاہ ۔ تاکہ ان سب کے منہ بند ہو سکیں ۔
ماما میں صبح کام پر جاتا ہوں۔ شام چھ سات بجے لوٹتا ہوں ۔اس کے بعد آپکے ساتھ دو تین گھنٹے گپ شپ کھانا اور شب بخیر ۔
اب اس روزمرہ کے معمول میں میں بہت خوش ہوں۔ باقی دونوں بھائی اور ایک بہن اپنے اپنے گھروں میں ہیں۔ مہمانوں کی طرح آتے ہیں اور چند گھنٹے گزارے ، کھایا پیا روانہ ہو گئے ۔ ایسے میں میں نے شادی کر لی تو اپنےساتھ یہ جو تین چار گھنٹے سکون کے گزارنے کو ملتے ہیں اس سے بھی جائینگی۔ 
زرینہ احمد نے کرسی پر بیٹھے  اپنے جوتوں کے تسمے باندھتے ہوئے بیٹے کو بڑے دلار سے دیکھا اور بولی۔ 
میں کونسا قیامت کا اعلان کرنے کو آئی ہوں اور کتنا جیوں گی میرے سامنے اپنے گھر کے ہو جاؤ گے تودل اطمینان سے دھڑکنا  بند کریگا ھھھ
مما پلیز ایسی باتیں نہ کیا کریں۔ آپ جیئں ہزاروں سال ۔ میں آپکے دل کو دھڑکنے پر مجبور رکھوں گا ان شاءاللہ
اوکے باہا 
اللہ حافظ 
وہ ہاتھ لہراتا ہوا ماں سے اپنے ماتھے پر بوسہ لیتے ہوئے اپنے کام پر روانہ ہو گیا ۔ 
زرینہ احمد اسے موٹر سائیکل سٹارٹ کرتے اور دور تک جاتے دیکھتی رہی ۔
گھر بھر کے کام سمیٹتے ہوئے دروازے کی گھنٹی بجی ۔
دروازے کے سوراخ  سے دیکھا تو انجم کھڑی تھی ۔ اس نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھولا ۔ 
السلام علیکم زرینہ کیسی ہو۔
میں تو ٹھیک ہوں  اللہ کا کرم ہے۔ تم سناو آج بڑے دنوں بعد چکر لگایا ۔
بس کیا کروں شادیوں کا سیزن ہے لوگوں کو رشتے دکھانے کی دوڑ دھوپ میں اکثر تو  خود اپنے گھر کا بھی راستہ بھول جاتی ہوں ۔ھھھھ
وہ ہنس پڑی ۔ 
زرینہ نے اسکے ساتھ بات کرتے کرتے دن کا کھانا بھی تیار کر لیا۔ چولہا بند کرتے ہوئے بولی
 آلو پالک بنایا ہے روٹیاں بھی ابھی اتاری ہیں توے سے ۔ کھانا کھاؤ گی ۔ ہاں ہاں کیوں نہیں نگوڑی پالک کا پوچھ لو پچھلے ہفتے دس روپے کی گٹھی مل رہی تھی جا بجا اور آج صبح سبزی والے سے بھاو پوچھا تو ایسا کرنٹ مارا کہ کہ توبہ ہے۔ ڈیڑھ سو روپے کی گٹھی ہو چکی ہے ۔۔
ہائیں کیا واقعی ۔۔زرینہ نے حیرت سے پوچھا 
تو اور کیا میں نے تو نہیں خریدیں بھائی ایک گٹھی سے تو ایک پلیٹ سالن بھی نہیں بنے گا۔  ہمارے گھر پر چار پانچ گٹھی پالک اور ایک کلو آلو ڈلیں گے تو ہی دو وقت کا مناسب سالن بنے گا ماشاءاللہ ہم  چھ لوگ ہیں کھانے والے ۔تم تو دو ماں بیٹا ہو ایک گٹھی بھی لو تو آرام سے گزارا ہو جائیگا ۔
ہاں یہ تو ہے ۔ ویسے میں نے یہ پچھلے ہفتے کی پالک پانی سکھا کر کوٹ کے فریزر میں پیکٹ بنا کر رکھ دی تھی آج توقیر کی فرمائش تھی، تم تو جانتی ہو نا صبح ناشتے کیساتھ ہی سالن بھی چڑھا دیتی ہوں ۔کام ختم کرتے کرتے آٹا گندھا ہو اور سالن بنا ہو تو انسان بے فکر ہو جاتا ہے کہ کوئی آیا گیا ہو تب بھی کھانا بنانے سے بے فکری رہتی ہے ۔ اب تم گیارہ بجے آئی ہو جب دوسرے گھروں میں ابھی کھانے کا سوچا جائیگا کہ آج کیا پکائیں اور ہم دونوں  بارہ بجے کھانا کھانے  کا کہہ رہے ہیں گھر کے کام سے فارغ ہوئی تھی کہ تم خود ہی آ گئی ۔ ورنہ تمہیں فون کرنے کا سوچ رہی تھی۔ 
بھائی کوئی اچھی سی لڑکی دکھاؤ اب میں چاہتی ہوں دو چار مہینے میں اس لڑکے کے فرض سے فارغ ہو ہی جاؤں۔
 اچھا تو کیا بیٹا راضی ہو گیا
 ارے وہ راضی ہو نہ ہو فرض تو ادا کرنا ہے نا
 یہ سن کر انجم نے اپنے بیگ سے بہت ساری تصویریں نکال کر ان کے سامنے پھیلا دیں اور لگی ایک ایک کی تفصیل بتانے۔
 زرینہ احمد  نے کچھ تصویریں ان میں سے منتخب کیں ۔
 شام کو بیٹے کو دکھا کر کسی ایک کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔
 بہت شور شرابے کے بعد بالاخر وہ روحانا کی تصویر دیکھ کر اس کی فیملی سے ملنے کے لیے تیار ہو گیا
خدا خدا کر کے شادی کے ہنگامے سے فرصت ہوئی اور زندگی ایک معمول پر آنے لگی
شادی کے ایک ہفتے تک تو دعوتیں چلتی رہیں
 پھر دولہا دلہن اپنے ہنی مون پر چلے گئے
 واپسی پر ہر چیز نئی نئی تھی
 وہ دفتر سے واپس آتا اور ماں کے ساتھ بیٹھنے لگتا تو کمرے میں دلہن شکوہ کرتی کہ مجھے وقت نہیں دیا۔
 نہ وہ کھانا بنانا چاہتی تھی نہ وہ گھر کے کاموں میں حصہ لینا چاہتی تھی۔
 اسے اس کے ساتھ بس ہر وقت کمرے میں بیٹھ کر رومانس کرنا تھا 
جب کہ ماں سمجھتی تھی اب اسے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لینی چاہیئیں
 لیکن ان کی یہ معمول کی بات بہو کو ہضم نہیں ہو رہی تھی اور ایشو لگنے لگی تھی
 زرینہ بیگم اب اپنی ذمہ داری ادا کر کے کچھ آرام کرنا چاہتی تھیں 
 ویسے بھی پچھلے کچھ دنوں سے اس کے گلے کی تکلیف کافی بڑھ گئی تھی جس سے اسے بخار رہنے لگا تھا ارام نہ ملنے کے سبب اور مہمان داری اور شادی کے کاموں کے دوران وہ بہت زیادہ تھک چکی تھی
 لیکن بہو کے لیے یہ سب ڈرامہ تھا 
زرینہ بیگم سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ اس سارے معاملے کو کس طرح سے ہینڈل کریں 
محبت سے بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کرتی کہ بیٹا اپنی بیوی کو بولو کہ اب وہ اپنے گھر کی ذمہ داریاں سنبھالے 
 یہ گھر اس کا ہے اور اسی کو سنبھالنا ہے
 میں اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہونا چاہتی ہوں۔
 جب کہ بہو کے ناز نخرے فیشن انداز ہی ختم نہیں ہو رہے تھے اس کی شکایتیں اب جھگڑوں میں بدلنے لگی تھی۔
بیٹے کی شادی سے پہلے کی ہوئی سب باتیں سچ ثابت ہونے لگی ماں کے ساتھ رہنے کی چاہ میں اب دونوں طرف سے شکایتوں میں گھرا ہوا تھا۔
 کبھی کبھی اسے لگتا ہے جیسے وہ ڈپریشن کا شکار ہونے جا رہا ہے 
اب تو وہ بھی ماں کے ساتھ تلخ ہونے لگا تھا
 زرینہ پریشان تھی  اس ساری صورتحال پر اب اسے کیا کرنا چاہیئے۔
 آج ماں کی حالت بگڑنے پر ایمرجنسی میں ڈاکٹر کو گھر بلانا پڑا ڈاکٹر نے بتایا کہ
اسکے گلے کی تکلیف اس کا سانس لینا بھی محال کر دیتی تھی وہ شدید تکلیف میں فوری دوا نہ ملے تو مر بھی سکتی تھی ۔ گلے کی رگیں پھول جانے سے اس کا تھوک نگنا اور سانس لینا ناممکن ہو جاتا تھا ۔ 
ڈاکٹر نے اسے سختی سے متنبہ کر رکھا تھا کہ اس کی تکلیف فوری دوا اور علاج کی متقاضی ہے۔ اس لیئے پہلے تو وہ گلے کی تکلیف کی وجہ بننے والی  چیزوں ٹھنڈا پانی الرجیز کا سبب بننے والی وجوہات سے دور رہیں ۔ اور انہیں فوری دوا میسر ہو ۔
بیگم کی بے جا فرمائشوں کی وجہ سے اب اسے مالی طور پر بھی تنگی کی شکایت رہنے لگی جبکہ شادی سے پہلے اسے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کی کمائی گھر کے خرچ کے لیئے کسی بھی لحاظ سے کم ہے۔
 کیونکہ زرینہ بیگم بہت اچھے طریقے سے اس کو سمجھداری کے ساتھ گھر کا حساب کتاب چلاتی تھی۔
  اب وہ اوور ٹائم کرنے کے بعد بھی شکایتوں میں گھرا رہتا۔
 دوسری طرف ماں کی دوا کا خرچ بھی ہے اب اسے بہت بھاری لگنے لگا۔
 جبکہ اسے دوا کے ساتھ  اچھی خوراک کی ضرورت بھی تھی۔ 
ماں کا سمجھانا اسے زچ کرنا لگتا اس کا مشورہ اسے ورغلانا لگتا اور سمجھتا اس کی ماں اسے اس کی بیوی سے متنفر کر رہی ہے
اسے اب اپنی ماں کی ہر بات جھگڑا لگتی اس کا سمجھانا سر کھانا لگتا ۔ 
آج رات ہی ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی
 واپسی پر اس نے ماں کی آواز سنی تو برا سا منہ بنا کر بیزاری سے کمرے میں پہنچا
 بیزاری سے سلام کیا اور بولا کہیئے کیا بات ہے
 ماں کی حالت اس کی سرخ آنکھیں بخار سے تپتا ہوا جسم نہ اسے کچھ دکھائی دے رہا تھا نہ سنائی۔۔۔
 وہ ٹھیک سے بات بھی نہیں کر پا رہی تھی اس کی سانس اکھڑ رہی تھیں
 اس نے اشارے سے اپنی سانس کی دوا اس سے مانگی دراز کی طرف اشارہ کیا
 اس نے  بے دلی سے دراز کھولا 
ماں کا پمپ ہاتھ میں اٹھایا لیکن کچھ سوچ کر وہیں رک گیا
 ماما پمپ تو نہیں ہے یہاں 
یہیں رکھا تھا یہی ہے
 وہ بڑی مشکل سے اتنا کہہ سکی۔
 جلدی کرو۔۔
 میری سانس اکھڑ رہی ہے۔
 لیکن اس میں نہیں ہے
 دس منٹ تک وہ بری طرح سے تڑپتی رہی اور یہ ڈھونڈنے کا ڈرامہ کرتا رہا 
بالاخر وہ بے حال ہو کر بستر پر بے سد ہو چکی تھی بری طرح تڑپنے کے بعد اس کا جسم ٹھنڈا ہو چکا تھا 
اس نے ماں کی نبض ٹٹولی
 دل کی دھڑکن دیکھی جو تقریبا ڈوب چکی تھی۔
 ایک اطمینان کی سانس لی اور بولا
سوری ماما یہ دوا آپکو دے دیتا تو آپ پھر سے ٹھیک ہو جاتیں
 اور پھر سے آپ کی چخ چخ شروع ہو جاتی ۔ 
جو مجھے میری بیوی کی شکایتوں کا موقع دیتی ۔
سوری ماما آپکو اب چلے جانا چاہیئے تھا۔ 
وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا اور اسکے بالوں میں۔ نادیدہ انگلیاں مساج کر رہی تھی بہت پیار کیساتھ ۔
ماں کا حلق کا سپرے جو اس نے جیب میں ڈال لیا تھا وہ  اس کی مٹھی میں تھا
زرینہ احمد کا سر ایک جھٹکے سے ایک جانب لڑھک گیا۔
توقیر اپنی ماں کا سر اپنی گود میں لیئے بیٹھا تھا
خالی آنکھیں اسے مر کر بھی محبت سے دیکھ رہی تھیں۔۔
              -------


بدھ، 25 فروری، 2015

ستم کی حد ہے ۔ اور وہ چلا گیا ۔ اشاعت 2024ء


ستم کی حد ہے 
(کلام/ممتازملک ۔پیرس)




مجھ کو مرنے بهی نہیں دیتے ستم کی حد ہے
زہر کا جام محبت سے پلانے والے

اب تیرے ہاتھ سے امید شفا ہم کو نہیں
 پونچھ نہ اشک شب و روز رلانے والے

 شوق میرا تها میرے بعد میں کیونکر گهر کو
 کاسنی رنگ کے پھولوں سے سجانے والے
                       
خط کے لکھنے کی بهی تکلیف گوارہ نہ ہوئی
وقت رخصت کو میرا ہاتھ دبانے والے

 فائدہ کیا ہے جو آباد نہیں ہو پائے
آرزوؤں کا جہاں دل میں بسانے والے

سچ کی تعبیر سے ممتاز نظر کیسے ملے 
جھوٹ کے سر پہ جیئےخواب دکھانے والے 
                      ۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/