سفر ختم
ملک مختیار احمد
(1973ء تا 2022ء)
یہ تو طے ہے کہ سفر ختم یہ ہو جائے گا
فکر تو یہ ہے کہاں کیسے وہ مل پائے گا
تو تو کہتا تھا کہ تنہا مجھے ڈر لگتا ہے
اب اکیلے یہ سفر کیسے تو کر پائے گا
ہائے مجبوریاں گھر بار کی کرتی ہیں جدا
ورنہ بھائی نہ جدا بہن سے ہو پائے گا
ساتھ تیرے بڑی بے فکر سواری تھی میری
اب جہاں جاونگی تو یاد مجھے آئے گا
میں نے غصے میں کبھی ڈانٹ دیا تیرے لیئے
وقت پر جو نہ دوا کھائے گا مر جائےگا
زخم تیرے تو دوا سے نہ تھے بھرنے والے
کون یہ دیکھتا کس کو کوئی سمجھائے گا
یہ دعا ہے میری مختیار جہاں تو جائے
اس میں غم کوئی تیرے پاس نہیں آئے گا
سوچ کر برچھیاں چلتی ہیں کلیجے پہ میرے
بھائی ممتاز کا تصویر میں مسکائے گا
●●●

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں