کلام (ممتازملک )
دکھتے ہیں پشت پر ہمیں ہتھیار کی طرح
اپنے لحاظ نے تو عمل کچھ نہیں کیا
رد عمل جو اسکا ہے تلوار کی طرح
شکوہ کسی سے کیا ہو کہ جس پر تھا اعتبار
وہ بھی دکھائی دیتا ہےسنسار کی طرح
برکت ہو اسمیں کیا تو خوشی بھی کہاں بھلا
اقرار بھی کیا ہے تو انکار کی طرح
کوئی کسی کا دوست ہے نہ غمگسار ہے
جیتے ہیں لوگ سب یہاں فنکار کی طرح
پہلے زمانے اچھے تھے ہر ایک نے
نے کہا
ممتاز ہونگے ہم بھی ان آثار کی طرح
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں