سرکارص کا نام آتا ہے
(کلام/ممتازملک.پیرس)
آپ کی یاد میں جو اشک میرا بہہ جاۓ
آتش نار بجھانے کے بھی کام آتا ہے
تیری کملی نہ چھپائے تو میراکیا ہو گا
دل کا ہر بھید میرا اب سرعام آتا ہے
ظلمتیں جاکے کہیں منہ کو چھپا لیتی ہیں
جب زمانوں کا وہ اک ماہ تمام آتا ہے
عقل تو ہر گھڑی تاویل نئی مانگتی ہے
عاشقِ آقا کا بِن دیکھے سلام آتا ہے
بات سنتے ہی دل و جان فدا ہو جائیں
جس کے ہونٹوں پہ بھی آقا کا کلام آتا ہے
زیست جتنی بھی ہو ممتاز بلا خیز مگر
چھو کے نعلین کو اک دن لب بام آتا ہے
............
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں