ہم نے تو نبھائے بڑے پیمان وطن میں
مانا نہ کسی نے کبھی احسان وطن میں
ہم نے تو جنازوں کو دیئےنوٹوں کے کاندھے
سونے سے لدی ڈولیاں ارمان وطن میں
جس گھر کو چلانے کے لیئے بے وطنی لی
اس گھر میں ہمیں کہتے ہیں مہمان وطن میں
رشتہ نہ کوئی اپنا کسی کو بھی رہا یاد
چیک بک سی ہوئی اپنی تو پہچان وطن میں
اماں بھی بناتی ہے اسے لاڈلہ گھر میں
کھا کھا کے میرا مال ہے سلطان وطن میں
کیا کرنا ہے ممتاز امیدوں کو لگا کر
کچھ بھی نہ بچا اب تو میری جان وطن میں
------