تبصرہ
یونس امین
مانچسٹر ۔ یوکے
بموقع:
تقریب رونمائی
"اور وہ چلا گیا"
12اگست 2025ء
آج ہم ممتاز ملک کے مجموعہ کلام "اور وہ چلا گیا" کے حوالے سے جمع ہوئے ہیں۔
اس تقریب دلآویز میں محترمہ ممتازملک صاحبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس کتاب میں سب سے پہلی بات جس نے میری ساری توجہ کتاب کی طرف مرکوز کروا دی۔ وہ کتاب کا انتساب ہے۔
"وطن عزیز کی فلاح و بہبود کے لیئے سوچنے اور دوسروں کے کام آنے کے لیئے اپنا ہر فائدہ قربان کرنے والوں کے نام"
یہ ایک اعلی ظرفی اور عظیم رتبہ فکر ہے. جو کہ ہر لکھاری کے اگر احاطۂ شعور میں نہ ہو تو ماسکۂِ شعور میں تو ضرور ہونا چاہیے.
کتاب کی اشاعت 2024 میں ہوئی۔ میرا خیال ہے کہ اب تک خوشبوؤں کے شہر پیرس میں ایک اور ان مسحورکن خوشبو کا اضافہ ہو چکا ہے۔ وطن عزیز سے پیار ، اپنوں کا احساس اور درد و تکلیف ، محرومی اور التباس بن کر عیاں ہوتا ہے۔
حمد و نعت سے کتاب کا آغاز نے تحریروں کی خوبصورتی میں برکت ڈال دی ہے ۔
آج کل کے موجودہ حالات میں اگر کوئی خاتون ادبی حلقے میں اپنی کوئی غزل تنقید کے لیے پیش کرتی ہے تو اس کو ڈھیروں مسائل کا سامنا تو کرنا پڑتا ہے اور تصحیح اور رہنمائی کے لیے اساتذہ بھی مل جاتے ہیں۔
میں نے یورپ میں خاص کر دیکھا ہے کہ خواتین تو اپنی تحریروں کی تصحیح کے لیئے بھی پریشان رہتی ہیں۔ یورپ کی مصروف ترین زندگی میں محترمہ کی اُردو زبان اور ادب کے لیے ایک زبردست کاوش ہے۔
اگر ہم ان کو خواتین کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے شاعرہ کے طور پر دیکھیں تو بھی ان کا ہنر عیاں ہے ۔ آپ بڑی آسانی سے اور تحمل کے ساتھ زندگی کے نشیب و فراز کو نہ صرف تخیّل میں ڈال کر بیان کر گئی ہیں بلکہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کا برتاؤ اور رویوں کا اتار چڑھاؤ بھی اس کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کبھی کبھار تو ناراض لگتی ہیں لیکن نا امید بالکل نہیں ہے لیکن ملک و قوم کے اداروں اور لوگوں میں بے ضابطگیوں کی بات کرتی ہیں تو رنجیدہ ہو جاتی ہیں۔
200 صفحات کی اس کتاب میں درس، پیار، نسوانیت، ہمدردی ،حب الوطنی، لگن، امید، بہتری کی خواہش اور ایک اوورسیز پاکستانی شخصیت ، پاکستانیت کی فکر کرتی نظر آتی ہیں۔
ان کے تخلیقی لینڈ سکیپ پر محبت اور محبت کی نفسیات کی سمجھ، انسان دوستی اور معاشرتی ناہمواری کے یہ عناصر صرف جغرافیائی نہیں بلکہ کائناتی بھی ہیں۔
ان کی شاعری میں عیاں یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے چلن اور کرینوں نے ارتقائی سفر میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ جو کہ انتہائی سادگی سے غزل کی ڈوری میں پرو دیا ہے۔
کوئی ایک شاعر یا نثر نگار معاشرے کی آنکھ تو ہوتا ہی ہے لیکن اس کی تحریر کا وصف یہ ہوتا ہے کہ وہ مختلف زاویوں اور نگاہ تخیل سے شعور سے لاشعور تک کا سفر کر جاتا ہے
اس کتاب سے کچھ اشعار پیش کر رہا ہوں۔ تاکہ آپ بھی محظوظ ہو سکیں
ہرگز یہ سمجھنا یہاں دشوار نہیں
اس ملک سے کوئی بھی وفادار نہیں ہے
دعوی تو سبھی کرتے ہیں آگے نہیں بڑھتے سچ پوچھو تو اسکا کوئی غمخوار نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔
مجھے بھی نام سے تسلیم کیجئے
میں عورت ہوں کوئی گالی نہیں ہوں
۔۔۔۔۔۔
یہ بگولوں نے دی خبر ہمکو
دل کے صحرا میں رقص جاری ہے
ہاتھ باندھے کھڑے ہیں دیوانے
دل کی دنیا پہ وجد طاری ہے
۔۔۔۔۔۔
بات جو زبان پر ہم نہ لا سکے کبھی
بات مجھ سے کہہ کے کوئی آج برملا گیا
۔۔۔۔۔
محبت مسئلہ ہے یار تیرا
تیری بربادیوں کا بھی سبب ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
خوبصورت اشعار کی ایک قطار موجود ہے وقت کی کمی کی وجہ سے مختصر کرنا چاہتا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔