سمندر کے پیالے
کلام/ممتازملک ۔پیرس
آنکھ تھی گویاسمندرکے پیالے رکھے
جسمیں طوفان کئی اسنےسنبھالے رکھے
بولنا ہم کو بھی آتا تھا بلا کا لیکن
ایک خاموشی نے ہنگام تھے ٹالے رکھے
عشق تھا یا کوئی خودساختہ معیار ستم
قفل ہونٹوں پہ بہرطور تھے ڈالے رکھے
زخم تودل پہ لگےحاصل احوال تھا یہ
کب تیرے در پہ میرے درد نے نالے رکھے
ہم نے صندوق میں رکھی ہیں پرانی یادیں
جانے کیا سوچ کے اس پر نہیں تالے رکھے
توڑنے والے نے ٹکڑے میرے جوڑے رکھے
ظلمتوں کے بڑے انداز نرالے رکھے
راز کی طرح چھپایا ہے اسے دامن میں
جیسے مکڑی نے کسی ثور پہ جالے رکھے
اب بری کوئی نظر پہنچے نہ تجھ تک کیونکہ
چاند چہرے پہ دعاؤں کے وہ ہالے رکھے
وہ نظر باز ہے پر حلیہ مومن میں ملا
تن کے اجلوں نے مگر دل بڑے کالے رکھے
خود اندھیروں میں جئے اور تمہاری خاطر
سن لو ممتاز دروبام اجالے رکھے
۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں