قدرت نے بکھیرا سچ
سانپ ہے سچ سپیرا سچ
وقت کی تختی پر ہے لکھا
تیرا سچ اور میرا سچ
دم نہ اسکا گھٹ جائے
ہر جانب سے گھیرا سچ
جھوٹ وہیں دم توڑے گا
ڈال گیا جو پھیرا سچ
سوچ سمجھ کر نہ بولا تو
عزت کا لٹیرا سچ
بدنامی تو لازم تھی
عشق نے ڈالا پھیرا سچ
اک جگنو ہی کافی ہے
دور کرے جو اندھیرا سچ
دکھ کے ساتھ خوشی جیسے
رات کے بعد سویرا سچ
کر ممتاز تو توبہ اب
بول دیا ہے بہتیرا سچ
۔۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں