"میرے ماں باپ سے بڑھ کر مجھے پیارے محمد ہیں "
بڑھ کر۔ قافیہ
مجھے پیارے محمد ہیں ۔ ردیف
۔۔۔۔۔
ہر اک اسباب سے بڑھ کر مجھے پیارے محمد ہیں
میرے ماں باپ سے بڑھ کر مجھے پیارے محمد ہیں
نہ ان جیسا کوئی بھی چاہنے والا میرا ہو گا
سبھی احباب سے بڑھ کر مجھے پیارے محمد ہیں
نہ کھل پایا کوئی گل اس پسینے کی مہک جیسا
گل نایاب سے بڑھ کر مجھے پیارے محمد ہیں
نظام زندگی چلتا ہے یہ جب جب دھڑکتا ہے
دل بیتاب سے بڑھ کر مجھے پیارے محمد ہیں
ان آنکھوں نے زمانے کا ہر اک حسن و ادا دیکھا
نہیں اس خواب سے بڑھ کر مجھے پیارے محمد ہیں
بہت دلکش ہے تیرے ماتھے کا ٹیکا مگر کیا ہے
تیرے مہتاب سے بڑھ کر مجھے پیارے محمد ہیں
کوئی ممتاز کیسے ہو اگر انکی رضا نہ ہو
ہر آب و تاب سے بڑھ کر مجھے پیارے محمد ہیں
۔۔۔۔۔۔
یہ دنیا ایک درد سر مجھے پیارے محمد ہیں
میرے ماں باپ سے بڑھ کر مجھے پیارے محمد ہیں
وہ میرے سامنے آئیں مجھے دیدار دیجائیں
خوشی بولے گی سر چڑھ کر مجھے پیارے محمد ہیں
ہر اک غم سے مجھے راحت ملے گی اس گھڑی سمجھو
قدم میں لے لوں جب بڑھ کر مجھے پیارے محمد ہیں
بلندی ہر طرح کی ہیچ ہے ان کے مقابل میں
بھلے سے کر لوں چوٹی سر کر مجھے پیارے محمد ہیں
کسی بدبخت کو کیا علم کیسی خوش نصیبی ہے
کہوں کیوں دنیا سے لڑ کر مجھے پیارے محمد ہیں
بس انکی اس صدا کی منتظر ہو گی سماعت یہ
غلام مصطفیٰ چل گھر مجھے پیارے محمد ہیں
بہت آنسو رلاتا ہے گناہوں کا ہر اک بوجھا
کیا ہو گا لمحہ محشر مجھے پیارے محمد ہیں
مجھے کملی عطا کیجیئے مجھے ممتاز کر دیجیئے
انگوٹھے چوم لوں پڑھ کر مجھے پیارے محمد ہیں
۔۔۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں