جہاں پر آگیا قسمت کا لکھا
وہیں آ کر ہمیشہ لب سلے ہیں
کسی کو ہار بھی دلدار ٹہری
کسی کی جیت بھی آزار ٹہری
یہ ہی تو پردہ غیبی ہے لوگو
مقدر کے یہ سارے سلسلے ہیں
مجھے جینے کا حق دینے کو آئے
میری توقیر بڑھانے کو اترے
ہمارے بیچ میں صدیاں ہیں حائل
مگر پھر بھی ہمارے دل ملے ہیں
یہ اتنا رو چکی ہیں اب
کہ بنجر ہو چکی ہیں اب
تمناوں کا کیا ممتاز کہنا
تمناؤں کے تو دفتر کھلے ہیں
●●●
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں