زہر دینے والے سن
موت بانٹنے والے
بھوک سب کو لگتی ہے
کیا جواب دو گے تم
رزق دینے والے کو
کیا جواب دو گے تم
جس سے مانگتے ہو تم
کیا جواب دو گے تم
جس سے رحم مانگتے ہو
بھوک سب کو لگتی ہے
درد سب کو ہوتا ہے
آنکھ سب کی روتی ہے
دل بھی سب کا ہوتا ہے
بھوک سب کو لگتی ہے
نظم/ ممتازملک
پیرس فرانس
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں