سپرے
توقیر اپنی ماں کیساتھ زندگی کے سفر میں خوشی خوشی رواں تھا ۔ وہ کئی روز سے اس پر زور دے رہی تھی کہ اب اسے اپنا گھر بسا لینا چاہیئے لیکن وہ سمجھتا تھا کہ اسے کسی ساتھی کی فی الحال کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔
بیٹا اب تو تم پینتیس سال کے ہو چکے ہو ، ملنے والوں کا بھی پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ
اور بھئی کب کھلا رہی ہیں اپنے بیٹے کی شادی کی مٹھائی۔۔
اس نے ایک ملنے والے انکل کی نقل اتار کر بتایا تو توقیر بھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا ۔
ماما جی آپکو تو نقال ہونے کا ایوارڈ ملنا چاہیے۔ آپ سے اچھے ملنے والوں کی نقل اور کوئی نہیں اتار سکتا ۔
بیٹا جی فی الحال تومیرا ایوارڈ ہے تمہارا بیاہ ۔ تاکہ ان سب کے منہ بند ہو سکیں ۔
ماما میں صبح کام پر جاتا ہوں۔ شام چھ سات بجے لوٹتا ہوں ۔اس کے بعد آپکے ساتھ دو تین گھنٹے گپ شپ کھانا اور شب بخیر ۔
اب اس روزمرہ کے معمول میں میں بہت خوش ہوں۔ باقی دونوں بھائی اور ایک بہن اپنے اپنے گھروں میں ہیں۔ مہمانوں کی طرح آتے ہیں اور چند گھنٹے گزارے ، کھایا پیا روانہ ہو گئے ۔ ایسے میں میں نے شادی کر لی تو اپنےساتھ یہ جو تین چار گھنٹے سکون کے گزارنے کو ملتے ہیں اس سے بھی جائینگی۔
زرینہ احمد نے کرسی پر بیٹھے اپنے جوتوں کے تسمے باندھتے ہوئے بیٹے کو بڑے دلار سے دیکھا اور بولی۔
میں کونسا قیامت کا اعلان کرنے کو آئی ہوں اور کتنا جیوں گی میرے سامنے اپنے گھر کے ہو جاؤ گے تودل اطمینان سے دھڑکنا بند کریگا ھھھ
مما پلیز ایسی باتیں نہ کیا کریں۔ آپ جیئں ہزاروں سال ۔ میں آپکے دل کو دھڑکنے پر مجبور رکھوں گا ان شاءاللہ
اوکے باہا
اللہ حافظ
وہ ہاتھ لہراتا ہوا ماں سے اپنے ماتھے پر بوسہ لیتے ہوئے اپنے کام پر روانہ ہو گیا ۔
زرینہ احمد اسے موٹر سائیکل سٹارٹ کرتے اور دور تک جاتے دیکھتی رہی ۔
گھر بھر کے کام سمیٹتے ہوئے دروازے کی گھنٹی بجی ۔
دروازے کے سوراخ سے دیکھا تو انجم کھڑی تھی ۔ اس نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھولا ۔
السلام علیکم زرینہ کیسی ہو۔
میں تو ٹھیک ہوں اللہ کا کرم ہے۔ تم سناو آج بڑے دنوں بعد چکر لگایا ۔
بس کیا کروں شادیوں کا سیزن ہے لوگوں کو رشتے دکھانے کی دوڑ دھوپ میں اکثر تو خود اپنے گھر کا بھی راستہ بھول جاتی ہوں ۔ھھھھ
وہ ہنس پڑی ۔
زرینہ نے اسکے ساتھ بات کرتے کرتے دن کا کھانا بھی تیار کر لیا۔ چولہا بند کرتے ہوئے بولی
آلو پالک بنایا ہے روٹیاں بھی ابھی اتاری ہیں توے سے ۔ کھانا کھاؤ گی ۔ ہاں ہاں کیوں نہیں نگوڑی پالک کا پوچھ لو پچھلے ہفتے دس روپے کی گٹھی مل رہی تھی جا بجا اور آج صبح سبزی والے سے بھاو پوچھا تو ایسا کرنٹ مارا کہ کہ توبہ ہے۔ ڈیڑھ سو روپے کی گٹھی ہو چکی ہے ۔۔
ہائیں کیا واقعی ۔۔زرینہ نے حیرت سے پوچھا
تو اور کیا میں نے تو نہیں خریدیں بھائی ایک گٹھی سے تو ایک پلیٹ سالن بھی نہیں بنے گا۔ ہمارے گھر پر چار پانچ گٹھی پالک اور ایک کلو آلو ڈلیں گے تو ہی دو وقت کا مناسب سالن بنے گا ماشاءاللہ ہم چھ لوگ ہیں کھانے والے ۔تم تو دو ماں بیٹا ہو ایک گٹھی بھی لو تو آرام سے گزارا ہو جائیگا ۔
ہاں یہ تو ہے ۔ ویسے میں نے یہ پچھلے ہفتے کی پالک پانی سکھا کر کوٹ کے فریزر میں پیکٹ بنا کر رکھ دی تھی آج توقیر کی فرمائش تھی، تم تو جانتی ہو نا صبح ناشتے کیساتھ ہی سالن بھی چڑھا دیتی ہوں ۔کام ختم کرتے کرتے آٹا گندھا ہو اور سالن بنا ہو تو انسان بے فکر ہو جاتا ہے کہ کوئی آیا گیا ہو تب بھی کھانا بنانے سے بے فکری رہتی ہے ۔ اب تم گیارہ بجے آئی ہو جب دوسرے گھروں میں ابھی کھانے کا سوچا جائیگا کہ آج کیا پکائیں اور ہم دونوں بارہ بجے کھانا کھانے کا کہہ رہے ہیں گھر کے کام سے فارغ ہوئی تھی کہ تم خود ہی آ گئی ۔ ورنہ تمہیں فون کرنے کا سوچ رہی تھی۔
بھائی کوئی اچھی سی لڑکی دکھاؤ اب میں چاہتی ہوں دو چار مہینے میں اس لڑکے کے فرض سے فارغ ہو ہی جاؤں۔
اچھا تو کیا بیٹا راضی ہو گیا
ارے وہ راضی ہو نہ ہو فرض تو ادا کرنا ہے نا
یہ سن کر انجم نے اپنے بیگ سے بہت ساری تصویریں نکال کر ان کے سامنے پھیلا دیں اور لگی ایک ایک کی تفصیل بتانے۔
زرینہ احمد نے کچھ تصویریں ان میں سے منتخب کیں ۔
شام کو بیٹے کو دکھا کر کسی ایک کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔
بہت شور شرابے کے بعد بالاخر وہ روحانا کی تصویر دیکھ کر اس کی فیملی سے ملنے کے لیے تیار ہو گیا
خدا خدا کر کے شادی کے ہنگامے سے فرصت ہوئی اور زندگی ایک معمول پر آنے لگی
شادی کے ایک ہفتے تک تو دعوتیں چلتی رہیں
پھر دولہا دلہن اپنے ہنی مون پر چلے گئے
واپسی پر ہر چیز نئی نئی تھی
وہ دفتر سے واپس آتا اور ماں کے ساتھ بیٹھنے لگتا تو کمرے میں دلہن شکوہ کرتی کہ مجھے وقت نہیں دیا۔
نہ وہ کھانا بنانا چاہتی تھی نہ وہ گھر کے کاموں میں حصہ لینا چاہتی تھی۔
اسے اس کے ساتھ بس ہر وقت کمرے میں بیٹھ کر رومانس کرنا تھا
جب کہ ماں سمجھتی تھی اب اسے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لینی چاہیئیں
لیکن ان کی یہ معمول کی بات بہو کو ہضم نہیں ہو رہی تھی اور ایشو لگنے لگی تھی
زرینہ بیگم اب اپنی ذمہ داری ادا کر کے کچھ آرام کرنا چاہتی تھیں
ویسے بھی پچھلے کچھ دنوں سے اس کے گلے کی تکلیف کافی بڑھ گئی تھی جس سے اسے بخار رہنے لگا تھا ارام نہ ملنے کے سبب اور مہمان داری اور شادی کے کاموں کے دوران وہ بہت زیادہ تھک چکی تھی
لیکن بہو کے لیے یہ سب ڈرامہ تھا
زرینہ بیگم سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ اس سارے معاملے کو کس طرح سے ہینڈل کریں
محبت سے بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کرتی کہ بیٹا اپنی بیوی کو بولو کہ اب وہ اپنے گھر کی ذمہ داریاں سنبھالے
یہ گھر اس کا ہے اور اسی کو سنبھالنا ہے
میں اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہونا چاہتی ہوں۔
جب کہ بہو کے ناز نخرے فیشن انداز ہی ختم نہیں ہو رہے تھے اس کی شکایتیں اب جھگڑوں میں بدلنے لگی تھی۔
بیٹے کی شادی سے پہلے کی ہوئی سب باتیں سچ ثابت ہونے لگی ماں کے ساتھ رہنے کی چاہ میں اب دونوں طرف سے شکایتوں میں گھرا ہوا تھا۔
کبھی کبھی اسے لگتا ہے جیسے وہ ڈپریشن کا شکار ہونے جا رہا ہے
اب تو وہ بھی ماں کے ساتھ تلخ ہونے لگا تھا
زرینہ پریشان تھی اس ساری صورتحال پر اب اسے کیا کرنا چاہیئے۔
آج ماں کی حالت بگڑنے پر ایمرجنسی میں ڈاکٹر کو گھر بلانا پڑا ڈاکٹر نے بتایا کہ
اسکے گلے کی تکلیف اس کا سانس لینا بھی محال کر دیتی تھی وہ شدید تکلیف میں فوری دوا نہ ملے تو مر بھی سکتی تھی ۔ گلے کی رگیں پھول جانے سے اس کا تھوک نگنا اور سانس لینا ناممکن ہو جاتا تھا ۔
ڈاکٹر نے اسے سختی سے متنبہ کر رکھا تھا کہ اس کی تکلیف فوری دوا اور علاج کی متقاضی ہے۔ اس لیئے پہلے تو وہ گلے کی تکلیف کی وجہ بننے والی چیزوں ٹھنڈا پانی الرجیز کا سبب بننے والی وجوہات سے دور رہیں ۔ اور انہیں فوری دوا میسر ہو ۔
بیگم کی بے جا فرمائشوں کی وجہ سے اب اسے مالی طور پر بھی تنگی کی شکایت رہنے لگی جبکہ شادی سے پہلے اسے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کی کمائی گھر کے خرچ کے لیئے کسی بھی لحاظ سے کم ہے۔
کیونکہ زرینہ بیگم بہت اچھے طریقے سے اس کو سمجھداری کے ساتھ گھر کا حساب کتاب چلاتی تھی۔
اب وہ اوور ٹائم کرنے کے بعد بھی شکایتوں میں گھرا رہتا۔
دوسری طرف ماں کی دوا کا خرچ بھی ہے اب اسے بہت بھاری لگنے لگا۔
جبکہ اسے دوا کے ساتھ اچھی خوراک کی ضرورت بھی تھی۔
ماں کا سمجھانا اسے زچ کرنا لگتا اس کا مشورہ اسے ورغلانا لگتا اور سمجھتا اس کی ماں اسے اس کی بیوی سے متنفر کر رہی ہے
اسے اب اپنی ماں کی ہر بات جھگڑا لگتی اس کا سمجھانا سر کھانا لگتا ۔
آج رات ہی ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی
واپسی پر اس نے ماں کی آواز سنی تو برا سا منہ بنا کر بیزاری سے کمرے میں پہنچا
بیزاری سے سلام کیا اور بولا کہیئے کیا بات ہے
ماں کی حالت اس کی سرخ آنکھیں بخار سے تپتا ہوا جسم نہ اسے کچھ دکھائی دے رہا تھا نہ سنائی۔۔۔
وہ ٹھیک سے بات بھی نہیں کر پا رہی تھی اس کی سانس اکھڑ رہی تھیں
اس نے اشارے سے اپنی سانس کی دوا اس سے مانگی دراز کی طرف اشارہ کیا
اس نے بے دلی سے دراز کھولا
ماں کا پمپ ہاتھ میں اٹھایا لیکن کچھ سوچ کر وہیں رک گیا
ماما پمپ تو نہیں ہے یہاں
یہیں رکھا تھا یہی ہے
وہ بڑی مشکل سے اتنا کہہ سکی۔
جلدی کرو۔۔
میری سانس اکھڑ رہی ہے۔
لیکن اس میں نہیں ہے
دس منٹ تک وہ بری طرح سے تڑپتی رہی اور یہ ڈھونڈنے کا ڈرامہ کرتا رہا
بالاخر وہ بے حال ہو کر بستر پر بے سد ہو چکی تھی بری طرح تڑپنے کے بعد اس کا جسم ٹھنڈا ہو چکا تھا
اس نے ماں کی نبض ٹٹولی
دل کی دھڑکن دیکھی جو تقریبا ڈوب چکی تھی۔
ایک اطمینان کی سانس لی اور بولا
سوری ماما یہ دوا آپکو دے دیتا تو آپ پھر سے ٹھیک ہو جاتیں
اور پھر سے آپ کی چخ چخ شروع ہو جاتی ۔
جو مجھے میری بیوی کی شکایتوں کا موقع دیتی ۔
سوری ماما آپکو اب چلے جانا چاہیئے تھا۔
وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا اور اسکے بالوں میں۔ نادیدہ انگلیاں مساج کر رہی تھی بہت پیار کیساتھ ۔
ماں کا حلق کا سپرے جو اس نے جیب میں ڈال لیا تھا وہ اس کی مٹھی میں تھا
زرینہ احمد کا سر ایک جھٹکے سے ایک جانب لڑھک گیا۔
توقیر اپنی ماں کا سر اپنی گود میں لیئے بیٹھا تھا
خالی آنکھیں اسے مر کر بھی محبت سے دیکھ رہی تھیں۔۔
-------
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں