ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک

منگل، 16 جنوری، 2024

جاری ہے۔ اردو شاعری ۔اور وہ چلا گیا۔ اشاعت 2024ء


جاری ہے


یہ بگولوں نے دی خبر ہم کو
دل کے صحرا میں رقص جاری ہے
 
کھردری کھردری  اداسی ہے
مخملی مخملی خماری ہے

ہاتھ باندھے کھڑے ہیں دیوانے 
دل کی دنیا پہ وجد طاری ہے

اس نے لفظوں کا صور پھونکا ہے
اب سنبھلنا تو اضطراری ہے

یہ تو پہلے سے طے تھا کیوں اس پر
ہائے دل ایسی بیقراری ہے

یہ محبت کا وہ وظیفہ ہے
 جو الٹ جائے پھر تو بھاری ہے

میں نے پرہیز جب نہیں رکھا
درد میرا تو اختیاری ہے

مجھ کو ممتاز کر کے تنہا کر
واہ کیسی یہ غمگساری ہے

    --------      

اتوار، 7 جنوری، 2024

رپورٹ ۔ ناصرہ خان کے گھر محفل میلاد


ناصرہ خان کی رہائش گاہ پر محفل میلاد 
پیرس فرانس  کی معروف جرنلسٹ محترمہ ناصرہ خان صاحبہ نے 6 جنوری 2024 بروز ہفتہ اپنی رہائش گاہ پر نئے سال کی خیر و برکت کی دعا کے لیئے ایک محفل میلاد کا انعقاد کیا۔ جس میں پیرس کی معروف شخصیات نے حصہ لیا جن میں محترمہ روحی بانو صاحبہ، آصفہ ہاشمی، سائرہ کرن، عالیہ پاشا، مہناز، ممتاز ملک، طاہرہ سحر ،فرحت عاشق، زرینہ سلیم ، عظمی، نینا خان اور دوسری بہنوں نے شرکت کی۔ پروگرام میں وظائف کے علاوہ تسبیحات کی گئیں اور نعت خوانی کی محفل سجائی گئی۔ جس میں ممتاز ملک اور دیگر خواتین نے حصہ لیا جبکہ دعا طاہرہ سحر صاحبہ نے کروائی۔ دعا کے بعد ایک پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا تھا اور ناصرہ خان صاحبہ نے بہت پیار اور محبت کے ساتھ سب کو کھانا پیش کیا اس کے بعد حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے یوم پیدائش کی خوشی میں ناصرہ خان صاحبہ نے اپنے گھر کا بنا ہوا کیک کاٹا۔ قہوہ پیش کیا گیا۔ تصاویر کا دور چلا خواتین نے مختلف قسم کے مسائل اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال بھی کیا ۔ اس طرح یہ محفل ہنستے مسکراتے  نئے سال کی مبارکباد اور دعاؤں کے ساتھ اختتام کو پہنچی۔ پیش ہیں پروگرام کی کچھ تصویری جھلکیاں










جمعہ، 5 جنوری، 2024

* وردان کی طرح۔ اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا ۔ اشاعت 2024ء


عرفان کی طرح


ہیجان کی طرح کبھی عرفان کی طرح
ہر اک کتاب زیست ہے گردان کی طرح 

اتنے تو خوش نصیب نہ تھے خواب میں بھی ہم
ہمکو ملا ہے تو کسی وردان کیطرح 

ہم زندگی کی  بھیڑ میں گم اس قدر ہوئے
کھینچا ہے واپسی نے بھی فرمان کی طرح

اللہ کا قرب چاہنے کی چاہ ہو چلی 
رستہ نہ روکیئے میرا شیطان کی طرح

جب سے خرید لایا وہ انگیٹھی اک نئی
اس میں یہ دل سلگتا ہے لوبان کی طرح

طعنے و تشنیع سارے کتابوں میں بند کر
اک ایک ورق ہم نے پڑھا گیان کی طرح

ایسے گرے ہیں عرش سے مٹی کی گود میں
بھٹکے ہوئے وجود کو فیضانِ کی طرح

ہر پل ہمارے مد مقابل ہے زندگی 
ہم کو ملی ہے زیست بھی میدان کی طرح 

گر کر سنبھلنے کا جو سبق بھولتا نہیں 
دوڑے لہو میں ہمت مردان کی طرح 

یہ سوچنے کی بھول نہ کرنا کہ قرض تھا
ممتاز نے یہ دی ہے  وفا دان کی طرح

---------




منگل، 2 جنوری، 2024

مہنگائی فرانس۔کالم

مہنگائی فرانس
تحریر: ( ممتازملک۔پیرس)

دنیا بھر میں جہاں جنگوں کی صورتحال نے مہنگائی میں اضافہ کیا ہے وہاں فرانس میں بھی مہنگائی نے افریت کا روپ دھار لیا ہے۔ پہلے کبھی ہم کہا کرتے تھے کہ کچھ بھی ہو جائے فرانس میں کھانا پینا اتنا سستا ہے کہ معمولی سے معمولی تنخواہ والا بھی آرام سے اپنی مرضی کا مرغی، گوشت، دالیں، سبزیاں، فروٹ خرید سکتا ہے۔ لیکن آج 25 سال میں یہ حالت ہو گئی ہے  کہ گوشت فروٹ، سبزی ہر چیز کو تبرک بنا دیا گیا ہے یقین کریں آج کل کے دنوں دسمبر اور جنوری میں جائیں تو کئی جگہ پر سبزیاں تین چار  چھ یورو کلو لگی ہوتی ہیں اور آپ حیران ہو جاتے ہیں وہاں پر جب کہ آپ کی تنخواہیں سالہا سال سے نہیں بڑھیں، جبکہ مہنگائی ہر روز بڑھ رہی ہے۔ یہاں پہ ہول سیلر کو تو فائدہ ہے۔ جو لوگ بیچنے والے ہیں وہ تو آرام سے قیمت کی چٹ ایک یورو سے اٹھا کر دو یورو لگا دیں گے لیکن خریدنے والے کی تنخواہ کتنے سالوں سے نہیں بڑھیں، کسی کو اس بات کا اندازہ نہیں۔ سرکاری تنخواہیں ہوں یا پھر پرائیویٹ لوگوں کی، (پرائیویٹ والے تو ویسے ہی مرتے ہیں تنخواہیں دیتے ہوئے) تو آپ اندازہ لگائیں کہ وہاں ایک عام آدمی کا خاص طور پر اگر وہ اپنی  فیملی کیساتھ رہتا ہے۔ گھر چلانا کس قدر مشکل ہے۔ اگر اسکے دو تین بچے ہیں دو میاں بیوی  یعنی پانچ افراد کا کنبہ ہے تو یہاں پر گھر چلانا ایک عذاب بن چکا ہے۔ اگر پانچوں بھی کما رہے ہیں تو ہر بندہ صرف اپنی ضرورت کی چیزیں پوری کرتا ہے کیونکہ عام طور پر یہاں تنخواہیں عموما 1400 سے لے کر 1800 یورو تک کی بنیادی تنخواہیں ہوتی ہیں جس میں اگر ایک آدمی کو اپنے ایک کمرے کا کرایہ دینا پڑ جائے اسے اپنا کھانا پینا کر کے بجلی کے ، گیس کے بل اور اپنے چارجز نکال کر جو صفائی ستھرائی کے لازمی آپ نے ہر گھر میں دینے ہوتے ہیں تو یقین کریں مر کے اس کے پاس اگر اس نے گاڑی بھی رکھی ہے تو ناممکن ہے کہ وہ 14 سو یا18 سو یورو میں اپنا بھی گزارا کر سکے۔ ورنہ دو تین سو یورو ہی  اسکے پاس بچتا ہے جس میں وہ کھائے گا پیئے گا تو آپ خود اندازہ لگائیں کہ وہاں پہ زندگی کس قدر مہنگی ہے۔ فرانس سے باہر یا پاکستان میں بیٹھے ہوئے لوگ بڑے آرام سے منہ کھول کر کوئی موبائلوں کی فرمائشیں کرتا ہے اور کوئی جناب 60، 60 ہزار روپے کے پرفیومز گفٹ میں مانگ رہا ہوتا ہے اور انکو تکلیف بھی نہیں ہوتی وہ ہڈ حرام گھر بیٹھے، لوگوں سے فرمائشی ٹوکرے بھروا رہے ہوتے ہیں۔ انہیں ذرا اندازہ نہیں ہوتا، کہ وہ جو مشقت کر رہا ہے وہ اپنا خرچ بھی کتنی مشکل سے پورا کرتا ہے۔ سرکاری طور پر احتجاج کے لیے یہاں پر زیلے زون نامی تنظیم نے سالہا سال سے یہاں پہ ناانصافی کے  قوانین پاس ہو رہے ہیں جس میں ریٹائرمنٹ کا ٹائم مزید طویل کر دیا گیا ہے جس میں تنخواہیں وہیں پہ مستقل کھڑی ہیں اور فیملیز مشکلات کا شکار ہیں۔ کہیں ان کے بینیفٹ روک دیے گئے ہیں، کم کر دیے گئے ہیں ختم کر دیئے گئے ہیں۔ اب وہ دالیں جو ہم کبھی 50 سے 60 سینٹیوں میں ایک کلو خریدا کرتے تھے یا بہت مہنگی ہوتی تو ایک یورو میں ایک کلو لیتے تھے اس وقت وہ  پونے تین چار یورو کی کلو لگی ہوئی نظر آتی ہے۔ آپ حیران ہو جاتے ہیں جس مونگی کی دال کو پاکستان میں ہم مریضوں کی دال کہتے ہیں اور منہ نہیں لگاتے وہ یہاں پر تین سے لے کر چھ یورو تک کلو مختلف جگہوں پر ملتی ہے
 بھنڈی جیسی سبزی پاکستان میں لوگ اس کی شان میں گستاخیاں کرنے سے نہیں چوکتے آپ سوچیں کہ نخرے کرنے والی وہ بھنڈی یہاں پر ہمیں چھ سے لے کر 12 ، 15 یورو تک کی کلو ملتی ہے اور ایک کلو لینا تو شاید میرا خیال ہے کہ بہت ہی امیر کبیر ہے جو ایک کلو ایک ساتھ اٹھا لیتا ورنہ یہی ہوتا ہے کہ اگر بہت ہی دل کیا تو آپ ایک مٹھی بھر اٹھا کر اسی میں پیاز اور باقی چیزیں مکس کر کے اپنا شوق پورا کر لیتے ہیں اور باقی سبزیوں کا بھی پوچھیں۔۔۔
 اب  آؤٹ سیزن ہے تو سبزیوں فروٹ کے آپ پاس سے گزر بھی نہیں سکتے، ایسے جھٹکے دیتی ہیں ان کی قیمتیں کہ دور سے بورڈ دیکھکر آپ خاموشی سے وہاں سے نکل جاتے ہیں کیونکہ تنخواہیں نہیں بڑھ رہی صرف مہنگائی بڑھ رہی ہے ۔پیٹرول جو کبھی سینٹیوں میں لیٹر تھا اب یہاں مختلف علاقوں میں ڈھائی سے تین یورو کا ایک لیٹر  ڈالا جا رہا ہے آپ اندازہ لگائیں کہ ایک آدمی نے گاڑی رکھی ہے پھر اس کی پارکنگ کے، چالان کے خرچے پارکنگ تو انہوں نے ختم ہی کر دی ہیں۔ جو ہیں وہ پیسوں کی پارکنگ ہے۔ گھنٹوں کے حساب سے۔ لیکن اس کے باوجود بھی اگر آپ دیکھیں تو چالان کی بھرمار ہوتی ہے لوگ گاڑیاں کہاں کھڑی کریں میں تو کہتی ہوں اڑنے والے سلنڈر لے آئیں لوگ اپنے ساتھ باندھ کے اسی میں سفر کو نکلا کریں۔ ان گاڑیوں کا جھنجٹ ہی ختم کر دیں کیونکہ لوگوں نے سفر جو کرنا ہے لوگوں نے ادھر ادھر جانا ہے ۔کیا کریں پھر وہ لوگ۔ بالکل ناک تک لوگوں کو پہنچا دیا ہے۔ اتنی شدید مالی پریشانیاں پہلے کبھی سننے دیکھنے میں نہیں آتی تھیں جتنی اب فیملیز پریشان ہیں ۔
 پہلے لوگ مہینے بھر کے اپنے تنخواہوں کے خرچ میں سے بھی تھوڑا بہت جوڑ جاڑ کے کھینچ کھانچ کر کوئی ایک ادھ چیز گھر کی، بجلی کی مشین جیسے واشنگ مشین،  فرج خراب ہو گیا ہے تو بھی نقد پہ لے سکتے تھے ۔ 25 سال پہلے جب میں آئی تھی تو ضرور اسی تنخواہ میں ہم بنا لیا کرتے تھے لیکن آج آپ کی سوچ ہے آج آپ کو جو کچھ لینا ہے آپ کو ادھار یا قسطوں پر ہی لینا ہے یا پھر آپ  اس کے لیے پورا سال پیسے جمع کریں  کیونکہ آپ تنخواہ دار ہیں آپ کا گزارا نہیں ہو رہا تو کیا کریں گے۔ بہت حیران ہوتی ہوں جب یہاں پر ہمارے مردوں کی ٹولیاں گھنٹوں بیٹھ کر پاکستانی سیاست کی ٹاکیوں کو آسمان پر لگا رہے ہوتے ہیں۔ رونے رو رہے ہوتے ہیں یار وہاں یہ ہو گیا، وہاں مہنگائی ہو گئی وہاں فلانا ہو گیا، ارے بھائی جہاں رہتے ہو پہلے وہاں تو دیکھو وہاں کون سے راشن کے ٹوکرے تمہیں فری میں گھروں میں آ رہے ہیں، وہاں کون سی دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہاں ہم نے رہنا ہے یہاں کھانا ہے یہاں کے معاملات براہ راست ہمارے اوپر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہمارے اوپر کیا ہمارے ذریعے پھر ہمارے پچھلوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں ۔جن کو مٹھیاں بھر بھر کے پیچھے کچھ نہ کچھ بھیجنا پڑتا ہے اور جو فالتو چیزیں ہمارے ساتھ چپکی ہوئی ہوتی ہیں۔ ان کو پورا کرنا پڑتا ہے ۔مجھے یہ بتائیں کہ یہ چیزیں ان پر بھی ان بلواسطہ اثر انداز ہوتی ہیں تو پھر یہاں کی فکر کیجیئے۔ یہاں کے حالات میں، یہاں کے احتجاج میں شامل ہوں یہاں کی اچھی بری باتوں کو نوٹس کریں حکومت کو یہاں کی باتوں پہ توجہ دلانے کے لیئے اچھے کاموں کے ذریعے متوجہ کریں اور ان سے کارکردگی اور اقدامات  کے لیئے اصرار کریں۔ ساری قومیں اکٹھی ہوتی ہیں۔ نہیں ہوتی تو پاکستانی کمیونٹی آپ کو ایسے کاموں میں کہیں نظر نہیں ائے گی۔ ان کاموں سے ان کو دور دور تک لینا دینا نہیں ہے عجیب لوگ ہیں۔ مجھے تو سمجھ ہی نہیں آتی کہ ہماری قوم چاہے ملک میں رہیں چاہے ملک سے باہر انہیں ہمیشہ دور والوں کا درد تڑپاتا ہے، اپنے گھر کا کوئی غم نہیں ہوتا فرانس ہمارا گھر ہے۔ ہمارا ملک ہے ہمیں یہاں کے مسائل اور وسائل میں شامل ہونا چاہیئے۔  اگر ہم فائدے لیتے ہیں تو یہاں جو پریشانیاں ہیں یہاں جو نقصان ہو رہے ہوتے ہیں یہاں جو قوانین بنتے ہیں ان میں بھی براہ راست حصہ ڈالنا چاہئے۔ اپنی آواز شامل کرنی چاہیئے۔ یہاں ہماری ڈیڑھ لاکھ کے قریب آبادی ہے اس کے باوجود بھی ہم لوگوں کی آواز کہیں سنائی نہیں دیتی۔ کیونکہ آپ کو شوق نہیں ہے۔ اب تو الیکشن میں بھی کھڑے ہونے لگ گئے ہیں لیکن وہ بھی برائے نام کمیونٹی میں کام کر رہے ہیں۔ وہ کمیونٹی میں کسی متحرک جذبے کو فروغ نہیں دے پاتے۔ وہ بھی اپنی کمیونٹی کے لیئے صرف شو پیس ہیں ٹائم پاس
                ۔۔۔۔۔۔۔۔

بھارتی فلموں کے نان سینس اسباق۔کالم


بھارتی فلموں کے نان سینس اسباق
تحریر: (ممتازملک ۔پیرس)

 بھارتی فلموں نے دنیا میں آخر کیا سکھایا؟ 99 فیصد بھارتی فلموں نے دنیا میں بے حیائی اور برائی کے سوا کس چیز کو فروغ دیا ؟ آپ دیکھتے رہیں، ہر فلم کے اندر آپ کا کسی کے ساتھ بھی سو جانا کوئی برائی نہیں ہے۔ ناجائز تعلقات بناؤ۔ ناجائز بچوں کو پیار کی نشانیاں کہہ کر انہیں عام کرو۔ کوئی عیب نہیں۔ کہیں بھی چمی پپی کر لو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کسی بھی رشتے کے ساتھ سو جاؤ، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دوسرا اخلاق و اقدار کا جنازہ بڑے دھوم دھام سے اٹھایا جاتا ہے۔ شادی کے منڈپوں سٹیج سے لڑکیوں کو بھاگ جانے کی ترغیب کھلے عام دی جاتی ہے اور اسے مذاق میں اور ٹن ٹن ٹن ٹن کے میوزک کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ جیسے یہ بہت بڑا لطیفہ، بہت بڑا کارنامہ اس لڑکی نے سر انجام دیا اور وہ بھگانے والا ہیرو واہ کتنا بہادر ہے، کسی کی بیٹی منڈپ سے اٹھا لایا اور اپنی بہن بھی منڈپ سے بھاگنے پہ خوش ہو کے دیکھتا ہے، ارے واہ کیا کمال کیا۔ کتنی جرات مند ہے ہماری بہن ۔۔۔واہ واہ واہ ۔ حیرت ہوتی ہے ایسی فلمیں دیکھ کر۔ آپ کس معاشرے کی نشاندہی کر رہے ہیں؟ آپ کیا سکھانا چاہتے ہیں؟ اپ کا معاشرہ کیا کارٹون کا معاشرہ ہے؟ کیا یہاں انسان نہیں رہتے؟ کیا ان کی ایموشنز کارٹون والے ایموشنز ہیں؟ یعنی ایموشن لیس ہیں وہ سارے۔ جذبات سے عاری ہیں وہ سب لوگ کہ آپ انہیں بتاتے ہو منڈپوں سے بھاگ جاؤ ۔ شادی کا سہرہ بندھا ہے۔ دولہا کا گھوڑا بھاگ گیا جناب ہاہاہا۔۔۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر انسان کے ساتھ اس کا خاندان جڑا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے بہن بھائیوں پہ اثر انداز ہوتی ہیں اس کی ہر حرکتیں، اور اس کی ہر طرح کی سوچیں ۔ صرف ایک منٹ کے لیے اگر سوچا جائے کہ وہ لڑکیاں جو آپ کی فلموں کی ہیروئنوں کی نقل میں( آپ کی ہیروئن تو پیسے لے کر چار منٹ کے لیے بھاگ رہی ہے نا وہاں سے, لیکن آپ یہ سوچیں کہ وہ لڑکی جو اس ہیروئن کی تقلید میں) اپنے گھر سے اپنے منڈپ سے اپنے رشتوں سے بھاگ گئی, پھر اس کے بعد کیا ہوا ؟ اس کے بعد جس کے ساتھ بھاگی کیا اس نے اسے عزت دی؟ اگر آپ کی فلموں میں دی تو اس سے بڑی ب**** اور کوئی نہیں ہو سکتی ساری عمر وہ لڑکا حقیقت کی زندگی میں نہ تو اس لڑکی پہ اعتبار کرتا ہے نہ اس کو اپنی اولاد کے لیے قابل اعتبار سمجھتا ہے۔ نہ اس کی عزت کرتا ہے جب جی چاہتا ہے زبان یا عمل سے وہ اس کو گھونٹ کے رکھ دے گا کیونکہ تم میرے ساتھ بھاگی تو کسی کے ساتھ بھی بھاگ سکتی ہو۔ یہ ہوا انجام اس بھاگنے والی لڑکی کا۔ اب اس لڑکی یا لڑکے کے گھر والوں پہ نظر ڈالیں۔ کیا ان  کے گھر میں جو باقی بہنیں ہیں، بھائی ہیں انہیں معاشرے میں عزت مل پائے گی؟ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس معاشرے کے اندر ان کے لیئے کوئی رشتہ آئے گا یا انہیں کوئی عزت سے بیاہ کر لے کر جائے گا کیا وہ لڑکیاں بغیر طعنہ سنے اپنے گھروں میں چاہے سسرال میں چاہے اکیلی زندگی بھی گزارے تو اپنے شوہر سے کبھی ان کا طعنہ سنے بغیر زندگی گزار سکیں گی؟ کبھی نہیں ناممکن . اس لڑکی کے بھائی کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟ اسے کس نام سے پکارا جاتا ہے ؟ مرتے دم تک وہ لڑکا کیا عزت کے ساتھ سر اٹھا کے جی سکتا ہے؟ دوسری طرف اس لڑکے کے گھر والوں کی خبر لیں کہ جو بڑا ہیرو بن کر کسی کی بیٹی بھگا کر لایا . کیا اس کی بہنوں کے لیے کوئی اچھا رشتہ آئے گا؟ اسے کوئی بیاہ کے لے کے جائے گا؟ کوئی سوچے گا کہ ان کا بھائی ہے. چاہے وہ کتنی بھی پڑھی لکھی ہوں .شریف ہوں. ہنر مند ہوں. لیکن یہ ہمیشہ سوچا جائے گا کہ کل کو وہ لڑکا ان کا بھائی ہے ۔جس نے کسی کی بیٹی بھگائی۔ اسے ہم اپنے گھر میں اپنی بہنوں سے ملنے کے بہانے کبھی آنے دیں گے؟ کیا ہم اسے اپنے گھر کی عورتوں کے ساتھ کبھی بٹھانا پسند کر سکتے ہیں یا ہم بے فکری سے اسے اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ اپنی بہن سے ملنے کے لیئے آئے؟ نہیں کبھی نہیں. اس کے بھائی کے لیے رشتے عزت والے گھروں سے مل سکیں گے ؟ لوگ کہیں گے ان کا ایک بھائی تو بھگا کے لایا پتہ نہیں یہ بھی کہاں کہاں لڑکیاں ورغلاتا ہوگا۔ یہ ہے سچ یہ ہے اصل آئینہ جو بھارتی فلم نے اور ڈراموں میں بھی ہمیشہ چھپایا گیا ۔ خواب دکھاتے ہیں۔  وہ خواب جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔ وہ خواب جو کبھی ممکن ہی نہیں ہوتے۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی چڑیا اور کبوتر کو اڑتے ہوئے دیکھوں اور کھڑکی سے میں بھی آرزو کروں ارے میں بھی تو اڑ سکتی ہوں اور میں دونوں ہاتھ کھول کر چھلانگ لگا دوں اور ہوا میں اڑنے کی بجائے اس کا انجام کیا ہوگا زمین پر اوندھے منہ پڑا ہوا لاشہ۔۔۔۔ یہ ہوتی ہے سچ کی موت۔ حقیقت کے خواب کے سامنے سچ کی موت بہت بڑی حقیقت۔ یہی فرق ہے بھارتی فلموں میں اور حقیقت کی زندگی میں کبھی کبھی خواب دیکھنا اچھی بات ہے، لیکن خواب کو خواب کی طرح دکھائیں۔ حقیقت کی زندگی کی جدوجہد کی ہمیشہ تعریف کی جاتی ہے۔ بھارتی فلم میں جب بھی کبھی حقیقت پسندانہ موضوعات پر مبنی پیش کی گئی اسے بہت سراہا گیا جیسے " تمنا " یا "تارے زمین پر" یہ وہ فلمیں تھی جس کو حقیقت میں تسلیم کیا گیا اور اسی طرح بہت ساری ایسے موضوعات پہ جو فلمیں بنی انہیں  بہت زیادہ سراہا گیا ، لیکن جب آپ خواب کے نام پر اس میں ننگا پن لے آتے ہیں۔ اس میں ایک دوسرے کے ساتھ چمن پپن کو غیر ضروری طور پر شامل کر کے ضروری بھی ہو تو ہر کسی کو پتہ ہے کہ کس نے کہاں کس کو ، کس طرح سے استعمال کرنا ہے، بیوی کیسے ہوتی ہے اور باقی رشتے کیسے ہوتے ہیں ہر کوئی جانتا ہے آپ ان کو اپنی فلم کے ذریعے کیا سکھانا چاہتے ہیں۔ لوگوں کے بیڈ روم میں گھس کر آپ ان کو کیا سکھانا چاہتے ہیں کیا بیڈ روم کی اندر صرف ننگ دھڑنگ اور یہی سب کچھ ہوتا ہے۔ اچھے طریقے سے اچھے لفظوں میں آپ کو کوئی بھی ماحول فلمانا نہیں آتا۔ جہاں ایک عورت اور ایک مرد ہوں گے ہمیں ہمیشہ اپنے ریموٹ پہ کنٹرول رکھنا ہوتا ہے کہ جناب اب یہ کہیں بھی کچھ بھی دکھائیں گے، تو اس کو ہٹا دو اور اگر نہیں ہٹایا تو پھر تیار رہیے آفٹر ایفکٹس کے لیئے ۔
                --------

ہفتہ، 30 دسمبر، 2023

سخت ترین آزمائش ۔ کوٹیشنز ۔ چھوٹی چھوٹی باتیں


آل (بال بچے) اور مال دونوں سخت ترین آزمائش ہیں کیونکہ یہ براہ راست آپکے اعمال پر اثرانداز ہوتے ہیں ۔ 
(چھوٹی چھوٹی باتیں)
     (ممتازملک ۔پیرس)

جمعرات، 28 دسمبر، 2023

شادی ‏کومحاذ ‏جنگ ‏نہ ‏بنائیں/ ‏کالم


شادی کو محاذ جنگ نہ بنائیں
تحریر:
(ممتازملک ۔پیرس)

اپنے رد گرد نگاہ دوڑائیں ہر طرف قمقمےجگمگا رہے ہیں، پکوان بن رہے ہیں، مہمان نوازیاں ہو رہی ہیں ،لڑکیاں اپنے پیا دیس سدھار رہی ہیں ۔ کرونا کی پابندیاں بھی ان شادیوں کی راہ نہیں روک سکیں تو سمجھ لیجیئے کہ واقعی رشتے آسمانوں پر ہی طے کیئے جا چکے ہیں ۔ 
اپنی بیٹیوں کو اگلے گھر والوں کا دل جیتنے کے لیئے بھیجیئے، گھروں کو فتح کرنے کا سبق دیکر مت بھیجیں ۔ 
معاملات پر نظر دوڑائی جائے تو ایک بات بڑی واضح دکھائی دیتی ہے کہ شادی کے تمام معاملات اور رسومات کے بیچ میں دونوں گھروں کی جانب سے دولہا، دلہن کی شادی کے جوڑوں اور تحائف کی خریداری میں ہمارے ہاں یہ رواج دیکھا گیا ہے کہ لڑکے والے لڑکی کے شادی کے ملبوسات زیورات اور متعلقہ اشیاء کی خریداری اور لڑکی والے لڑکے کے لیے جوڑوں اور تحائف خریدا کرتے ہیں اس میں قباحت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دونوں گھروں میں سے کچھ شرارتی لوگ، رشتہ دار لڑکی اور لڑکے کو دوسرے سے زیادہ سے زیادہ مہنگے جوڑے اور تحائف خریدنے کے لیے اکساتے ہیں یا پھر لڑکی اور لڑکا خود اس قدر حریص ہوتے ہیں کہ وہ اگلے کو نچوڑ دینا چاہتے ہیں اور بڑھ چڑھ کر مہنگی سے مہنگی اشیاء کا مطالبہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ سمجھداری تو یہ ہوتی ہے کہ اگر کسی کو خریداری کی پیشکش کی جائے تو وہ خریداری کرانے والے سے پوچھے کہ آپ کا کتنا بجٹ ہے؟ اور اسکے حساب سے اگر اس کا بجٹ 10 روپے ہے تو وہ 8 روپے کی خریداری کرے اور باقی بچا کر سامنے والے کو احساس دلائے کہ وہ انکی جیب کا خیال رکھنے والا یا والی ہے, لیکن ہوتا بالکل اس کے برعکس ہے. یہاں اگر کوئی 10 روپے اپنا بجٹ بتائے تو وہ 20 روپے خرچ کر کے اگلے کو پریشان کرنا اور دبانا شروع کر دیتا/ دیتی ہے۔ اب اس میں کون سی سمجھداری ہے یہ بات آج تک ہماری سمجھ میں نہیں آ سکی۔ ہم لوگ اس رشتے کو محض اس خریداری تک ہی محدود کیوں کر لیتے ہیں۔ ہمیں یہ کیوں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ تحفے یا یہ جوڑے انہی دو تین دنوں میں ہی استعمال ہوں گے دوبارہ شاید یہ زندگی میں کبھی کھلیں گے بھی نہیں۔ لیکن ان دو تین دن کے جوڑوں کو اس قدر خاص بنا دیا جاتا ہے کہ ساری عمر انکی قیمتوں، رنگ، ڈیزائن پر، جب بھی میاں بیوی کا جھگڑا ہوتا ہے یا سسرال والوں کے ساتھ لڑکے یا لڑکی کا اختلاف ہوگا تو اسکی تان اسی بات پر ٹوٹے گی کہ جی مجھے جوڑا اچھا نہیں دیا تھا، فلاں چیز سستی ملی، فلاں چیز گھٹیا ملی، فلاں چیز تم نے نہیں دی، تو ان سب چیزوں سے یہ رشتہ محاذ جنگ اور زندگی ایک میدان جنگ بن جاتی ہے اور تاعمر آپ یہ جنگ لڑتے رہتے ہیں ، یہ رشتہ شاید اسی سبب ختم ہو جائے لیکن یہ جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی، کیونکہ یہ باتیں کبھی بھولتی نہیں ہیں تو پھر اس کا علاج کیا کیا جائے؟ سچ پوچھیں اور نیت جھگڑوں سے بچنے کی ہو تو  اس کا علاج بہت زیادہ آسان ہے۔  ایک رواج کو بدلنے کی جرات تو کیجئے ۔ دوسروں کو مت دیکھیئے اپنے گھر سے یہ شروعات کیجئے کہ آپ کی بیٹی کی جو پہلے دوسرے تیسرے دن کے جوڑوں کی خریداری جیسے کہ مہندی، شادی اور ولیمے کا جوڑا ہے وہ ہم والدین خود اپنی بیٹی کے لیے تیار کریں۔ اپنی پسند کے ساتھ کے ساتھ جب لڑکا، لڑکی یہ ساری خریداری کرینگے تو انہیں اس بات کا لحاظ رہے گا کہ یہ سارا پیسہ انکے اپنے باپ یا بھائی کی جیب سے جا رہا ہے اور اس میں جوڑوں کے رنگ،  ڈیزائن نئے پرانے ہونے کا بھی کوئی ہنگامہ کھڑا نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا دونوں کو سوچ سمجھ کر منہ کھولنا ہے اور ڈیمانڈز کرنی ہیں تو وہ اپنے تینوں دن کے جوڑے اور ضروری اشیاء اپنی مرضی سے خریدیں ۔ اب ان دونوں کو ایکدوسرے سے الگ خریداری کرتے ہیں تو ایک جیسا کیسے لگنا ہے، تو بالکل آسان سی بات ہے۔ جہاں بہت ساری باتوں کی آپ ایک دوسرے کو اطلاع دے رہے ہوتے ہیں وہیں پر آپ اس موقع پر پہننے والے  جوڑوں کے رنگ ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں کہ ہم فلاں رنگ پہن رہے ہیں یہ دونوں آپس میں طے کر لیں کہ فلاں رنگ اچھا ہے۔ ہم دونوں پہ کھلتا ہے اچھا لگ رہا ہے۔ چلو اسی حساب سے  لڑکا کوئی نہ کوئی ایک ٹچ دلہن کے کپروں کی میچنگ میں  اپنے کپڑوں میں شامل کر لے۔ جیسے  لڑکی سرخ رنگ پہننا چاہ رہی ہے اور لڑکا آف وائٹ پہننا چاہتا ہے تو لڑکی کے جوڑے کے رنگ کا کوئی بھی رومال، کلاہ یا پٹکا لڑکے کے جوڑے کیساتھ میچنگ کر لیا جائے یوں ان دونوں کا رنگ کا ملاپ بھی نظر آئے گا اور دونوں کا  اس یادگار دن پر یا دنوں پر اپنی پسند کا رنگ پہننے کا شوق بھی پورا ہو جائے گا یہ اتنا مشکل کام تو نہیں ہے۔
اس میں بھی لڑکا یا لڑکی ایک دوسرے پر دباؤ ہر گز نہ ڈالے۔ یہ رشتہ محبت کے ساتھ شروع ہونے جا رہا ہے۔ یہاں پر کوئی مقابلہ نہیں ہو رہا کہ آپ ایک دوسرے کو دبانا شروع کر دیں۔
 اور دوسری بات اگر دونوں طرف سے دینداری میں بہت زیادہ اور بھاری قیمتی تحفے، بری اور جہیز کے جوڑوں کے بجائے آج کل ہر روز اتنی ورائٹی آتی ہے کہ اکثر تو شادی بری کے سوٹ کھلتے تک نہیں اور انکے فیشن پرانے ہو جاتے ہیں اور انکے سلنے کی نوبت تک نہیں آتی۔ ادھر ادھر دے دلا کر ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو کہ بہت ہی چھوٹی حرکت ہے۔ کیونکہ یہ تحائف آپکی زندگی کے اہم موقع پر آپ کو ملے اور آپ نے انہیں برتا تک نہیں۔ اگر اپ اسے پہنتے تو ایک دوسرے کو خوشی ہوتی ہے کہ یہ تحفہ آپ کی طرف سے آیا اور پہنا گیا اس لیے بہتر ہے کہ لڑکی اور لڑکے کی جانب سے بھی لڑکی کے لیئے کام والے جوڑے بس پانچ پانچ ، سات، سات ہی ہونے چاہیئیں۔ جو انکے شروع کے پورے سال دو سال کیلیئے کافی ہیں اگر وہ سنبھال کے استعمال کریں تو دو تین سال کے لیئے کہیں آنے جانے، کسی تقریب میں پہننے کے لیے بہت ہوتے ہیں۔ باقی بیچ میں عیدین یا اور کوئی خاص موقع آتا ہے تو کپڑے بنتے رہتے ہیں ۔یہ زندگی میں آخری بار بنے ہیں کیا؟ لیکن وہ جو شروع میں پیسہ اتنا پانی کی طرح ضائع کیا جاتا ہے بری اور جہیز کے جوڑوں کے نام پر، سو سو جوڑے تک ہم نے دیکھے ہیں جو بالکل پیسے کا زیاں ہے، اور دوسری پارٹی اس میں ہر گز دخل اندازی نہ کرے کہ یہ پہننا ہے اور وہ نہیں پہننا۔ لڑکا کیا پہنے گا یہ لڑکی والوں کا درد سر نہیں ہے کہ وہ کس قیمت کا ہونا چاہیے اور لڑکی کیا پہنے  گی ، یہ لڑکے والوں کا درد سر نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے پہننا ہے جو ان کو اچھا لگتا ہے۔ جو وہ افورڈ کر سکتے ہیں، کیونکہ اسے بھی معلوم ہے کہ میری تصویریں بنیں گی فلم بنے گی سو وہ جو چاہے خود بنائیں، چاہے کرائے پر لے کر آئیں، چاہے کسی طرح بھی ارینج کریں یہ دوسری پارٹی کا درد سر کبھی نہیں ہونا چاہیے اگر آپ نے جھگڑوں سے بچنا ہے تو آپ کو اپنے رواج بدلنے ہوں گے اگے بڑھیے اور اپنے فضول رواجوں سے جان چھڑائیے  ۔
                                                      ##########۔ 

بدھ، 27 دسمبر، 2023

ممتاز ملک کی جانب سےخراج عقیدت ۔

یوسف ندیم

حلیم و نرم مزاج تھے یوسف ندیم
ادب کے سر کا تاج تھے یوسف ندیم
جو کل ملے تھے ان سے وہ بتاتے ہیں 
ویسے کے ویسے آج تھے یوسف ندیم
ممتاز کی رب سے دعا بخش دینا انکو تو
انسانیت کے نام پر خراج تھے یوسف ندیم

منگل، 26 دسمبر، 2023

نیا سال۔ نظم۔ اردو شاعری۔ جا میں نے تجھے آزاد کیا



جاتے جاتے


دسمبر جاتے جاتے
 اداسی دے رہا ہے 
 وہ یہ بتلا رہا ہے
 کہ سال اک جا رہا ہے
مگر  ممتاز سن لو
 کہ وہ سمجھا رہا ہے 
نیا لیکر کیلنڈر 
نیا سال آرہا ہے
      (ممتازملک۔پیرس)

ہفتہ، 2 دسمبر، 2023

، خوش کیسے رہیں۔ کوٹیشنز چھوٹی چھوٹی باتیں

آپ جانتے ہیں آپ خوش کب رہتے ہیں ؟
جب آپ کے پاس بہت سے پیسے ہوتے ہیں؟ نہیں..
 جب آپ کے پاس بہت سے دوست ہوتے ہیں؟ نہیں..
 جب آپ کے پاس بہت ہی جائیداد ہوتی ہے؟ نہیں..
 جب آپ کی بہت سی بیویاں ہوتی ہیں؟ نہیں..
 جب آپ کے بہت سے بچے ہوتے ہیں, آپ کے بہت سے بیٹے ہوتے ہیں؟ نہیں..
 جب آپکا بہت بڑا ایک گھر یا بہت سے گھر ہوتے ہیں؟ نہیں..🤔 آپ خوش تب رہتے ہیں،
 جب آپ خوش رہنا چاہتے ہیں پھر چاہے آپ چھوٹی سی جھونپڑی میں، ریڑھی لگانے والے ہی کیوں نہ ہوں، جھاڑو لگانے والے ہی کیوں نہ ہوں، چھلیاں بیچنے والے ہی کیوں نہ ہوں، کرائے کے گھر میں ہی کیوں نہ رہتے ہوں،
 آپ خوش رہتے ہیں کیونکہ آپ خوش رہنا چاہتے ہیں اس لیئے آپ چھوٹی چھوٹی باتوں میں سے خوش رہنے کے بہانے ڈھونڈ لیتے ہیں۔
   (چھوٹی چھوٹی باتیں)
        (ممتازملک ۔پیرس)
                 ۔۔۔۔۔۔


جمعرات، 23 نومبر، 2023

نظر بد ۔ اردو شاعری۔ جا میں نے تجھے آزاد کیا

نظر بد
کلام:
   (ممتازملک ۔پیرس)

خدایا ان پر بھی رحم فرما
جو نظر بد کا شکار ہو کر
تمام خوشیاں گنوا چکے ہیں
نگاہ حاسد کی مار ہو کر 

کہ نظر بد وہ بلا ہے جو کہ
لیجائے بندے کو قبر تک اور
ہیں اونٹ ہوتے کباب اس سے
بخیل نیت ہیں  دل کے یہ چور

خدا بچائے تمام لوگوں کو 
نظر بد کی تباہیوں سے
اسی کی لگتی ہے جسکا دل ہو
بھرا ہوا بس سیاہیوں سے

کہیں پہ مرچیں سلگ رہی ہیں
کہیں پہ صدقے دیئے گئے ہیں
معوذالتین اک علاج ربی 
ہے ہولناکی نظر بشر کی 

ہیں کامیابی سے جلنے والے
ترقیوں پر اچھلنے والے
ہے شوق ممتاز ہونے کا پر
بجائے محنت مچلنے والے

خدایا ان پر بھی رحم فرما
خدا ان پر بھی رحم فرما
   ۔۔۔۔۔

پیر، 20 نومبر، 2023

جشن ممتازملک رپورٹ ۔ حصہ دوم


موضوع :مختصر افسانہ حیات

بعنوان : "  مشرق کی بیٹی  "                
راولپنڈی کے شہر  کے ایک متومل و قدامت پسند  گھرانے  پیدا ہونے والی انتہائی شوخ  و چنچل لڑکی جس نے  گورنمنٹ گرلز ہائی سکول سے سیکینڈری کی  تعلیم مکمل کی اور اس کے بعد اس دور میں جہاں  ہزاروں لڑکیوں کی طرح  بیٹوں کو بیٹیوں پر ہمیشہ  فوقیت دی جاتی تھی ۔۔۔۔اور بیٹیوں کے تمام جائز حقوق بھی صلب کر دیے جاتے تھے ۔۔۔ وہی حال اس نازک اندام  دوشیزہ کا بھی ہوا ۔۔۔
معاشرے کی روائیتی انداز کو اپناتے ہوئے ماں باپ نے کالج میں داخلہ لینے سے منع کر دیا اور  گھر بٹھا دیا اور ساتھ یہ تنبیہ کی کہ  گھریلو کام کاج میں ماں کا ہاتھ بٹائے  کیونکہ  زندگی میں ہر لڑکی کو فقط امور خانہ داری میں  ہی ماہر ہونا  لازمی ہے ۔۔  کیونکہ ۔۔۔یہی کامیاب زندگی گزارنے کے  سنہری اصول ہیں  ۔۔۔
اس لڑکی نے ماں باپ کے حکم کو سر آنکھوں ہر رکھتے ہوئے اور  روایات کا بھرم نبھاتے ہوئے پرائیوٹ ہی اپنی باقی  تعلیم مکمل  کی  ۔۔  اور ۔ساتھ ساتھ
  گھر کے نزدیک  خواتین کے مستند  پارلر سے سے حسن و زیبائش  کے ہنر میں بھی باقاعدہ  تربیت  و سند حاصل کی 
ابھی مستقبل میں کچھ کرنے کے خوابوں کو آنکھوں میں سجائے اپنی دنیا میں مگن تھی کہ۔۔۔ایک اور پہاڑ سر پر ٹوٹا ۔۔۔۔ اسے بنا اس کی مرضی جانے شادی کے بندھن میں باندھنے پر زور  دیا گیا ۔۔۔اور جیسا کہ عام طور پر ان موقعوں پر  والدین پیٹیوں کو اپنی پرورش اور اپنی عزت کا واسطہ دے کر انھیں  کچھ کہنے سے پہلے خاموش کرا دیتے  ہیں۔۔۔ اور اگر  کوئی لڑکی  پس و پیش کرے  یا اپنے حق کے لیے کچھ کہنے کی کوشش بھی کرے تو اردگرد کے لوگ  اور قدامت پسند معاشرہ اس کی  بھر پور مخالفت کرتے ہیں ۔۔۔اور  ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکیاں دے کر اس  کی فریاد کو ان سنا کردیتے ہیں ۔۔۔ ۔ 
 سوچنے کی بات ہے کہ ۔۔۔۔ایک لڑکی کے لیے اس کے ماں باپ کا گھر ہی تو اس کے لیے ایک محفوظ قلعہ ہوتا ہے اور جب اس قلعہ میں ہی اسے بندی بنا دیا جائے تو وہ کےکرے ۔۔۔کہاں جائے ۔۔۔
۔۔کس سے فریاد کرے ۔۔۔  کیونکہ روایات اور رسومات  پر احتجاج کرنے پر  ۔۔۔۔عورت کے  قانونی اور شرعی کو کی رد کرنے والا زمانہ  ۔۔۔اسے نافرمان ،نا شکری  اور بگڑی اولاد ۔۔۔۔ کے طعنے دیتا ہے۔۔۔۔۔  
۔۔۔ ایک انکار اور نفرتوں اور طعنوں کی بوچھار۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔پھر رویوں میں سرد مہری کا ماحول ۔۔۔۔ گزرتے وقت نے جہاں اتنے گھاؤ لگائے وہاں زندگی نے ایک نیا موڑ لیا ۔۔۔۔اور یہ اپنے حق کو منوانے کی ضد پر اڑی لڑکی   شادی کے بندھن میں بندھی۔۔۔۔  اس  لڑکی نے ازدواجی زندگی کی ہر خوشی اپنے ہمسفر کو دی  دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ۔۔۔اب ان کی پرورش ہی اس کی زمہ داری تھی ۔۔۔اس نے پوری جانفشانی سے ماں باپ کے  گھٹے ماحول سے نکل کر جیون ساتھی کی توجہ اور پیار نے اسے جینے کا حوصلہ دیا  ۔۔۔اور  ۔۔۔قدم قدم پر اس کا ساتھ نبھایا  ۔۔۔ ۔۔گو کہ اس کا دل ماضی کی یادوں سے  چھلنی تھا ۔۔۔۔مگر دھیرے دھیرے یہ زخم مندمل ہونے لگے ۔۔۔ 
۔۔۔وہ  اپنے مقدر کے لکھے کو نصیب جان کر  جیون کی بہتی دھارا میں اپنی زندگی کی ڈولتی کشتی پر سوار  پر ایک  پر سکون ساحل کی تلاش میں  آگے بڑھتی  رہی ۔۔۔۔  بابل کا آنگن چھوٹا ۔۔۔۔ پھر گلی چوبارہ چھوٹا ۔۔اور پھر دیس سے پردیس سدھار گئی۔۔۔ 
مغربی طرز کا نیا ملک ۔۔۔ نئے لوگ ۔۔۔ اطراف میں پھیلی زندگی نے ۔۔۔ اس کے اندر  دوبارہ جینے کا حوصلہ پیدا کیا 
۔۔۔بچے اب دھیرے دھیرے بڑے ہو رہے تھے ۔۔۔ گھر کے کام کاج کے بعد اس کے پاس جو بھی وقت تھا اس نے خود پر توجہ دی اور  اپنی شخصیت کو پوری تندہی و  محنت سے سنوارا ۔۔۔۔  علاقے میں ہونے والی دینی و  دنیاوی تمام سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔۔۔ گو کہ یہ مغربی ملک تھا مگر یہاں آکر اسے پتہ چلا کہ عورت  کے حقوق کی وہاں کتنی عزت کی جاتی ہے  اور ۔۔۔۔۔  اپنے دیس میں  عورت کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے ۔۔۔  ابھی تک کئی  پڑھے لکھے قدامت پسند گھرانے  تک بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں۔۔۔ ۔
پردیس آکر اس لڑکی نے جو اب ایک  ماں اور بیوی کے ساتھ ساتھ  ایک زمہ دار فلاحی ادارے کی بانی و سرپرست بھی بنی ۔ 
 دور بدلا 
 ۔وقت و حالات بدلے ۔۔۔اور ۔۔۔۔ دنیامیں اب الیکٹرانک میڈیا کی آمد پر لوگ ایک دوسرے سے رابطے میں آگئے ۔۔۔  اور پھر دنیا گویا سکڑ کر گویا  ہتھیلی میں سما گئی ۔۔۔ ہم خیال اور ہم مزاج لوگوں کے علمی و ادبی گروپ بنتے گئے ۔۔۔

2010 ء سے اس خوصورت باوقار  خاتون خانہ نے  باقاعدہ شاعری اور لکھانے لکھانے کا آغاز کیا  اور اپنی پہلی شعری تخلیق بنام "مدت ہوئی عورت ہوئے" سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا ۔ نہ صرف  شاعری میں فن کے عروج کو چھوا بلکہ اپنے قلم کو تلوار بنا کر افسانے، کالم اور معاشرتی اقدار پر  کہانیاں لکھنا شروع کیں۔۔۔ وقت پر لگا کر اڑنے لگا۔۔۔ اپنی علمی و ادبی صلاحیتوں کی بنیاد پر  اب وہ ٹی وی چینلز پر اینکر اور کئی زمینی اور ان لائن پروگراموں اور ادبی محفل کی نظامت میں شب و روز مشغول رہنے لگی ۔۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے اپنا بلاگ بھی بنایا جہاں  سماجی اور اخلاقی موضوعات پر آسان ترین زبان میں ایک عام انداز فکر میں اصلاح معاشرہ کے نقطہء نظر لیکچر بھی دیے 
ان تمام سماجی،فلاحی اور ادبی سر گرمیوں کے ساتھ ساتھ اپنی گھریلو  زمہ داریوں کو بھی بخوبی نبھا رہی ہے
 
 جی یہ تعارف  ہے آج کی شاندار شخصیت جن کے اعتراف کمال فن کے کیے آج ہم سب جشن منا رہے ہیں 
محترمہ ممتاز ملک صاحبہ۔۔۔ تہہ دل سے خراج تحسین پیش کرتی ہوں 
۔۔۔ محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کی زندگی کی کہانی ان دیس پردیس میں بسی ان  سینکڑوں لڑکیوں کی کہانی جیسی ہے جو معاشرے میں محض عورت ہونے کی وجہ سے ہر شعبے میں  پیچھے دھکیل دیا جاتی رہیں ۔۔۔
  مگر کہتے ہیں نا کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا ۔۔۔۔ اور ہر انسان کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی آزادی حاصل ہے ۔۔۔۔
۔۔  محترمہ ممتاز ملک صاحبہ  نے بھی  حالات سے گھبرا کر ہار نہیں مانی بلکہ ۔۔۔ "دبنگ"ہو کر ہر مشکل اور  طوفان کا مقابلہ کیا ۔۔۔
اپنے غصہ اور تکلیفوں اور بیتے ماضی  کو اپنی شاعری اور اپنے تحریروں میں اتار دیا۔۔۔۔  
۔۔ گو کے ۔۔۔۔اب  آزمائشوں کا  وقت گزر گیا مگر اپنی بیتی زندگی کے تلخ  تجربات کو یاد کر کے آج بھی انکا لہجہ غمگین اور آنکھوں میں نمی آجاتی ہے۔۔
صنف نازک  کا یہی تو کمال ہے کہ اپنے دکھوں کو پال کر جیتی ہے۔۔ 
مگر اپنے عزم و حوصلے کو آگ کی تپش ہر بھی پگھلنے نہیں دیتی ۔۔۔



درج ذیل نظم کو پڑھ کر  محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کی شخصیت پر یہ افسانہ "مشرق کی بیٹی " قلمبند کیا 
(عذرا علیم )

"ہائے"

میں تو پیدا ہوتے ہی
اپنے ہی ماں باپ کے ہاتھوں
دنوں میں بوڑھی کر دی گئی

بچپن کے سب کھیل کھلونے
بے فکری اور چنچل پن
میرا کوئی حق نہیں کہہ کر چھین لی گئی

پڑھنا مجھکو اچھا لگتا تھا تو میری ہر کتاب کبھی جلائی اور کبھی وہ پھاڑی گئی

رنگیں آنچل فیشن شوخی
چوڑیاں میک اپ 
پسند تھیں  لیکن مجھ پر حرام وہ کر دی گئی

اپنی مرضی سے جیون کا ساتھی چننا حق تھا میرا
وہ بھی چاہت مجھ سے چھین کے برتی گئی

جو ترکے میں حق تھا اس پر ماں جائے بھی نوچتے اور کھسوٹتے کتے
 ہر دم چارو چاری گئی

کسکو یہ ممتاز سنائے
ہائے میں کیسے روندی گئی
ہائے میں کیسے ماری گئی 
               ۔۔۔۔۔۔
تاج محل کو پیار نشانی کہنے والو 
عورت کو ہر سال سزا دی چاہت کی 

کیسا ہے یہ عشق کہ ساری عمر اس نے 
بچے جن جن قیمت دی ہے راحت کی 

مجھکو اپنی انسانی آزادی پیاری
نہیں تمنا مر کر ایک عمارت کی

 کیسے لوگ ہیں قبروں کو 
چاہت کی نشانی کہتے ہیں
اک عورت درد زہ میں مر گئی 
جسے پیار کہانی کہتے ہیں 

کیا اس پر بیتی چاہت میں 
کوئی نہ کبھی بتلاتے ہیں 

چاہت کے لاشے تاج محل میں کبھی گھمائے جاتے ہیں 

دولت کی نمائش کو مردے
 اندر دفنائے جاتے ہیں 
ممتاز کے غم کو دفنا کر 
پھر جشن منائے جاتے ہیں 

 قلم
ہمیں عزیز تھی حرمت قلم کی جس دم تک
تمام قوموں میں سرتاج سا مقام رہا

زمانے کے لیئے ہوتے ہیں راہنما وہ ہی 
قلم کا ہاتھ میں جن کے سدا قیام رہا

فروزاں  علم و عمل  کے جہاں چراغ رہے
زمانے میں انہیں قوموں کا احترام رہا 

جنہوں نے جان لٹا دی قلم کی حرمت پر
جہان لفظ میں انکے لیئے سلام رہا

سہل نہیں تھی وفاداری سمجھ کر ممتاز 
لبوں پہ جان نکلنے تک ابتسام رہا
---------------------------

ممتاز ملک صاحبہ ان چند خواتین میں سے ہیں جو زندگی کے مشکل  حالات میں بھی حوصلہ سے آگے بڑھیں اور اپنے مقصد کو پانے میں کامیاب ہوئیں    ۔

اب تک آپکی  7 کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں .
1۔مدت ہوئی عورت ہوئے(-شعری مجموعہ  2011ء)
2- میرے دل کا قلندر بولے 
 (  شعری مجموعہ    2014ء)
3-  سچ تو یہ ہے 
 (  کالمز کا مجموعہ 2016ء )
4- اے شہہ محترم (صلی اللہ علیہ وسلم)  نعتیہ مجموعہ کلام (2019ء)
5-  "سراب دنیا " (اردو شعری مجموعہ کلام (2020ء).
6. "او جھلیا "۔ (پنجابی شعری مجموعہ کلام ۔ (2022ء)
7- "لوح غیر محفوظ" ۔مضامین کا  مجموعہ (2023ء)
زیر طبع کتب: 8
 الحمداللہ  اس وقت چالیس سے زیادہ ویب نیوز  سائیٹس پر آپکے  کالمز شائع ہو رہے ہیں جن میں 
جنگ اوورسیز ، ڈیلی پکار ، دی جائزہ ، آذاد دنیا،  عالمی اخبار ، اور بہت سے دوسرے شامل ہیں ۔  
💐 اعزازات ۔ 
 ممتاز ملک صاحبہ کی  کتاب سراب دنیا پر ایک ایم فل کا مقالہ ۔ طالب علم نوید عمر (سیشن 2018ء تا 2020ء) صوابی یونیورسٹی پاکستان سے لکھ چکے ہیں ۔ 
1 مقالہ بی ایس کے طالب علم مبین  نے بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے لکھا ۔سراب دنیا پر
1۔ دھن چوراسی ایوارڈ 
 چکوال پریس کلب 2015ء/
2۔حرا فاونڈیشن شیلڈ 2017ء/
3۔کاروان حوا اعزازی شیلڈ 2019ء/
4۔ دیار خان فاونڈیشن شیلڈ 2019ء/
 5۔عاشق رندھاوی ایوارڈ 2020ء/
6۔ الفانوس ایوارڈ 2022ء/ گوجرانوالہ 
  اور بہت سے دیگر اسناد۔۔۔۔
 ۔ 
  انٹرنیٹ پر   محترمہ ممتاز ملک کا بلاگ جو آپ کے تمام شائع مواد مفت پیش کرتا ہے .
MumtazMalikPairs.BlogSpot.com
آپکی  ویب سائیٹ 
MumtazMalikParis.com
              ●●●
اردو کی سب سے بڑی ویب سائیٹ "ریختہ "اور "اردو پوائنٹ" پر بھی ان کا  کلام موجود ہے ۔  فیس بک ۔ ٹک ٹاک ۔ یو ٹیوب ، گوگل ، انسٹاگرام ، ٹیوٹر پر انھیں  بآسانی  ڈھونڈا جا سکتا ہے ۔

آپکے کلام سے  منتخب اشعار :
 ​​ 
سامان قہر رب ہے بپا جو نہ پوچھئے
    رشتے گزر رہے یوں دامن درید کر 
رفتار سست ہے تیری گفتار تیز ہے
دعووں میں کچھ عمل کااضافہ مذید کر
اپنے پروں پہ کر کے بھروسہ تو دیکھئیے 
اونچی اڑان کے لئے محنت شدید کر
         ____________ 

شیر و  مکھن میں نہ تھا حصہ کوئی 
میری خاطر  ماں نے لیکن چھاج رکھ لی

ہے محض ممتاز دھوکہ سوچ کا تو 
اک غلامی تھی بنام راج رکھ لی
________________

اسی دعا کے ساتھ کہ اللہ کرے ہو زور قلم اور زیادہ ۔۔۔

عذرا علیم 
مسقط عمان

شاعرہ،ادیبہ،۔نظامت کار ،کالم نویس،افسانہ /افسانچہ نویس،تبصرہ /تجزیہ نگار 
  نائب مدیرہ
(مجلہ "افسانہ نما" )
                ۔۔۔۔۔۔



         

ہفتہ، 18 نومبر، 2023

عورت کیخلاف جرائم۔ کالم

عورت کے خلاف جرائم
تحریر:
(ممتازملک ۔پیرس)

آئے روز ہمارے اردگرد کہیں عورت گھریلو تشدد کا شکار ہے کہیں گولی مار کر اسے بدکردار ثابت کیا جاتا ہے، کہیں تیزاب گردی ہے اور کہیں اس کا اغوا اور آبرو ریزی، کہیں کاری تو کہیں (توہین قرآن کی سب سے بڑی اعلانیہ و فخریہ رسم) قرآن سے شادی،  آگ لگا کر مار ڈالنا،  کی خبریں اس تواتر کیساتھ سامنے آتی ہیں کہ سننے والے بھی اسے سن سن کر بے حسی کی اس منزل تک پہنچ چکے ہیں کہ انہیں اب یہ جرائم زبانی جمع خرچ سے زیادہ نہ تو جرائم لگتے ہیں اور نہ ہی قابل سزا۔
اور تو اور ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے اور بااثر اور بارسوخ کہلانے والے افراد بھی زیادہ تر ان جرائم میں ملوث ہیں ۔  اکثر ایسے واقعات میں ان کی رپورٹنگ اور ویڈیوز کے نیچے دی گئی آراء اور کومنٹس پڑھیں تو آپ پر یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ عورت ہی بری تھی کیا ہوا اگر اسکی شادی اسکی مرضی کے خلاف اسکا باپ  کروانے جا رہا تھا ، پھر کیا ہوا اگر اسکا بھائی اس کی جائیداد پر حق جما رہا تھا اسے برداشت کرنا اور اسے معاف کر دینا چاہیئے تھا۔ یہ کیوں اپنے حق کا شور مچاتے کھڑی ہو گئی، بھائی کی غیرت کو کیوں للکارا ۔ پھر کیا ہوا  اگر اس کا شوہر اسے پیٹتا تھا یہ کیوں کسی کو بتانے گئی،  پھر کیا ہوا کہ اس کے بیٹے نے اسے مار ڈالا اسے اس بیٹے کی غیرت اور مرضی کے مطابق چلنا چاہیئے تھا ۔ 
ان سب سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے کا بس مرد ہی غیرتمند ہے، باکردار ہے اور عقلمند ہے ۔ جبکہ عورت ؟؟؟ اور اسی بے غیرت ، بدکردار اور بے عقل عورت سے وہ خود بھی پیدا ہوا ہے اور اپنے جیسے پیدا بھی کر رہا ہے۔۔۔ 
ہمارے معاشرے کی عورت کو سب سے زیادہ خطرہ ان مردوں سے ہوتا ہے، جن کے رشتوں سے انہوں نے انکار کیا ہو یا جن سے علیحدگی خلع یا طلاق کی شکل میں اختیار کی ہو ۔
یہ عورتیں ساری عمر ان ناکام مردوں کے نشانے پر رہتی ہیں ۔ان کا خیال آتے ہی انہیں اپنی نام نہاد مردانگی پامال ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔ جب تک وہ ان کے رشتے میں رہیں انہوں نے انہیں اذیتناک زندگی دی اور جب وہ ان سے دامن چھڑا کر انہیں لات مار کر انکی زندگی سے نکل گئیں تو انکے لیئے ایک چیلنج بن گئیں ۔ کہ اس عورت کو مرتے دم تک چین سے نہیں رہنے دونگا ۔ 
یہ انکی کوئی محبت نہیں ہوتی کہ وہ انکے لیئے مرے جا رہے ہوتے ہیں بلکہ یہ انکی وہ شرمناک سچائی ہوتی ہے جس کا کھلنا انہیں برداشت نہیں ہوتا کہ وہ نہ تو اچھا انسان ہے اور نہ ہی اچھا شوہر۔ یہ داغ دو طریقے سے دھویا جا سکتا ہے یا تو اس خاتون کا صفایا کر دو جو کہ انکی عزیمت کے لیئے تمام عمر کوشاں رہتی ہے اور دوسرا طریقہ وہ مثبت انداز فکر ہے جس کے تحت نہ صرف وہ خود زندگی کے اس موڑ سے آگے بڑھ جاتے ہیں بلکہ کسی اور کوشریک حیات بنا کر ایسی مثالی زندگی گزارتے ہیں کہ وہ چھوڑ جانے والی  کبھی سچی بھی تھی تو ساری دنیا کے سامنے جھوٹی ثابت ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ طرز عمل اپنانے والے مردوں کی تعداد ہمارے معاشرے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ اس کی ایک بڑی وجہ وہ ماحول اور غلط تربیت ہے جس کے تحت مرد کے احساسات کو "مرد کو درد نہیں ہوتا، اور مرد روتا نہیں ہے، قسم کے  لایعنی تصورات کے نیچے دبا دیا جاتا ہے۔ جہاں اس کے لیئے اس درد کو بیان کرنے کا آسان طریقہ ایک ہی مل پاتا ہے وہ ہے کسی عورت کو اس کی زندگی میں ایک "پنچنگ بیگ" کے طور پر شامل کر دیا جائے ۔ وہ چیخ جو وہ کہیں نہیں مار سکتا اس عورت کو مغلظات کے طور پر اس پر دے مارے گا ۔ اور وہ مکا جو وہ اپنے کسی دشمن پر, رشتے پر نہیں برسا پاتا وہ پنچنگ بیگ بنام بیوی پر آ کر برساتا ہے ۔ اور اگر یہی مکے برسائے جانیوالا تھیلہ (پنچنگ بیگ) ہی آگے سے اپنے زندہ ہونے اور درد ہونے کی صدا بلند کرنے لگے تو وہ اسے کیونکر برداشت کر پائے گا ۔ پڑھائی میں ہی نہیں , سمجھ بوجھ میں بھی مردوں کی اکثریت اپنی بیوی سے کم ہوتی ہے، جس کے سبب وہ اسے اپنی غیرت پر تازیانہ شمار کرتا ہے۔ بدلے میں وہ اپنی قابلیت بڑہانے کے بجائے اپنی طاقت کو اپنی بیوی کی قابلیت تباہ کرنے پر مرکوز کر دیتا ہے ۔ اسی لیئے معاشرے پر نگاہ دوڑائیں تو آپ جان جائیں گے کہ اپنی گھر کی، اپنے خاندان کی سب سے لائق فائق، سمجھدار، ذہین ترین لڑکی شادی کے رشتے میں بندھتے ہی کیوں اور کیسے چند برسوں میں ہی نکمی، بیوقوف ، پاگل اور ذہنی مریضہ قرار دے دی جاتی ہے کیونکہ وہ ایسی تھی نہیں بلکہ  بنا دی جاتی ہے ۔ اور اکثر اسی  "ذہنی مریضہ" بنائی گئی لڑکی سے وہ خودساختہ قابل ترین مرد اپنے جیسے قابل ترین بچے پیدا کرنے کی مہم پر بھی روانہ رہتا ہے ۔ گویا چنے کے جھاڑ سے آم اگانا چاہتا ہے۔  عورت کو مرد کے اندر کے اس شیطان سے بچانا ہی معاشرے کو ایک صحت مند ماحول اور نسل دے سکتا ہے ۔ یہ سب کچھ کرنا یا ہوتا دیکھ کر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنا اور پھر اپنی بیٹیوں کے لیئے نیک نصیب کی دعا کرنا خدا کو دھوکا دینا ہے یا خود اپنے آپ کو ؟
                 ---------

جمعرات، 16 نومبر، 2023

جشن ممتازملک ۔ رپورٹ ۔حصہ اول

15 اکتوبر 2023ء

آج میری زندگی میں میرے نام کا پہلا جشن منعقد کیا گیا ۔ جس کا سہرا گلوبل رائیٹرز ایسوسی ایشن اٹلی اور بزم اصحاب قلم بدایوں بھارت کے سر رہا ۔ جس کی سرپرست اعلی محترمہ زیب النساء زیبی صاحبہ ، منتظم اعلی جناب چوہدری محمد نواز گلیانہ صاحب اور ڈاکٹر کمال اختر صاحب ،جناب ہدایت بدایونی 
آج محفل سجی ممتاز کی
آؤ باتیں کریں ان کے اعزاز کی
اپنے فن میں یہ ممتاز ہیں، کیا کہیں
ان کے اعلی نظامت کے انداز کی
دے رہے ہیں ہدایت انہں یہ دعا
دنیا چرچہ کرے ان کے پرواز کی
ہدایت بدایونی
               -------

[15/11, 20:15] +92 301 8202113: جشنِ ممتاز ملک۔۔۔  15/11/2023
‌خواتین و حضرات گلوبل ولیج کے تیزی سے بدلتے اختراعی منظر نامے میں اختصار  ہی اظہار کی کنجی ہے۔
ممتاز ملک کیلئے ایک سطر لکھنی ہو تو یہ لکھا جا سکتا ہے۔۔۔۔
" ممتاز ملک ایک ہمہ جہتی شخصیت کی حامل انتہائی متحرک با اعتماد محبّ وطن قلم کار اور شاعرہ ہیں۔"
ممتاز کے منتخہ کلام سے۔۔۔
ہم تو ہیں خلوص کے شیدائی
یہ جذبوں کا بیوپار نہ کر
صدیوں میں بنائی ہے عزّت
لمحوں میں اسے بیکار نہ کر۔۔۔۔۔۔۔

اپنےپروں پہ کرکے بھروسہ تو دیکھیے
اونچی اڑان کے لیے محنت شدید کر
دنیا بدل رہی ہے میرے اے دروغ گو
جدٌت پسند بن تو بہانے جدید کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلم کی حرمت پر کہا!
فروزاں علم و عمل کے جہاں چراغ رہے
زمانے میں انھیں قوموں کا احترام رہا۔۔۔

مندرجہ بالا اشعار شاعرہ کے فکری آہنگ اور ادراک کی علامت ہیں۔
دریا کو کوزے میں بند کرنے کی حکمتِ عملی کے تناظر میں ممتاز کی شاعری پر غیر روایتی تبصرہ درجِ ذیل ہے۔

ممتاز کا اسلوب سادہ کاری پر محیط ہے۔ مضامین کو سہل اور اثر انگیز  انداز میں باندھنے کی کاوش گزار ہیں۔۔۔۔ اور کسی حد تک قاری تک ان کی کہی بات کا ابلاغ موثر طریقے پر ہوتا نظر آتا ہے۔ 
شعری نزاکتوں اور منجملہ محاسن کی بات کی جائے۔۔۔تو بات دور تلک جاتی نظر آتی ہے۔ عروض کے معاملات ماہر عروض جانیں۔ اگر شاعر مضامینِ نو کا ابلاغ موثر طریقے سے کرنے میں کامیاب ہو جاۓ تو قاری کی توجہ حاصل کر لیتا ہے ۔۔۔۔۔اور عمر چاہیے ریاضت کو زیست کم ہے۔۔۔۔۔سخن کی شہسواری کے لیئے۔
ممتاز کے ہاں برجستگی اس اداۓ وقار کے ساتھ ہے کہ وہ قاری کو اپنی سحر میں لینے کا ہنر جانتیں ہیں۔ اس جانکاری میں ان کے ذاتی زندگی کے واقعات، مشاہدات اور سماجی تجربات نے عمل انگیز  کا کام کیا ہے۔ کہ دانہ خاک میں مل کر گلِ گلزار ہوتا ہے۔ ان کا اسلوب اور شعری سفر ارتقائی منازل میں ہے ۔۔۔ تاہم یہ اپنے اندازِ بیان اور فطری تکلم سے شعری لطافتوں کو اس طرح رقم کرتی دکھائی دیتیں ہیں کہ شعریت میں ارتقائی نوید  ناقد بھی محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
میں اس موقعے پر انھیں مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اپنے دعائیہ اشعار اس جشن کی مناسبت سے ان کے لیئے  موزوں کرتا ہوں۔

کبھی کرن کبھی تم آفتاب بن جانا
شبابِ گُل کبھی دلکش رباب بن جانا
سجانا گلشنِ ہستی کو غنچہ و گل سے
مہکنا ایسے کہ تازہ گلاب بن جانا
صمیمِ قلب سے الفت پیام لکھ لکھ کر
جہانِ تازہ میں تم ماہتاب بن جانا
ورق ورق جہان اخلاص ہو محبت ہو
تپاکِ جاں سے تم ایسی کتاب بن جانا
کبھی کسی کا دُکھانا نہ دل خیال رہے
خلوص و پیار میں تم بے حساب بن جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
شجاع الزّ ماں خان شآد
سعودی عرب ۔۔۔۔ ریاض
[15/11, 22:58] +1 (773) 505-4900: قطعہ تہنیئت
ناظمہ بے حد ہیں اچھی باخدا
شاعری میں انکا ہے اونچا مقام
ہے درخشاں انکے دم سے انجمن 
رکھئے ممتاز ادب ہی انکا نام
رشید شیخ شکاگو
               
                -------
میں اس مشاعرے میں شرکت نہیں کر سکی کہیں مصروف تھی لیکن یہ قطعہ آپ کے لئے ہے
مشہور ہیں مقبول ہیں ممتاز آپ ہیں
الفاظ ہیں شاعر کے تو آواز آپ ہیں 
چہرے پہ تبسّم ہے نگاہوں میں تکلم
لہجے میں کھنکتا ہوا اک ساز آپ ہیں
ر(خسانہ راحت) کراچی۔
 نعت گو نعت خواں ۔ شاعرہ
                -------
بزم اصحاب قلم بدایوں۔انڈیا
گلوبل رایڑز ایسوسی ایشن ۔اٹلی
کے زیر اہتمام ۔
بتاریخ 14 نومبر 2023

. . . . . . . .جشن۔ممتاز ملک ۔۔۔۔۔ 

فکرو فن کا گلستاں ممتاز ہے
شاعری کی روح و جاں ممتاز ہے۔

جس نے بخشسی ہے غزل کو زندگی
اب ادب میں نغمہ خواں ممتاز ہے 

شہپر  پرواز شل ہو جائے گا 
کوئی کیا پہنچے جہاں ممتاز ہے 

ہر ورق پر تیری فنکاری کے پھول 
داستاں در داستاں ممتاز ہے 

تو ہے تہذیب و ادب کی زندگی 
تو ہی میر کارواں ممتاز ہے 

کاش اس کی خیریت بہتر رہے 
شاعروں کے درمیاں ممتاز ہے 

وہ فن پاروں کا سرمایہ عظیم 
تجھ میں جو زور بیاں ممتاز ہے

ریختہ اردو پواینٹ میں رضی 
دیکھتے ہیں ضوفشاں ممتاز ہے

ڈاکٹر رضی امروہوی ۔انڈیا
              ۔۔۔۔۔۔
شعر کے کہنے میں ممتاز ہیں ممتاز ملک
آج کی صاحب اعزاز ہیں ممتاز ملک
شکر کرتی رہیں رب کا کہ ہے رحمت اسکی
رب کی بخشی ہوئی آواز ہیں ممتاز ملک
جشن ان کا جو مناتے ہیں حقیقت ہے یہی
سخن قلب کی پرواز ہیں ممتاز ملک
(محسن علوی ۔امریکہ)
              -------

جمعہ، 10 نومبر، 2023

& بلا ہے تنہائی ۔ افسانہ ۔ قطرہ قطرہ زندگی


بلا ہے تنہائی 

تنہائی اسے کاٹنے لگی تھی اتنا بڑا بنگلہ جو کبھی آوازوں سے گونجا کرتا تھا۔ اب سائیں سائیں کرنے لگا تھا ۔اس نے سوچا اس علاقے میں اور بھی تو ایسے گھر ہوں گے جہاں ان کے ساتھ دنیا اور اولادیں الگ گھر بسا چکی ہونگی اور وہ بھی ان کی طرح دیواروں سے باتیں کرنے پر مجبور ہونگے ۔
 کیوں نہ اس بنگلے میں کچھ لوگوں کو آباد کر لیا جائے۔
 یہی سوچ کر اس نے پہلے اپنی سہیلیوں سے رابطہ کیا ان میں سے بیوہ اور مطلقہ دوستوں کے ناموں کی فہرست بنائی۔ 
سب سے پہلے اس نے اپنی بچپن کی سہیلی نجمہ کو فون کیا۔
 اس کی خیر خیریت دریافت کی پوچھا سناؤ کیسی گزر رہی ہے۔
  اس نے بھی اپنے بچوں کی بے توجہی کی شکایت کی ، کہ سب اپنے اپنے گھروں کے ہو گئے کوئی اسے نہیں پوچھتا ، اکیلی اتنے بڑے گھر میں وہ گھبرا چکی ہے۔ 
غرض اس نے جس کو بھی فون کیا کوئی بہو سے خفا، کوئی بیٹے کی وجہ سے پریشان ، کوئی بیٹیوں کی وجہ سے ناراض اور کوئی آسودہ حال بھی تھی۔ تب بھی تنہائی کا شکار اور ڈپریشن کا سامنا کر رہی تھی۔
 کچھ کی مالی حالت بے حد خراب تھی۔
 کچھ کرائے کے گھروں میں رہ رہی تھیں ۔ 
اس نے سبھی سہیلیوں میں سے دو خاص مخیر سہیلیوں کو چنا اور انہیں دعوت دی کہ وہ آ کر کچھ روز اس کے ساتھ رہیں۔
 یہ سن کر دونوں سہلیاں نجمہ اور شاہین بے حد خوش ہوئی کہ بہت سالوں کے بعد انہیں ایک چھت تلے گپ شپ لگانے کا موقع ملے گا اور وہ کچھ دیر ایک دوسرے کا ساتھ انجوائے کریں گی۔
 ایک ہفتے میں اس نے اپنے گھر کا ایک کمرہ دو پلنگ لگا کر اور ضرورت کی کچھ چیزیں رکھ کر تیار کر لیا ۔
وہ چاہتی تھی کہ پہلے اس مہمانداری کے تجربے سے کچھ اندازہ لگائے کہ ایسا کرنا کیسا رہے گا۔
 اگر بہت سی سہیلیاں ایک ہی گھر کے نیچے ایک ہی گھر میں رہیں تو کیا حالات ہو سکتے ہیں ۔
ایک ہفتے بعد حسب وعدہ نجمہ اور شاہین دونوں کی آمد ہوئی ۔
 بچھڑی ہوئی سہیلیاں جو فون پر کبھی کبھار رابطے میں تھیں لیکن اتنے سال کے بعد اب ایک دوسرے کے سامنے تھیں۔
خوب گلے ملیں۔ خوب شکوے ہوئے شکایتیں ہوئیں اور پھر خوب گپ شپ ہوئی۔ بہت سی یادیں تازہ ہوئیں ساتھ مل کر کھانا کھایا گیا۔
 چائے پی ۔ عبادت کی اور پھر بڑے سے لان میں چہل قدمی کرتے ہوئے اپنے بچپن کو یاد کیا گیا ۔
اپنی جوانی کے قصے دہرائے گئے ۔
گویا عید کا سماں تھا ان سب کے لیئے۔
 دو تین روز کے بعد جب واپس جانے کا خیال آیا تو عائشہ بیگم نے نجمہ اور شاہین سے پوچھا 
یہ کہو میرے ساتھ گزارے ہوئے یہ دن کیسے رہے۔
 تو انہوں نے اس کا شکریہ ادا کیا کہ اس کی وجہ سے انہیں اتنا خوبصورت وقت گزارنے کا موقع ملا۔ پتہ نہیں اب ہم دوبارہ کب اکٹھے ہوں گے ۔
انہوں نے اداسی سے بھرپور لہجے سے کہا 
  یہ سن کر عائشہ بیگم نے کہا دیکھو تم دونوں کے شوہر تو ہیں نہیں،  جو تم پر اعتراض کریں یا روکیں گے۔ کہیں جانے یا رہنے سے۔
 بچے اپنے گھر والے ہیں تم دونوں اپنے گھروں میں میری طرح تنہائی کا شکار ہو۔
 اگر تم مناسب سمجھو تو کیوں نہ ہم اسی طرح ایک ہی گھر میں رہیں؟
 میرے شوہر کی پینشن میرے نام پر ہے۔
 بچے بھی جو بھیجتے ہیں اس میں میں تم لوگوں کی اتنی خدمت تو کر ہی سکتی ہوں کہ ہم اپنا کھانا پینا اور ادویات کے اخراجات  پورے کر سکیں اور بدلے میں ایک دوسرے کو اچھی کمپنی دے سکیں۔ 
یہ سن کر نجمہ اور شاہین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور بولیں
 کیا یہ ممکن ہے کہ ہم ایک ہی جگہ رہیں؟
 ہاں کیوں نہیں۔  ہم سب زندگی کی ذمہ داریوں سے آزاد ہو چکے ہیں۔ اپنے فرائض ادا کر چکے ہیں۔ اب ہمیں اپنی مرضی سے اپنے دوستوں کے ساتھ یا اپنے کچھ شوق پورے کرنے کے لیئے ایک ساتھ رہنا ہے تو اس میں کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟
 لیکن ہم تمہارے ساتھ فری میں نہیں رہیں گے ۔
کیونکہ ہم جانتے ہیں گھر کے افراد بڑھتے ہیں تو اخراجات بھی بڑھتے ہیں۔ ہمیں مالی طور پر تو کوئی تنگی نہیں لیکن اگر تم ہمیں اجازت دو کہ ہم اپنی طرف سے تمہارے ساتھ اخراجات میں حصہ ڈالیں تو ہمیں بھی بہت خوشی ہوگی کہ ہم تمہارے ساتھ ایک ہی گھر میں رہیں۔
 نجمہ اور شاہین دونوں کی رضامندی اس کے لیئے بہت حوصلہ افزا تھی۔ یوں ان تینوں نے صلاح کر کے اسی فہرست میں سے ایک دو سہیلیوں کو وہاں مدعو کیا اور پھر ایک ہفتے کے قیام کے بعد ان کی واپسی پر انہیں وہیں ٹھہرنے کا مشورہ بلکہ دعوت دی گئی۔
 کچھ سہیلیوں کے مالی حالات بھی اچھے نہیں تھے۔
 ان کے لیے تو گویا یہ موقع جہنم سے نکل کر جنت میں رہنے جیسا تھا۔
 یوں دو کنال کا یہ بنگلہ آباد ہوتے ہوتے چھ ماہ کے اندر ہی سہیلیوں کا ایک خوشگوار سا خوابوں کا گھر بن گیا۔
اس کی اور اسکے شوہر کی پنشن کی رقم اور بچے جو کچھ بھیجا کرتے تھے ، اتنا تھا، کہ وہ باآسانی اس گھر کے سارے خرچے نکال کر ایک باورچی، دو ملازمین، ایک ڈرائیور اور ایک چوکیدار کی تنخواہیں نکال سکتی تھیں ۔
اس کے بدلے میں اس گھر میں بچھڑی ہوئی سہیلیوں کے بڑہاپے اور تنہائی کو  قرار مل گیا تھا۔
  وہ سب صبح کی نماز سے لیکر ناشتہ کی میز تک ، دوپہر کے کھانے اور دن کی نمازوں ، سہہ پہر کی چائے رات کے کھانے میں ایک ساتھ ہوتیں ۔
  عشا کے بعد کچھ دیر ٹی وی پر خبریں اور کوئی پروگرام دیکھتیں۔
 قرآن پاک کی تلاوت کرتیں اور ہر کمرے میں لگے چار چار  سلیقے سے لگائے  پلنگوں پر تسبیح کرتے اطمینان سے سوجاتیں ۔ 
ہر روز گھر کے نزدیک والے پارک میں سبھی سہیلیاں اگے پیچھے نکلتیں۔ دو دو تین تین کے گروپ میں۔ 
 گھنٹہ دو گھنٹہ گپ شپ لگاتیں۔
 چہل قدمی کرتیں۔
 واپس آ کر سب اپنی مرضی سے اپنی پسند کا ناشتہ تیار کرتیں یا کوئی ایک دوست سب کی فرمائش پر ان کے لیئے کچھ نہ کچھ تیار کرتی۔
 یوں ہنستے مسکراتے ناشتے کی میز پر رونق رہتی۔
 اس کے بعد سب کمرے میں جا کر نہاتی دھوتیں۔
 کپڑے بدلتیں۔ ہلکا پھلکا سا میک اپ کرتیں اور سب نے سوچا
کافی دن ہو گئے گپ شپ رونق میلہ لگائے ہوئے کیوں نہ ہم سب رضا کارانہ طور پر جو بھی کچھ جانتے ہیں وہ کام سکھانے کے لیئے گھر کے ایک کمرے کو مخصوص کر دیں۔ مختص کر دیں۔
 ایک دوست جو بہت اچھی سلائی جانتی تھی۔ ایک بہت اچھی پینٹنگ جانتی تھی۔  ایک بہت اچھی اون کی بنائی جاتی تھی۔
 انہوں نے سوچا 
دن کے دو تین گھنٹے اگر ہم کچھ بچیوں کے لیے مفت میں کلاسز دے سکیں تو انہیں بھی ایک مفید مصروفیت میسر آ جائے گی اور کچھ بچیوں اور خواتین کو  برسر روزگار بھی کیا جا سکتا ہے ۔
دھیرے دھیرے ایک دوست نے اس میں بیوٹیشن اور بیکنگ کی کلاسز کا بھی اضافہ کر دیا ۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب خوشی خوشی اپنے شوق کے کاموں میں اتنی مصروف ہو گئیں کہ انہیں یاد ہی نہیں رہا کہ ان کے بچے کہاں ہیں یا وہ تنہا ہیں یا انہیں کسی کا انتظار ہے۔
 آنے والی بچیوں میں خود انہیں بچوں کی سی محبت بھی ملنے لگی۔
 انہوں نے سیکھنے والی لڑکیوں کی تعداد تھوڑی رکھی لیکن سب کو پوری توجہ ملتی۔
 یوں باری باری کچھ سہیلیاں روز گروسری کے لیے نکلتیں ۔ 
کچھ کھانا بنانے میں ایک دوسرے کی مدد کرتیں
  صفائی کے لیئے رکھی ہوئی ملازمہ گھر کی صفائی ستھرائی کے بعد ضرورت کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹاتی۔ 
عائشہ بیگم نے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ ہر مہینے ایک ڈاکٹر آ کر سب کا میڈیکل چیک اپ کرتی رہے۔
 ان کی دوائیوں کے باقاعدگی اور کسی متوقع طبی مسئلے سے بچنے کے لیئے پہلے سے باخبر رہتی۔
 لیکن جو مصروفیات وہ سب اپنا چکی تھیں۔ اس میں وہ چلتی پھرتی ہنستی بولتی اس قدر مصروف ہو چکی تھیں کہ تنہائی کیا ہوتی ہے کسی کو یاد نہیں رہا۔
دو سال ہو چکے تھے اب تو انہیں اپنے بچوں کی یاد بھی نہیں رہی۔ اب جب بچے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے تو وہ ہنس کر کہتیں۔۔
 بھئی جلدی جلدی بات کرو۔ اتنا ٹائم نہیں ہے ہمارے پاس کہ تم سے لمبی لمبی ہانکتے پھریں۔ 
ان کی اولادیں ان سے شکوہ کرنا چاہتیں کہ اماں، ماما آپ تو ہم سے ملتی رہیں۔ آپ ہمیں بھول گئی ہیں ۔
 تو وہ یہی کہتیں۔
 جب تم ہمیں بھول سکتے ہو تو ہماری امان اسی میں ہے کہ ہم بھی تمہیں بھول جائیں اپنی زندگیوں میں خوش رہو اور ہمیں عزت سے اپنی باقی زندگی گزار لینے دو۔۔۔
 عائشہ بیگم اپنی تنہائی کے ساتھ بہت سارے لوگوں کی تنہائی دور کر چکی تھیں۔
 وہ خوش تھی ۔ مطمئن تھی اور اللہ کی شکر گزار تھی کہ اس نے انہیں اس قابل کیا کہ وہ اتنے سارے لوگوں کے ساتھ زندگی کو پھر سے شروع کر سکتیں۔ 
                  -------

جمعرات، 9 نومبر، 2023

& چاند ڈوب گیا ۔ افسانہ۔ سچی کہانیاں۔ قطرہ قطرہ زندگی


چاند ڈوب گیا
 تحریر: 
         (ممتازملک ۔پیرس)

نہ بھئی نہ لڑکی کی ناک دیکھی ہے طوطے جیسی۔  مجھے تو میرے بیٹے کے لیئے ایسی لڑکی دکھاؤ کہ ہر جاننے والے کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں ۔
سکندر کی ماں رقیہ نے لڑکی کی تصویر کو نخوت سے میز پر پٹختے ہوئے کہا ۔۔
رشتے دکھانے والی رضیہ تو جیسے جل بھن کر رہ گئی ۔ اس کے جی میں تو آئی کہ بی بی شہر کی پچاسویں لڑکی ہے جو ایک سے ایک خوبصورت اور قابل تعلیم یافتہ ہے تمہیں دکھا چکی ہوں اور تم ہو کہ پروں پر پانی ہی نہیں پڑنے دیتی۔ لیکن   پھر کچھ سوچ کر خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی۔ 
دیکھو رقیہ بہن میں جانتی ہوں کہ صرف میں ہی نہیں ہوں جس سے تم رشتے دیکھ رہی ہو ، بلکہ اس شہر کے ہر میرج بیورو اور ہر رشتے کرانے والی کے پاس سے تمہیں رشتے دکھائے جاتے ہیں ۔ اب تو لوگ تمہارا نام سنتے ہی پہلے ہی منع بھی کر دیتے ہیں کہ نہیں بھائی اس خاتون کو مت لانا اس سے ہم پہلے ہی مل چکی ہیں اس کے تو بہت نخرے ہیں ۔ 
آخر تم ایک ہی بار بتا دو کہ تمہیں اپنے بیٹے کے لیئے کیسی لڑکی چاہیئے ۔ پانچ سال سے تم اس شہر کا ہر گھر گھوم چکی ہو ۔ کہیں دوپہر کے کھانے کھاتی ہو  اور کہیں رات کی دعوتیں اڑاتی ہو۔  
رقیہ بیگم بھڑک کر ہاتھ نچاتے ہوئے بولی آئے ہائے میرا بیٹا کوئی گیا گزرا نہیں ہے چاند کا ٹکڑا ہے ۔اچھا کماتا ہے ۔ گھر بار والا ہے ایسے ہی کوئی بھی بن بتوڑی تھوڑی اٹھا کر لے آؤں گی اپنے بیٹے کے لیئے ۔ 
خدا کا خوف کرو رقیہ بیگم۔ اس تین مرلے کے گھر میں رہتی ہو۔ اور بنگلوں والی لڑکیاں تک تم مسترد کر چکی ہو ۔ بیٹا تمہارا رنگ روپ دیکھ لو تو دوسری بار کوئی ملنا نہ چاہے اور تم ہو کہ ہر ایک کی بیٹی میں عیب نکالتے نکالتے گھر میں بیٹے کو پینتیس سال کا کر چکی ہو۔
ارے پینتیس کا ہے تو کیا ہوا لڑکی تو میں بڑے گھر سے چاند کا ٹکڑا ہی لیکر آؤنگی ۔ جو کار کوٹھی ڈگری سب کچھ لیکر آئے گی اور ہاں دیکھ لینا ہاتھ باندھ کر میرے سامنے چاکری کرے گی ۔۔ بیس سے اوپر تو ایک دن کی بھی نہ ہو۔ ہاں نہیں تو ۔۔۔
ہائیں ۔۔۔
رضیہ کا تو حیرت سے منہ کھلے کا کھلا رہ گیا 
اسے پورا یقین ہو چلا تھا کہ رقیہ بیگم کا دماغی توازن جواب دے چکا ہے ۔ اس نے اپنی چادر سمیٹی اور پلیٹ میں رکھے تینوں سموسے ہاتھ میں اٹھائے اور چلتے ہوئے بولی۔۔۔
اچھا رضیہ بیگم کسی کارخانے میں تمہاری مرضی کی بہو آرڈر پر تیار ہو گئی تو مجھے بھی شادی کی دعوت دینا مت بھولنا۔۔ چلتی ہوں اللہ حافظ
رقیہ نے دروازہ بھیڑتے ہوئے چاہا تو کہ یہی دروازہ اس رقیہ کے سر پر دے مارے لیکن اپنی پیشہ ورانہ مصلحت کے سبب دل مسوس کر رہ گئی۔ 
اس کے جاتے ہوئے سامنے سے رکشے سے اترتا ہوا سکندر ملا ۔ سوکھا سڑا سا، پکا رنگ، اپنی عمر سے بھی دس سال بڑا دکھائی دیتا ہوا۔ یہ مرد اسے لڑکا تو کہیں سے نہیں لگا ۔اسے دیکھتے ہی رضیہ کی آنکھوں میں وہ تمام حسین و جمیل کم سن بہترین تعلیم یافتہ لڑکیوں کے سراپے گھوم گئے جنہیں ایک کے بعد سکندر کی ماں نے اپنے اس چاند سے بیٹے کے لیئے ٹھکرا دیا تھا ۔ جبکہ گھروں میں دو دو چار چار کنواری بیٹیوں کے بیٹھے ہونے کے سبب انکے والدین اس جیسی شکل و صورت اور حیثیت والے کو بھی داماد بنانے کو تیار تھے لیکن رقیہ بیگم شاید اپنے بیٹے کو بیاہنا ہی نہیں چاہتی تھی۔
پچھلے دس سال سے یہی بیٹا لیئے وہ ہر گھر میں کبھی دوپہر اور کبھی شام دعوتیں اڑا رہی تھی شادی کر دیتی تو پھر یہ دعوتوں کے مزے کہاں سے پورے ہوتے۔

رقیہ بیگم خدا کا خوف کرو جس بیٹے پر اتنا گھمنڈ کر رہی ہو اور دوسروں کی عزتیں اچھالتی پھرتی ہو کہیں وہ تمہارے دل کا روگ ہی نہ بن جائے ۔
رضیہ بیگم نے اسے آئینہ دکھانے کی کوشش کی تو رقیہ ںی تو جیسے ہتھے سے ہی اکھڑ گئیں۔
ارے جاؤ جاؤ بڑے آئے ہمیں روگ دینے والے ۔
منیزہ کی بیٹی کو دیکھ کر لٹکتی مٹکتی رقیہ بی  ہر بات میں کیڑے نکالتی ہوئی باہر نکلیں تو اس کی نظر سکندر سے چار ہوئی ۔
 گھر سے باہر کھڑے سکندر پر ایک نظر ڈال کر دوسری نظر جب اپنی بیٹھک کے پردے کے ساتھ لگی کھڑی اپنی حسین اور قابل بیٹی پر نگاہ پڑی تو جیسے کانپ کر رہ گئی ۔ کوئی جوڑ نہیں تھا ان کا انکی بیٹیاں پڑھ لکھ کر کسی قابل بننا چاہتی تھی اور عمیر صاحب کی آنکھوں میں  ان کا گھر بسانے کا سپنا انہیں سونے نہیں دیتا تھا ۔
 دو موٹے موٹے آنسو ان کی آنکھوں سے بے ساختہ بہہ نکلے۔
مغرور رقیہ بیگم نے رکشے والے کو پیسے ادا کیئے اور سڑک پار کرنے کو مڑی ہی تھیں کی سکندر جو اپنے ہی خیالوں میں سڑک پار کر رہا تھا ایک تیرفتار گاڑی کی زد میں آ گیا ۔ گاڑی کی ٹکر سے وہ دور جا گرا رقیہ بیگم کے تو جیسے اوسان خطا ہو گئے ۔
وہ گرتی پڑتی ہانپتی کانپتی اپنے زخمی بیٹے تک پہنچتی کہ وہاں اکٹھی ہوتی بھیڑ میں سے کسی کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ 
بیچارے کو گاڑی نے اڑا دیا۔ موقع پر دم توڑ دیا ہے ۔ پھر بھی اسے ہسپتال پہنچاؤ یار ۔۔
اس کے بعد رقیہ بیگم بیٹے تک پہنچنے سے پہلے ہی بے ہوش ہو چکی تھی۔ 
دونوں کو ایک ہی ایمبولینس میں ہسپتال پہنچایا گیا اس کا غرور چور چور ہو کر لاش کے طور پر اسٹریچر پر تھا تو ماں اس کی موت کا غم اٹھانے کو بیہوش دوسرے سٹریچر پر۔ اس کا کالا مریل بد صورت چاند کا ٹکڑا ڈوب چکا تھا جس نے اسے پچھلے دس سال سے اس شہر کی ہر جوان لڑکی کے گھر کی آنکھ کا تارا اور مہمان خصوصی بنا رکھا تھا ۔ 
               -------

اتوار، 22 اکتوبر، 2023

فرمانبردار ۔ افسانچہ۔ مختصر کہانی


فرمانبردار 

ارے کیا ہو گیا، کیوں بات کا پتنگڑ بنا رہی ہے ۔ اتنے اچھے ساس سسر ہیں تمہارے ۔ اتنا فرمانبردار بیٹا ہے انکا، اورکیا چاہیئے تمہیں؟ زرینہ نے میکے آئی ہوئی ناراض بیٹی کو سمجھانا چاہا۔امی یہی تو مسئلہ ہے۔ صومانہ تڑپ کر بولی ۔ایسے والدین پکے دوزخی ہوتے ہیں جو گھر کی ایک اولاد کو اسکی فرمانبرداری کے سبب نوکر بنا کر اپنے ہڈ حرام لاڈلوں کا بوجھ سارے عمر کے لیئے انکے گلے ڈال دیتے ہیں ۔ ایسے بیٹوں کی بیویاں بھی گھروں میں نوکرانیاں بنا لی جاتی ہیں اور ساری عمر ذلیل کی جاتی ہیں۔ ایسے فرمانبردار لڑکوں کے ساتھ کبھی شادی نہیں کرنی چاہیئے ۔ وہ کبھی اپنی بیوی کے اچھے شوہر نہیں بن سکتے۔

انکے لاڈلے بیٹے مفت کا کھاتے ہیں،عیش کرتے ہیں اور سارے گھر پر دھونس بھی جماتے ہیں ۔ اپنی بیٹیوں کا سکھ چاہیئے تو اسکا رشتہ گھر کے لاڈلے بیٹے کو دیں کیونکہ وہ اپنی بیوی کے بھی لاڈ اٹھوا سکتا ہے ۔ جبکہ فرمانبردار تو اپنی بیوی کو اپنے گھر والوں کے ظلم سے بچانے کے لیئے پھس بھی نہیں کر سکتا۔ امی اگلی بیٹی کا رشتہ سوچ سمجھ کر دینا۔ کمرہ دیر تک اس کی اسی بات سے گونجتا رہا۔۔

       (ممتازملک ۔پیرس)

                ۔۔۔۔۔۔

آٹے میں نمک ۔افسانچہ۔ مختصر کہانی

آٹے میں نمک

فیاض نے روٹی کا لقمہ منہ میں رکھتے ہی تھوک دیا۔ اپنی بیوی میراں کے منہ پر کھانے کی ٹرے مارتے ہوئے اسے روئی کی طرح دھنک دیا۔ بدبخت عورت اتنا نمک ہے روٹی میں کہ زہر کر ڈالا ہے۔ تجھے آٹے میں نمک کا بھی اندازہ نہیں ہے نکمی عورت۔ منہ سے جھاگ اڑاتا ہوا فیاض تو گھر سے باہر نکل گیا،کسی ہوٹل پر کھانا کھانےکو، اور میراں نے دس سالہ بیٹی مومنہ کو بانس کے جھاڑ کے دستے سے مار مار کر ادھ موا کر دیا ۔جب تھک گئی تو باقی غصہ اتارنے کے لیئے نمک بھری روٹی کے نوالے بنا بنا کر زبردستی اس کے منہ میں ٹھونسنا شروع کر دیا۔ وہ آدھ مری بچی اکھڑے سانسوں کیساتھ ہاتھ جوڑتی رہی لیکن میراں نے بھی اسے غلیظ ترین گالیوں سے نوازتے ہوئے اگلے سات روز تک اسی آٹے کی روٹی بنا کر کھلائی۔ کیونکہ میراں تو روزانہ سہیلیوں سے گپیں لگانے بیٹھ جاتی تھی گھر کے سارے کام تو اس بچی مومنہ سے کرواتی تھی جھاڑو پونچھا آٹا گوندھنا اسکے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کا فرض تھا کیونکہ اسکا جرم تھا کہ وہ اسکی کوکھ سے جنمی تھی۔ 
                 ۔۔۔۔۔۔

پر کٹی۔ افسانچہ۔ مختصر کہانی

        
      پر کٹی

ملک سے باہر آئے کئی سال گزر چکے تھے وہ خود کو اپنی شخصیت کو نیا رنگ دینا چاہتی تھی اس نے آئینے میں دیکھ کر سوچا کیوں نہ اپنے بال کاٹ کر دیکھوں ۔اس نے قینچی اٹھائی اور اپنے لمبے بالوں کو کندھے کے برابر کاٹ کر خود کو دیکھا تو خوش ہو گئی۔ 
ارے واہ میں اتنی اچھی لگوں گی معلوم ہوتا تو کب سے یہ روپ اپنا لیتی۔ 
اگلے روز ایک محفل میں اس کی شرکت پر پہلے سے کئی پرکٹی خواتین کو اس کا اچھا لگنا، اتنا اچھا نہ لگا، تو ایک جل ککڑی سب کے سامنے کمینی سی ہنسی کیساتھ تبصرہ کر ہی بیٹھی،
 ارے واہ تم نے تو اپنے رنگ ڈھنگ ہی بدل لیئے۔ ایسا نہ ہو کل ہم سنیں کہ تم تو ساحل سمندر پر بکنی پہنے دراز تھی ھی ھی ھی ۔
 یہ سنتے ہیں وہ بلبلا اٹھی اور مسکرا کر بولی کہ
 فکر مت کیجئے بھابھی جی میں آپکے والے کام ہر گز نہیں کرونگی ۔ 
کہنے والی تو سٹپٹائی ہی لیکن سننے والیوں کے قہقہے دور تک سنے گئے ۔
                 ۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 21 اکتوبر، 2023

ہائے ۔ نظم۔ جا میں نے تجھے آزاد کیا



ہائے

میں تو پیدا ہوتے ہی
اپنے ہی ماں باپ کے ہاتھوں
دنوں میں بوڑھی کر دی گئی

بچپن کے سب کھیل کھلونے
بے فکری اور چنچل پن
میرا کوئی حق نہیں
 کہہ کر
مجھ سے چھین لی گئی

پڑھنا مجھکو اچھا لگتا تھا
 تو میری ہر کتاب
 کبھی جلائی جاتی تھی اور
 کبھی وہ پھاڑی گئی

رنگیں آنچل فیشن شوخی
چوڑیاں میک اپ 
پسند تھیں  لیکن
 مجھ پر حرام وہ کر دی گئی

اپنی مرضی سے جیون کا 
ساتھی چننا حق تھا میرا
وہ بھی چاہت مجھ سے
 چھین کے خود ہی برتی گئی

جو ترکے میں حق تھا اس پر
 ماں جائے بھی نوچتے اور کھسوٹتے کتے
 ہر دم چارو چاری گئی

کسکو یہ ممتاز سنائے
ہائے میں کیسے روندی گئی
ہائے میں کیسے ماری گئی 
   ۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 19 اکتوبر، 2023

حقیقت ۔ کوٹیشنز

حقیقت 
حقیقت کی حقیقت ہی یہی ہے کہ یہ  اکثر تلخ ہوتی ہیں ۔
(چھوٹی چھوٹی باتیں)
(ممتازملک ۔پیرس)

فرمانبردار ۔ کوٹیشنز

فرمانبردار 

ایسے والدین پکے دوزخی ہوتے ہیں جو گھر کی ایک اولاد کو اس کی فرمانبرداری کے سبب نوکر بنا کر اپنے ہڈ حرام لاڈلوں کا بوجھ سارے عمر کے لیئے انکے گلے ڈال دیتے ہیں ۔ جبکہ ایسے فرمانبردار بیٹوں کی بیویاں بھی گھروں میں نوکرانیاں بنا لی جاتی ہیں اور ساری عمر زلیل کی جاتی ہیں ۔ ایسے فرمانبردار لڑکوں کے ساتھ کبھی شادی نہیں کرنی چاہیئے ۔ اپنی بیٹیوں کا سکھ چاہیئے تو اس کا رشتہ گھر کے لاڈلے بیٹے کو دیں کیونکہ وہ اپنی بیوی کے بھی لاڈ اٹھوا سکتا ہے ۔ جبکہ فرمانبردار تو اپنی بیوی کو اپنے گھر والوں کے ظلم سے بچانے کے لیئے پھس بھی نہیں کر سکتا۔

(چھوٹی چھوٹی باتیں)

(ممتازملک ۔پیرس)

                 ۔۔۔۔۔۔

بدھ، 4 اکتوبر، 2023

اصول اور ضد۔ کوٹیشنز۔

اصول اور ضد
اصول میں اور ضد میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ اصول زندگی کو ایک متوازن پٹری پر رکھنے کیلیئے بنائے جاتے ہیں جبکہ ضد اپنی انا کو بلند رکھنے کیلیئے۔ اس لیئے زندگی گزارنے کے کچھ اصول بنائیے جہاں وہ اصول کسی اچھی بات سے ٹکرانے کا خدشہ ہو تو اپنے اصولوں میں اس اچھی بات کو اپنانے کی لچک پیدا کریں ۔ یہی آپکی کامیابی ہے۔
(چھوٹی چھوٹی باتیں)
   (ممتازملک۔پیرس)

اتوار، 1 اکتوبر، 2023

◇ فون ‏پہ ‏باتیں ‏/ ‏نظم۔ جا میں نے تجھے آزاد کیا

       فون پہ باتیں
           

ایک ہی شہر میں رہتے ہیں مگر برسوں سے
کوئی بھی بات ملاقات نہیں ہو پاتی
شکر ہے شادیاں تہوار ہی آ جاتے ہیں 
شکل اک دوسرے کی دیکھنے کو مل جاتی 
دل کی باتوں سے زرا دل یہ سنبھل جاتا ہے 
ورنہ سمجھاؤں میں جتنا بھی مچل جاتا ہے 
ویسے تو فون بھی ہے مفت میں ہمکو حاصل 
جیسے ٹہرا ہو سمندر اور سوکھا ساحل
سامنے بیٹھ کے ملتا جو مزا باتوں کا
فون پر لطف کہاں ایسی ملاقاتوں کا
اب مزا ایسا کہاں یار وہ مل پاتا ہے
سوچ کا پر  تو کہیں راہ میں جل جاتا ہے
کیا کیا جائے مگر جب سے کرونا آیا 
یہ بہانے بھی گئے اس پہ تو رونا آیا 
                   ●●●     


اتوار، 24 ستمبر، 2023

ڈاکٹرمحمد اسلم ‏پرویز کی ‏کتاب ‏رباعیات ‏پر ‏تبصرہ ‏/ ‏تبصرے


رباعی شاعری کی وہ صنف ہے جس میں چار مصروں میں کسی بھی بات کا نچوڑ پیش کیا جاتا یے ۔  بلاشبہ یہ ایک مشکل صنف یے اور اس میں ماضی ہو یا حال، چیدہ چیدہ شعراء کرام کا کام ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ایسے میں ڈاکٹر محمد اسلم پرویز جیسے شاعر کا کام دیکھنے کو ملا جو کہ اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور بے حد حساس طبیعت کے مالک ہیں ۔ ان کی رباعی سے دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ ان کی پی ایچ ڈی کا موضوع بھی رباعیات ہی رہا ۔ اور بہت کم ایسے شعراء کرام گزرے ہیں جنہوں نے رباعیات کے مجموعہ کلام پیش کیئے  ہوں۔  
      
ڈاکٹر محمد اسلم پرویز  کی کتاب "شخصیات" (جو کہ رباعیات کامجموعہ کلام ہے) پڑھنے کا موقع ملا ، جس میں معروف شخصیات پر،  ان کے کام پر اظہار خیال کو  رباعیات کے جامے میں ڈھال کر پیش کیا گیا ہے ۔۔ جس میں ان شخصیات کے فن کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے ، تو کہیں ان کی خوبیوں کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ کہیں ان سے اپنی محبت کا اظہار کیا گیا ہے، تو کہیں ان کی بے تحاشا عقیدت جھلکتی دکھائی دیتی ہے ۔ ۔ 
یوں تو اردو زبان میں غالب سے لیکر اقبال تک سبھی بڑے بڑے شعراء کرام نے رباعی کی صنف سخن پر طبع آزمائی کی ہے اور اسے عروج تک پہنچایا ہے ۔  لیکن اقبال کے بعد  اس صنف سخن پر شعراء کی زیادہ توجہ نہیں رہی۔ اس کی وجہ یقینا اس صنف سخن کے مشکل اوزان و بیانیہ ہے ۔ جو زیادہ وقت طلب ہے اور زیادہ توجہ چاہتا ہے ۔ 
ڈاکٹر اسلم کی اس کوشش کو میں دل سےسراہتی ہوں ۔اور امید کرتی ہوں کہ وہ اس صنف میں اپنا ایک منفرد مقام حاصل کر پائیں ۔
میری جانب سےانہیں اس خوبصورت تخلیق پر بہت سی مبارکباد اور نیک خواہشات ۔

(شاعرہ ۔کالمنگار۔ لکھاری )
ممتازملک 
پیرس۔فرانس

بدھ، 20 ستمبر، 2023

خود ترسی کی نوبت۔ کالم



خود ترسی کی نوبت
تحریر: 
(ممتازملک ۔پیرس)

میرے کالم "خود ترسی بھی ایک مرض " پر ہمارے ایک فیس بک فرینڈ کا تبصرہ تھا کہ یہ مرض یورپ کی لڑکیوں میں عام ہے جہاں اکثر مائیں اپنی لڑکیوں کو لے کر سائیکاٹرسٹ سے رجوع کرتیں ہیں  اور کہتیں ہیں کہ "اس کا کوئی بوائے فرینڈ نہیں ہے"
یہ سوچ اور اس جیسی سوچ والے دوستوں کو ایک ہی جواب دینے کی غرض سے قلم اٹھایا ہے یہ آپکی خوش فہمی ہے جناب کہ یہ مرض محض یورپ سے منسوب ہے زرا اپنے گلی محلوں میں اونچے نیچے گھروں میں جھانکیں جہاں بوڑھی ہوتی رشتوں کے انتظار میں بیٹھی لڑکیاں بیوائیں مطلقہ خواتین  جو معاشرے میں دھتکار کر تنہا  بے آسرا زندگی گزارنے پر مجبور کر دی جاتی ییں ۔ ان سے پوچھیئے جا کر بے بسی کا احساس کیا ہوتا ہے۔ اور جب کوئی ان کی پریشانی سمجھنے والا ان کے دکھ کو دکھ سمجھنے والا نہیں رہتا تو وہ خود اپنے اوپر ترس کھانے پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔ ۔ یورپ میں نہ شادی مسئلہ ہے نہ طلاق ۔ نہ دوستیاں مسئلہ ہیں نہ معاشی مجبوری ۔ لگتا ہے یورپ کے بارے میں ایسے لوگوں کی معلومات کافی ناقص ہیں ۔ معذرت کیساتھ
جی ہاں درست ہے کہ حد سے ذیادہ تنہائی پسندی ہی بعد میں ڈپریشن کی  صورت میں سامنے آتی ہے اور یہ تنہائی کبھی کبھی بھرے پرے گھر میں بھی انسان کو اپنا شکار بنا لیتی ہے۔ کیونکہ وہاں جسم تو بہت سے ہوتے ہیں لیکن۔ کسی کی سوچ کو جذبات کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہوتا حتی کہ کبھی کبھی تو اپنے سگے والدین آپکے جذبات کچلنے اور آپکو تماشا بنانے میں فریق بن جاتے ہیں ۔  یہ  ڈپریشن یا مایوسی بھی ایکدم سے انسان پر حملہ آور نہیں ہوتی  بلکہ قدم بقدم بڑھتی اور اثر انداز ہوتی ہے ۔ اس کے لیئے ضروری ہے کہ ہم سب اتنے حساس ہوں کہ اپنے ملنے والوں اردگرد رہنے والوں کی باڈی لینگویج  اور طرز عمل میں ہونے والی تبدیلیوں کو نوٹ کر سکیں اور برقت ہی کسی انسان کو اس کنویں میں گرنے سے بچا سکیں ۔
کسی انسان کا جہاں وجود ہے وہاں اس کا ذہنی طور پر حاضر نہ ہونا، اس کی آنکھوں کا وہاں پر اجنبیت کا اظہار، بات کچھ ہو جواب کچھ اور آ رہا ہو، اپنے لباس اور حرکات و سکنات سے  بے خبر ہونا ، بلاوجہ ہنسنے لگنا یا خوامخواہ رونے لگنا یا چڑچڑاہٹ کا شکار ہونا، جھگڑا کرنے کا بہانہ ڈھونڈنا، یہ سبھی کیفیات جو بیان کی گئی ہیں وہ ڈپریشن کی ہیں جو خود ترسی سے بہت زیادہ آگے کی یا لاسٹ سٹیج کہہ لیں ، کی ہیں  ۔ 
جبکہ خود ترسی عموما اس وقت آغاز ہوتی ہے جب بچپن ہی سے بچے کو اس کی صلاحیتوں پر حوصلہ افزائی نہیں ملتی ، ایک کا حق دوسرے کی جھولی میں یہ کہہ کر ڈال دیا کہ چلو تمہیں پھر لے دیں گے ،ابھی تمہیں اس کی زیادہ ضرورت نہیں ہے،  تم اس کا کیا کروگے/گی ، اسے اہمیت نہ دینا یا پھر اولاد  میں ہر وقت کسی کا ، دوسرے کی کسی بھی صلاحیت یا چیز سے غیر ضروری مقابلہ کرتے رہنا، مذہب سے دوری بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے ،کیونکہ مذہب ہمارے اندر تقدیر اور نصیب کا تصور پختہ کرتا ہے ۔ برداشت اور ایثار کا جذبہ پیدا کرتا ہے جو ہمارے اندر صبر اور انتظار کی عادت کو جنم دیتا ہے ۔ ہمارے مزاج میں توازن پیدا کرتا ہے ۔ جبکہ آجکل بدنصیبی سے جو بھی شخص مذہب کی جانب متوجہ ہوتا ہے اس مذہب کے اکثر علماء اور راہب ہی اسے بھٹکا کر مذید تباہی میں دھکیل دیتے ہیں ۔ اس لیئے رہنمائی کا  یہ کردار بہرطور نزدیکی رشتوں کو ہی ادا کرنا ہو گا  ۔ خود ترسی سے شروع ہونے والا سفر اکثر گناہوں کی منزل یا خودکشی پر ہی ختم ہوتا ہے ۔ لہذا اسے نظر انداز کرنا اس معاشرے میں ٹائم ب م فٹ کرنے کے برابر ہے ۔ اپنے معاشرے کو اس سے بچائیں اور ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں ۔ جس کا آغاز آپکے اپنے گھر سے ہو گا۔ 
                     ------

بدھ، 13 ستمبر، 2023

کیا کھویا کیا پایا؟ / کالم

کیا کھویا کیا پایا؟
تحریر:
(ممتازملک ۔پیرس)

عورت کے بدلتے زمانے کے روپ اسے تیزی سے تباہی کی جانب دھکیل رہے ہیں ۔ یہ وہی عورت ہے جو ماں ہے تو انسان کی سب سے بڑی ہمدرد اور خیر خواہ کہی جاتی رہی ہے اور اگر بیوی رہی تو اسے لباس کہہ کر اس کی حیثیت کو مکمل بیان کر دیا گیا ۔ لیکن پھر حرص و ہوس کی وہ آندھی چلی کہ رشتوں کے پرخچے اڑنا شروع ہو گئے ۔ شاید اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے ہاں میڈیا اور معلومات کا وہ سونامی ہے جس کو سمجھنے اور اس کا مقابلہ کرنے اور اس سے کوئی فائدہ اٹھانے کے لیئے ہماری قوم کے پاس نہ تعلیم کا ہتھیار تھا ، نہ ہی ٹیکنالوجی کی سمجھ ، نہ ہی کوئی قومی شعور تھا اور نہ ہی تہذیب و اقدار کی کوئی مضبوط ڈھال۔ سو تنکے کی طرح ہمارا سارا معاشرتی ڈھانچہ بہتا چلا گیا ۔ بلکہ سچ پوچھیں تو ہمارا ہر غرور ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ مرد نے اپنی آنکھ کا پانی اور سوچ کا دائرہ کھو دیا تو عورت نے اپنی حیا اور نسوانی وقار کو اپنے ہاتھوں تار تار کر دیا ۔سر بازار اس کی قیمت لگوا لی ۔ کیونکہ آج کے مرد نے اسے یقین دلا دیا کہ عزت کی تلاش میں نکاح کا پٹہ گلے میں ڈالو گی تو تمہیں میرا کتا بن کر رہنا ہو گا اور داشتہ بنکر میرے ساتھ مجھے خوش کرتی رہو گی تو تمہاری سوچ سے بھی پہلے ہر ممکن اور ناممکن تمہارے نام لگاتا رہونگا ۔ سو روٹی کپڑا اور  ادھار کی چاردیواری پر تکیہ کرنے والی عورت نے سوچا کہ کیا ضرورت ہے خود کو اس کے قدموں میں گرا کر بیوی بنکر کتے کی سی زندگی گزارنے اور  اس کے سارے خاندان کی چاپلوسی کے بدلے اپنے کانوں میں ان کا زہر آلود سیسہ پگھلانے اور سینے میں الاؤ دہکھانے کا۔ کیوں نہ اک گناہ (جو اس مرد کی خوشی کیساتھ) کر کے دنیا بھر کا اختیار اپنے نام کیا جائے؟  اسی سوچ نے اس معاشرے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ مرد نے اپنی بیوی کو ہر ایک اپنے بیگانے کے سامنے ذلیل کرنے، اس پر جملے کسنے اور اس پر لطیفے بنانے کے لیئے اپنی نکاحی بیوی کو آلہ بنا لیا ۔ گویا اپنا لباس اپنے ہاتھوں اتار دیا تو بدلے میں ایک کرائے کا تعلق بخوشی اپنے گلے کا ڈھول بنا لیا ۔ جس کے لیئے وہ صرف ایک اے ٹی ایم مشین ہے۔ جہاں اس کے پہنچنے کی دیر ہے فرمائشی ریکارڈ شروع ہو جاتا ہے ۔ جہاں مشین سے نوٹ ختم ہوئے ۔ آپ کو پڑی لات اور اس عورت کے لیئے ایک نیا اے ٹی ایم پہلے سے لائن میں موجود ملے گا۔ بلکہ کئی ایک کے ایک وقت میں بیشمار اے ٹی ایم ایکساتھ اپنی خدمات پیش کر رہے ہوتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ مرد اپنی نکاحی بیوی کو کیا عورت نہیں سمجھتا ؟ کیا اسے انسان نہیں سمجھتا ؟ یا اسے اس بات کا خوف لذت دیتا ہے کہ یہ کہاں جائیگی میرے دروازے کے سوا؟ کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ بطور بیوی اس دنیا کی ساری رنگینیاں وہ بھی نہ دیکھتی ہے ، نہ جانتی ہے اور نہ ان سب پر اختیار رکھتی ہے؟ کیا اسے یہ گمان ہے کہ اس کے اور اس کے خاندان کے ہاتھوں ذلت اور مقابلہ بازی ہی اس رشتے کا مقدر ہے؟ 
تو پھر آج کی عورت خود مختار ہو کر خود اپنی دو روٹی، چادر اور چاردیواری بنا کسی ذلت و تماشے کے بنانا چاہتی ہے اور اکیلی اپنی مرضی سے سکون کیساتھ جینا چاہتی ہے ، بنا کسی کے جوتے سیدھے کیئے خوش رہنا چاہتی ہے، تو کیا برا کرتی ہے؟ بات دینی پہلو سے ہو یا معاشرتی ۔ رشتے تحفظ اور عزت کے لیئے بنائے جاتے ہیں اور اگر یہ دونوں چیزیں ناپید ہو جائیں تو رشتوں خصوصا میاں بیوی کے رشتے کی ضرورت ہی کہاں رہتی ہے؟ ہمارے معاشرے کا مرد خود اس رشتے کو تباہی کے دہانے پر لا چکا ہے ۔ بدلے میں اسے کیا ملا ۔ نہ دل کا چین، نہ وفا نہ عزت ۔ یہ سب وہ چاہتا تو اپنی زندگی کا ٹریک ہی کیوں بدلتا ۔ ورنہ نکاح کے بدلے تو اسے یہ سب کچھ خدائی تحفے کے طور پر بنا کسی تردد کے مل ہی رہا تھا ۔ جس سے وہ بیزار ہو کر جنگلی پھولوں کی خوشبو سونگھنے کانٹوں کے جھاڑ میں ناک گھسیڑ بیٹھا ۔ اور سونگھ کر جب باہر نکلتا ہے تو نہ اس کی ناک کسی قابل رہتی ہے نہ اس کی شکل کسی کو دکھانے لائق رہتی ہے۔ عورت نے بھی اسی کے دکھائے ہوئے تجربات کی روشنی میں یہ جان لیا کہ نکاح جیسا مقدس بندھن آج کے اس پرآشوب دور میں محض دو روٹی اور سر کی عارضی چھت کے لیئے باندھنا ناقابل برداشت اور اس رشتے کیساتھ بے ایمانی ہے۔   (ظاہر ہے چھت تو مرد اپنی داشتاؤں کے نام کرتا ہے  اس کے لیئے تو جب تک نکاح تب تک پناہ والا کھاتہ ہی ہوتا ہے , تو چھت اسکی کہاں سے ہو گئی؟) اس لیئے وہ اب ہمارے  سو کولڈ پاکستانی اور مشرقی معاشرے میں یہ رشتہ اس قدر غیر محفوظ سمجھنے لگی ہے کہ خود کو معاشی طور پر اس غم سے آزاد کرنے ہی میں عافیت سمجھنے لگی ہے ۔ ایمانداری سے دیکھا جائے تو آج کی عورت کو یہ راستہ دکھانے والا ہمارا مشرقی مرد جسے اپنی عیاشی کا سامان سمجھ بیٹھا ہے وہی اسکی تباہی کا انجام بن چکا ہے ۔ اپنی نسل اصل اور دین دنیا سب کچھ داؤ پر لگا کر اسے ہوش آیا بھی تو کیا آیا ۔ اس کا حل بیحد آسان ہے کہ اپنی داشتاؤں کے بجائے اس لڑکی کو پوری عزت وقار اور تحفظ دے جو نکاح کا مقدس بندھن باندھ کر اسکی زندگی میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر داخل ہوتی ہے۔ اسے اپنے گھر کی نوکرانی بنا کر اپنے خاندان کے قدموں میں ڈالنے کے بجائے اسے اپنی زندگی کا سکون اور مددگار سمجھے ۔ اور یہ یاد رکھے کہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ باز پرس جس رشتے کی ہو گی وہ اس کی بیوی ہی ہے ۔ تاکید کی گئی کہ لوگوں اپنی بیویوں کے لیئے تم اللہ سے ڈرتے رہو۔ معاشرے کو مزید  بگاڑ اور تباہی سے بچانا ہے ، ہمارے مردوں کو اپنی نسل بچانی ہے تو نکاح کے رشتے کی توقیر بچائیں۔  
                 ۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/