ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک

جمعہ، 15 مارچ، 2019

◇ ● (46) دوستی کی نقل مکانی/ نظم ۔ سراب دنیا۔ جا میں نے تجھے آزاد کیا



     (46) دوستی کی نقل مکانی 
           (ممتازملک۔پیرس)



کہاں ہوتے ہیں یہ دوست بولو ؟
مجھے تو کوئی ملا نہ اب تک ۔۔۔
سنا ہے دنیا سے دوستی نے
اسی گھڑی میں چھڑایا دامن
جب آدمی نے مفاد کے سنگ 
ملائی نظریں 
غرض سے ناجائز 
جوڑا رشتہ
تبھی سے سوچا تھا دوستی نے
اک ایسے گھر میں بھلا کیا رہنا 
جہاں پہ چاہت نہیں کسی کو
بس اک ضرورت وہ بن گئی ہو
یہ سوچ کر اس نے
 اپنے صندوق میں رکھے تھے 
خلوص، چاہت ، امید ،جذبے 
دعائیں  اور حوصلے غضب کے
جو آخری بار میں نے دیکھا
بہت ہی نمناک غمزدہ سی 
برستی آنکھوں جھکائے سر کو 
وہ ادھ مری سی رواں ہوئی تھی
وہ اس جہاں لامکاں ہوئی تھی
سنا ہے اس کو نقل مکانی 
کیئے ہوئے بھی زمانے گزرے
نہ بعد اس کے کسی نے اس کی
خبر سنی اور 
نہ بعد اس کے کبھی کسی نے 
اسے ہے دیکھا
ہاں  نام لے لیکے لوگ اس کا 
بہت بناتے ہیں دوسروں کو 
جہاں بھی مقصود کوئی دھوکہ
تو لے لیا نام دوستی کا ۔۔۔۔
                       ●●●
کلام: ممتازملک 
مجموعہ کلام:
سراب دنیا 
اشاعت: 2020ء
●●●

              

(45) چاہت کے دستور نرالے/ شاعری ۔ سراب دنیا


(45) چاہت کے دستور نرالے
(کلام/ممتازملک ۔پیرس) 


چاہت کے دستور نرالے
چھلنی چھلنی کرنیوالے

اپنے آگے پیچھے جو بھی 
رہتے ہیں سب دل کے کالے

دھڑکن کے بدلے سناٹے
سوچ میں دقیانوسی جالے

عزت کو پامال کرے جو
روگ نہ کوئی ایسے پالے

سچائی کے دم پر اکثر
قسمت پر لگ جائیں تالے

آنکھوں کی سرمے دانی میں
درد سلائی بھر کر ڈالے

مجھکو یہ ممتاز بتاو
مشکل سے دل کون  نکالے
                     ●●●
کلام: ممتازملک 
مجموعہ کلام:
سراب دنیا 
اشاعت: 2020ء
●●●

ارمان ہے ہمیں ۔ سراب دنیا



 ارمان ہے ہمیں 
(کلام/ ممتازملک ۔ پیرس)

ہم نے کہا کہ آج بھی ارمان ہے ہمیں 
اس نے کہا کہ کردیا حیران ہے ہمیں  

ہم سے وصولتی رہی کچھ ایسے زندگی 
جیسے خوشی کے نام پہ تاوان ہے ہمیں 

زخموں کو مرہموں کی طلب سے رہا کرو
سب بھول جاؤوقت کافرمان ہے ہمیں 

انسانیت کے نام پہ دھبہ تھا جسکا نام
کہتا وہ خود کو بہتریں  انسان ہے 
 ارمان ہے ہمیں 
کلام / ممتازملک ۔ پیرس

ہم نے کہا کہ آج بھی ارمان ہے ہمیں 
اس نے کہا کہ کردیا حیران ہے ہمیں  

ہم سے وصولتی رہی کچھ ایسے زندگی 
جیسے خوشی کے نام پہ تاوان ہے ہمیں 

زخموں کو مرہموں کی طلب سے رہا کرو
سب بھول جاؤوقت کافرمان ہے ہمیں 

انسانیت کے نام پہ دھبہ تھا جسکا نام
کہتا وہ خود کو بہتریں  انسان ہے ہمیں

اک شعر بن کے جس سے طلب داد کی رہی
سچ پوچھیئے وہ ذات ہی دیوان ہے ہمیں 

چالاکیاں سکھاتے جسے عمر کاٹ دی
کیوں آج بھی سمجھتا وہ نادان ہے ہمیں 

جاہل کوعالمانہ  سند مل گئی ہے اب 
سمجھانااسکوعقل کا نقصان ہے ہمیں

طوفان نہ بدل سکے ممتاز اس کو پر 
قطرہ کسی کی آنکھ کاطوفان ہے ہمیں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔







بغاوت ہم کرینگے ۔ سراب دنیا



بغاوت ہم کرینگے 
(کلام/ ممتازملک۔پیرس)



نظامت ہم کرینگے
بغاوت ہم کرینگے 

تمہاری ناک میں ہم
بڑا ہی دم کرینگے

تمہارے ظلم پہ نہ
اب آنکھیں نم کرینگے

اندھیری رات کو ہم
سحر پیہم کرینگے

نہ آنا راہ میں اب
دمادم دم کرینگے 

نہ دن کو رات سے اب
کبھی باہم کرینگے

تمہاری دہشتوں کا 
نگوں پرچم کرینگے

تمہاری گولیوں کو 
ہمیں سرگم کرینگے

اُمیدوں کے ستارے
نہیں مدھم کرینگے

بہت ممتاز جلدی 
بلند علم کرینگے  
۔۔۔۔۔۔۔


جمعرات، 14 مارچ، 2019

سنو بیٹے ۔ سراب دنیا




سنو بیٹے! میں تیری ماں ہوں 


تومیری گود میں  آیا  تومجھکو ایسا لگا
جیسے جینے کا نیا موقع زندگی نے دیا 
تھام کر جب میں چلی تھی تیری نازک باہیں 
مجھکو لگتا تھا کہ ہر ظلم سے محفوظ ہوئی
عمر کیساتھ بڑھی جب تیری آواز کی گونج
میں نے دنیا کی ہر آواز کو نیچا جانا
تیری سوچوں کو تیری آنکھ سے پڑھ لیتی تھی
تیری خوشیوں کو میں ارمانوں سے لڑ لیتی تھی

میں نے جب جب تجھے سینے پہ سلایا اپنے
تلخیاں ساری زمانے کی تڑپ کر بھاگیں 
تو نے بچپن میں جو اقرار وفا مجھ سے کیئے
بھول جانا نہ میری زیست کا حاصل ہیں وہی
 تو خطاؤں کو میری معاف بھی کرتے رہنا
بنکے تو باپ میرا مجھکو سنبھالے رکھنا 
مجھکو دنیا میں جدا خود سے نہ ہونے دینا 
جیسے میں نے کیا مجھکو بھی نہ رونے دینا

پہلے میں نے تجھے پھولوں سا اٹھا رکھا تھا
اب تیری باری مجھے بوجھ نہ کہنا خود پر
کل تیری ماں تھی تو تُو بوجھ نہیں تھا مجھ پر
آج بچہ ہوں میں تیرا مجھے تکنا ہنس کر
میرا بیٹا ہے میرے باپ سا پیارہ مجھکو
تُو مجھے خود سے کبھی دور نہ ہونے دینا
میں تیرے چہرے میں ڈھونڈوں گی جوانی ممتاز
تو میرے چہرے میں ڈھونڈا کرو بچپن اپنا

                    ۔۔۔۔۔۔۔۔


بنا تیرے بھی مکمل ہے ۔ سراب دنیا




بنا تیرے بھی مکمل ہے
(کلام/ممتازملک ۔پیرس)

بنا تیرے بھی مکمل ہے یہ حیات میری
اسی سفر میں رواں ہے یہ کائنات میری

ادھوری چھوڑ گئے تم جو اک زمانے میں
اکیلے آج مکمل کروں گی اپنی بات میری

فلک کے چاند ستاروں نے حال دیکھا ہے
حیات کس نے کی دنیا میں بے ثبات میری

ہوا کے رخ کو بھی میں اپنے حق میں کر لوں گی
بڑے عذاب لگائے ہوئے ہیں گھات میری

جو مجھ سے واسطہ رکھے اسے پتہ ہو گا 
میں تم کو عیب بتاؤں یا پھر صفات میری

جنہوں نے نام سے ممتاز پہلی بار کہا 
 وہ سن چکے تھے کسی طور مناجات میری
۔۔۔۔۔۔۔۔

خریدے جنت ۔ سراب دنیا





ہے کوئی۔۔۔
(کلام/ممتازملک ۔پیرس)




 ہے کوئی آج جو بن دیکھے خریدے جنت
چاہیئے آج ذبیدہ سی خریدار مجھے


کل تلک میں نے مقدرخود ہی تعمیر کیا
وقت پہ کرنا پڑا آج انحصار مجھے


جان دینی  نہیں  لینے کی یہاں بات کرو
غرض کا آج نظر آتا ہے ہر یار مجھے 

قتل کے واسطے خنجر کی ضرورت کیا ہے
کاٹنے کو ہے بہت لہجے کی تلوار مجھے

میں نے کتنوں کو بٹھایا ہے سہارا دیکر
تو نے  کیوں سمجھا ہے  بوسیدہ سی دیوار مجھے

یہ میرے ساتھ دعاؤں کا اثر ہے شاید
مالک دو جہاں کرتا نہیں لاچار مجھے

پشت پہ میرے وہ ہنستے بھی دِکھے ہیں اکثر
سامنے ملتے تھے ممُتاز جو غمخوار مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کیا سے کیا نکلا ۔ سراب دنیا


کیا سے کیا نکلا
(کلام/ممتازملک ۔پیرس)


جس کو چاہا وہ بےوفا نکلا
کیا سمجھتے تھے کیا سے کیا نکلا

اس نے جو مشورے دیئے تھے کبھی
ان سے مشکل ہی  راستہ نکلا

جس کو سمجھا تھا راحت جاں وہ تو
ایک جھلسی ہوئی ہوا نکلا

زخم دینا تو اس کی فطرت ہے
جو سراپائے التجا نکلا

جب بھی چاہا کہ دل یقیں کر لے
خواب کا کوئ سلسلہ نکلا

یوں نہ ممتاز دو ہمیں الزام
دو دلوں کا یہ فاصلہ نکلا
۔۔۔۔۔۔۔



برستی بارش/ شاعری ۔ سراب دنیا


                 برستی بارش
                   (کلام/ممتازملک ۔پیرس)

☔آنکھ کو اشک پلاتی ہے برستی بارش
پھر سے کچھ یاد دلاتی ہے برستی بارش


☔کتنے بچھڑے ہوئے لوگوں نےصدا دی        دل میں
رنج وغم خوب کھلاتی ہے برستی بارش


☔پھول جھڑتے ہیں ثمر بار شجر سے         اکثر 
شاخ دل آ کے ہلاتی ہے برستی بارش


☔یوں تو سادہ سا ورق ہے دلِ نازک  اپنا 
خواب رنگین دکھاتی ہے برستی بارش


☔گونجتے ہیں کئی سناٹے ہنسی سے اپنی
        آہ کے گیت سناتی ہے برستی بارش


☔بند کمروں کے اندھیرے جنہیں بھاتے ہیں بہت
صحن میں انکو بھی لاتی ہے برستی بارش


☔چھوڑجاتا ہے جو طوفان  میں کم ظرف ہے وہ
ورنہ محبوب ملاتی ہے برستی بارش


☔کہیں میٹھے کہیں نمکین سے پکوانوں  سے 
پاس مہمان بلاتی ہے برستی بارش


☔بجلیاں لے کے نکلتے ہیں مسافر بادل 
پھر جہاں چاہے گراتی ہے برستی بارش


☔روٹھ جائے تو بھری بستیاں ویران کرے  
  پڑھ کر استسقاء یہ آتی ہے برستی بارش


☔یاد پھولوں کی انہیں آئی ہے ممتاز تو کیا
کتنے پیاروں کو مناتی ہے برستی بارش
                     ۔۔۔۔۔

16دسمبر کے شہزادے ۔ سراب دنیا


سولہ دسمبر
 کے شہزادے
(کلام/ممتازملک ۔پیرس)


شہزادوں سی شان تھی انکی
رب سے کچھ پہچان تھی انکی

جبھی تو ماوں کے ہاتھوں سے 
سج دھج کے مقتل کو نکلے 

قتل اور قربانی میں لوگو
کچھ تو تم تفریق کرو

وہ تو واپس نہ آئیں گے 
تم ہی کچھ تحقیق کرو

دشمن کو بتلا دو لہو ہم 
ممتاز چراغوں میں بھرتے ہیں 

جس سے وہ دہشت کھاتے ہیں
ان سے گھر روشن کرتے ہیں 


۔۔۔۔۔۔


کوئی وادی کشمیر نہیں ۔ سراب دنیا



کوئی وادی کشمیر نہیں 
(کلام/ممتازملک ۔پیرس)


تو ستم ڈھائے چلا جائے میں روؤں بھی نہیں 

یہ میرا دل ہے کوئی وادی کشمیر نہیں 

میں  جستجو نہ کروں بخت تک رسائی کی 
کیا شاہراہ محبت یہاں تعمیر نہیں 

تمہیں خبر ہے اگر ہمکو بھی ملا دینا 
ہمیں تلاش تھی جنکی وہ بے نظیر نہیں 

یہاں پہ اپنی حکومت ہے حکم دے نہ ہمیں

یہ میرے دل کا جہاں ہے تیری جاگیر نہیں


بہت پکایا ہے رنگوں کو آنچ دے دیکر

ناپائیدار سے رنگوں کی یہ تصویر نہیں 

یہ کیسے ہوگا کہ سچا نہ ہو سکے ممتاز 

فجر کے خواب کی کیسے کوئی تعبیر نہیں 

وہ جس کی کوکھ میری پہلی کائنات ہوئی

دعا میں ماں کے اُسی کیا کوئی تاثیر نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


















کهول دے یہ در بیٹا ۔ سراب دنیا



کهول دے یہ در بیٹا
(کلام/ممتازملک ۔پیرس)


مجھ پہ تو کهول دے یہ در بیٹا
ورنہ ہو گا تو دربدر بیٹا

مجه کو گر یہ نصیب ہو نہ سکا
تجه کو بهی نہ ملے گا گهر بیٹا

 یاد کر ان تمام سالوں کو
 میرا کاندھا تھا تیرا سر بیٹا

تیری اک اک کسی ضرورت پر
.میں نے کهٹکائے کتنے در بیٹا

باپ سے تیرے مار کهاکها کر 
تیری خاطر نہ چھوڑا در بیٹا

تجه کو قابل بنانے کی خاطر
بیچ ڈالے سبهی ہنر بیٹا

تجه کو سوکهے پہ ڈال کر اکثر
 رات گیلے پہ کی بسر بیٹا

آنکه میں بھر کے تیری صورت کو
خواب میرے گئے بکهر بیٹا

کوکه میں تجه کو لے کے جب آئی
ساری دنیا سے تھا مفر بیٹا

آج تو قد سے میرے اونچا ہے
 تو یہ مشکل ہے کیوں ڈگر بیٹا

تیری غوں غاں سمجهنے والی ماں
جس کی سمجھا نہ تو نظر بیٹا

پرورش کے لئے تیری میرے
شوق کتنے گئے تھے مر بیٹا

تو نے جس دن نگاہ بدلی تهی 
میں جہاں سے گئی گزر بیٹا

میں نہ ہونگی تمہاری دنیامیں 
خاک  اڑائے گی رہگزر بیٹا

پھر اٹھا پاؤنگی نہیں ممتاز 
اپنی چوکھٹ سے تیرا سر بیٹا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


درد پرانے کتنے ۔ سراب دنیا


             درد پرانے کتنے
             (کلام/ممتازملک ۔پیرس )
صبح کے ساتھ نئی سوچ نئی فکر جگی 
شام ہوتے ہی جگے درد پرانے کتنے

کل جسے ہم نے سکھایا تھا تکلم کرنا
آگئے اس کو ذرا دیکھ  بہانے کتنے

ایک لمحہ کبھی صدیوں سا معلق  رکھتا 
بیت جاتے ہیں گھڑی بھر میں زمانے کتنے

ڈھونڈنے والے اسے ڈھونڈ ہی لیتے ہیں  سدا
 یوں تو بدلے تھے یہاں اس نے ٹھکانے کتنے

کر نہ مجبور ہمیں آنکھ ملانے کے لیئے
جانے نظروں سے عیاں ہونگےفسانے کتنے

درد ہے رنج ہے وحشت ہے جنوں ہے اپنا
دل میں ہم لوگ چھپائے ہیں خزانے کتنے

وہ نہ آیا کہ دکھی جس سے ہوا جی اپنا
یوں تو آئے تھے ہمیں لوگ منانے کتنے

بن کے انجان زہر اس نے پیا او بےخبر 
آئے ممتاز کے ہمدرد  بتانے کتنے
                     ۔۔۔۔۔۔



بدلتے گھر ۔ سراب دنیا


بدلتے گھر
(کلام/ممتازملک ۔پیرس)

میں نے دیکھاہے پرندوں کو بدلتے ھوۓ گھر
گھونسلہ ٹوٹنے پہ اُن کو بھٹکتے در در

کبھی صیّاد کی گولی کا نشانہ بنتے
اُن کی کھالوں میں بھرے بھُس سے بناۓ بستر

سوچ لیں وہ کہ جنہیں اپنا اصل یاد نہیں 
روند کے وقت نکلتا ہے بدل کر منظر

وہ جواں جس سے جوانی نہ سنبھالی جاۓ
اور لعنت کہ ضعیفی بھی نہ جاۓ بچ کر 

دوست دیکھے ہیں گزرتے یہاں ممّتاز بہت
لب پہ مسکان تو ہاتھوں میں اُٹھاۓ نشتر
                         ۔۔۔۔


بربادیء امت/ شاعری ۔ سراب دنیا



بربادیء امت 
(کلام/ممتازملک ۔پیرس)

بربادیء امت پہ پریشان بڑا ہے
امی یہ تیراخود بھی تو حیران بڑا ہے

خالی ہےعمل سے یہ مگر سوچ رہا ہے
خاموش ان حالات میں رحمن بڑا ہے

پُرداغ جوانی ہے تو ناپاک بڑہاپا
ہاں نصرُ من اللہ پہ ایمان بڑا ہے

پھرتا ہے تصور میں مدینے کی گلی میں 
لیکن یہ کھلی آنکھ سے شیطان بڑا ہے

اپنی تو حیات اس نے اندھیروں میں گزاری
اوروں کے لیئے لے کے شمعدان کھڑاہے

کردار سنوارے نہ ہی گفتار سنوارے
 ممتاز یہ جنت کا نگہبان بڑا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔



قابل غور ہوں ۔ سراب دنیا


            قابل غور ہوں 
        (کلام/ممتازملک۔پیرس)


نہ ہوں ہمت میں  کم نہ میں کمزور ہوں
نام عورت میرا  قابل  غور ہوں


یہ نہ سمجھیں کہ ہوں  بے زباں پالتو
تہہ میں اترو سنو شور ہی شور ہوں


نہ الجھنا کبھی میرے پندار سے 
ظلم کو کاٹنے والی اک ڈور ہوں


تم سے آگے نہیں تو نہیں پر سدا
ہاں مقابل تمہارے بہر طور ہوں


جو تناور درختوں کے بس میں نہ تھا 
آندھیوں سے الجھتا میں وہ زور ہوں


بن میں ناچے اور اس کو بھی رنگیں کرے 
خاموشی میں پکارے میں وہ مور ہوں


راحت جاں ہوں سمجھو تو مرہم ہوں میں 
درد کا میں علاج ایسا فی الفور ہوں


مجھ کو جتنا بھی پیچھے دھکیلا گیا
اتنا ممتاز بڑھتا ہوا دور ہوں
               ۔۔۔۔۔                   


                  

نوحہ غم ہے ۔ اردو شاعری۔ سراب دنیا




نوحہ غم ہے
(کلام/ممتازملک ۔پیرس)


نوحہ غم ہے اس پہ کیا کہئیے
ہر گھڑی آنکھ نم ہے کیا کہئیے 

چیرتی جا رہی ہے روحوں کو 
 درد جتنا ہو کم ہے کیا کہئیے

زہر لفظوں میں گُھل گیا اتنا
 چاشنی اب عدم ہے کیا کہئیے 

ہائے آوارگی کا کیا شکوہ 
 سب کا شکوہ ستم ہے کیا کہئیے

اتنے پهولوں پہ خاک ڈالی ہے 
اب تو گردن بهی خم ہے کیا کہئیے

ہم نہ پہچان پائے لاشے کو
دوستی سرقلم ہے کیا کہئیے

گھر میں میرے ہو روشنی کیسے
کب چراغوں میں دم ہے کیا کہئیے

ماتمی شور کر گئی بہرا
 اور بصارت الم ہے کیا کہئیے

جس کی چادر چهنی اجالے میں
 زندگی شام غم ہے کیا کہئیے

جو بهی اٹھتا ہے امن کی جانب
لڑکهڑاتا قدم ہے کیا کہئیے

 منزلوں تک پہنچ نہیں پاتا
 سوچ میں ہی سُکم ہے کیا کہئیے

اب تو ممتاز دل کی تختی پر
درد ہی تو رقم ہے کیا کہیئے
۔۔۔۔۔۔۔۔   سراب دنیا 


دل و جا ں نثار ۔ ۔ سراب دنیا


دل و جاں نثار
(کلام/ممتازملک۔پیرس)

اس پاک سرزمیں پہ دل و جاں نثار ہوں اک بار نہیں جب بھی جیوں بار بار ہوں 

اس کائنات میں ہے تیرے دم سے روشنی
اس روشنی پہ ہم سبھی پروانہ وار ہوں

چاہے کہیں بھی جا کے ہوں آباد مگر سچ
 اس نام پہ شکرانہ پروردگار ہوں

 آ کر تیری آغوش میں سب بادشاہ ہوئے 
آوارہ راستوں کے ہی گردو غبار ہوں  

ملتا ہے چین آ کے اسی سرزمین پر  
کتنے بھی دل گرفتہ ہوں یا بیقرار ہوں

ممتاز پاک نام ہے ایمان کا حصہ
میرے لہو کی گردشیں اس سے شمار ہوں 
۔۔۔۔۔




کھارا پانی ۔ سراب دنیا


کھارا پانی
(کلام/ممتازملک.پیرس)

 تو نہیں جانتا کہ خاموشی
       سامنے جاہلوں کے نعمت ہے

کھارے پانی میں ڈوب جاتا ہے 
      ہر وہ غم جو تیری عنایت ہے

بارہا جس کو معاف کرتی ہے 
      سچ کہوں تو یہی توشفقت ہے 

جان کی کیا وہاں پہ قیمت ہو
       توڑنا دل جہاں روایت ہے

آنکھ میں جب حیا نہیں  باقی 
      کیسی تعظیم کیا حقارت ہے

دل خدا ناخدا میں الجھا ہے
      ایسے عالم میں کیا بشارت ہے

تیری گستاخیاں نہیں بھولے
        شکر کر سر ابھی سلامت ہے

ہر ستم تیرا بھول جاتے ہیں 
      جان لو بس یہ ہی محبت ہے

جس نے رسموں میں باندھ کر مارا 
        اس پہ ممتاز کیا ملامت ہے
۔۔۔۔۔۔۔

اور جہنم کیا ہوتی ہے / سراب دنیا

اور جنم کیا ہوتی ہے 
(کلام/ممتازملک.پیرس)

شیشے جیسا دل لے کر 
آنکھوں کا ساحل لیکر
پتھر جیسے لوگوں میں 
حکم ہے مجھکو جینے کا 
قطرہ قطرہ گھلنے کا 
ہر اک آنسو پینے گا 
مجھ کو یہ اک بات بتا دے 
رحمت کی قیمت سمجھا دے 
جو ہر پل ادا ہوتی ہے 
اور جہنم کیا ہوتی ہے

ہاتھوں میں بہتان انگارہ
منہ میں ایک زبان انگارہ
چلتا پھرتا لاوہ آدم 
غور جو کرتے باوا آدم
اک چھوٹی سی لغزش پر یوں 
سوچا ہوتا لفظ کبھی کیوں 
جنت سے بیدخل نہ ہوتے
آج کے جیسی شکل نہ ہوتے

حوا کو احساس جو ہوتا 
ابن آدم یوں نہ روتا 
کیا پایا تھا کیا کھوتی ہے 
اور جہنم کیا ہوتی ہے 
                       ۔۔۔۔۔۔                 


               

میری کوئی کہکشاں نہیں تھی ۔ سراب دنیا


میری کوئی کہکشاں  نہیں تھی 
کلام/ ممتازملک ۔پیرس 




یہاں نہیں تھی وہاں نہیں تھی
کہیں بھی رکھتی نشاں نہیں تھی

میں ایک ٹوٹا ہوا ستارہ 
میری کوئی کہکشاں نہیں تھی

کہیں تو ہو گا کوئی ٹھکانہ 
وہ ذات تو لامکاں نہیں تھی

سوال کرنے سے چوکتے ہو
ضرورت امتحان نہیں تھی

جو سوچتے جلد لوٹ آتے
حیات بھی بے کراں نہیں تھی

تمام ممتاز خواب گم تھے 
کوئی بھی خواہش عیاں نہیں تھی

.....

اور دل ٹوٹ گیا ۔ سراب دنیا



اور دل ٹوٹ گیا    
(کلام۔ممتازملک ۔پیرس)        



یوں تو دل توڑنے والوں کی
کمی کوئی نہ تھی
درد تب اور بڑھا 
سامنا جن سے ہوا 
وہ کوئی اور نہ تھا
یہ تو اپنا تھا میرا
یا کم از کم مجھ کو
لگتا اپنوں سا رہا 
کانچ کے دل پہ میرے
پہلا پتھر جو پڑا 
وہ اسی ہاتھ میں تھا 
جس نے پونچھے تھے کبھی
اشک آنکھوں سے میری
آج بدلا ہے سماں
دل میرا دل نہ رہا
اک چھناکا سا ہوا
اور دل ٹوٹ گیا
۔۔۔۔۔۔۔        


        

دائروں سے نکل ۔ سراب دنیا




        دائروں سے نکل
         (کلام/ممتازملک.پیرس)



عشق کہتا ہے دائروں سے نکل
خود کو اس طرح سے محدود نہ کر

دیکھ بکھری ہے رنگ رنگ میں یہ
ایک ہی رنگ پہ تو راستے  مسدود نہ کر

اک خدا کے سوا جھکنا نہیں ایمان میرا
اپنی پیشانی کو در در پہ تو مسجود نہ 
کر
لوگ کرتے ہیں عنایات گناہ کرتے ہیں
تو ہی کافی ہے میرے واسطے معبود نہ کر

مجھ کو ممتاز بنایا  ہے تو منت  ہے میری
تو مجھے اپنے سوا اور کا محمود نہ کر
                   ۔۔۔۔۔۔۔

بدھ، 13 مارچ، 2019

مصر کا بازار ۔ سراب دنیا



 مصر کا بازار چاہیئے

یوسف کو پھر سے مصر کا بازار چاہیئے
بکنے کو ہے تیار خریدار چاہیئے

منہ میں زبانیں سنگ کے موافق ہیں دوستو
نرمی نہیں ہے نرمئ گفتار چاہیئے

انصاف کے بنا ہی سکوں کس اُمید پر
جنگل بنا دیا جہاں گلزار چاہیئے

چاہت کے واسطے تو زمانے بھی کم ہیں اور
نفرت کو ہر گھڑی نیا سنسار چاہیئے

خواہش ہے  قدر اور قضاءاسکے ہاتھ ہو 
حکمِ جہاں پناہ کو دربار چاہیئے

مشکل نہیں ہے عرش سے یہ فرش کا سفر
ممتاز آرزوؤں کا انبار چاہیئے
۔۔۔۔۔  سراب دنیا 

ہجوم منافقاں ۔ سراب دنیا



اور ایک میں ہوں 

(کلام/ممتازملک. پیرس)



یہاں ہجوم منافقاں ہے اور ایک میں ہوں 
دلوں کے  بستی دھواں دھواں ہے اور ایک میں ہوں 
جو بات اپنی سے پھر رہا ہے ہر ایک پل میں مکر رہا ہے 
ہر روز اسکا نیا بیاں ہے اور ایک میں ہوں

اب اسکا چہرہ چھپا نہیں ہے نہ بھید ہم میں رہا کوئی ہے 
تمام تر ہو چکا عیاں ہے اور ایک میں ہوں

سفر ہمارا بھی کربلا کا سفر ہوا ہے 
علم اٹھائے یہ دل رواں ہے اور ایک میں ہوں 

جو سر کٹے تھے  بلند تر ہیں جو سر جھکے تھے وہ دربدر ہیں 
ہنسی ہمیشہ  کا اب فغاں ہے اور ایک میں ہوں

تھا پہلے آباد دل میں لیکن محیط ذات آجکل ہوا ہے 
مکین کا یہ نیا مکاں ہے اور ایک میں ہوں

نگر نگر کی ہے خاک  سر میں ملا یہ ممتاز اس سفر میں 
بھری ہوئی درد داستاں ہے اور ایک میں ہوں 
                 سراب دنیا     -------                 
           



              

شناسا کون کرتا ہے ۔ اردو شاعری۔ بار دگر


شناسا کون کرتا ہے 
(کلام/ممتازملک۔پیرس)


مجھے میری حقیقت سے شناسا کون کرتا ہے 
جسے دیکھو وہ دم میری محبت کا ہی بھرتا ہے  

زمینوں آسمانوں کے قلابے تو ملاتا ہے 
جہاں میں پاؤں رکھنا چاہوں پہلے ہاتھ دھرتا ہے 

مگر ظالم بہت ہے وقت جب آنکھیں بدلتا ہے
یہ ہی پھرچھوڑکر مجھکو نئی صورت پہ مرتا ہے

پرانا کینوس گودام میں رکھ بھول جاتا ہے 
بھلا ہےکون جواسمیں نئے رنگوں کوبھرتا ہے

چلو ممتاز رہنے دو کتابی ساری باتوں کو 
اندھیرے کی محبت روشنی میں کون کرتا ہے
۔۔۔۔۔



آیا نہ جائیگا ۔ سراب دنیا ۔ اردو شاعری


آیا نہ جائیگا
(کلام/ممتازملک۔ پیرس)


اک بار جو گئے تو پھر آیا نہ جائیگا 
گزرا جو وقت پھر اسے لایا نہ جائیگا 

اتنی توجہ دیں نہ ہماری طرف جناب
کہنے کو آئے ہیں جو بتایا نہ جائیگا 

جذبات میں کہیں ہمیں بہنے نہ دیجیئے
حال دل شکستہ سنایا نہ جائیگا 

کوئی  جگہ نہیں ہے جگر پارہ پارہ ہے
اب کوئی زخم بھی نیا کھایا نہ جائیگا 

نیچے نہ لائیے ابھی ممتاز آسمان 
دامن میں چھید ہیں یہ سمایا نہ جائیگا
۔۔۔۔۔۔

تیرا عکس ۔ سراب دنیا


     تیرا عکس
         (کلام/ممتازملک ۔پیرس)


ہم  ہواوں میں تیرا عکس بنانے نکلے
بجھ گئے تھے جو دیئے  پھر سے جلانے نکلے

اب تو چلنے کی سکت اس میں کہاں ہے لیکن
ڈوب جاتے ہوئے اس دل کو بچانے نکلے

تو کہاں ڈھونڈنے نکلا ہے ملا ہے کس کو
راہبر اب تو نئی آگ لگانے نکلے

جن کا دل تھا تیرے ہاتھوں کے کسی پتھر پر
ان کے دامن سے لپٹ اشک بہانے نکلے

بدنصیبی کہ تیرے حصے کے صحراؤں میں اب
اشک کے جتنے تھے دریا وہ سکھانے نکلے

وہ جو قسمت میں نہیں تھا اسے رونا کیسا
خواب بھولے ہوئے کیوں پھر سے سجانے نکلے
ان کو جانا تھا چلے جاتے مگر دکھ یہ ہے
ہائے ممتاز وہ کس کس کے بہانے نکلے
                      ۔۔۔۔۔۔


دعائیں لیجا۔۔۔ سرب دنیا


دکھ میں لپٹے لوگ
(کلام /ممتازملک ۔پیرس)

دکھ میں لپٹے ہوئے لوگوں کی دعائیں لیجا 
دل یہ کہتا ہے تیرے سر کی بلائیں لیجا

درد دل،چوٹ جگر ،آہ میری آنکھ سے اشک ،
ہم تجھے اور بھلا کیا کیا بتائیں لیجا  

وہ زمانے جو بتائے تھے وفا کے دم پر
یاد آئینگے تجھے ساتھ ادائیں لیجا 

یہ الگ بات لہو میں تیرے دوڑے ہے جفا 
جا میری جان میری ساری وفائیں لیجا

ساتھ تیرے کبھی جل تھل نہیں ہونے پائیں 
 کھل کے برسیں گی تیرے بعد گھٹائیں لیجا

گنبد دل میں جو ٹکرا کے چلی آتی ہیں 
ہم جو دیں وہ سبھی خاموشش 
صدائیں لیجا

سنسناتی ہوئی ممتاز میرے اندر سے 
آہ بن کر جو  نکلتی ہیں ہوائیں لیجا
۔۔۔۔۔۔۔



ماں کے ہاتھوں کا دیا ۔ سراب دنیا

        

ماں کے ہاتھوں کا دیا
(کلام / ممتازملک.پیرس)

میں اپنی ماں کے
حسین ہاتھوں کا وہ دیا ہوں 
وہ جس کی مدھم سی روشنی میں 
ہر ایک شے کو تلاشتی تھی
وہ اس کی کھوئی ہوئی سوئی ہو 
یا اس کے گم کردہ خواب ہوں پھر
نہ صرف وہ کھوجتی تھی ان کو
بڑے یقیں سے وہ پا بھی لیتی
کبھی جو باد ستم چلی تو
وہ اپنا ہاتھ 
اس کی لو پہ رکھ کر 
بنا کے چھجہ بچا بھی لیتی
کبھی کبھی اس کی حدّتوں سے
وہ ہاتھ اپنا جلا بھی لیتی
مگر محبت کی روشنی کو 
وہ اپنا مقصد سمجھ چکی تھی 
  کہ یہ ہی ممتاز روشنی تھی
یہ روشنی اس کی  زندگی تھی 
               ۔۔۔۔۔۔    سراب دنیا 

ماں میری مہرباں ۔ سراب دنیا


ماں میری مہرباں خدا جیسی
کلام/ممتازملک۔پیرس 


جنتوں کی کھلی فضاء جیسی 
ماں میری مہرباں خدا جیسی

مسکرانے پہ  جی اٹھے میرے  
زندگی کی کسی ادا جیسی 

چھو نہ پائے تپش زمانے کی
سرسراتی  ہوئی ہوا جیسی

اس کے ہاتھوں چھنے دعا ایسے 
مانگ کے لی ہوئی گھٹا جیسی

اتنی معصوم ہے وفا اس کی 
لب پہ آئی ہوئی دعا جیسی

ڈھانپ لیتی ہے عمر بھر مجھکو 
آنسووؤں کی کسی ردا  جیسی

اپنی کوتاہیاں دکھیں جانا 
بات کیا ہو تیری حیا جیسی

اس کی خواہش ہے جاگزیں دل میں
اک تمنائے دلربا جیسی

رب کی تخلیق میں حسیں ممتاز
وتعز من تشاء جیسی
.........


شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/