ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک

جمعرات، 1 فروری، 2024

* وفادار نہیں ہے ۔اردو شاعری۔ اور وہ چلا گیا۔ اشاعت 2024ء

مصرعہ طرح:
 الیاس عاجز صاحب کا
" اس ملک سے کوئی بھی وفادار نہیں ہے"


ہر گز یہ سمجھنا یہاں دشوار نہیں ہے
اس ملک سے کوئی بھی وفادار نہیں ہے

 دعوی تو سبھی کرتے ہیں آگے نہیں بڑھتے
 سچ پوچھو تو اس کا کوئی غم خوار نہیں ہے 

حق چاہیئے سچ چاہیئے بس اپنے لیئے ہی
 اوروں کے لیے کوئی بھی دلدار نہیں ہے

جھوٹوں کی قدم بوسی کو حاضر ہے زمانہ
سچے کے لیئے راستہ ہموار نہیں ہے

شرفاء کے لیئے ملک ہوا جیل سے بدتر
بدمعاش میری قوم کا  لاچار نہیں ہے

حالات بدل جائیں گے ہر فرد جو بدلے
لیکن یہ بدلنے کو ہی تیار نہیں ہے

 ہر چور محلات میں رہتا ہے جہاں پر
 مزدور کے حالات کا پرچار نہیں ہے

کچھ فرق نہیں پڑتا کہ دنیا کیا کہے گی
غیرت کی دہائی یہاں بیکار نہیں ہے؟

ہم خود ہی تو امراض ہیں اس ملک کے ورنہ
یہ ملک کسی طور سے  بیمار نہیں ہے

انصاف عدالت میں نہیں ملتا یہاں پر
حق کے لیئے کوئی کھڑی سرکار نہیں ہے

مزدور ہو چاہے ہو حکمران یہاں کا
 ممتاز  کیئے اپنے  شرمسار نہیں ہے
      
      ------

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/