ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک

اتوار، 26 مئی، 2024

* پھر سے ہو۔ اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا۔ اشاعت 2024ء


پھر سے ہو 

جو کچھ گزر چکا ہے وہ اک بار پھر سے ہو 
گزرا جو اچھا وقت وہ ہر بار پھر سے ہو

شکوے بھلا کے پھر نیا آغاز کر سکیں 
گر اک اشارہ آپ کا سرکار پھر سے ہو

لگتا ہے ڈر یہ موقع اسے دیتے ہوئے بھی
ایسا نہ ہو سفر کہیں  بیکار پھر سے ہو

کہتے ہیں کہ امید پہ قائم ہے زندگی
لیکن جو زندگی کی کہیں ہار پھر سے ہو

یوں بے بسی سے جینا کوئی زندگی ہے کیا
ہر فیصلے میں مجھکو ہی انکار پھر سے ہو

رستہ ہمارے پیار کا ہموار پھر سے ہو
ایسا نہ ہو کہ پیار کا پیوپار پھر سے ہو

ممتاز خود کو کس طرح پھر سے خفا کروں 
جھوٹی خوشی کے ہاتھ میں تلوار پھر سے ہو 
۔۔۔۔۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/