پھر سے ہو
جو کچھ گزر چکا ہے وہ اک بار پھر سے ہو
گزرا جو اچھا وقت وہ ہر بار پھر سے ہو
شکوے بھلا کے پھر نیا آغاز کر سکیں
گر اک اشارہ آپ کا سرکار پھر سے ہو
لگتا ہے ڈر یہ موقع اسے دیتے ہوئے بھی
ایسا نہ ہو سفر کہیں بیکار پھر سے ہو
کہتے ہیں کہ امید پہ قائم ہے زندگی
لیکن جو زندگی کی کہیں ہار پھر سے ہو
یوں بے بسی سے جینا کوئی زندگی ہے کیا
ہر فیصلے میں مجھکو ہی انکار پھر سے ہو
رستہ ہمارے پیار کا ہموار پھر سے ہو
ایسا نہ ہو کہ پیار کا پیوپار پھر سے ہو
ممتاز خود کو کس طرح پھر سے خفا کروں
جھوٹی خوشی کے ہاتھ میں تلوار پھر سے ہو
۔۔۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں