ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک

ہفتہ، 21 مارچ، 2026

ایک باوقار انسان سلیم خان ۔ کالم


ایک باوقار انسان سلیم خان 
تحریر:ممتازملک 
 پیرس فرانس 

یہ 2016ء کی ایک شام تھی ۔
اس وقت میں فیس بک پر بہت سرگرم تھی اپنے آرٹیکلز شیئر کیا کرتی تھی۔  اپنی شاعری اپنے دوستوں کے ساتھ بانٹا کرتی تھی۔  ایسے میں ان باکس میں مجھے ان بکس فیس بک پر ایک پیغام موصول ہوا ۔
ممتاز جی آپ کہاں سے ہیں؟
 کب سے لکھتی ہیں؟ کیا کرتی ہیں ؟ میں نے مختصر جواب دیا کہ پیرس سے لکھتی ہوں اور آرٹیکلز اور یہ یہ مضامین میرے کام میں ہیں۔ شاعری کرتی ہوں وغیرہ وغیرہ ۔ 
انہوں نے مجھ سے میرا تعارف مانگا،  تو میں نے تھوڑا جھجک محسوس کی کہ سوری بھائی میں اتنی لمبی چیٹ پہ کسی سے گفتگو نہیں کرتی۔  لیکن انہوں نے پھر اپنا اپنی بیگم کا حوالہ دیا کہ ہم دونوں آپ کے بہت فین ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔  ہمیں بہت اچھا لگتا ہے کہ پیرس میں ہماری ایک پاکستانی بہن اتنی جرات مندی کے ساتھ لکھتی ہیں۔  ہر موضوع پہ آواز اٹھاتی ہیں۔  تو کیا ہم آپ سے ملاقات کر سکتے ہیں؟
  میں نے جھجکتے ہوئے سوچا اللہ جانے کیسے لوگ ہیں؟  ان سے ملنا چاہیئے کہ نہیں ملنا چاہیئے ۔ گھر بھی نہیں بلا سکتی۔  کیونکہ میں جانتی نہیں ہوں۔  اجنبی ہوں۔  بہرحال باتیں ہوئیں اور پھر میں نے اپنے شوہر سے کہا ۔۔۔
شیخ صاحب اس طرح سے سلیم خان  ایک صاحب ہیں اور ہم سے  ملنا چاہتے ہیں ۔  میری تحریریں پڑھتے ہیں بڑی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ 
انہوں نے کہا شریف انسان لگتے ہیں۔  دل مانتا ہے تو بلا لو۔  کہیں باہر مل لیتے ہیں ۔ 
 اس وقت ہماری بوتیک تھی اور میں  نے شیخ صاحب کی اجازت سے کہا کہ میں بوتیک کا پتہ دے رہی ہوں۔  وہ وہیں پہ آئیں گے ۔ اپ ان کو اچھے سے ہینڈل کیجئے گا ۔ میاں بیوی دونوں ہوں گے۔  تب تک میں بھی پہنچ جاؤں گی۔  یا آپ لوگ یہاں آ کے مجھے پک کر لیجئے گا۔  گاڑی میں۔  تو پھر ہم ان کے ساتھ جا کر  کسی ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر گپ شپ لگائیں گے اور کھانا کھائیں گے ۔ تو وہیں سے ان کو خدا حافظ کہہ دیں گے ۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔  یوں سلیم خان صاحب اور ان کی بیگم طاہرہ سلیم خان پہلی بار بوتیک پر پہنچے ۔ 
چھ فٹ سے اوپر قد، لمبے چوڑے خوبصورت شخصیت کے مالک ۔ سرائیکی لہجے میں بات کرنے والے ، "ایل ایل بی" کیا "ایس ایم لاء کالج" کراچی سے . اعلی تعلیم یافتہ ۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے سلیم خان بھائی ۔ بیحد مہذب اور منکسر مزاج لیکن رعب دار اور باوقار انسان پینٹ کوٹ سوٹ ان کا ہمیشہ سے پہناوا رہا۔  طاہرہ جی پانچ فٹ کی پیاری سی مسکراہٹ والی ہنستی مسکراتی ہر موضوع پر کھل کر اظہار خیال کرنے والی انکی بیگم انکے ساتھ تھیں۔ 
شیخ صاحب سے ملاقات ہوئی اور یوں ہم لوگوں نے "نوآزی لو سک"  کے  ایک ترک ریسٹورنٹ" حیال"  میں کھانا کھایا۔  بہت اچھا وقت گزرا ۔ بات سے بات نکلتی چلی گئی۔  ایک دوسرے سے تعارف حاصل کیا۔۔ بہت محبت بہت عزت دی انہوں نے اور ہم نے اس پہلی ملاقات کی ایک یادگار تصویر بنائی اکٹھے ۔ وہ یادگار تصویر  موجود ہے اور اس کے بعد انہوں نے کہا ممتاز جی آپ ہمارے گھر ضرور چکر لگائیے گا ۔ آپ یوں سمجھئے گا کہ وہ میرا گھر نہیں ہے وہ آپ کا میکہ ہے۔  آپ اپنا میکہ سمجھ کے وہاں آئیئے گا۔  ہم ہمیشہ دونوں میاں بیوی آپ کو ویلکم کریں گے اپنے گھر میں۔  اتنی پرخلوص دعوت تھی کہ ان کے بار بار اصرار پر پھر ہم نے ایک بار ان کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔  ہم وہاں گئے ۔ کیا محبت سے انہوں نے ہمارے لئے کھانا بنایا تھا ۔ ہم نے ایک میز پر بیٹھ کے کھانا کھایا ۔ خوبصورت چھوٹا سا پیارا سا انکا گھر ۔  بہت پرسکون سے علاقے میں۔  پھر وہ ہمارے ساتھ باہر نکلے۔  ہم لوگ اپنی اپنی گاڑی پر تھے۔  جب ہم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کئی جگہ پر گھومے پھرے۔  اور اس کے بعد تقریبا ہر سال ایک دو بار تو ضرور آنا جانا ہوتا تھا ۔ وہ بھی کبھی پیرس آئے ۔ ضرور ملاقات ہوئی۔  میری کتابوں کی رونمائی کے پروگرام میں دو گھنٹے کی ڈرائیو کر کے دونوں میاں بیوی پہنچتے رہے۔  یہ بہت کم ہوتا ہے کسی تعلق میں، محبت میں ،جہاں اپنے سگے رشتہ دار آپ سے سو بہانے کر کے آپ کی کسی خوشی میں شامل ہونے سے یا آپ کی کسی تکلیف میں شامل ہونے سے جان چھڑا لیتے ہیں۔  پلہ جھاڑ لیتے ہیں ۔ اور صرف  تھوڑا سا وقت بھی وہ آپ کو نہیں دے سکتے۔  باقی ساری چیزیں ایک طرف رکھیں۔  وہاں پر سلیم خان بھائی اور طاہرہ سلیم خان کا  اتنا لمبا سفر کرنا،  تشریف لانا اور ہمیں بھرپور وقت دینا یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔  سلیم خان صاحب ان لوگوں میں سے تھے جو میری سوچ اور میرے عملی کردار کے ساتھ ہمیشہ مطابقت رکھتے تھے۔  یا ہم ان بے وقوف لوگوں میں سے تھے جو ہر بات میں سچ بول کے،  سٹینڈ لے کر ، دشمن ہو یا دوست صحیح بات پر اس کی طرفداری کر کے بہت ساری  توپوں کا رخ اپنی جانب کر لیتے تھے۔  جو  ہر قدم پر اچھے کام اور اچھے ارادے کے بدلے میں ہمیشہ خود کو  خطرات کے حوالے کر دیتے تھے ۔ ہم لوگ ہمیشہ سچ بولنے کے لیے نقصان اٹھاتے تھے۔  کسی کو راستہ دینے کے لیئے خود ٹھوکر کھا لیتے تھے ۔ ہم چاہتے تو اس کے الٹ منافق فطرت بنا لیتے اور اپنی زبان کو اپنی اس پاور کو بہت ساری حویلیاں گھر بنانے پہ استعمال کرتے۔  مال بٹورنے پہ استعمال کرتے۔   لوگوں کو دھوکہ دینے میں استعمال کرتے ہیں۔  مگر سلیم خان بھائی بھی میرے ایسے بھائی تھے کہ شاید جب ہم دنیا میں لانے سے پہلے تخلیق کیے گئے تو جس مٹی سے ہم گوندھے گئے تھے اس مٹی کی رمق ہم سب میں موجود تھی۔  ہمیں دولت سے زیادہ اس بات سے غرض تھی کہ میرے سامنے اگر کوئی نہیں تو پیچھے جا کر یقینا میرے اچھے کام پر مجھے گالی دیتا ہوگا ۔ کیا رشتہ دار، کیا دوست، کیا احباب، وہ مجھے بے وقوف کہتے ہوں گے۔  لیکن اس کے بعد بھی ہم نے اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا۔  ہم نے کسی سے مفاد پرستی نہیں کی۔  دھوکہ نہیں دیا ۔ جھوٹ نہیں بولا۔  طاہرہ اور سلیم خان کی جوڑی ایک بے مثال جوڑی تھی۔  شادی کے 49 سال اکٹھے گزارنا اور پھر اتنے پرسکون انداز میں چلتے پھرتے اپنی اولادوں کو وقت دیتے ہوئے ، خاموشی سے ہنستے مسکراتے ہوئے، بغیر کسی تڑپ کے،  پرسکون نیند سو جانا ۔۔۔بالکل ایسے ہی جیسے ماں اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔  بچہ سو گیا۔  سر لڑھک گیا۔  نہ ماں کو پتہ چلا،  نہ بچے کو۔  اتنی پرسکون موت کہ جس کے لیئے ہر ایمان والا دعا کرتا ہو یا اللہ ہمیں چلتے پھرتے بغیر کسی چارپائی کی محتاجی کے،  بغیر کسی کے سر پر بوجھ بنائے،  عزت کے ساتھ ایمان کے ساتھ اس دنیا سے لے کر جانا۔ آمین  ایسی ہی موت، ایسی ہی بدائی اس دنیا سے سلیم خان صاحب کی ہوئی۔  ان کے چہرے کا پرسکون انداز حالانکہ ان کی رنگت سانولی تھی لیکن جاتے ہوئے ان کے چہرے پر روشنی اور بالکل صاف رنگت یہ بتا رہی تھی کہ الحمدللہ میں ایمان پر تھا میں سیدھے راستے پر تھا۔  میں صراط مستقیم پر تھا۔  اور میں خوشی سے اس دنیا سے اس دنیا کی طرف اپنے سفر کو جاری کر رہا ہوں۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ اس روز دنیا سے ایک اچھا انسان کم ہو گیا ۔ لیکن مجھے امید ہے کہ  اس دنیا میں جہاں وہ گیا ہے،  اس میں اس کا خیر مقدم بہت اچھا ہوا ہوگا۔  بطور مسلمان،  بطور ایمان والے یہ میرا یقین ہے کہ جس طرح سے انہوں نے اس دنیا کو خدا حافظ کہا ۔ کیونکہ یہ زندگی مومن کے لیے جیل ہے اور کافر کے لیئے جنت ۔ تو ہمارے بدن کا یہ جیل خانہ روشنی کے اس پرندے کو جب آزاد کرتا ہے تو واقعی وہ اطمینان ایمان والوں کو نصیب ہوتا ہے۔  ان کی بیٹیوں کے لیئے ان کی بیگم کے لیے یقینا ان کی کمی تو کوئی پوری نہیں کر سکتا ۔ لیکن وہ ان پر فخر کر سکتے ہیں۔  وہ ایک بہترین باپ تھے۔  ایک بہترین شوہر تھے ۔ جو اپنی بیوی کی آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتے تھے۔  جو اپنی بیٹیوں کے لیئے ہر وقت ان کی پشت پر کھڑے رہتے تھے ۔ وہ شادی شدہ تھیں۔ بچوں والی تھیں لیکن ان کی پشت پر مضبوطی سے کھڑے رہے۔  انہوں نے وہ سنت نبھائی جسے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو بیاہنے کا مطلب انکو لاوارث چھوڑ کر،  کسی کے قدموں میں پھینک دینا نہیں ہے۔  بلکہ ان کا ساتھ دینا ہے ۔ جب تک وہ زندہ ہیں یا جب تک آپ زندہ ہیں۔  انہوں نے بیٹیوں سے اپنی محبت کی،  ان کا ساتھ دینے کی وہ سنت نبھائی۔  انہوں نے سچ بول کر ایمانداری کے ساتھ وہ زندگی گزاری جو ایک مسلمان کو گزارنی چاہئے ۔ جو ایک اچھے انسان کو گزارنی چاہئے ۔ مجھے فخر ہے کہ فیس بک سے بننے والا یہ تعلق 8 فروری 2016ء سے 2026ء میں ان کی وفات تک،  ان کے اس دنیا سے اس دنیا میں منتقل ہونے تک برقرار رہا۔  بہت عزت کے ساتھ، محبت کے ساتھ، بہت توقیر کے ساتھ، انہوں نے ہمیشہ بہت عزت دی ۔ میں اور شیخ صاحب میرے بچے جنہیں وہ  خود ہمیشہ فرمائش کر کے بلاتے تھے۔  جب دو تین بار وہ بھی ساتھ گئے اور ان کے سر پہ انہوں نے ہاتھ رکھا ۔ بہت محبت دی۔  واقعی جیسے وہ اپنے  ننہال میں آئے ہوں۔  یقینا کوئی نانا دادا جیسی محبت کر سکتا ہے۔  کوئی بڑا بھائی جیسے ہمارے سر پہ ہاتھ رکھ سکتا ہے۔  اتنی ہی محبت۔ نہ ہماری جائیدادیں بٹنی تھیں ، نہ ہمارے کوئی رشتے ہونے تھے،  نہ ہماری ایک دوسرے کے ساتھ کوئی خاندانی تعلقات تھے ،جن کا ہم لحاظ رکھتے، ہم چہروں کی اس کتاب کی دنیا میں ملے، جسے لوگ فیس بک کہتے ہیں اور ان کے جانے تک ہم فیس بک کے علاوہ دوسرے سوشل میڈیاز پر منتقل ہو چکے تھے۔  وہ بھی اپنی سیاسی مصروفیات میں تھے۔  اپنے ملک سے بے حد محبت کرتے تھے۔  انہیں ہر اس شخص سے محبت تھی جو پاکستان کی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔  جو پاکستان سے محبت کرتا ہے۔  اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔  سلیم خان صاحب نے دوستوں رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں کی صورت میں بہت سے زخم بھی اٹھائے۔  درد اٹھائے ۔ تکلیفیں بھی اٹھائیں۔  لیکن اس کے بعد بھی ان کی جانب سے کسی کو کوئی نقصان نہیں دیا گیا ۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درد اٹھائے تو مگر کسی کو درد دیئے نہیں۔  اس کے بدلے صرف محبت، خلوص بانٹا۔  یا دل بہت دکھ جائے تو خاموشی اختیار کر لی۔ سلیم خان صاحب کو ہم ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔  طاہرہ سلیم صاحبہ ہمارے لیئے اسی عزت کی جگہ اور مقام پر رہیں گی۔  جس جگہ پر وہ سلیم خان صاحب کی زندگی میں تھیں ۔ ہم ہمیشہ ان کے ساتھ جڑے رہیں گے انشاءاللہ ۔ کیونکہ اس محبت میں کوئی غرض نہیں ہے۔  کوئی لالچ نہیں ہے۔  کوئی مفاد نہیں ہے ۔ لیکن پھر بھی جب بھی میں کبھی کسی تکلیف میں ہوئی تو سب سے پہلے آنے والا فون میرے لیئے سلیم خان بھائی کا یا طاہرہ صاحبہ کا تھا۔  میں کیسے ان کی عزت نہ کروں۔  جو ہمیشہ میری ہر کامیابی پر سب سے پہلے خوش ہوتے ہوں ۔ جو میری ہر بات کے اوپر سب سے پہلے آ کر مجھے شاباش دیتے ہوں۔  میری کسی بھی کارکردگی پر دل کھول کر مجھ سے محبت کا اظہار کرتے ہوں۔  میں ان سے محبت کیوں نہ کروں میرا ان سے خون کا کوئی رشتہ نہیں تھا۔  لیکن واقعی انہوں نے ثابت کیا رشتے خون کے نہیں ہوتے رشتے احساس کے ہوتے ہیں۔  خون کے رشتے تو آپ کا خون بھی بہا دیتے ہیں،  خون کے رشتے تو آپ کے خون کو پانی کر دیتے ہیں۔  آپ کو خون تھکوا دیتے ہیں۔  لیکن وہ جن سے خون کا کوئی رشتہ نہیں ۔ سچ میں وہی رشتے ہوتے ہیں جو آپ کے ساتھ ہر وہ بات شیئر کرتے ہیں۔  جو شاید خون کے رشتے بھی برداشت نہیں کرتے۔  سن نہیں سکتے ۔ سہہ نہیں سکتے ۔ میری بہت ساری دعائیں سلیم خان صاحب کے لیئے ۔ آپ جہاں بھی ہیں۔  یقینا وہ بہت اچھی دنیا ہے۔  کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔  اچھے لوگ ہمیشہ اچھی جگہ پر ہوں گے اور بری جگہ برے لوگوں کے لیئے ہے۔ 

پہلی ملاقات کی یادگار 2016ء


ایکساتھ سمندر یاترا 2023ء

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/