ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک

پیر، 22 جولائی، 2024

* عمر گزاری ہے/ اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا ۔اشاعت 2024ء


عمر گزاری ہے 

لو یو لو یو کرتے کرتے اس نے عمر گزاری ہے 
جھوٹ کا لو یو سچ کی خاموشی پر ہر دم بھاری ہے

ہر  بات کھلی ہے اور یہاں  ہر راز سے پردہ اٹھا ہے
 دل پھر بھی  تسلیم کرے نہ، ایک عجب لاچاری ہے

راہنما خود بھٹکا ہے اور آقاؤں کی دہشت ہے
 کیسا انتخاب ہے جو غیرت پر ضرب کاری ہے 

حق بات کہو تو غداری کی سندیں ہوتی ہیں جاری
ایمان کا سودا طے کرنا ہی کاہے کی دلداری ہے

بند یہاں بندہ سکتا ہے جو لوٹ مچی ہے ہر جانب  
ایمان سلامت ہو اپنا اور  شرط محض بیداری ہے

حد ہوتی نافرمانی کی حد ہوتی ہے گستاخی کی
یہ بات اسے سمجھانے میں پیش آتی 
ہر دشواری ہے

ان گلیوں میں کیا رکھا ہے ممتاز سوا بہروپیوں کے
نت روز تماشے ہوتے ہیں اک اور کی  اب تیاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/