ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک

منگل، 11 نومبر، 2025

شکار یار/ شاعری ۔ اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا ۔ اشاعت 2024ء


شکار یار

مجھے دشمنوں کی خبر نہیں میں ہوں دوستوں کا شکار یار 
میرے ہاتھ باندھ کے اسطرح مجھے بے بسی سے نہ مار یار

ہے سکون شرط اگر اختتام پہ جنگ میں تو بگل بجا
جو قرار کھو کے ملی اگر میری جیت ہے میری ہار یار

ہوں بھلے سے کتنی شکستہ پا نہ تو بستیوں کے یہ پل گرا
مجھے شک یے چھوٹ نہ جائے کچھ
ابھی جانا ہے پھر پار یار

جسے اپنے سچ پہ یقین ہو اور خندہ جسکی جبین ہو
جو عمل میں عزم صمیم ہے اسے ڈر نہیں سر دار یار 

تیرے پاس ہے جو یہ اختیار تو بدل دے اپنا ہر اک مدار 
یوں نہ ایڑیاں تو رگڑ کے جی نہ تو زندگی یوں گزار یار

ممتاز یہ ہے نصیب جو مجھے گھیرتا ہے گراتا ہے 
میرے ساتھ ہی یہی ہوتا ہے کاہے ہوتا ہے ہر بار یار
●●●

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/