ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک

اتوار، 29 جون، 2025

پیرس کے پاکستانی لکھاری ۔ لسٹ


1)  تعارف: عظمت نصیب گل

@نام :عظمت نصیب گل
 @قلمی نام :عظمت نصیب 
@پیدائش : لائل پور موجودہ فیصل اباد 
@تعلیم : چہارم تک سیکرڈ ہائی سکول (کانونٹ)
@ پنچم تا میٹرک۔ لا سال ہائی سکول فیصل آباد (کانونٹ)
@ گریجویشن گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد 
@ ادبی سفر" 
کالج میگزین کے پنجابی حصے کے ایڈیٹر رہے۔ پنجابی حصے کی ابتدا ان کی کاوش سے ہوئی قبل ازیں کالج میگزین میں پنجابی حصہ نہیں تھا ۔
@تخلیقات ۔ 7
نام کتب 
1. بول نہ مردے
 پنجابی شاعری (2011ء) 
2. سراب یورپ 
اردو افسانے( 2014ء) 
3. گنڈھڑی
پنجابی شاعری
( 2016ء) 
4. پاتر 
پنجابی شاعری
 (2016ء) 
5۔۔۔کے بعد۔ 
اردو شاعری
 (2019ء) 
6. سنجوگ دا روگ 
پنجابی شاعری
 (2019ء) 
7. چپ دا شور 
پنجابی شاعری
 (2022ء)
@ عظمت نصیب گل ادبی تنظیم  "پنجابی ادبی سنگت پیرس" (رجسٹرڈ) کے بانی اور صدر ہیں ۔
@تھائی لینڈ کے ایک جریدے کے لیئے نامہ نگاری کی اور معاوضہ ڈالرز میں لیا .
@ماہنامہ "دبورہ" کا چیف ایڈیٹر رہے (خواتین کا نمائندہ جریدہ) 
@قومی اخبار "امروز" ماہنامہ "جفا کش" اور کوئٹہ سے چھپنے والا "نوکی دور " میں ان کے آرٹیکلز باقاعدگی سے چھپتے رہے۔
@واٹر کلر اور آئل کلر میں پینٹنگز بناتے ہیں. 
@غالب اور منی بیگم کے مٹی کے مجسمے بھی بنا چکے ہیں.
               💐💐💐💐 

2) مقبول الہی شاکر
 
@اصل نام: مقبول الٰہی شاکر
@قلمی نام: شاکر
@جائے پیدائش: گجرات پاکستان 
ادبی تنظیم: 
بانی و صدر بزم صدائے وطن
@تخلیقی زبان ۔ اردو ۔ پنجابی 
@تخلیقات : 2
@نام کتب: 
1. ٹھل
پنجابی شعری مجموعہ کلام 
اشاعت :2012ء
2. فکر بقا
اردو نعتیہ مجموعہ کلام 
اشاعت 2013ء
            💐💐💐💐

             💐💐💐💐
3) سرفراز بیگ
     ناول نگار
             💐💐💐💐
4) تعارف: عاکف غنی

اصل نام: عاکف غنی
قلمی نام: عاکف
@پاکستان پریس کلب پیرس فرانس کے سابق نائب صدر 
@بزمِ اہلِ سخن پیرس فرانس کے صدر 
@متعدد پاکستانی و بین الاقوامی صحافتی اور ادبی تنظیموں کا حصہ
@ادبی شعبہ جات : شاعر ، صحافی
@ تخلیقی زبان: اردو۔ پنجابی 
@تخلیقات: 3
 نام کتب: 
1۔ اسلام ریاست اور معاشرہ (کالموں کا مجموعہ )
2. امیدِ صبحِ نو ( شاعری )
3. خوِدی سے ماورا(شاعری )
@اصناف: حمد. نعت۔ غزل
@ نمائندہ شعر :
گر نالۂِ شب میں نہیں تاثیر تو عاکف
اے کاش  ثمر ور ہو مری آہِ سحر ہی
              💐💐💐💐
          
            💐💐💐💐
5) تعارف :آصف جاوید عاصی
اصل نام:
قلمی نام: آصف جاوید آصی
تخلیقی زبان: اردو ۔ پنجابی 
تخلیقات: 1
نام کتب:
 1. حسب ِ حال
           💐💐💐💐
6) 
تعارف : ایاز محمود ایاز

@اصل نام: ایاز محمود ایاز
@قلمی نام : ایاز
@جائے پیدائش: منڈی بہاوالدین۔ پنجاب پاکستان 
تعلیم: ایم اے اردو
‎ادبی شعبہ جات: شاعری ۔ کالم نگاری ۔ نظامت کاری
‎تخلیقی زبان۰۰۰پنجابی ۔ اردو
‎تخلیقات7۰۰
@نام کتب:
 1۔ خزاں کی آخری شب
2. ترک مراسم
3.تنہائی سے ڈر لگتاہے
4. تم شرط زندگی ہو
5.مجھے تم ہار بیٹھو گے
6۔آرزوئے جاں
 نعتیہ مجموعہ کلام 
7۔ سُنوایسا نہیں کرتے
@جنرل سیکرٹری. ادبی تنظیم 
بزم اہل سخن پیرس
             💐💐💐💐
7) تعارف: بخشی وقار ہاشمی
اصل نام:
قلمی نام:
جائے پیدائش:
تعلیم:
ادبی شعبہ جات:
تخلیقات: 2
نام کتب:
 1. سارے خواب تمہارے
اردو شعری مجموعہ کلام 
  اشاعت: 
اور نئی کتاب قندیل درد بھی آ رہی ہے
             💐💐💐💐

8)  تعارف سمن شاہ
 اصل  نام۔ شاہدہ ذوالفقار 
جائے پیدائش:
قلمی نام : سُمن شاہ 
تخلیقات: 2
تخلیقی زبان: اردو
نام کتب:
 1۔ ہمیشہ تم کو چاہیں گے
2. 
           💐💐💐💐
9) تعارف : 
عاشق حسین رندھاوی

اصل نام: عاشق حسین
قلمی نام: عاشق حسین رندھاوی
جائے پیدائش:
@ضلع: سیالکوٹ
 @تحصیل: پسرور
@ پنڈ: رندھاوا 
تعلیم: مڈل
تخلیقی زبان: پنجابی
 تخلیقات: 6
@ نام کتب:
 1. میری آرزو محمد 
 2. بابل دے ویہڑے
3. بوہے یار دے
4. اکلاپا
5. اکھدا چھپر
6. چیتر وچ خزاواں

@ بہت سارے گیت مختلف گلوکار گا چکے ہیں۔
@تعلیم: دس گھٹ سولاں پڑھیاں 
@نمائندہ شعر:
بیوی کولوں ڈردا رہنا 
ڈردا جانوں جانوں کہنا
              💐💐💐💐

10) تعارف:
  کامران شفیق سیفی 
نام: کامران شفیق 
تخلص: سیفی
جائے پیدائش 
@ تخلیقات:1
@نام کتب:
 محبت ہارتی کب ہے 
.             💐💐💐💐
11) محمود راہی
@ اصل نام:
@قلمی نام:
@جائے پیدائش :
@تخلیقی زبان : اردو
@تخلیقات: 1
@نام کتب:
@اعزازات:

           ۔💐💐💐💐

12)  تعارف۔ شمیم خان 

@ اصل نام۔ شمیم خان
قلمی نام: شام 
@تخلیقی زبان: اردو
تخلیقات: 2
نام کتب:
1.شام سے پہلے
2. رفتہ رفتہ
           💐💐💐💐
13) تعارف۔ راجہ زعفران
   نام: راجہ زعفران 
قلمی نام:
پیدائش:
تخلیقی زبان: پوٹھوہاری
تخلیقات: 1
نام کتب: ڈونگیاں چوٹاں
پوٹھوہاری شعری مجموعہ کلام 
اشاعت: 2024ء

               💐💐💐💐

 14) تعارف: ممتازملک 
اصل نام: ممتازملک 
قلمی نام: ممتازملک 
پیدائش ۔ راولپنڈی پاکستان 
ادبی شعبہ جات:
شاعری ۔ نعت خوانی۔ نعت گوئی۔ کالمنگاری۔ افسانہ نویسی ۔ کہانی کاری۔ کوٹیشنز ۔ کونسلنگ۔ نظامت کاری۔ 
 آن لائن عالمی نظامت کاری
تخلیقی زبان: اردو پنجابی 
تخلیقات: 9
نام کتب:
(8 اردو/ 1 پنجابی میں چھپ چکی ہیں .)
1- مدت ہوئی عورت ہوئے 
اردو شاعری 
اشاعت (2011)
2-میرے دل کا قلندر بولے
اردو شاعری 
  اشاعت (2014)
3- سچ تو یہ ہے
مجموعہ مضامین
 (2016)
4. اے شہہ محترم ص ع و 
مجموعہ حمد و نعت ۔ منقبت ۔ سلام
اشاعت( 2019)
5. سراب دنیا
اردو شاعری 
اشاعت(2020)
6. او جھلیا
پنجابی شاعری 
اشاعت (2022)
7. لوح غیر محفوظ 
مجموعہ مضامین 
اشاعت (2023)
8. اور وہ چلا گیا
اردو شاعری 
اشاعت (2023)
9. قطرہ قطرہ زندگی 
افسانے ، سچی کہانیاں 
اشاعت (2024)
@اعزازات:
2018تا2020
صوابی یونیورسٹی کے طالب علم نوید عمر  نے اردو شعری مجموعہ کلام "سراب دنیا " پر ایم فل کا مقالہ لکھا ۔
جبکہ مبین نامی طالب علم نے بی ایس کا مقالہ بہاوالدین یونیورسٹی سے تحریر کیا ۔ 
جبکہ دنیا بھر سے بہت سے ایوارڈز اور اسناد وصول کر چکی ہیں ۔ 
@ کراچی کے معروف گلوکار ساجد علی خان ان کا کلام گا چکے ہیں 
جانے کیا بات ہے ہنستے ہوئے سر جاتے ہیں 
             ۔۔۔۔۔۔۔۔
15) 
      تعارف: شازملک

  اصل نام: شازیہ ملک
قلمی نام: شاز ملک
جائےپیدائش: سیالکوٹ پاکستان 
 
ادبی شعبہ جات: شاعرہ ،کالم نگار، افسانہ نگار ،ناول نگار ،گیت کار۔ ڈرامہ، اسکرپٹ رائیٹر
  تخلیقی زبان : اردو.  پنجابی 
تخلیقات: 13 
نام کتب : 
4 ناولز
1. روح آشنا 
اشاعت: 2016ء
2۔ عشق گوہرذات
اشاعت: 2018ء
          2019ء
3۔ ملکانی
ناول 
اشاعت:2023ء
4۔ قفسِ محبت 
@ 6 شعری مجموعے
5. دل سمندر تو ذات صحرا ہے 
  اشاعت: 2016ء
6۔ زرا تم ساتھ میں رہنا 
اشاعت 2017ء
7۔ روحِ عشق
اشاعت : 2020ء
8۔ کاسئہ من
شعری مجموعہ کلام 
اشاعت:2022ء
 9۔ دل کا نیلا سمندر
شعری مجموعہ کلام 
اشاعت: 2024ء
10۔ ہم تمہارے ہیں

@2 افسانوی مجموعے 
11۔دل درگاہ
اشاعت:2019ء
         2019ء
12 ۔ روزن زیست 
  افسانوی مجموعہ 
اشاعت: 2022ء
13. ورفعنالک ذکرک
 نعتیہ مجموعہ کلام 
اشاعت 2025ء
@اعزازات:
@انکی غزلیات پاکستان ہندوستان کے مختلف گلوکار گا چکے ہیں 
@ناول "ملکانی" پر پی ٹی وی ڈرامہ بن چکا ہے.
               💐💐💐💐
تعارف:    نبیلہ آرزو 

اصل نام:
قلمی نام:
جائے پیدائش:
تعلیم:
تخلیقات:
نام کتب:
ادبی شعبہ جات:
اعزازات:
              💐💐💐💐

تعارف:
اصل نام:
قلمی نام:
جائے پیدائش:
تعلیم:
تخلیقات:
نام کتب:
ادبی شعبہ جات:
اعزازات:
💐💐💐💐
تعارف:
اصل نام:
قلمی نام:
جائے پیدائش:
تعلیم:
تخلیقات:
نام کتب:
ادبی شعبہ جات:
اعزازات:
        💐💐💐💐

ولدیت کا خانہ؟ کالم


                ولدیت کا خانہ ؟
      تحریر: (ممتازملک۔ پیرس )


اگر طلاق کیساتھ مرد ایک عورت کو اس کی جوانی صحت اور عزت واپس نہیں لوٹاتا تو خلع کی صورت میں کس طرح عورت سے اسکی دی ہوئی ہر شے واپس مانگ سکتا ہے. عورت کی عزت وقار جوانی سب کو مٹی می رول کر تین لفظ اس کے منہ پہ مار کر اسے دروازے سے باہر کھڑا کر دینے کا اختیار اسے کس انسانی یا اسلامی کتاب میں ملتا ہے.  
 پھر وہ چاہے تو پیدا کی ہوئی اولاد کو لاوارث چھوڑ سکتا ہے۔
یا اس کے اخراجات سے منہ موڑ کر اسے بھکاری بنا کر کیسے چھوڑ سکتا ہے؟
اپنی اولاد یا تو چھین لے گا یا پھر اس کی گود میں ڈال کر خود لڑکا بن کر کسی اور عورت کو الو بنانے چل دیگا...
ہمارے ملک میں کہنے کو تو اسلام موجود ہے ۔ جس کا نوے فیصد قانونی حصہ صرف مرد کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے. باقی دو فیصد قوانین اگر عورت کے اوپر احسان سمجھ کر بنا بھی دیئے ہیں تو بھی ان پر عملدرآمد کی کوئی خبر ہماری نظروں سے تو نہیں گزری..
کیا کسی ریپسٹ کو پھانسی ہوئی؟
کیا عورت کو گھر سے نکالنے کے خلاف کوئی سزا ہوئی ؟
کیا جہیز کے نام پر جلائی جانے والی خواتین کو کوئی انصاف ملا ؟
کیا عورت سے اس کے بچے( اس وقت جبکہ وہ انہیں رکھ سکتی ہے یا رکھنا چاہتی ہے )
چھیننے پر کسی مرد کو سزا ہوئی ؟
کیا دوسری شادی کرنے پر پہلے شوہر کی جانب سے اسے وغلانے, ہراساں کرنے یا اس پر قاتلانہ حملے کرنے والے کسی مرد کو سزا ہوئی...
تو کون سا قانون اور کیسی عملداری؟
ابھی کچھ عرصہ قبل جب بائیس سالہ تطہیر فاطمہ جو عدالت سے اپنے نام کیساتھ اپنے باپ کا نام ہٹانے عدالت جا پہنچی. کیونکہ اس کے باپ نے اس کی ماں سے علیحدگی کے بعد کھانے پہننے اور ضروریات زندگی کو کیا پوچھنا تھا بلکہ ان کے جائز قانونی حقوق جس میں اولاد کو اپنا نام دینا, ان کی تمام دستاویزات کے بنوانے میں ان کی مدد کرنا , اور ان کی سرپرستی تک سے ہاتھ اٹھا دیا ہو وہ بائیس سال تک معاشرے میں جس آدمی کی وجہ سے دنیا میں لائی گئی اسی کے نام کو گالی اور گولی کی طرح ہر روز اس کے سینے میں پیوست کیا گیا.. . آخر وہ اس آدمی کا نام اپنے نام کے ساتھ کیوں نتھی کرے؟ تو پاکستانی عدالتیں کب اسلامی ریاست کی عدالت ہونے کا حق ادا کریں گی ؟ جہاں ہر مرد اپنے جائز اور ناجائز, بیاہی ہوں, طلاقی ہو, یا خلع یافتہ، ہر عورت سے اپنی اولاد کو اس کے تمام تر اسلامی اور انسانی حقوق ادا کرنے کا پابند کیا جائے. عورت کے تحفظ کو اس آدمی کی جانب سے متوقع ہر خطرے سے اور اس کے شر سے بچانے کے لیئے مضبوط عملی اقدامات کیئے جائیں .
کیونکہ یہ ایسے مسائل ہیں جو خواتین کو باعزت زندگی دینے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں . شادی نہ ہوئی غلامی کا طوق ہو گیا عورت کے لیئے، کہ اب اگر ایک بار کسی مرد سے دو بول پڑھوا لیئے تو۔۔ ختم تمہاری زندگی کا ہر اختیار, ہر احترام ,ہر عزت اب ختم, بلکہ تمہاری زبان ہی کاٹ کر اس مرد کے نام کر دو. تو پھر اللہ نے اسے یہ آنکھیں، یہ زبان، یہ دل ، یہ دماغ دیئے ہی کیوں تھے ؟ جب ان کا استعمال ہی نہیں کرنا تھا تو؟

 یہ ایک بہت ہی اہم سلگتا ہوا مسئلہ ہے جسے ہمارا کوئی قاضی لائق توجہ نہیں سمجھتا، کیونکہ وہ خود ایک مرد ہے. اگر انہیں اس پر قانون سازی کرنی پڑ جائے تو ان کے ہاں مردوں کو بہت سی بیویاں بنانے، چھوڑنے اور ان کے کئی کئی بچوں کی ذمہ داریاں کہیں خود ہی نہ اٹھانی پڑ جائیں . ہمارے ہاں اگر صاحب قدرت لوگوں بلکہ مردوں کے لیئے شادی عیاشی کے بجائے ذمہ داری بنا دی جائے گی اسی روز ان بہت سارے مسائل کا حل بھی نکل آئیگا.
                       ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعہ، 27 جون، 2025

کتھے میرا مقدر ۔ پنجابی نعت ۔ اکھیاں نمانیاں


کتھے میرا مقدر


کتھے میرا مقدر


کتھے میں تے کتھے میرا مقدر
میں اپنے آپ نوں سمجھاں سکندر 

میرے رستے متعین کر دو آقا 
بھٹک نہ پاواں ہن میں ہور در در

کدی نہیں سوچیا سی ایس طرح وی
مینوں مل جائے گی بخشش دی چادر 

حسیں او گنبد و مینار ویکھے
جنہاں دے ہیٹھ وگدی حوض کوثر

سنہری جالیاں وچ مینوں آقا 
لو کر لو قید کہے دل دا کبوتر 

تہاڈے صدقے توں خالی نہ جاون
 صدا ممتاز نے دتی برابر

ترجمہ:
(کہاں میں اور کہاں میرا مقدر 
کلام ۔ ممتازملک )
۔۔۔۔۔۔۔





جمعرات، 26 جون، 2025

◇ نہ ‏جایا ‏کر ‏تو/ اردو ‏شاعری ‏۔ اور وہ چلا گیا ۔ اشاعت 2024ء


نہ جایا کر تو 

گھر سے غم لیکے کہیں اور نہ جایا کر تو
 رب کو سجدوں میں سبھی حال سنایا کر تو

اثر اس کا جو تجھے کرنا ہے زائل تو سن
چلتے پانی میں یہ تعویذ بہایا کر تو 

دولت درد فراوانی سے ملتا ہے جنہیں 
انکو بتلاو کہ دکھیوں پہ لٹایا کر تو 

اتنے سستے نہیں ہر ایک پہ وارے جائیں 
کسی اچھے کے لیئے اشک بچایا کر تو

جسکے ہاتھوں میں شفا رکھی ہے تیری خاطر
زخم اپنے یہ وہیں جا کے دکھایا کر تو 

نفرتیں سخت بنا دیتی ہیں چہرے ممتاز 
اپنے ہونٹوں پہ تبسم کو سجایا کر تو 
●●●

اتوار، 22 جون، 2025

مکافات عمل ۔ چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ کوٹیشنز




مکافات عمل 

 یہ لوگ جو اولڈ ہاؤسز میں بھی پڑے ہیں ۔ جو گھروں سے نکالے گئے ہیں ان سب کی اپنی حرکتیں ہی ایسی ہیں جس کی وہ سزا پا رہے ہوتے ہیں۔ 
 اس لیئے کبھی کسی ہر غیر ضروری توجہ اور ترس مت کھائیں ۔ جو جہاں ہے وہ وہاں بالکل ٹھیک ہے ۔ 
چھوٹی چھوٹی باتیں 
    (ممتازملک. پیرس)

جمعرات، 19 جون، 2025

. سند مشاعرہ ۔ جون 18 2025ء ۔بزم ارباب سخن پاکستان


سند مشاعرہ

18 جون 2025 ء
دن : بدھ
 وقت:
 پاکستان: رات8 بجے
 انڈیا:رات 8.30 بجے
 یورپ: شام 5 بجے

 بزم ارباب سخن پاکستان کا 27واں آن لائن عالمی اردو مشاعرہ ، گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی کے تعاون کے ساتھ پیش کیا گیا ۔
منتظمین:
۔ محمد نواز گلیانہ اٹلی 
۔ملک رفیق کاظم بھسین لاہور
۔ ممتازملک ۔فرانس

 نظامت کار:
 ۔ممتاز ملک. پیرس فرانس

 صدارت: 
۔ ناصر علی سید ۔ امریکہ
۔نسرین سید کینیڈا

 مہمان خاص :
۔ فرخ ضیاء مشتاق۔ اسلام آباد 
۔  اشرف یعقوبی ۔ انڈیا
۔ شمشاد شاد ۔ انڈیا

مجلس شعراء
۔سرور صمدانی ملتان
۔ مظہر قریشی ۔ حیدرآباد انڈیا
۔امین اور ڈیرائی سندھ
۔ لیاقت علی عہد ۔ یوکے
۔ ڈاکٹر ممتاز منور۔ انڈیا
۔ رحمان امجد مراد ۔ سیالکوٹ 
۔ اختر امام انجم انڈیا 
۔ طاہر ابدال طاہر۔ لاہور
۔ وفا آذر۔ لاہور
۔راحت رخسانہ بزمی۔کراچی
۔ رضوانہ رشاد ۔ انڈیا
۔ کامران عثمان۔ کراچی
       ۔۔۔
ٹیم بزم ارباب سخن پاکستان
ٹیم گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی اور نظامت کار ممتازملک پیرس سے آپ سب کی خوبصورت شرکت کے لیئے شکریہ ادا کرتی ہے اور تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتی ہے ۔ 💐❤️🤝

بدھ، 18 جون، 2025

فوزیہ اختر ردا کی کتاب روپک پر۔ تبصرہ ممتازملک

فوزیہ اختر ردا کی کتاب "روپک" پر تبصرہ

فوزیہ اختر ردا کی نئی کتاب "روپک" کا پی ڈی ایف مجھ تک پہنچا۔ اسے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ویسے تو آن لائن مشاعروں میں فوزیہ اختر ردا کی شاعری سننے کا موقع ملتا رہا اور بہت خوشی ہوتی ہے کہ اس عمر کے شعرائے کرام کو جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بڑی دلجمی کے ساتھ اردو ادب کے لیے اپنی محبت نچھاور کرتے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں۔  یقینا نوجوان نسل میں فوزیہ اختر ردا کا نام ایک بڑا خوبصورت آگے بڑھتا ہوا نام ہے۔  ان کی شاعری بلا شبہ مختلف جذبات کی ترجمان ہے۔  جس میں ان کی عمر کے حساب سے ان کے تجربات اور جذبات ہر جا بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔  شاعری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب تک دل پر چوٹ نہ لگے۔  یہ اندر سے کوئی بات باہر نہیں آنے دیتی۔  واقعی شاعری ایسی ہی بلا ہے۔  کوئی کتنا بھی ماہر ہو، کوئی کتنا بھی بڑا لفاظ ہو، کوئی کتنی بھی بڑی ڈگری رکھتا ہو، لیکن اگر اس کے دل سے کوئی چوٹ گزری نہیں، جسے اکثر لوگ کہا کرتے ہیں عشق کی چوٹ،
 لیکن صرف عشق زندگی کا ایک حصہ ہوتا ہے، عشق زندگی نہیں ہوتی، کوئی ایک انسان آپ کی زندگی پر حاوی نہیں ہو سکتا، اس کے مختلف مدارج ہوتے ہیں۔ یہ رشتے بھی ہو سکتے ہیں ۔ یہ دوستیاں بھی ہو سکتی ہیں ۔ یہ تعلق بھی ہو سکتا ہے۔  یہ امیدیں بھی ہو سکتی ہیں۔  جو جب ٹوٹتی ہیں، دل پر چوٹ پڑتی ہے اور ان کی کرچیاں جب آپ کے کومل سے دل کو زخمی کرتی ہیں تو اس سے رسنے والے لہو سے جو شاعری مرتب ہوتی ہے یقینا وہ دوسرے دل تک جا کر اپنی جگہ بنا ہی لیتی ہے۔  عمر کے ساتھ ، تجربات کے ساتھ،  مشاہدات کے ساتھ ، وقت گزرتا ہے تو آپ کی شاعری میں مزید پختگی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔  ہم بہت سے شعراء کو پڑھتے ہیں، جو کم عمری میں بہت بڑے بڑے کلام کہہ گئے لیکن پھر وقت نے دیکھا کہ انکی عمریں اتنی ہی کم نکلیں اور وہ دنیا سے بہت جلد رخصت ہو گئے۔  کیونکہ ان کے اندر جو کچھ تھا اس کم عمری کے اندر ہی ان کے تجربات کی شدت کے ساتھ وہ نکل چکا تھا۔  وہ اتنا درد اٹھا چکے تھے۔  وہ اتنی تکلیفیں اٹھا چکے تھے۔  کہ اب ان کے اندر ایسا کچھ نہیں رہا تھا ۔ جو مزید دنیا کو دیا جاتا۔  سو وہ اس دنیا میں نہ رہے۔  لیکن بہت سی ایسے شعراء ہیں ، جو وقت کے ساتھ ایک ایک سیڑھی چڑھتے ہوئے اپنی جگہ بناتے ہیں۔  اپنا مقام بناتے ہیں اور دنیا ان کے کام کو سراہتی ہے۔  فوزیہ اختر ردا اور ان جیسے شعراء کرام یقینا ایک ایسی نسل سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔  جو ایک ایک قدم اٹھاتے ہوئے اپنا سفر طے کر رہے ہیں۔  اور ان سے بہت ساری اچھی  امیدیں ہیں کہ یہ بہت آگے تک جائیں،  بہت ترقی کریں۔  اپنا بلند نام اور مقام بنائیں۔  اردو ادب کی دنیا میں اپنے آپ کو منوا سکیں ان کی شاعری کے مختلف لہجے ہیں ۔  کہیں وہ نسائی لہجے میں بات کرتی ہیں۔  کہیں وہ درد دل رکھنے والے ایک ایسی انسان کے طور پر دکھائی دیتی ہیں۔  جو دوسروں کی تکلیفوں پر تڑپتا ہے اور بہت کچھ کرنا چاہتا ہے،  اور جب کچھ نہیں کر پاتا تو بے بسی سے ہاتھ ملتا ہے۔  فوزیہ اختر ردا کے اس مجموعہ کلام "روپک" کے لیے تہہ دل سے میں اپنی جانب سے اپنی تنظیم "راہ ادب فرانس" کی جانب سے مبارکباد پیش کرتی ہوں.  بہت ساری دعائیں ان کے لیئے، بہت ساری نیک خواہشات بھی ہیں، اور امیدیں بھی ہیں کہ یہ بہت آگے تک جانے والی شاعرہ ہیں۔  فوزیہ اختر ردا بہت با ادب ہیں اور بہت ہی باوقار انداز میں اپنے کام کو آگے لے کر بڑھ رہی ہیں۔ انکے کام میں اوچھا پن نہیں ہے۔  دوسروں کے کندھوں پر سوار ہو کر اگے بڑھنے کی جلدی دکھائی نہیں دیتی ۔ اس لیے ان کی کام میں نفاست ہے۔  سکون دکھائی دیتا ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ فوزیہ ردا صاحبہ کا
یہ مجموعہ کلام بھی قارئین سے پسندیدگی کی سند حاصل  کر پائے گا۔ 
خود کو نہ روک پائے تیری بندگی سے ہم 
کیسے بھلا یوں دور رہیں رو شنی سے ہم
 کب تک نبھائیں ایسے غلط ادمی سے ہم
 قسمت کو کوستے ہیں بڑی بے بسی  سے ہم
۔۔۔۔۔۔۔
جس سے شعور ذات کی ہم کو ملی نوید 
ڈرتے رہے سدا ہی اسی اگہی سے ہم 
 اس کو تو ایک خوبرو چہرے کی آس تھی
 بس مات کھا گئے ہیں اسی اک کمی سے ہم
 زخموں کا میرے کوئی نہیں رہ گیا علاج
 دل کو لہو جو کر رہے ہیں شاعری سے ہم
۔۔۔۔۔۔۔
مل گیا مجھ کو اک سرا میرا 
 شخص کوئی ہے ہم نوا میرا 
 ٹوٹ بیٹھا جو سلسلہ میرا 
اس نے توڑا ہے ضابطہ میرا
 اس سے ملنے کی دل میں چاہت تھی
 دیکھتا تھا جو راستہ میرا
۔۔۔۔۔۔۔
کیسے دریا کو پار کرنا ہے 
مجھ سے پوچھے ہے حوصلہ میرا
۔۔۔۔۔
روز انے کا عہد کرتا ہے 
 اور بہانے سے ٹالتا ہے کوئی
۔۔۔۔۔۔
اے بحر جفا دیکھی ہے طغیانی بھی تیری 
طوفان سے ہوتا نہیں نقصان ہمارا
۔۔۔۔۔
 جو کچھ دل میں چھپایا جا رہا ہے
 اشاروں سے بتایا جا رہا ہے
یہ کس سے دل لگایا جا رہا ہے 
 کسے اپنا بنایا جا رہا ہے
نہیں ہے اصل میں منظر وہ ایسا 
ہمیں جیسا دکھایا جا رہا ہے 
۔۔۔۔۔۔۔۔
جس طرف دیکھیے ہے اہ و بکا 
 میں جہاں ہوں وہ کربلا تو نہیں 
۔۔۔۔۔۔
تیری بے رخی بھی ہے بے مثل ٹھہری 
 تیری کج ادائی کے چرچے بہت ہیں
۔۔۔۔۔۔
ہاتھ میں ٹھہرا ہوا لمحہ بکھر جائے گا 
 وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا 
پھر تسلسل میری سوچوں کا بکھر جائے گا 
وہ تصور میں میرے ساتھ ہی مر جائے گا 
جس کی خاطر ہے کیا میں نے سفر صدیوں کا 
کیا میرے واسطے کچھ پل وہ ٹھہر جائے گا 
پھر جدائی کے اسی خوف نے آ گھیرا ہے
 اب کسی طور بھی اس دل سے نہ ڈر جائے گا 
ما سوا میرے کوئی اور کہاں ہے اس کا 
مجھ سے روٹھا بھی کسی دن تو کدھر جائے گا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھول پر پہرا لگا ہے خار کا 
حال مت پوچھو دل بیزار کا 
مجھ کو میرے دل نے بتلایا کہ می تشنہ لب ہوں شربت دیدار کا
۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔
جی
                  ۔۔۔۔۔۔۔
دعاگو
ممتازملک
پیرس فرانس 
اردو پنجابی زبانوں کی شاعرہ ، کالمنگار، ادیبہ، نعت خواں، نعت گو، کوٹیشنز رائٹر، کہانی کار،  افسانہ نگار، ٹک ٹاکر۔ بلاگر

اتوار، 15 جون، 2025

سند مشاعرہ ۔ بزم ارباب سخن پاکستان/ 11جون ء2025


سند مشاعرہ

11 جون 2025 ء
دن : بدھ
 وقت:
 پاکستان: رات8 بجے
 انڈیا:رات 8.30 بجے
 یورپ: شام 5 بجے

 بزم ارباب سخن پاکستان کا 26واں آن لائن عالمی اردو مشاعرہ ، گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی کے تعاون کے ساتھ پیش کیا گیا ۔
منتظمین:
۔ محمد نواز گلیانہ اٹلی 
۔ملک رفیق کاظم بھسین لاہور
۔ ممتازملک ۔فرانس

 نظامت کار:
 ۔ممتاز ملک. پیرس فرانس

 صدارت: 
۔نسرین سید کینیڈا

 مہمان خاص :
۔ رشید حضرت۔ کوئٹہ
 نغمانہ کنول ۔ یوکے

مجلس شعراء
ندیم افضل ندیم ۔ شیخو پورہ 
۔ اشرف یعقوبی ۔ انڈیا 
۔سرور صمدانی ملتان 
۔امین اور ڈیرائی سندھ
۔ لیاقت علی عہد ۔ یوکے
۔ ڈاکٹر ممتاز منور۔ انڈیا
۔ الیاس آتش۔ مریدکے
۔ نصرت یاب نصرت ۔ راولپنڈی 
۔ رحمان امجد مراد ۔ سیالکوٹ 
۔ اختر امام انجم انڈیا 
۔ طاہر ابدال طاہر۔ لاہور
۔ رضوانہ رشاد ۔ انڈیا 
       ۔۔۔
ٹیم بزم ارباب سخن پاکستان
ٹیم گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی اور نظامت کار ممتازملک پیرس سے آپ سب کی خوبصورت شرکت کے لیئے شکریہ ادا کرتی ہے اور تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتی ہے ۔ 💐❤️🤝

سند مشاعرہ ۔ راہ ادب فرانس ۔ 6جون2025ء


سند مشاعرہ

(بکراعید سپیشل )

6 جون 2025 ء
دن : جمعہ
 وقت:
 پاکستان: رات8 بجے
 انڈیا:رات 8.30 بجے
 یورپ: شام 5 بجے

 بزم ارباب سخن پاکستان کا 22واں آن لائن عالمی اردو مشاعرہ ، گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی کے تعاون کے ساتھ پیش کیا گیا ۔
منتظمین:
۔ محمد نواز گلیانہ اٹلی 
۔ ممتازملک ۔فرانس

 نظامت کار:
 ۔ممتاز ملک. پیرس فرانس

 صدارت: 
۔نسرین سید کینیڈا
۔ شجاع الزماں خان شاد کراچی 

 مہمان خاص :
۔ بشری فرخ ۔ پشاور
۔ شہناز رضوی ۔ کراچی 
۔ ندیم افضل ندیم ۔ شیخوپور 
۔ سرور صمدانی۔ ملتان 

مجلس شعراء
۔ انیس احمد۔ لاہور
۔ اشرف یعقوبی ۔ انڈیا 
۔امین اور ڈیرائی سندھ
۔ لیاقت علی عہد ۔ یوکے
۔ ملک رفیق کاظم بھسین۔ لاہور
۔ ڈاکٹر ممتاز منور ۔ انڈیا 
۔ رحمان امجد مراد سیالکوٹ 
۔ اختر امام انجم انڈیا 
۔ وقار علی۔ بحرین
۔ ساجد نصیر ساجد ۔ اٹلی
۔ اندرا شبنم پونا والا۔ انڈیا
       ۔۔۔۔۔۔۔۔ 
ٹیم، راہ ادب فرانس ،
ٹیم ، گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی اور نظامت کار ممتازملک پیرس سے آپ سب کی خوبصورت شرکت کے لیئے شکریہ ادا کرتی ہے اور تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتی ہے ۔ 💐❤️🤝

جمعہ، 13 جون، 2025

پردیسی ۔ پنجابی کلام۔ ترجمہ

پردیسی 

دل دے کنے ٹوٹے کر کے جیندے نے پردیسی 
اپڑیں ہی ہنجوواں نوں لک کے پیندے نے پردیسی 

اکلاپا تے بدنامی اینا دے حصے آوے
او جو ہوراں دی خاطر بس جیندے نے پردیسی 

وار اونہاں تے کردے نے اپڑیں ہی خنجر لہجے 
زخمی زخمی دل اے اپڑاں سیندے نے پردیسی 

اپڑیں اندر مر جاندے نے اپوئی جی اٹھدے نے
ایسے پل وی تے اینا تے بیتے نے پردیسی 

کنے مال دے بدلے کنی چاہ ممتاز کریگی
خوشیاں ناپڑں والے ایسے فیتے نے پردیسی 
               ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعہ، 6 جون، 2025

بکرا اور قصاب ۔ ہاتھ نہ آئے ۔ اردو شاعری ۔



بکرا اور قصاب

اک معصوم سا بکرا ہے کوئی شیر نہیں ہے 
آپ تو ایسے ڈر کر بھاگے ہاتھ نہ آئے 

کچھ تو سوہنے کی لاتوں محظوظ ہوئے
کچھ تو  کھا کر ٹکر بھاگے ہاتھ نہ آئے

کیا ہیں قصابی ششکے اس دن وی وی آئی پی 
انکو لاؤ  چاہے لڑ کر ہاتھ نہ آئے

اماں باوا بھول چکے  بچے نہیں یاد اب
ایک ہی ورد اس روز برابر ہاتھ نہ آئے

قیمت سن کر چپ سی لگ گئی گونگے ہو گئے
بول رہے تھے فرفر بھاگے ہاتھ نہ آئے

ایک مبارک بھی نہ انکی منہ سے نکلی
کچھ تو حسد سے مر کر بھاگے ہاتھ نہ آئے 

آدھا بکرا بنوا کر دوجے کو لپکے
 چوٹی کوئی سر کر بھاگے ہاتھ نہ آئے 

نقلی بکرے کی شہرت اسپیکر پر
بھاگ گیا کا قصہ لیکر در در بھاگے ہاتھ نہ آئے
 
اتنے دن ممتاز نے رکھی گھاس بچا کر 
آپ کے بکرے  چر کر بھاگے ہاتھ نہ ائے
              ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 5 جون، 2025

کوزہ گر۔اردو شاعری۔ بار دگر


    کوزہ گر

تو نے جب چاک پہ پٹخا مجھے مٹی بنکر
اور پھر اس پہ دکھایا تھا ہنر کوزہ گر 

 مجھکو لگتا ہے اس وجود کے ہر ذرے پر 
 تیرے ہاتھوں کے ہنر کا تھا اثر کوزہ گر

 کتنی شکلوں میں مجھے ڈھالا نکالا مجھ کو 
تیرے جادو کی تو قائل ہوں مگر کوزہ گر

بس تو اک روح نہیں پھونک سکا باردگر
جان  محسوس ہوئی  سوئے نظر کوزہ گر 

روح لیکر مجھے جینے کی تمنا نہ ہوئی
ایک مٹی کے لبادے میں بھی ہو جائے بسر کوزہ گر 

اب تو یہ یاد نہیں کیوں ہوئے ممتاز کبھی
لے کے ہاتھوں پہ چلے آئے جگر کوزہ گر
               ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/