ردیف۔
۔۔۔۔۔۔۔ہے گویا
۔۔۔۔۔۔
ب پر ختم ہونے والے اشعار
زندگی کا خون چوسے تب کہیں بنتی کتاب
جوش میں کچھ آپ نے زیادہ ہی کہہ ڈالا جناب
رہنے دیں بندے سے رب نے جو بھی کرنے ہیں سوال
بندے سے بندے کی حد تک گفتگو کا ہے ثواب
ایک مجمعے میں کھڑے ہیں پھر بھی تنہا ہو گئے
ایک کی ہے آزمائش ایک کی خاطر عتاب
بے تکے ذاتی سے حملے شاعری کے نام پر
تہمتوں کا ڈھیر اور خود غریضیوں کا ہےخطاب
سانچ کو نہ آنچ آئے یہ ہے دستور خدا
ساتھ بھی دیتا ہے وہ کرتا ہے وہ ہی کامیاب
سامنے ممتاز ٹکرانے سے پہلے سوچ لیں
عام سا دکھتا ہے جو ، ہو نہ کہیں وہ مستجاب
۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں